یرمیاہ
47 یہ فِلِستیوں کے حوالے سے یہوواہ کا وہ کلام ہے جو فِرعون کے غزہ پر حملہ کرنے سے پہلے یرمیاہ نبی تک پہنچا۔ 2 یہوواہ فرماتا ہے:
”دیکھو! شمال سے پانی آ رہا ہے۔
وہ سیلابی ریلے کی شکل اِختیار کر لے گا
اور ملک اور اُس کی ہر چیز کو ڈبو دے گا،
ہاں، شہر اور اُس کے باشندوں کو۔
آدمی چلّائیں گے
اور ملک میں بسنے والا ہر شخص دھاڑیں مار مار کر روئے گا۔
3 اُس کے طاقتور گھوڑوں کے دوڑنے کی آواز،
اُس کے رتھوں کی کھڑکھڑاہٹ
اور اُس کے پہیوں کی گڑگڑاہٹ کی وجہ سے
باپ اپنے بیٹوں کو مُڑ کر بھی نہیں دیکھیں گے
کیونکہ اُن کے ہاتھوں میں جان نہیں رہے گی
4 اِس لیے کہ جو دن آ رہا ہے، اُس پر سب فِلِستیوں کو تباہ کر دیا جائے گا
اور صُور اور صیدا میں سے بچے ہوئے سب اِتحادیوں کو مٹا دیا جائے گا۔
یہوواہ اُن فِلِستیوں کو تباہ کر دے گا
جو جزیرہ کفتور* کے بچے ہوئے لوگوں میں سے ہیں۔
5 غزہ گنجا ہو جائے گا۔*
اسقلون کو چپ کرا دیا گیا ہے۔
اُن کی وادی کے بچے ہوئے حصے!
تُو کب تک خود کو چیرتا رہے گا؟
6 اَے یہوواہ کی تلوار!
تُو کب خاموش ہوگی؟
میان میں لوٹ جا۔
آرام کر اور چپ رہ۔
7 یہ خاموش کیسے ہو سکتی ہے
جبکہ یہوواہ نے اِسے حکم دیا ہے؟
اُس نے اِسے اسقلون اور ساحل کے خلاف مقرر کِیا ہے۔“