یرمیاہ
50 یہوواہ نے بابل یعنی کسدیوں کے ملک کے بارے میں یرمیاہ نبی کے ذریعے یہ فرمایا:
2 ”قوموں کے بیچ اِس کے بارے میں بتاؤ اور اِس کی مُنادی کرو۔
جھنڈا کھڑا کرو اور اِس کا اِعلان کرو۔
کچھ بھی نہ چھپاؤ!
کہو: ”بابل پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔
بیل* کو رُسوا کِیا گیا ہے۔
مرودک دہشتزدہ ہو گیا ہے۔
بابل کی مورتوں کو شرمندہ کِیا گیا ہے۔
اُس کے گھناؤنے بُت* دہشتزدہ ہو گئے ہیں“
3 کیونکہ شمال سے ایک قوم نے اُس پر حملہ کر دیا ہے۔
اُس نے اُس کے ملک کو دہشت کی علامت بنا دیا ہے؛
وہاں کوئی نہیں رہ رہا۔
اِنسان اور جانور دونوں بھاگ گئے ہیں؛
وہ دُور چلے گئے ہیں۔“
4 یہوواہ فرماتا ہے: ”اُن دنوں میں اور اُس وقت اِسرائیل کے لوگ اور یہوداہ کے لوگ اِکٹھے آئیں گے۔ وہ چلتے چلتے روئیں گے اور مل کر اپنے خدا یہوواہ کی رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ 5 وہ صِیّون کا راستہ پوچھیں گے اور اُس کی طرف رُخ کر کے کہیں گے: ”آؤ ایک ابدی عہد کے ذریعے جسے بُھلایا نہیں جائے گا، یہوواہ کے ساتھ جُڑ جائیں۔“ 6 میرے بندے گُمشُدہ بھیڑوں کا گلّہ بن گئے ہیں۔ اُن کے اپنے چرواہوں نے اُنہیں گمراہ کر دیا ہے۔ وہ اُنہیں پہاڑوں پر لے گئے ہیں اور وہ ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ پر بھٹکتی پھر رہی ہیں۔ وہ اپنی آرامگاہ کو بھول گئی ہیں۔ 7 وہ جن جن کو بھی ملی ہیں، اُنہوں نے اُنہیں نگل لیا ہے اور اُن کے دُشمنوں نے کہا ہے: ”ہم قصوروار نہیں ہیں کیونکہ اُنہوں نے یہوواہ کے خلاف گُناہ کِیا، ہاں، یہوواہ کے خلاف جس میں نیکی بستی ہے اور جو اُن کے باپدادا کی اُمید تھا۔““
8 ”بابل کے بیچ سے بھاگ جاؤ؛
کسدیوں کے ملک سے نکل جاؤ
اور گلّے کے آگے آگے چلنے والے جانوروں کی طرح بن جاؤ
9 کیونکہ مَیں شمال کے ملک سے بڑی بڑی قوموں کا ایک مجمع کھڑا کر رہا ہوں
اور اُسے بابل پر حملہ کرنے لا رہا ہوں۔
وہ لوگ صفیں باندھ کر اُس کے خلاف لڑیں گے؛
وہاں سے اُس پر قبضہ کر لیا جائے گا۔
اُن کے تیر ایک جنگجو کے تیروں جیسے ہیں
جو والدین کو بچوں سے محروم کر دیتے ہیں؛
اُن کا نشانہ نہیں چُوکتا۔
10 کسدستان لُوٹ کا مال بن جائے گا۔
اُسے لُوٹنے والے سب لوگ پوری طرح سیر ہوں گے۔“ یہ بات یہوواہ فرما رہا ہے۔
11 ”کیونکہ جب تُم نے میری وراثت کو لُوٹا
تو تُم خوشی اور جشن مناتے رہے۔
تُم ایک بچھیا کی طرح گھاس میں پاؤں مارتے رہے
