یرمیاہ
49 عمونیوں کے بارے میں یہوواہ یہ فرماتا ہے:
”کیا اِسرائیل کا کوئی بیٹا نہیں ہے؟
کیا اُس کا کوئی وارث نہیں ہے؟
مَلکام نے جد پر قبضہ کیوں کر لیا ہے
اور اُس کے لوگ اِسرائیل کے شہروں میں کیوں رہ رہے ہیں؟“
2 ”یہوواہ فرماتا ہے: ”اِس لیے دیکھو! وہ دن آ رہے ہیں
جب مَیں عمونیوں کے شہر رَبّہ کے خلاف جنگ کا اِعلان کروں گا۔*
وہ ایک ویران ٹیلا بن جائے گا
اور اُس کے آسپاس کے* قصبوں کو آگ سے جلا دیا جائے گا۔“
یہوواہ فرماتا ہے: ”اِسرائیل اُن کے ملک پر قبضہ کر لے گا جنہوں نے اُس کا ملک لے لیا تھا۔
3 اَے حِسبون! ماتم کر کیونکہ عی تباہ ہو گیا ہے!
رَبّہ کے ماتحت قصبو! اُونچی اُونچی رو۔
ٹاٹ پہنو۔
ماتم کرو اور پتھر کے* باڑوں میں اِدھر اُدھر گھومو
کیونکہ مَلکام کو اُس کے کاہنوں اور حاکموں سمیت قیدی بنا کر لے جایا جائے گا۔
4 اَے بےوفا بیٹی! تُو اپنی وادیوں اور اپنے زرخیز* میدانوں پر شیخی کیوں مارتی ہے؟
تُو اپنے خزانوں پر بھروسا کرتی ہے
اور کہتی ہے: ”کون مجھ پر حملہ کرنے آئے گا؟“““
5 ”حاکمِاعلیٰ یعنی فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:
”مَیں تیرے اِردگِرد رہنے والے سب لوگوں کی طرف سے
تجھ پر ایک بھیانک مصیبت لانے والا ہوں۔
تجھے ہر سمت میں تتربتر کر دیا جائے گا
اور کوئی بھی بھاگنے والوں کو جمع نہیں کرے گا۔““
6 ””لیکن بعد میں مَیں عمونیوں کے قیدی بنا کر لے جائے گئے لوگوں کو جمع کروں گا۔“ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔“
7 ادوم کے بارے میں فوجوں کا خدا یہوواہ یہ فرماتا ہے:
”کیا تیمان میں کوئی دانشمندی باقی نہیں رہی؟
کیا سمجھدار لوگوں کے اچھے مشورے ختم ہو گئے ہیں؟
کیا اُن کی دانشمندی کو زنگ لگ گیا ہے؟
8 دِدان کے باشندو! بھاگو، واپس مُڑو!
جاؤ اور گہرائیوں میں بسو
کیونکہ جب عیسُو کو سزا دینے کا وقت آئے گا
تو مَیں اُس پر تباہی لاؤں گا۔
9 اگر تیرے ہاں انگور جمع کرنے والے آ جائیں
تو کیا وہ کچھ انگور پیچھے نہیں چھوڑ جائیں گے؟
اگر تیرے ہاں چور آ جائیں
تو وہ صرف اُتنا ہی نقصان کریں گے جتنا وہ چاہتے ہیں۔
10 لیکن مَیں عیسُو کو بالکل ننگا کر دوں گا۔
مَیں اُس کی پوشیدہ جگہوں کو سامنے لے آؤں گا
تاکہ وہ چھپ نہ سکے۔
اُس کے بچے، اُس کے بھائی اور اُس کے پڑوسی سب ہلاک ہو جائیں گے
اور اُس کا نامونشان مٹ جائے گا۔
11 اپنے یتیم بچوں کو چھوڑ دے
اور مَیں اُنہیں زندہ رکھوں گا؛
تیری بیوائیں مجھ پر بھروسا کریں گی۔“
12 یہوواہ فرماتا ہے: ”دیکھ! اگر اُن لوگوں کو غضب کا پیالہ پینا پڑے گا جنہیں اِسے پینے کی سزا نہیں سنائی گئی تو کیا تُو سزا سے بالکل بچ جائے گا؟ تُو سزا سے نہیں بچے گا کیونکہ تجھے یہ پیالہ پینا ہی پڑے گا۔“
13 یہوواہ فرماتا ہے: ”مَیں نے اپنی قسم کھائی ہے کہ بصراہ دہشت، رُسوائی اور تباہی کی علامت اور لعنت بن جائے گا اور اُس کے سب شہر ہمیشہ کے لیے کھنڈر بن جائیں گے۔“
14 مَیں نے یہوواہ کی طرف سے ایک خبر سنی ہے؛
قوموں کے بیچ ایک قاصد* بھیجا گیا ہے جو یہ پیغام سنا رہا ہے:
”جمع ہو اور اُس پر حملہ کرو؛
جنگ کی تیاری کرو۔“
15 ”کیونکہ دیکھ! مَیں نے تجھے قوموں کی نظر میں ناچیز بنا دیا ہے،
ہاں، ایک ایسی چیز جسے اِنسانوں کے بیچ دُھتکار دیا گیا ہے۔
16 چٹان کے شگافوں میں بسنے والے!
