یرمیاہ
4 یہوواہ فرماتا ہے: ”اَے اِسرائیل! اگر تُو لوٹ آئے،
اگر تُو میرے پاس لوٹ آئے
اور اگر تُو میرے سامنے سے اپنے گھناؤنے بُتوں کو ہٹا دے
تو تُو مارا مارا نہیں پھرے گا۔
2 اگر تُو سچائی، اِنصاف اور نیکی سے یہ کہے:
”زندہ خدا یہوواہ کی قسم!“
تو قومیں اُس سے اپنے لیے برکت حاصل کریں گی
اور اُس پر فخر کریں گی۔“
3 یہوواہ یہوداہ کے آدمیوں اور یروشلم سے یہ کہتا ہے:
”اپنے لیے ہل چلاؤ اور زمین کو کاشت کے قابل بناؤ؛
کانٹوں کے درمیان بیج نہ بوتے رہو۔
4 یہوداہ کے آدمیو اور یروشلم کے باشندو!
یہوواہ کے لیے اپنا ختنہ کرو،
ہاں، اپنے دلوں کا ختنہ کرو
تاکہ تمہارے بُرے کاموں کی وجہ سے
میرا غضب آگ کی طرح نہ بھڑکے
جسے کوئی بجھا نہ سکے۔“
5 یہوداہ میں اِس کے بارے میں بتاؤ اور یروشلم میں اِس کا اِعلان کرو؛
پورے ملک میں نرسنگا* بجاؤ اور چلّا چلّا کر بتاؤ؛
بلند آواز میں یہ کہو: ”اِکٹھے ہو جاؤ؛
آؤ قلعہبند شہروں میں بھاگ جائیں۔
6 صِیّون کی طرف ایک جھنڈا کھڑا کرو۔
کھڑے نہ رہو؛ پناہگاہ ڈھونڈو“
کیونکہ مَیں شمال کی طرف سے مصیبت، ہاں، ایک بڑی تباہی لا رہا ہوں۔
7 وہ شیر کی طرح اپنی گھنی جھاڑیوں سے نکلا ہے،
ہاں، قوموں کو تباہ کرنے والا روانہ ہو گیا ہے۔
وہ اپنی جگہ سے نکل آیا ہے تاکہ تمہارے ملک کو دہشت کی علامت بنا دے۔
تمہارے شہروں کو کھنڈر بنا دیا جائے گا اور اُن میں کوئی نہیں بسے گا۔
8 اِس لیے ٹاٹ پہن لو،
ماتم کرو* اور دھاڑیں مار مار کر رو
کیونکہ یہوواہ کا بھڑکتا ہوا غصہ ہم سے نہیں ٹلا ہے۔
9 یہوواہ فرماتا ہے: ”اُس دن بادشاہ کا دل بیٹھ جائے گا اور حاکموں کا بھی؛
کاہن خوفزدہ ہو جائیں گے اور نبی حیران رہ جائیں گے۔“
10 پھر مَیں نے کہا: ”افسوس، اَے حاکمِاعلیٰ یہوواہ! بےشک تُو نے اِس قوم اور یروشلم کو یہ کہہ کر دھوکا دیا ہے کہ ”تمہیں امنوسلامتی حاصل ہوگی“ حالانکہ تلوار ہمارے گلوں* تک پہنچ چُکی ہے۔“
11 اُس وقت اِس قوم اور یروشلم سے کہا جائے گا:
”ریگستان کی بنجر پہاڑیوں سے
میری قوم کی بیٹی* پر ایک جھلسانے والی ہوا چلے گی؛
وہ ہوا پھٹکنے یا صاف کرنے کے لیے نہیں آ رہی۔
12 اِن جگہوں سے اِنتہائی تیز ہوا میرے کہنے پر آ رہی ہے۔
اب مَیں اُن کے خلاف سزا سناؤں گا۔
13 دیکھو! وہ گھنے بادلوں کی طرح آئے گا
اُس کے رتھ طوفانی ہوا کی طرح ہیں۔
اُس کے گھوڑے عقابوں سے زیادہ تیزرفتار ہیں۔
ہم پر افسوس کیونکہ ہم تباہ ہو گئے ہیں!
