یرمیاہ
16 یہوواہ کا کلام دوبارہ مجھ تک پہنچا اور اُس نے کہا: 2 ”تُم یہاں شادی نہ کرنا اور بیٹے بیٹیاں پیدا نہ کرنا 3 کیونکہ یہوواہ یہاں پیدا ہونے والے بیٹے بیٹیوں اور اِس ملک میں اُنہیں جنم دینے والی ماؤں اور اُنہیں پیدا کرنے والے والدوں کے بارے میں یہ فرماتا ہے: 4 ”وہ جانلیوا بیماریوں سے مریں گے لیکن اُن کے لیے ماتم کرنے والا اور اُنہیں دفنانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ وہ زمین کی سطح پر کھاد کی طرح بن جائیں گے۔ وہ تلوار اور قحط سے ہلاک ہوں گے اور اُن کی لاشیں آسمان کے پرندوں اور زمین کے درندوں کے لیے خوراک بنیں گی۔“
5 یہوواہ فرماتا ہے:
”اُس گھر میں داخل مت ہونا جہاں ماتم کرنے والوں کی دعوت ہوتی ہے
اور رونے دھونے اور تسلی دینے کے لیے نہ جانا۔“
یہوواہ فرماتا ہے: ”کیونکہ مَیں نے اُن سے وہ سکون، اٹوٹ محبت اور رحم جُدا کر دیا ہے
جس سے مَیں نے اُنہیں نوازا ہوا تھا۔
6 اِس ملک میں چھوٹے بڑے سب لوگ مر جائیں گے۔
اُنہیں دفنایا نہیں جائے گا؛
کوئی اُن کے لیے ماتم نہیں کرے گا
اور نہ ہی کوئی اُن کے لیے اپنے جسم کو چیرے گا یا خود کو گنجا کرے گا۔*
7 کوئی بھی ماتم کرنے والوں کو کھانا نہیں دے گا
کہ وہ اپنے عزیز کی موت پر دِلاسا پائیں؛
کوئی بھی اُنہیں تسلی کا پیالہ نہیں دے گا
کہ وہ اپنے باپ یا ماں کی موت پر اُسے پی سکیں۔
8 ضیافت والے گھر میں نہ جانا؛
وہاں لوگوں کے ساتھ کھانے پینے کے لیے نہ بیٹھنا۔“
9 فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، یہ فرماتا ہے: ”مَیں تمہارے زمانے میں تمہاری آنکھوں کے سامنے اِس جگہ سے خوشی اور جشن کی آوازیں اور دُلہے اور دُلہن کی آوازیں ختم کر دوں گا۔“
10 جب تُم اِن لوگوں سے یہ سب باتیں کہو گے تو وہ تُم سے پوچھیں گے: ”یہوواہ نے یہ کیوں کہا ہے کہ وہ ہم پر اِتنی بڑی آفت لائے گا؟ ہم نے اپنے خدا یہوواہ کے خلاف کون سی غلطی اور کون سا گُناہ کِیا ہے؟“ 11 تُم اُنہیں یہ جواب دینا: ”یہوواہ فرماتا ہے: ”اِس لیے کہ تمہارے باپدادا نے مجھے ترک کر دیا۔ وہ دوسرے خداؤں کی پرستش اور خدمت کرتے رہے اور اُن کے سامنے جھکتے رہے۔ لیکن اُنہوں نے مجھے ترک کر دیا اور میری شریعت پر عمل نہیں کِیا۔ 12 تُم نے اپنے باپدادا سے بھی کہیں زیادہ بُرے کام کیے اور تُم میں سے ہر ایک میری بات ماننے کی بجائے ڈھٹائی سے اپنے بُرے دل کی سنتا ہے۔ 13 اِس لیے مَیں تمہیں اِس ملک سے نکال کر ایک ایسے ملک میں پھینک دوں گا جس کے بارے میں نہ تو تُم جانتے ہو اور نہ تمہارے باپدادا جانتے تھے اور وہاں تمہیں دن رات دوسرے خداؤں کی خدمت کرنی پڑے گی کیونکہ مَیں تُم پر بالکل رحم نہیں کروں گا۔““
14 یہوواہ فرماتا ہے: ”لیکن وہ دن آ رہے ہیں جب وہ یہ کہنے کی بجائے کہ ”زندہ خدا یہوواہ کی قسم جو بنیاِسرائیل کو ملک مصر سے نکال کر لایا،“ 15 یہ کہیں گے: ”زندہ خدا یہوواہ کی قسم جو بنیاِسرائیل کو شمال کے ملک سے اور اُن سب ملکوں سے نکال کر لایا جہاں اُس نے اُنہیں تتربتر کر دیا تھا“ اور مَیں اُنہیں اُن کے ملک میں واپس لاؤں گا جو مَیں نے اُن کے باپدادا کو دیا تھا۔“
16 یہوواہ فرماتا ہے: ”دیکھو، مَیں بہت سے مچھیروں کو بُلا رہا ہوں
اور وہ اُنہیں پکڑیں گے۔
اِس کے بعد مَیں بہت سے شکاریوں کو بُلاؤں گا
اور وہ ہر پہاڑ اور ہر پہاڑی سے
اور چٹانوں کے شگافوں سے اُنہیں ڈھونڈ نکالیں گے
17 کیونکہ میری آنکھیں اُن کے ہر کام کو* دیکھ رہی ہیں۔
وہ مجھ سے چھپے نہیں ہیں
اور نہ ہی اُن کے گُناہ میری نظروں سے پوشیدہ ہیں۔
18 مَیں پہلے اُنہیں اُن کی غلطیوں اور اُن کے گُناہوں کی پوری سزا دوں گا
کیونکہ اُنہوں نے میرے ملک کو اپنے گھناؤنے بُتوں کی بےجان مورتوں* سے ناپاک کِیا ہے
اور میری وراثت کو اپنی گھناؤنی چیزوں سے بھر دیا ہے۔““
19 اَے یہوواہ! تُو میری طاقت اور میرا قلعہ ہے؛
تُو وہ جگہ ہے جہاں مَیں مصیبت کے دن بھاگ کر جاتا ہوں۔
قومیں زمین کے کونے کونے سے تیرے پاس آئیں گی
اور کہیں گی: ”ہمارے باپدادا نے وراثت میں صرف جھوٹ پایا ہے
اور فضول اور بےکار چیزیں بھی جن کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔“
20 کیا ایک اِنسان اپنے لیے خدا بنا سکتا ہے
جبکہ اُس کے بنائے ہوئے خدا اصل میں خدا نہیں ہوتے؟
21 ”اِس لیے مَیں اُنہیں دِکھاؤں گا؛
مَیں اِس بار اُنہیں اپنی طاقت اور اپنی قوت دِکھاؤں گا
اور وہ جان جائیں گے کہ میرا نام یہوواہ ہے۔“