ایوب
5 ذرا پکار کر دیکھو! کیا کوئی تمہیں جواب دیتا ہے؟
تُم مُقدسوں* میں سے کس سے مدد مانگو گے؟
2 رنجش بےوقوف کی جان لے لیتی ہے
اور حسد ناسمجھ کو موت کے گھاٹ اُتار دیتا ہے۔
3 مَیں نے احمق کو اپنی جڑیں مضبوط کرتے دیکھا ہے
لیکن اچانک ہی اُس کے گھر پر لعنت بھیج دی جاتی ہے۔
4 اُس کے بیٹے بالکل غیر محفوظ ہوتے ہیں؛
اُنہیں شہر کے دروازے پر کچلا جاتا ہے
اور اُنہیں بچانے والا کوئی نہیں ہوتا۔
5 بھوکا شخص اُس کی فصل کھا جاتا ہے؛
وہ اِسے کانٹوں کے بیچ سے بھی نکال لیتا ہے
اور اُس کا اور اُس کے بیٹوں کا مال ہڑپ جاتا ہے۔
6 مصیبتیں مٹی سے نہیں نکلتیں
اور تکلیفیں زمین سے نہیں پھوٹتیں۔
7 جیسے آگ کی چنگاریوں کا اُوپر اُٹھنا یقینی ہے
ویسے ہی اِنسان کی زندگی میں تکلیفیں آنا یقینی ہے۔
8 اگر مَیں تمہاری جگہ ہوتا تو خدا سے درخواست کرتا
اور اپنا مُقدمہ اُس کے سامنے پیش کرتا،
9 اُس ہستی کے سامنے جس کے کام عظیم اور سمجھ سے باہر ہیں
اور جس کے حیرانکُن کاموں کو شمار کرنا ممکن نہیں۔
10 وہ زمین پر بارش برساتا ہے
اور کھیتوں کو پانی مہیا کرتا ہے۔
11 وہ ادنیٰ شخص کو سرفراز کرتا ہے
اور غمگین شخص کو نجات دِلا کر سربلند کرتا ہے۔
12 وہ مکاروں کی چالوں پر پانی پھیر دیتا ہے
تاکہ اُن کے ہاتھ اُن کے مقصد کو پورا نہ کر سکیں۔
13 وہ دانشمندوں کو اُن کی اپنی چالاکی میں پھنسا دیتا ہے
تاکہ اُن کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جائیں۔
14 دن دِہاڑے اُنہیں تاریکی گھیر لیتی ہے
اور بھری دوپہر میں وہ چیزوں کو ایسے ٹٹولتے ہیں جیسے رات ہو۔
15 وہ لوگوں کو اُن کے مُنہ کی تلوار سے بچاتا ہے
اور غریبوں کو طاقتوروں کے ہاتھ سے چھڑاتا ہے
16 تاکہ ادنیٰ لوگوں کو اُمید ملے
اور بُرے لوگوں کے مُنہ بند ہو جائیں۔
17 وہ شخص خوش رہتا ہے جس کی خدا اِصلاح کرتا ہے
اِس لیے لامحدود قدرت کے مالک کی تربیت کو رد نہ کرو
18 کیونکہ وہ تکلیف دیتا ہے لیکن زخم پر پٹی بھی باندھتا ہے؛
وہ چوٹ لگاتا ہے لیکن اپنے ہاتھوں سے شفا بھی دیتا ہے۔
19 وہ تمہیں چھ آفتوں سے بچائے گا
اور ساتویں تو تمہیں چُھو بھی نہیں پائے گی۔
20 قحط کے دوران وہ تمہیں موت کے چُنگل سے چھڑائے گا
اور جنگ کے دوران تلوار کے وار سے۔
21 وہ تمہیں اُس زبان سے محفوظ رکھے گا جو کوڑے کی طرح برستی ہے
اور جب تباہی آئے گی تو تُم خوفزدہ نہیں ہو گے۔
22 تُم تباہی اور قحط پر ہنسو گے
اور زمین کے وحشی درندوں سے نہ ڈرو گے۔
23 میدان کے پتھروں سے تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی*
اور میدان کے وحشی درندے تمہیں نقصان نہیں پہنچائیں گے۔*
24 تمہیں یقین ہوگا کہ تمہارا خیمہ محفوظ* ہے
اور جب تُم اپنی چراگاہ کا جائزہ لو گے تو دیکھو گے کہ تمہاری کوئی چیز گُم نہیں ہوئی۔
25 تمہیں بہت سے بچوں سے نوازا جائے گا
اور تمہاری اولاد زمین کی گھاس کی طرح پھلے پھولے گی۔
26 تُم قبر میں جانے تک مضبوطوتوانا ہو گے
جیسے کٹائی کے موسم میں جمع کیے ہوئے اناج کے گٹھے ہوتے ہیں۔
27 دیکھو، ہم نے اِن باتوں کا جائزہ لیا ہے اور اِنہیں سچ پایا ہے
اِس لیے اِنہیں سنو اور قبول کرو۔“