سلیمان کی غزلُالغزلات
7 ”باوقار لڑکی!
تمہارے پاؤں تمہارے جُوتوں میں کتنے حسین لگتے ہیں!
تمہاری رانوں کی گولائی اُن زیوروں کی طرح ہے
جو کسی ماہر کے ہاتھ کی کاریگری ہوں۔
2 تمہاری ناف ایک گول پیالہ ہے؛
یہ ہمیشہ مصالحےدار مے سے بھری رہے۔
تمہارا پیٹ گندم کے ڈھیر کی طرح ہے
جو سوسن کے پھولوں سے گِھرا ہو۔
3 تمہاری چھاتیاں ہِرن کے دو بچوں جیسی ہیں،
ہاں، غزال کے جُڑواں بچوں جیسی۔
4 تمہاری گردن ہاتھی دانت کے بُرج کی طرح ہے؛
تمہاری آنکھیں حِسبون کے تالابوں جیسی ہیں
جو بَتربیم کے دروازے کے پاس ہیں؛
تمہاری ناک لبنان کے بُرج کی طرح ہے
جس کا رُخ دمشق کی طرف ہے۔
5 تمہارا سر کوہِکرمِل کی طرح شاندار ہے؛
تمہارے بالوں* کی لٹیں جامنی اُون جیسی ہیں؛
بادشاہ تمہاری لہراتی زُلفوں کا اسیر ہو گیا ہے۔
6 میری دلرُبا! تُم کتنی خوبصورت ہو، کتنی دلکش ہو!
میرے لیے تُم سے بڑھ کر کوئی اَور خوشی نہیں!
7 تمہارا قد کھجور کے درخت کی طرح ہے
اور تمہاری چھاتیاں کھجور کے گچھوں کی طرح۔
8 مَیں نے کہا: ”مَیں کھجور کے درخت پر چڑھوں گا
تاکہ اِس کی پھلوں سے لدی شاخوں کو پکڑوں۔“
تمہاری چھاتیاں انگور کے گچھوں کی طرح ہوں
اور تمہاری سانس سیبوں کی طرح مہکے۔
9 تمہارا مُنہ* عمدہ مے کی طرح ہے۔“
”یہ سکون سے میرے محبوب کے گلے سے اُترے،
اُس مے کی طرح جو آہستہ آہستہ سونے والوں کے ہونٹوں پر بہتی ہے۔
10 مَیں اپنے محبوب کی ہوں
اور وہ میرے لیے بےتاب ہے۔
11 میرے محبوب! آؤ۔
آؤ ہم دونوں میدانوں میں چلیں
اور مہندی کے پودوں کے بیچ رہیں۔
12 آؤ صبح سویرے اُٹھیں اور انگور کے باغوں میں چلیں
تاکہ دیکھیں کہ انگور کی بیلوں پر کلیاں پھوٹی ہیں یا نہیں؛
پھول نکلے ہیں یا نہیں
اور انار کے درختوں پر پھول کِھلے ہیں یا نہیں۔
وہاں مَیں تمہارے لیے محبت کا اِظہار کروں گی۔
13 مردُمگیاہ* کی خوشبو پھیل رہی ہے؛
ہمارے دروازوں پر نئے پُرانے، ہر طرح کے عمدہ عمدہ پھل ہیں۔
میرے محبوب! مَیں نے یہ تمہارے لیے سنبھال کر رکھے ہیں۔