ایوب
4 اِس پر اِلیفز تیمانی نے کہا:
2 ”اگر کوئی تُم سے کچھ کہنے کی کوشش کرے
تو کیا تُم صبر سے اُس کی بات سنو گے کیونکہ بولے بغیر کون رہ سکتا ہے؟
3 سچ ہے کہ تُم نے بہت سے لوگوں کی تربیت* کی ہے؛
تُم کمزور ہاتھوں کو مضبوط کرتے تھے؛
4 تمہاری باتیں لڑکھڑاتے شخص کو سہارا دیتی تھیں
اور تُم کانپتے گُھٹنوں کو مضبوط کرتے تھے۔
5 لیکن اب جب تُم پر مصیبت آئی ہے تو تُم سے برداشت نہیں ہو رہا؛*
تمہیں خود اِس سے گزرنا پڑ رہا ہے تو تُم گھبرا گئے ہو۔
6 کیا خدا کا خوف رکھنے سے تمہارا بھروسا نہیں بڑھتا؟
کیا وفاداری کی راہ پر چلنے سے تمہیں اُمید نہیں ملتی؟
7 ذرا سوچو کہ کیا کبھی کوئی بےقصور شخص ہلاک ہوا ہے
اور کیا کبھی سیدھی راہ پر چلنے والا کوئی اِنسان برباد ہوا ہے؟
8 مَیں نے دیکھا ہے کہ جو بُرائی کا ہل چلاتے ہیں*
اور جو مصیبت کا بیج بوتے ہیں، وہ اِس کی فصل بھی کاٹتے ہیں۔
9 خدا کی ایک پھونک سے وہ ہلاک ہو جاتے ہیں
اور اُس کے غضب کے ایک جھونکے سے اُن کا وجود مٹ جاتا ہے۔
10 شیر دھاڑتا ہے اور جوان شیر غراتا ہے
لیکن طاقتور شیروں* کے بھی دانت ٹوٹ جاتے ہیں۔
11 شکار نہ ملنے پر شیر مر جاتا ہے
اور شیر کے بچے تتربتر ہو جاتے ہیں۔
12 دیکھو مجھ تک چپکے سے ایک بات پہنچائی گئی؛
وہ دھیمی سی آواز میں میرے کان تک پہنچی۔
13 رات کے جس پہر اِنسان گہری نیند میں ہوتے ہیں،
مَیں نے ایسی رُویات دیکھیں جنہوں نے مجھے پریشان کر دیا۔
14 مجھ پر ایک خوفناک کپکپی طاری ہو گئی
اور میری ساری ہڈیاں دہشت کے مارے کانپنے لگیں۔
16 پھر وہ ایک جگہ ٹھہر گئی
لیکن مَیں اُسے پہچان نہیں پایا؛
میری آنکھوں کے سامنے ایک پرچھائیں سی تھی؛
ہر طرف سناٹا تھا اور پھر مجھے ایک آواز سنائی دی جس نے کہا:
17 ”کیا ایک فانی اِنسان خدا سے زیادہ نیک ہو سکتا ہے؟
کیا ایک اِنسان اپنے خالق سے زیادہ پاک صاف ہو سکتا ہے؟“
19 تو پھر اُن کی کیا حیثیت جو مٹی کے گھروں میں رہتے ہیں؛
جن کی بنیاد خاک ہے
اور جنہیں پتنگے کی طرح آسانی سے مسلا جا سکتا ہے!
20 صبح کو وہ زندہ ہوتے ہیں لیکن شام تک پوری طرح کچل دیے جاتے ہیں؛
وہ ہمیشہ کے لیے مٹ جاتے ہیں اور کسی کو فرق بھی نہیں پڑتا۔
21 وہ اُس خیمے کی طرح ہیں جس کی رسیاں ڈھیلی کر دی گئی ہوں؛
وہ دانشمندی حاصل کیے بغیر ہی مر جاتے ہیں۔