14 اَے یروشلم! اپنے دل کو بُرائی سے پاک کر تاکہ تُو بچ سکے۔
تیرے دل میں کب تک بُرے خیال پلتے رہیں گے؟
15 ایک آواز دان سے خبر سنا رہی ہے
اور اِفرائیم کے پہاڑوں سے تباہی کا اِعلان کر رہی ہے۔
16 اِس کی خبر دو، ہاں، قوموں کو اِس کی خبر دو؛
یروشلم کے خلاف اِس کا اِعلان کرو۔“
”پہرےدار* دُوردراز ملک سے آ رہے ہیں
اور وہ یہوداہ کے شہروں کے خلاف للکاریں گے۔
17 وہ کُھلے میدان کے محافظوں کی طرح چاروں طرف سے اُس کے خلاف آ رہے ہیں
کیونکہ اُس نے میرے خلاف بغاوت کی ہے۔“ یہ بات یہوواہ فرما رہا ہے۔
18 ”تجھے اپنی روِش اور اپنے کاموں کا انجام بھگتنا پڑے گا۔
تیری تباہی کتنی سنگین ہے
کیونکہ یہ تیرے دل کے اندر تک پہنچ چُکی ہے!“
19 ہائے میری اذیت!* میری اذیت!
میرے دل* میں شدید درد ہو رہا ہے۔
میرا دل زور زور سے دھڑک رہا ہے۔
20 تباہی پر تباہی کی خبر آ رہی ہے
کیونکہ پورا ملک برباد ہو چُکا ہے۔
میرے اپنے خیموں کو اچانک تباہ کر دیا گیا ہے،
ہاں، میرے خیمے کے کپڑوں کو پَل بھر میں ہی تباہ کر دیا گیا ہے۔
21 مَیں کب تک جھنڈا دیکھتا رہوں گا
اور نرسنگے* کی آواز سنتا رہوں گا؟
22 ”کیونکہ میرے بندے بےوقوف ہیں؛
وہ میری طرف کوئی دھیان نہیں دیتے۔
وہ احمق بیٹے ہیں جن میں کوئی سمجھ نہیں ہے۔
وہ بُرے کام کرنے کے لیے تو بڑے ہوشیار* ہیں
لیکن اچھے کام کرنا نہیں جانتے۔“
23 مَیں نے زمین کو دیکھا اور دیکھو! وہ خالی اور ویران تھی۔
مَیں نے آسمان کو دیکھا اور وہاں کوئی روشنی نہیں تھی۔
24 مَیں نے پہاڑوں کو دیکھا اور دیکھو! وہ لرز رہے تھے
اور پہاڑیاں کانپ رہی تھیں۔
25 مَیں نے دیکھا اور دیکھو! وہاں کوئی اِنسان نہیں تھا
اور آسمان کے سب پرندے اُڑ چُکے تھے۔
26 مَیں نے دیکھا اور دیکھو! باغ ویرانہ بن چُکا تھا
اور اُس کے سب شہر ڈھا دیے گئے تھے۔
یہ سب یہوواہ کی وجہ سے،
ہاں، اُس کے بھڑکتے ہوئے غصے کی وجہ سے ہوا تھا
27 کیونکہ یہوواہ فرماتا ہے: ”پورا ملک ویران ہو جائے گا۔
لیکن مَیں اِسے مکمل طور پر تباہ نہیں کروں گا۔
28 اِس لیے ملک ماتم کرے گا
اور آسمان تاریک ہو جائے گا۔
ایسا اِس لیے ہوگا کیونکہ مَیں نے کہہ دیا ہے، مَیں نے فیصلہ کر لیا ہے
اور مَیں اپنا اِرادہ نہیں بدلوں گا* اور نہ ہی اِس سے پیچھے ہٹوں گا۔
29 گُھڑسواروں اور تیراندازوں کی آواز پر
شہر کے سب لوگ بھاگ جاتے ہیں۔
وہ گھنی جھاڑیوں میں گُھس جاتے ہیں
اور چٹانوں پر چڑھ جاتے ہیں۔
سارے شہر خالی ہیں
اور اُن میں کوئی نہیں بستا۔“
30 اب جبکہ تُو تباہ ہو چُکی ہے تو تُو کیا کرے گی؟
تُو گہرے سُرخ رنگ کے کپڑے پہنا کرتی تھی
اور سونے کے زیورات سے خود کو سنوارتی تھی
اور اپنی آنکھوں کو بڑا کرنے کے لیے کالے رنگ سے سجاتی تھی
لیکن تُو فضول میں خود کو سنوارتی رہی
کیونکہ تیری ہوس میں رہنے والوں نے تجھے ٹھکرا دیا ہے؛
اب وہ تیری جان لینے پر تُلے ہیں۔
31 مَیں نے ایک آواز سنی ہے جو ایک بیمار عورت کی آواز جیسی ہے،
ایک ایسی عورت کی آواز جیسی جو اپنے پہلے بچے کو جنم دیتے ہوئے کراہتی ہے،
ہاں، مَیں نے صِیّون کی بیٹی کی آواز سنی ہے جو زور زور سے سانس لیتی ہے۔
وہ اپنے ہاتھ پھیلاتے ہوئے کہتی ہے:
”مجھ پر افسوس کیونکہ مَیں* قاتلوں کی وجہ سے نڈھال ہو گئی ہوں!“