سلیمان کی غزلُالغزلات
8 کاش کہ تُم میرے بھائی جیسے ہوتے
جس نے میری ماں کی چھاتیوں سے دودھ پیا ہوتا!
پھر اگر تُم مجھے کہیں باہر ملتے تو مَیں تمہیں چُوم لیتی
اور کوئی بھی مجھے بُرا نہ سمجھتا۔
2 مَیں تمہارے آگے آگے چلتی
اور تمہیں اپنی ماں کے گھر لے جاتی
جس نے مجھے بہت کچھ سکھایا۔
مَیں تمہیں مصالحےدار مے پینے کے لیے دیتی
اور اناروں کا تازہ رس بھی۔
3 اُس کا بایاں ہاتھ میرے سر کے نیچے ہوتا
اور اُس کا دایاں ہاتھ مجھے گلے لگاتا۔
4 یروشلم کی بیٹیو! مَیں تمہیں قسم دیتی ہوں
کہ میرے دل میں محبت جگانے کی کوشش نہ کرو
جب تک کہ یہ خودبخود نہ جاگے۔“
5 ”یہ کون ہے جو ویرانے سے اپنے محبوب کی بانہوں میں چلی آ رہی ہے؟“
”مَیں نے سیب کے درخت کے نیچے تمہیں جگایا
جہاں تمہاری ماں کو دردیں لگیں
اور اُس نے درد کے ساتھ تمہیں جنم دیا۔
6 مجھے مُہر کی طرح اپنے دل پر چھاپ لو؛
مُہر کی طرح اپنے بازو پر لگا لو
کیونکہ محبت موت جتنی طاقتور ہے
اِس کے شعلے بھڑکتی آگ کے شعلے، ہاں، یاہ* کا شعلہ ہیں!
7 ٹھاٹھیں مارتا پانی محبت کی آگ کو نہیں بجھا سکتا
اور نہ ہی دریا اِسے بہا لے جا سکتا ہے۔
اگر کوئی شخص محبت کی خاطر اپنے گھر کی ساری دولت بھی دے دے
تو اُس دولت* کو بالکل حقیر سمجھا جائے گا۔“
8 ”ہماری ایک چھوٹی بہن ہے
جس کی چھاتیاں ابھی نہیں اُبھریں۔
جس دن اُس کے رشتے کی بات چلے گی
ہم اُس کے لیے کیا کریں گے؟“
9 ”اگر وہ ایک دیوار ہے
تو ہم اُس پر چاندی کی مُنڈیر بنائیں گے۔
لیکن اگر وہ ایک دروازہ ہے
تو ہم دیودار کا تختہ لگا کر اُسے بند کر دیں گے۔“
10 ”مَیں ایک دیوار ہوں
اور میری چھاتیاں بُرج ہیں۔
اِس لیے مجھے میرے محبوب کی نظر میں سکون حاصل ہے۔
11 بعلہامون میں سلیمان کا انگور کا ایک باغ تھا۔
اُنہوں نے باغبانوں کو اِس کی دیکھبھال کی ذمےداری دی۔
ہر باغبان کو اِس کے پھل کے لیے چاندی کے ہزار ٹکڑے دینے پڑتے تھے۔
12 میرا اپنا انگور کا باغ ہے جو صرف میرا ہے۔
سلیمان! آپ کے چاندی کے ہزار ٹکڑے* آپ کو مبارک ہوں
اور آپ کے باغ کی باغبانی کرنے والوں کو اُن کے دو سو ٹکڑے مبارک ہوں۔“
13 ”باغوں میں بسنے والی! میرے ساتھی تمہاری آواز سننے کے منتظر ہیں۔
مجھے اپنی آواز سنا دو۔“
14 ”میرے محبوب! جلدی آؤ!
اُس غزال یا جوان ہِرن کی طرح تیزی سے آؤ
جو خوشبودار پودوں والے پہاڑوں پر ہے۔“