یرمیاہ
48 فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، موآب کے بارے میں یہ فرماتا ہے:
”نبو پر افسوس کیونکہ اُسے تباہ کر دیا گیا ہے!
قِریتائم کو شرمندہ کِیا گیا ہے اور اُس پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔
محفوظ پناہگاہ* کو رُسوا اور چُور چُور کر دیا گیا ہے۔
2 اب موآب کی تعریف نہیں کی جاتی۔
حِسبون میں دُشمنوں نے اُسے گِرانے کے لیے یہ سازش رچی:
”آؤ، اُس قوم کا نامونشان مٹا دیں۔“
مدمین! تُو بھی خاموش رہ کیونکہ تلوار تیرا پیچھا کر رہی ہے۔
3 حورونایم سے چیخوپکار سنائی دے رہی ہے،
ہاں، تباہی اور بڑی بربادی کی آواز۔
4 موآب کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
اُس کے چھوٹے بچے چلّا رہے ہیں۔
5 وہ لُوحیت کی چڑھائی چڑھتے ہوئے مسلسل رو رہے ہیں۔
وہ حورونایم سے نیچے اُترتے ہوئے تباہی کی وجہ سے درد بھری آوازیں سُن رہے ہیں۔
6 بھاگو! اپنی جانیں بچانے کے لیے بھاگو!
ویرانے کے صنوبر کے درخت کی طرح بن جاؤ۔
7 اَے موآب! تُو اپنے کاموں اور اپنے خزانوں پر بھروسا کرتا ہے
اِس لیے تجھے بھی پکڑ لیا جائے گا۔
کموس اپنے کاہنوں اور حاکموں کے ساتھ قید میں جائے گا۔
8 تباہ کرنے والا ہر شہر پر حملہ کرے گا؛
ایک بھی شہر نہیں بچے گا۔
وادی فنا ہو جائے گی
اور میدانی علاقہ* برباد ہو جائے گا، ٹھیک ویسے ہی جیسے یہوواہ نے فرمایا ہے۔
9 موآب کے لیے ایک نشان کھڑا کرو
کیونکہ جب وہ تباہ ہوگا تو وہ بھاگے گا
اور اُس کے شہر دہشت کی علامت بن جائیں گے
اور اُن میں ایک بھی شخص نہیں بسے گا۔
10 اُس شخص پر لعنت ہے جو یہوواہ کا کام لاپروائی سے کرتا ہے!
اُس شخص پر لعنت ہے جو اپنی تلوار کو خون بہانے سے روکتا ہے!
11 موآبیوں کو کمعمری سے ہی کسی نے نہیں چھیڑا؛
وہ اُس مے کی طرح ہیں جس کی میل نیچے بیٹھی ہو۔
اُنہیں ایک برتن سے دوسرے برتن میں نہیں اُنڈیلا گیا
اور وہ کبھی قید میں نہیں گئے۔
اِس لیے اُن کا ذائقہ ویسے کا ویسا ہے
اور اُن کی خوشبو نہیں بدلی۔
12 یہوواہ فرماتا ہے: ”اِس لیے دیکھو! وہ دن آ رہے ہیں جب مَیں آدمی بھیج کر اُن کا تختہ اُلٹ دوں گا۔ وہ اُنہیں اُلٹ دیں گے اور اُن کے برتن خالی کر دیں گے اور اُن کے بڑے مٹکوں کو چکناچُور کر دیں گے۔ 13 موآبی کموس کی وجہ سے شرمندہ ہوں گے جیسے اِسرائیل کا گھرانہ بیتایل کی وجہ سے شرمندہ ہے جس پر اُسے بھروسا تھا۔
14 تُم نے یہ کہنے کی جُرأت کیسے کی: ”ہم طاقتور جنگجو ہیں اور جنگ کے لیے تیار ہیں“؟“
15 وہ بادشاہ جس کا نام فوجوں کا خدا یہوواہ ہے، فرماتا ہے:
”موآب تباہ ہو گیا ہے؛
اُس کے شہروں پر قبضہ کر لیا گیا ہے
اور اُس کے بہترین جوانوں کو ذبح کر دیا گیا ہے۔“
16 موآبیوں پر مصیبت ٹوٹنے ہی والی ہے
اور اُن کی تباہی تیزی سے قریب آ رہی ہے۔
17 اُن کے اِردگِرد کے سب لوگ،
ہاں، وہ سب لوگ جو اُن کے نام سے واقف ہیں، اُن سے ہمدردی کریں گے۔
اُن سے کہو: ”ہائے! طاقتور چھڑی، ہاں، خوبصورت لاٹھی کیسے توڑ دی گئی ہے!“
18 دِیبون میں رہنے والی بیٹی!