اور طاقتور گھوڑوں کی طرح ہنہناتے رہے۔
12 تمہاری ماں کو شرمندہ کِیا گیا ہے۔
تمہیں جنم دینے والی کو مایوس کر دیا گیا ہے۔
دیکھو! وہ قوموں میں سب سے کمتر ہے؛
وہ ایک خشک ویرانہ اور ریگستان ہے۔
13 یہوواہ کے غصے کی وجہ سے وہ آباد نہیں ہوگا؛
وہ پوری طرح سے اُجڑ جائے گا۔
بابل کے پاس سے گزرنے والا ہر شخص اُس پر آنے والی ساری آفتوں کی وجہ سے
اُسے دہشت کے مارے گھورے گا اور سیٹی بجائے گا۔
14 تیراندازو! تُم سب صفیں باندھ کر ہر طرف سے بابل پر حملہ کرو۔
اُس پر تیر چلاؤ؛ کوئی بھی تیر بچا کر نہ رکھو
کیونکہ اُس نے یہوواہ کے خلاف گُناہ کِیا ہے۔
15 ہر طرف سے اُس کے خلاف جنگ کا نعرہ مارو۔
اُس نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔*
اُس کے ستون گِر گئے ہیں اور اُس کی دیواریں ڈھا دی گئی ہیں۔
یہ یہوواہ کا اِنتقام ہے۔
اُس سے اپنا اِنتقام لو۔
اُس کے ساتھ وہی کرو جو اُس نے کِیا ہے۔
16 بابل سے بیج بونے والے کو کاٹ دو
اور اُس کو بھی جو کٹائی کے موسم میں درانتی چلاتا ہے۔
بےرحم تلوار کی وجہ سے ہر کوئی اپنے لوگوں کے پاس لوٹ جائے گا،
ہاں، اپنے ملک بھاگ جائے گا۔
17 اِسرائیل کے لوگ بکھری ہوئی بھیڑیں ہیں۔ شیروں نے اُنہیں تتربتر کر دیا ہے۔ پہلے اسور کے بادشاہ نے اُنہیں کھایا؛ پھر بابل کے بادشاہ نبوکدنضر* نے اُن کی ہڈیاں چبائیں۔ 18 اِس لیے فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے: ”مَیں بابل کے بادشاہ اور اُس کے ملک سے ویسے ہی نمٹوں گا جیسے مَیں اسور کے بادشاہ سے نمٹا تھا۔ 19 مَیں اِسرائیل کو اُس کی چراگاہ میں واپس لاؤں گا اور وہ کرمِل اور بسن پر چرے گا۔ وہ* اِفرائیم اور جِلعاد کے پہاڑوں پر جی بھر کر کھائے گا۔““
20 یہوواہ فرماتا ہے: ”اُن دنوں میں اور اُس وقت
اِسرائیل کا قصور تلاش کِیا جائے گا
لیکن اُس کا کوئی قصور نہیں ملے گا؛
یہوداہ میں کوئی گُناہ نہیں پایا جائے گا
کیونکہ مَیں اُنہیں معاف کر دوں گا جنہیں مَیں باقی چھوڑ دوں گا۔“
21 یہوواہ فرماتا ہے: ”مِراتایم کی سرزمین اور فقود کے باشندوں پر حملہ کرو۔
اُن کا قتلِعام کرو اور اُنہیں پوری طرح تباہ کر دو۔“
”وہ سب کرو جس کا مَیں نے تمہیں حکم دیا ہے۔
22 ملک میں جنگ کا، ہاں، ایک بڑی تباہی کا شور ہے۔
23 دیکھو، ساری زمین کو چُور چُور کرنے والے ہتھوڑے کو کیسے کاٹ کر توڑ دیا گیا ہے!
دیکھو، بابل قوموں کے بیچ کیسے دہشت کی علامت بن گیا ہے!
