ایوب
6 تب ایوب نے کہا:
2 ”کاش کہ میری اذیت کو تولا جا سکتا
اور میری مصیبت کے ساتھ ترازو میں رکھا جا سکتا!
3 کیونکہ اب تو یہ سمندر کی ریت سے بھی بھاری ہو گئی ہے
اِسی لیے میرے مُنہ سے بےتُکی باتیں نکل رہی ہیں۔*
4 لامحدود قدرت والے خدا کے تیروں نے مجھے چھلنی کر دیا ہے
اور اُن کا زہر میرے اندر پھیل گیا ہے۔*
خدا کے خوفناک حملے میرے خلاف صف باندھے کھڑے ہیں۔
5 اگر جنگلی گدھے کے پاس گھاس ہو تو کیا وہ رینکے گا؟
اگر بیل کے پاس چارا ہو تو کیا وہ ڈکرائے گا؟
6 کیا بےذائقہ کھانا نمک کے بغیر کھایا جا سکتا ہے؟
کیا گُلِخیرو کے پودے کے رس میں کوئی مزہ ہے؟
7 مَیں* نے ایسی چیزوں کو چُھونے سے اِنکار کر دیا ہے؛
وہ میرے لیے کھانے کو آلودہ کرنے والی چیزوں کی طرح ہیں۔
8 کاش کہ میری درخواست سُن لی جائے
اور خدا میری آرزو پوری کر دے!
9 کاش کہ خدا مجھے کچل دینے پر راضی ہو جائے
اور اپنا ہاتھ بڑھا کر میری جان لے لے!
10 اِس سے بھی مجھے سکون مل جائے گا؛
مَیں شدید تکلیف کے باوجود خوشی سے جھوموں گا
کیونکہ مَیں نے پاک خدا کی باتوں کو رد نہیں کِیا۔
11 مجھ میں اِتنی طاقت کہاں ہے کہ مَیں اَور اِنتظار کروں؟
اور میرے پاس کون سی اُمید بچی ہے جس کے سہارے مَیں زندہ رہوں؟*
12 کیا مَیں چٹان جتنا مضبوط ہوں؟
یا کیا میرا جسم تانبے کا بنا ہے؟
13 اب مَیں اپنے لیے کچھ نہیں کر سکتا
کیونکہ میرا ہر سہارا مجھ سے چھین لیا گیا ہے۔
14 جو شخص دوسروں کے لیے اٹوٹ محبت ظاہر نہیں کرتا،
وہ لامحدود قدرت والے خدا کا خوف رکھنا بھی چھوڑ دیتا ہے۔
15 میرے اپنے بھائیوں نے مجھے اُن ندیوں کی طرح دغا دی ہے
جو سردیوں میں بہتی ہیں مگر بعد میں سُوکھ جاتی ہیں؛
16 وہ برف کی وجہ سے گدلی ہوتی ہیں
اور اُن کے اندر پگھلتی برف چھپی ہوتی ہے۔
17 لیکن گرمی کے موسم میں وہ سُوکھ جاتی ہیں اور ختم ہو جاتی ہیں؛
تپتی گرمی میں وہ بالکل خشک ہو جاتی ہیں؛
18 وہ بہتے بہتے مُڑ جاتی ہیں؛
وہ ریگستان میں چلی جاتی ہیں اور غائب ہو جاتی ہیں۔
19 تیما کے قافلے اُن کی راہ دیکھتے ہیں؛
سبا کے مسافر اُن کے اِنتظار میں رہتے ہیں۔
20 وہ شرمندہ ہوتے ہیں کیونکہ اُن کی اُمید دھری کی دھری رہ جاتی ہے؛
اُنہیں وہاں آ کر مایوسی کا مُنہ دیکھنا پڑتا ہے۔
21 تُم بھی میرے لیے ایسے ہی ثابت ہوئے ہو؛
تُم نے دیکھا کہ مجھ پر کتنی بھیانک آفت ٹوٹ پڑی اور تُم ڈر گئے۔
22 کیا مَیں نے تُم سے کچھ مانگا یا کہا
کہ اپنی دولت میں سے میری خاطر کسی کو کوئی تحفہ دو؟
23 کیا مَیں نے تُم سے مدد مانگی کہ مجھے دُشمنوں کے ہاتھ سے بچا لو
یا ظالموں کے چُنگل سے چھڑا لو؟
24 مجھے سمجھاؤ اور مَیں چپچاپ تمہاری سنوں گا؛
مجھے بتاؤ کہ مَیں نے کہاں غلطی کی ہے۔
25 سچی باتیں تکلیفدہ نہیں ہوتیں۔
لیکن تمہاری اِصلاح سے مجھے کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟
26 کیا تُم میری باتوں میں نقص نکالنا چاہتے ہو،
ایک دُکھی بندے کی باتوں میں جنہیں ہوا اُڑا لے جاتی ہے؟
27 تُم تو ایک یتیم پر بھی قُرعہ ڈال دو گے
اور اپنے دوست کا بھی سودا کر دو گے!
28 اب ذرا مُڑ کر میری طرف دیکھو
کیونکہ مَیں تمہارے مُنہ پر جھوٹ نہیں بولوں گا۔
29 مَیں تُم سے گزارش کرتا ہوں کہ ایک بار پھر سوچو؛
مجھ پر غلط اِلزام نہ لگاؤ؛
ایک بار پھر سوچو کیونکہ مَیں اب بھی نیکی کی راہ پر قائم ہوں۔
30 کیا مَیں کچھ غلط کہہ رہا ہوں؟
کیا مَیں نہیں سمجھتا کہ مجھ پر مصیبت کیوں آئی ہے؟