اپنے عالیشان مقام سے نیچے اُتر کر پیاسی* بیٹھ جا
کیونکہ موآب کو تباہ کرنے والا تجھ پر حملہ کرنے آ گیا ہے
اور وہ تیری قلعہبند جگہوں کو تباہ کر دے گا۔
19 عروعیر کے باشندے! راستے کے کنارے کھڑا ہو اور دیکھ۔
بھاگنے والے آدمی اور بچ نکلنے والی عورت سے پوچھ کہ ”کیا ہوا ہے؟“
20 موآب کو شرمندہ اور دہشتزدہ کر دیا گیا ہے۔
ماتم کرو اور چلّاؤ۔
ارنون میں یہ اِعلان کرو کہ موآب تباہ ہو چُکا ہے۔
21 میدانی علاقے* کی عدالت کی گئی ہے، ہاں، حولون، یہض اور مِفَعت کی؛ 22 دِیبون، نبو اور بیتدِبلاتایم کی؛ 23 قِریتائم، بیتجمول اور بیتمعون کی؛ 24 قِریوت اور بصراہ کی اور موآب کے سب شہروں کی جو دُور یا نزدیک ہیں۔
25 یہوواہ فرماتا ہے: ”موآب کا سینگ* کاٹ دیا گیا ہے؛
اُس کا بازو توڑ دیا گیا ہے۔
26 اُسے مے کے نشے میں دُھت کرو کیونکہ اُس نے خود کو یہوواہ کے سامنے بلند کِیا ہے۔
موآب اپنی اُلٹی میں لوٹپوٹ ہوتا ہے
اور مذاق بن گیا ہے۔
27 کیا تُم نے اِسرائیل کو مذاق کا نشانہ نہیں بنایا تھا؟
کیا اُسے چوروں کے بیچ پکڑا گیا تھا
جو تُم اُسے دیکھ کر سر ہلاتے تھے اور اُس کے خلاف بولتے تھے؟
28 موآب کے باشندو! شہروں کو چھوڑ کر چٹانوں پر رہو؛
اُس کبوتر کی طرح بن جاؤ جو تنگ گھاٹیوں کے کناروں پر گھونسلا بناتا ہے۔““
29 ”ہم نے موآب کے غرور کے بارے میں سنا ہے؛ وہ بہت گھمنڈی ہے۔
ہم نے اُس کی اکڑ، غرور،تکبّر اور گھمنڈی دل کے بارے میں سنا ہے۔“
30 ”یہوواہ فرماتا ہے: ”مَیں اُس کے قہر سے واقف ہوں۔
لیکن اُس کی کھوکھلی باتیں بےکار ثابت ہوں گی۔
اُن سے کچھ نہیں ہوگا۔
31 اِس لیے مَیں موآب کے لیے ماتم کروں گا؛
مَیں سارے موآب کے لیے اُونچی اُونچی روؤں گا
اور قیرحرِس کے آدمیوں کے لیے آہیں بھروں گا۔
32 سِبماہ کی انگور کی بیل! مَیں یعزیر کے لیے جتنا رویا،
اُس سے زیادہ تیرے لیے روؤں گا۔
تیری پھلتی پھولتی شاخیں سمندر پار تک چلی گئی ہیں؛
وہ سمندر، ہاں، یعزیر تک پہنچ گئی ہیں۔
تباہ کرنے والا تیرے موسمِگرما کے پھل
اور تیری انگور کی فصل پر ٹوٹ پڑا ہے۔
33 باغ اور موآب کی سرزمین جشن اور خوشی سے محروم ہو گئی ہے۔
مَیں نے انگور کے حوضوں سے مے کا بہاؤ روک دیا ہے۔
کوئی بھی شخص خوشی کی للکار کے ساتھ انگور نہیں روندے گا۔
وہ للکار ایک فرق للکار ہوگی۔““
34 ””حِسبون سے اِلیعالہ تک چیخوپکار سنائی دے رہی ہے۔
