یرمیاہ
15 پھر یہوواہ نے مجھ سے کہا: ”اگر موسیٰ اور سموئیل بھی میرے سامنے کھڑے ہوتے تو بھی مَیں اِس قوم پر رحم نہ کرتا۔* اِنہیں میرے سامنے سے نکال دو۔ اِنہیں جانے دو۔ 2 اگر وہ تُم سے کہیں: ”ہم کہاں جائیں؟“ تو تُم اُن سے کہنا: ”یہوواہ یہ فرماتا ہے:
”جن کے لیے جانلیوا وبا ہے، وہ جانلیوا وبا کی طرف جائیں!
جن کے لیے تلوار ہے، وہ تلوار کی طرف جائیں!
جن کے لیے قحط ہے، وہ قحط کی طرف جائیں
اور جن کے لیے قید ہے، وہ قید کی طرف جائیں!““
3 یہوواہ فرماتا ہے: ”مَیں اُن پر چار آفتیں* لاؤں گا۔ اُنہیں مارنے کے لیے تلوار، اُنہیں گھسیٹنے کے لیے کُتے اور اُنہیں پھاڑ کھانے اور تباہ کرنے کے لیے آسمان کے پرندے اور زمین کے درندے۔ 4 مَیں اُنہیں یہوداہ کے بادشاہ اور حِزقیاہ کے بیٹے منسّی کے اُن کاموں کی وجہ سے جو اُس نے یروشلم میں کیے، زمین کی سب بادشاہتوں کے لیے دہشت کی علامت بناؤں گا۔
5 اَے یروشلم! کون تجھ پر ترس کھائے گا؟
کون تجھ سے ہمدردی کرے گا
اور کون تیری خیریت پوچھنے کے لیے رُکے گا؟“
6 یہوواہ فرماتا ہے: ”تُو نے مجھے چھوڑ دیا ہے۔
تُو بار بار مجھ سے پیٹھ پھیرتا رہا۔*
اِس لیے مَیں تیرے خلاف اپنا ہاتھ بڑھاؤں گا اور تجھے تباہ کر دوں گا۔
مَیں تجھ پر ترس کھاتے کھاتے* تھک گیا ہوں۔
7 مَیں اُنہیں ملک کے دروازوں پر ترنگلی* سے پھٹکوں گا۔
مَیں اُنہیں بچوں سے محروم کر دوں گا۔
مَیں اپنے بندوں کو تباہ کر دوں گا
کیونکہ وہ اپنی روِش بدلنے سے اِنکار کرتے ہیں۔
8 میرے سامنے اُن کی بیوائیں سمندر کی ریت سے بھی زیادہ ہو جائیں گی۔
مَیں بھری دوپہر میں اُن کے خلاف، ہاں، ماؤں اور اُن کے جوان بیٹوں کے خلاف ایک تباہ کرنے والا لاؤں گا۔
مَیں اُنہیں اچانک اُلجھن اور دہشت میں مبتلا کر دوں گا۔
9 سات بچوں کو جنم دینے والی ماں نڈھال ہو گئی ہے؛
اُسے* سانس لینے میں مشکل ہو رہی ہے۔
اُس کا سورج دن میں ہی ڈھل گیا ہے
جو شرمندگی اور ذِلت کا باعث بنا ہے۔“*
”مَیں اُن میں سے بچے ہوئے تھوڑے سے لوگوں کو
اُن کے دُشمنوں کی تلوار کے حوالے کر دوں گا۔“ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔“
10 ہائے میری ماں! مجھ پر افسوس! کیونکہ تُو نے مجھے جنم دیا،
ہاں، ایک ایسے آدمی کو جس سے سارا ملک لڑائی جھگڑا کرتا ہے۔
مَیں نے نہ تو کسی کو قرض دیا ہے اور نہ ہی کسی سے قرض لیا ہے
پھر بھی وہ سب مجھے بددُعائیں دیتے ہیں۔
11 یہوواہ فرماتا ہے: ”مَیں ضرور تمہاری بھلائی کے لیے کام کروں گا؛
مَیں ضرور مصیبت کے وقت اور پریشانی کے وقت
دُشمن کے سامنے تمہاری سفارش کروں گا۔
12 کیا کوئی لوہے، ہاں، شمال کے لوہے کے ٹکڑے ٹکڑے کر سکتا ہے؟
کیا کوئی تانبے کے ٹکڑے ٹکڑے کر سکتا ہے؟
13 تُو نے اپنے علاقوں میں جو بھی گُناہ کیے ہیں،
اُن کی وجہ سے مَیں تیرا مالودولت اور تیرے خزانے لُوٹ کے مال کے طور پر،
ہاں، بغیر کسی قیمت کے دے دوں گا۔
14 مَیں اُنہیں تیرے دُشمنوں کو دے دوں گا
تاکہ وہ اُنہیں ایک ایسے ملک میں لے جائیں جس کے بارے میں تُو نہیں جانتا
کیونکہ میرے غضب کی وجہ سے ایک آگ جل اُٹھی ہے
اور یہ تیرے خلاف بھڑک رہی ہے۔“
15 اَے یہوواہ! تُو میری صورتحال سے واقف ہے۔
مجھے یاد کر اور مجھ پر توجہ فرما۔
اُن لوگوں سے بدلہ لے جو مجھے اذیت دیتے ہیں۔
تُو جلدی غصہ نہیں کرتا لیکن اِس وجہ سے مجھے تباہ نہ ہونے دے۔
اِس بات پر توجہ فرما کہ مَیں یہ رُسوائی تیری خاطر سہہ رہا ہوں۔
16 تیرا کلام ملا اور مَیں نے اُسے کھا لیا؛
تیرے کلام سے مجھے خوشی ملی اور میرا دل باغ باغ ہو گیا
کیونکہ فوجوں کے خدا یہوواہ! مَیں تیرے نام سے کہلاتا ہوں۔
17 مَیں موج مستی کرنے والوں کے ساتھ بیٹھ کر خوش نہیں ہوتا۔
تیرا ہاتھ مجھ پر ہے اِس لیے مَیں اکیلا بیٹھتا ہوں؛
تُو نے میرے اندر غصہ* بھر دیا ہے۔
18 میرا درد کبھی ختم کیوں نہیں ہوتا اور میرا زخم لاعلاج کیوں ہے؟
یہ ٹھیک ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔
کیا تُو میرے لیے دھوکا دینے والے چشمے کی طرح بن جائے گا
جس پر بھروسا نہیں کِیا جا سکتا؟
19 اِس لیے یہوواہ فرماتا ہے:
”اگر تُم لوٹو گے تو مَیں تمہیں بحال کر دوں گا
اور تُم میرے حضور کھڑے ہو گے۔
اگر تُم قیمتی چیز کو فضول چیز سے الگ کرو گے
تو تُم میرے ترجمان* بن جاؤ گے۔
وہ تمہاری طرف آئیں گے
لیکن تُم اُن کی طرف نہیں جاؤ گے۔“
20 ”مَیں تمہیں اِن لوگوں کے سامنے تانبے کی ایک مضبوط دیوار بنا رہا ہوں۔
وہ تمہارے خلاف لڑیں گے ضرور
لیکن وہ تُم پر حاوی نہیں ہو پائیں گے*
کیونکہ مَیں تمہیں بچانے اور تمہیں چھڑانے کے لیے تمہارے ساتھ ہوں۔“ یہ بات یہوواہ فرما رہا ہے۔
21 ”مَیں تمہیں بُرے لوگوں کے ہاتھ سے بچاؤں گا
اور بےرحم لوگوں کے چُنگل سے چھڑاؤں گا۔“