24 اَے بابل! مَیں نے تیرے لیے پھندا بچھایا اور تُو اُس میں پھنس گیا؛
تجھے اِس کا پتہ بھی نہیں چلا۔
تجھے ڈھونڈ کر پکڑ لیا گیا
کیونکہ تُو نے یہوواہ کی مخالفت کی۔
25 یہوواہ نے اپنا گودام کھولا ہے
اور اپنے قہر کے ہتھیار باہر نکالے ہیں
کیونکہ حاکمِاعلیٰ یعنی فوجوں کے خدا یہوواہ کو
کسدیوں کے ملک میں ایک کام کرنا ہے۔
26 دُوردراز علاقوں سے اُس پر حملہ کرو۔
اُس کے اناج کے گودام کھول دو۔
اناج کے ڈھیروں کی طرح اُس کا ڈھیر لگا دو۔
اُسے پوری طرح تباہ کر دو۔
اُس کا کوئی بھی شخص باقی نہ بچے۔
27 اُس کے سب جوان بیلوں کو قتل کر دو؛
اُنہیں ذبح ہونے کے لیے بھیج دو۔
اُن پر افسوس کیونکہ اُن کا دن آ گیا ہے!
اُن کے حساب کتاب کا وقت آ پہنچا ہے!
28 بھاگنے والوں کی آواز آ رہی ہے،
ہاں، بابل سے بچ کر نکلنے والوں کی آواز
تاکہ صِیّون میں اپنے خدا یہوواہ کے اِنتقام کا اِعلان کریں،
ہاں، اُس کی ہیکل کے اِنتقام کا۔
29 بابل پر حملہ کرنے کے لیے تیراندازوں کو بُلاؤ،
ہاں، اُن سب کو جو تیر چلاتے ہیں۔
اُس کی چاروں طرف خیمے لگاؤ؛ کسی کو بھی بچ کر نہ نکلنے دو۔
اُسے اُس کے کاموں کے حساب سے بدلہ دو۔
اُس کے ساتھ وہی کرو جو اُس نے کِیا ہے
کیونکہ اُس نے یہوواہ کے سامنے،
ہاں، اِسرائیل کے پاک خدا کے سامنے تکبّر سے کام لیا ہے۔
30 اِس لیے اُس دن اُس کے جوان آدمی اُس کے چوکوں میں گِر جائیں گے
اور اُس کے سب سپاہی فنا* ہو جائیں گے۔“ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔
31 حاکمِاعلیٰ یعنی فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے: ”اَے سرکش بابل! دیکھ! مَیں تیرے خلاف ہوں
کیونکہ تیرا دن ضرور آئے گا، ہاں، وہ وقت جب مَیں تجھ سے حساب لوں گا۔
32 اَے سرکش بابل! تُو ٹھوکر کھا کر گِر جائے گا
اور تجھے اُٹھانے والا کوئی نہیں ہوگا۔
مَیں تیرے شہروں کو آگ لگا دوں گا
جو تیرے اِردگِرد ہر چیز کو بھسم کر دے گی۔“
33 فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:
”اِسرائیل اور یہوداہ کے لوگوں پر ظلم ڈھایا گیا ہے؛
اُنہیں قیدی بنا کر لے جانے والوں نے اُنہیں پکڑ کر رکھا ہے
اور اُنہیں جانے نہیں دے رہے۔
34 لیکن اُنہیں چھڑانے والا* طاقتور ہے۔
اُس کا نام فوجوں کا خدا یہوواہ ہے۔
وہ ضرور اُن کا مُقدمہ لڑے گا
تاکہ ملک کو آرام ملے
اور بابل کے باشندوں میں ہلچل مچ جائے۔“
35 یہوواہ فرماتا ہے: ”کسدیوں، بابل کے باشندوں، اُس کے حاکموں