سب سے اُونچی پہاڑی پر رہنے والے!
تیرے پھیلائے ہوئے خوف اور تیرے گستاخ* دل نے تجھے دھوکا دیا ہے۔
تُو نے عقاب کی طرح اپنا گھونسلا بلندی پر بنایا ہے
لیکن مَیں تجھے وہاں سے نیچے گِرا دوں گا۔“ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔
17 ”ادوم ضرور دہشت کی علامت بن جائے گا۔ اُس کے پاس سے گزرنے والا ہر شخص اُس پر آنے والی سب آفتوں کی وجہ سے اُسے دہشت کے مارے گھورے گا اور سیٹی بجائے گا۔ 18 اُس کا بھی وہی حال ہوگا جو سدوم، عمورہ اور اُن کے آسپاس کے قصبوں کی تباہی کے بعد اُن کا ہوا تھا؛ وہاں نہ تو کوئی بسے گا اور نہ کوئی آباد ہوگا۔“ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔
19 ”دیکھ! کوئی ادوم کی محفوظ چراگاہوں پر حملہ کرنے آئے گا، بالکل ویسے ہی جیسے اُردن* کی گھنی جھاڑیوں سے شیر آتا ہے۔ لیکن مَیں ایک لمحے میں اُسے دُور بھگا دوں گا۔ مَیں ایک چُنے ہوئے شخص کو اُس پر مقرر کروں گا۔ مجھ جیسا کون ہے؟ کون مجھے للکار سکتا ہے؟ کون سا چرواہا میرے سامنے کھڑا رہ سکتا ہے؟ 20 اِس لیے اَے آدمیو! سنو کہ یہوواہ نے ادوم کے خلاف کیا فیصلہ* کِیا ہے اور تیمان کے باشندوں کے خلاف کیا سوچا ہے:
گلّے کی چھوٹی بھیڑوں کو ضرور گھسیٹ کر لے جایا جائے گا۔
وہ اُن کی رہائشگاہ کو اُن کی وجہ سے اُجاڑ دے گا۔
21 اُن کے گِرنے کی آواز سے زمین لرز گئی ہے۔
چیخوپکار مچ گئی ہے!