اُن کی آوازیں یہض تک گُونج رہی ہیں؛
وہ ضُغر سے حورونایم اور عِجلتشلیشیاہ تک پہنچ رہی ہیں۔
نِمریم کے پانی بھی خشک ہو جائیں گے۔“
35 یہوواہ فرماتا ہے: ”مَیں موآب سے اُس شخص کو مٹا دوں گا
جو اُونچی جگہ پر نذرانہ لاتا ہے
اور اپنے دیوتا کے سامنے قربانیاں پیش کرتا ہے۔
36 اِس لیے میرے دل سے موآب کے لیے بانسری* کی طرح درد بھری* آوازیں نکلیں گی؛
میرے دل سے قیرحرِس کے لوگوں کے لیے بانسری* کی طرح درد بھری* آوازیں نکلیں گی
کیونکہ اُس کی کمائی ہوئی دولت مٹ جائے گی۔
37 ہر سر گنجا ہے
اور ہر داڑھی کٹی ہوئی ہے۔
ہر ایک کے ہاتھ میں چیرے لگے ہیں
اور اُن کی کمر پر ٹاٹ لپٹے ہیں!““
38 ”یہوواہ فرماتا ہے: ”موآب کی سب چھتوں پر
اور اُس کے سب چوکوں میں ماتم کے سوا کچھ نہیں ہے
کیونکہ مَیں نے موآب کو اُس مرتبان کی طرح توڑ دیا ہے جو کسی کام کا نہیں ہوتا۔
39 وہ کتنا خوفزدہ ہے! ماتم کرو!
موآب نے شرم کے مارے اپنی پیٹھ پھیر لی ہے!
موآب ایک مذاق بن گیا ہے؛
وہ اپنے اِردگِرد کے سب لوگوں کے لیے دہشت کی علامت بن گیا ہے۔““
40 ”یہوواہ فرماتا ہے:
”دیکھو! جیسے عقاب شکار پر جھپٹتا ہے
ویسے ہی وہ پَر پھیلا کر موآب پر جھپٹے گا۔
41 قصبوں پر قبضہ کر لیا جائے گا
اور اُس کے قلعے لے لیے جائیں گے۔
اُس دن موآب کے جنگجوؤں کے دل
اُس عورت کے دل جیسے ہوں گے جسے بچے کی پیدائش کی دردیں لگی ہوں۔““
42 ””موآب کو ایک قوم کے طور پر مٹا دیا جائے گا
کیونکہ اُس نے خود کو یہوواہ کے سامنے بلند کِیا ہے۔
43 موآب کے باشندے!
دہشت، گڑھا اور پھندا تیرے سامنے ہیں۔“ یہ بات یہوواہ فرما رہا ہے۔
44 ”جو بھی دہشت سے بھاگے گا، وہ گڑھے میں گِر جائے گا
اور جو بھی گڑھے سے نکلے گا، وہ پھندے میں پھنس جائے گا۔“
یہوواہ فرماتا ہے: ”کیونکہ مَیں مقررہ سال میں موآب کو سزا دوں گا۔
45 بھاگنے والے حِسبون کے سائے میں بےبس کھڑے ہوتے ہیں
کیونکہ حِسبون سے ایک آگ نکلے گی
اور سیحون سے ایک شعلہ
جو موآب کے ماتھے اور فساد کے بیٹوں کی کھوپڑی کو بھسم کر دے گا۔“
46 ”اَے موآب! تجھ پر افسوس!
کموس کے لوگ فنا ہو گئے ہیں۔
تیرے بیٹوں کو قیدی بنا کر لے جایا گیا ہے
اور تیری بیٹیاں قید میں چلی گئی ہیں۔
47 لیکن مَیں آخری دنوں میں* موآب کے قیدی بنائے گئے لوگوں کو جمع کروں گا۔“ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔
”یہاں موآب کی سزا کا پیغام ختم ہوتا ہے۔““