اور اُس کے دانشمندوں کے خلاف ایک تلوار آئے گی۔
36 کھوکھلی باتیں کرنے والوں* کے خلاف ایک تلوار آئے گی اور وہ بےوقوفی سے کام لیں گے۔
اُس کے جنگجوؤں کے خلاف ایک تلوار آئے گی اور وہ خوفزدہ ہو جائیں گے۔
37 اُن کے گھوڑوں، اُن کے جنگی رتھوں
اور اُس کے بیچ موجود ساری ملیجُلی آبادیوں کے خلاف ایک تلوار آئے گی
اور وہ عورتوں کی طرح بن جائیں گے۔
اُس کے خزانوں کے خلاف ایک تلوار آئے گی
اور اُنہیں لُوٹ لیا جائے گا۔
38 اُس کے پانیوں پر تباہی ٹوٹ پڑے گی اور وہ سُوکھ جائیں گے
کیونکہ وہ تراشی ہوئی مورتوں کا ملک ہے
اور لوگ خوفناک رُویات کی وجہ سے پاگلوں جیسی حرکتیں کرتے ہیں۔
39 اِس لیے ریگستان کے جانور رونے والے جانوروں* کے ساتھ رہیں گے
اور اُس میں شُترمُرغ بسیں گے۔
وہ کبھی آباد نہیں ہوگا
اور نہ اُس میں نسلدرنسل کوئی بسے گا۔“
40 یہوواہ فرماتا ہے: ”اُس کا بھی وہی حال ہوگا جو خدا نے سدوم، عمورہ اور اُن کے آسپاس کے قصبوں کو تباہ کر کے اُن کا کِیا تھا؛ وہاں نہ تو کوئی بسے گا اور نہ کوئی آباد ہوگا۔
41 دیکھو! شمال سے ایک قوم آ رہی ہے؛
زمین کے دُوردراز علاقوں سے ایک بڑی قوم
اور عظیم بادشاہوں کو کھڑا کِیا جائے گا۔
42 وہ کمان اور برچھی سے لیس ہیں۔
وہ ظالم ہیں اور کسی پر رحم نہیں کرتے۔
جب وہ گھوڑوں پر سوار ہوتے ہیں
تو اُن کی آواز گرجتے ہوئے سمندر جیسی ہوتی ہے۔
بابل کی بیٹی! اُن سب نے مل کر تیرے خلاف لڑنے کے لیے صفیں باندھ لی ہیں۔
43 بابل کے بادشاہ نے اُن کے بارے میں خبر سنی ہے
اور اُس کی ہمت جواب دے گئی ہے۔*
پریشانی نے اُسے جکڑ لیا ہے؛
اُس پر اُس عورت کی طرح تکلیف حاوی ہو گئی ہے
جسے بچے کی پیدائش کی دردیں لگی ہوں۔
44 دیکھ! کوئی ادوم کی محفوظ چراگاہوں پر حملہ کرنے آئے گا، بالکل ویسے ہی جیسے اُردن* کی گھنی جھاڑیوں سے شیر آتا ہے۔ لیکن مَیں ایک لمحے میں اُنہیں* دُور بھگا دوں گا۔ مَیں ایک چُنے ہوئے شخص کو اُس پر مقرر کروں گا۔ مجھ جیسا کون ہے؟ کون مجھے للکار سکتا ہے؟ کون سا چرواہا میرے سامنے کھڑا رہ سکتا ہے؟ 45 اِس لیے اَے آدمیو! سنو کہ یہوواہ نے بابل کے خلاف کیا فیصلہ* کِیا ہے اور کسدیوں کے ملک کے خلاف کیا سوچا ہے۔
گلّے کی چھوٹی بھیڑوں کو ضرور گھسیٹ کر لے جایا جائے گا۔
وہ اُن کی رہائشگاہ کو اُن کی وجہ سے اُجاڑ دے گا۔
46 جب بابل پر قبضہ کِیا جائے گا تو شور سے زمین لرز جائے گی
اور قوموں کے بیچ چیخوپکار سنائی دے گی۔“