یہ آواز بحیرۂاحمر* تک سنائی دی ہے۔
22 دیکھو! وہ عقاب کی طرح اُوپر اُٹھے گا اور اپنے شکار پر جھپٹے گا؛
وہ پَر پھیلا کر بصراہ پر جھپٹے گا۔
”اُس دن ادوم کے جنگجوؤں کے دل
اُس عورت کے دل جیسے ہوں گے جسے بچے کی پیدائش کی دردیں لگی ہوں۔“
23 دمشق کے لیے پیغام:
”حمات اور ارفاد کو شرمندہ کِیا گیا ہے
کیونکہ اُنہوں نے ایک بُری خبر سنی ہے۔
وہ خوف سے دہل گئے ہیں۔
سمندر میں اِتنی ہلچل مچی ہے کہ اُسے پُرسکون نہیں کِیا جا سکتا۔
24 دمشق کی ہمت جواب دے گئی ہے۔
وہ بھاگنے کے لیے مُڑا ہے لیکن اُس پر گھبراہٹ طاری ہو گئی ہے۔
اُس پر اُس عورت کی طرح پریشانی اور تکلیف حاوی ہو گئی ہے
جسے بچے کی پیدائش کی دردیں لگی ہوں۔
25 آخر اِس قابلِتعریف اور خوشیوں بھرے شہر کو کیوں نہیں چھوڑا گیا؟
26 اُس کے جوان آدمی چوکوں میں گِر جائیں گے
اور اُس کے سب سپاہی اُس دن مارے جائیں گے۔“ یہ بات فوجوں کے خدا یہوواہ نے فرمائی ہے۔
27 ”مَیں دمشق کی دیوار کو آگ لگا دوں گا
جو بِنہدد کے مضبوط بُرجوں کو بھسم کر دے گی۔“
28 یہوواہ قیدار کے بارے میں اور حصور کی بادشاہتوں کے بارے میں جنہیں بابل کے بادشاہ نبوکدنضر* نے شکست دی، یہ فرماتا ہے:
”اُٹھو، قیدار جاؤ
اور مشرق کے بیٹوں کو ہلاک کر دو۔
29 اُن کے خیمے اور اُن کے گلّے لے لیے جائیں گے
اور اُن کے خیموں کے کپڑے اور اُن کی سب چیزیں بھی۔
اُن کے اُونٹوں کو لے جایا جائے گا
اور لوگ چلّا چلّا کر اُن سے کہیں گے: ”ہر طرف دہشت چھائی ہے!““
30 یہوواہ فرماتا ہے: ”حصور کے باشندو! دُور بھاگ جاؤ!
جاؤ اور گہرائیوں میں بسو
کیونکہ بابل کے بادشاہ نبوکدنضر* نے تمہارے خلاف ایک فوجی منصوبہ بنایا ہے
اور تمہارے خلاف ایک تدبیر سوچی ہے۔“
31 یہوواہ فرماتا ہے: ”اُٹھو، ایک ایسی قوم پر حملہ کرو
جو امنوسلامتی سے بس رہی ہے!“
”اُس کے کوئی دروازے یا کُنڈے نہیں ہیں اور وہ الگ تھلگ رہ رہی ہے۔
32 اُن لوگوں کے اُونٹ لُوٹ لیے جائیں گے
اور اُن کے بےشمار مویشی لُوٹ کا مال بن جائیں گے۔
جن لوگوں کی قلموں* کے بال کٹے ہوئے ہیں،
مَیں اُنہیں ہر سمت* میں بکھیر دوں گا
اور اُن پر ہر طرف سے تباہی لاؤں گا۔“ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔
33 ”حصور گیدڑوں کا ٹھکانا بن جائے گا
اور ہمیشہ کے لیے ویران ہو جائے گا۔
وہاں نہ تو کوئی بسے گا
اور نہ کوئی آباد ہوگا۔“
34 یہوداہ کے بادشاہ صِدقیاہ کی حکمرانی کے شروع میں عِیلام کے بارے میں یہوواہ کا یہ کلام یرمیاہ نبی تک پہنچا: 35 ”فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے: ”مَیں عِیلام کی کمان توڑنے والا ہوں جو اُس کی طاقت کا ذریعہ* ہے۔ 36 مَیں عِیلام پر آسمان کے چاروں سِروں سے چار ہوائیں بھیجوں گا اور اُسے اِن سب ہواؤں کی سمتوں میں بکھیر دوں گا۔ کوئی بھی ایسی قوم نہیں ہوگی جس میں عِیلام کے لوگ تتربتر نہیں ہوں گے۔““
37 یہوواہ فرماتا ہے: ”مَیں عِیلامیوں کو اُن کے دُشمنوں اور اُن لوگوں کے سامنے چُور چُور کر دوں گا جو اُن کی جان لینے پر تُلے ہیں۔ مَیں اُن پر آفت، ہاں، اپنا بھڑکتا ہوا غصہ نازل کروں گا۔ مَیں تب تک اُن کے پیچھے تلوار بھیجتا رہوں گا جب تک مَیں اُن کا نامونشان نہیں مٹا دیتا۔“
38 یہوواہ فرماتا ہے: ”مَیں عِیلام میں اپنا تخت لگاؤں گا اور وہاں کے بادشاہ اور حاکموں کو مٹا دوں گا۔“
39 یہوواہ فرماتا ہے: ”لیکن آخری دنوں میں* مَیں عِیلام کے قیدی بنائے گئے لوگوں کو جمع کروں گا۔“