’سب آدمیوں کے ساتھ میلملاپ رکھیں۔‘
۱. اگر صاحبِخانہ غصے میں آ جائے تو ہمیں بائبل کی کس نصیحت پر عمل کرنا چاہئے؟
۱ یہوواہ کے خادم صلحپسند ہیں اور سلامتی کی مُنادی کرتے ہیں۔ (یسع ۵۲:۷) لیکن بعض اوقات جب ہم لوگوں کے گھر پر خوشخبری کا پیغام لے کر جاتے ہیں تو وہ غصے میں آ جاتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ہم کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم صلحپسند ہیں؟—روم ۱۲:۱۸۔
۲. سمجھداری سے کام لینا کیوں ضروری ہے؟
۲ سمجھداری سے کام لیں: بعض لوگ اِس لئے غصے میں آ جاتے ہیں کیونکہ وہ بائبل کی سچائیوں کو ماننا نہیں چاہتے جبکہ بعض شاید ہمارے پیغام کی بجائے کسی اَور وجہ سے اُکتاہٹ کا شکار ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہم ایسے وقت اُن کے گھر گئے ہیں جو اُن کے لئے مناسب نہیں ہے یا شاید صاحبِخانہ اپنے کسی مسئلے کی وجہ سے پریشان ہے۔ اگر صاحبِخانہ ہمارا پیغام سُن کر غصے میں آ جاتا ہے تو ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ وہ جھوٹی تعلیم کی وجہ سے گمراہ ہے۔ (۲-کر ۴:۴) اگر ہم صاحبِخانہ کی صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کریں گے تو ہم اُس کی باتوں کی وجہ سے غصے میں نہیں آئیں گے۔—امثا ۱۹:۱۱۔
۳. ہم کیا کر سکتے ہیں جس سے ظاہر ہو کہ ہم صاحبِخانہ کا احترام کرتے ہیں؟
۳ احترام ظاہر کریں: بہت سے لوگ اپنے عقیدوں کے بڑے پکے ہوتے ہیں۔ (۲-کر ۱۰:۴) اِن لوگوں کو یہ فیصلہ کرنے کا حق ہے کہ آیا وہ ہماری بات سنیں گے یا نہیں۔ ہمیں صاحبِخانہ کو یہ احساس نہیں دِلانا چاہئے کہ ہمارے پاس اُس سے زیادہ بائبل کا علم ہے۔ اگر صاحبِخانہ ہمیں جانے کو کہے تو ہمیں اُس کی بات کا احترام کرتے ہوئے چلے جانا چاہئے۔
۴. نرمی سے بات کرنے میں کیا شامل ہے؟
۴ نرمی سے بات کریں: اگر کوئی ہم سے بدتمیزی سے بات کرتا ہے تو بھی ہمیں اُس سے نرمی سے بات کرنی چاہئے۔ (کل ۴:۶؛ ۱-پطر ۲:۲۳) صاحبِخانہ سے بحث کرنے کی بجائے ہمیں اُس کے ساتھ ایسے موضوع پر بات کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جس پر وہ ہم سے متفق ہو۔ شاید ہم اُس سے نرمی سے پوچھ سکتے ہیں کہ اُسے ہماری بات سے کیوں اختلاف ہے۔ لیکن کبھیکبھار بہتر ہے کہ ہم بات کو ختم کریں اور چلے جائیں کیونکہ اگر ہم بات کو طول دیں گے تو صاحبِخانہ اَور غصے میں آ جائے گا۔—امثا ۹:۷؛ ۱۷:۱۴۔
۵. اگر ہم مُنادی کے دوران صلحپسند ہوں گے تو اِس کے کیا فائدے ہوں گے؟
۵ اگر صاحبِخانہ دیکھتا ہے کہ ہم صلحپسند ہیں تو ہو سکتا ہے کہ وہ اِس بات کو یاد رکھے۔ اور پھر جب اگلی بار کوئی اَور یہوواہ کا گواہ اُسے بادشاہت کی خوشخبری دے تو شاید وہ اُس کی بات سنے۔ (روم ۱۲:۲۰، ۲۱) شاید ہمیں ایک شخص کے بارے میں لگے کہ وہ ہمیشہ ہمارے کام کی مخالفت کرتا رہے گا۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ ایک دن وہ بھی ہمارے ساتھ مل کر یہوواہ خدا کی خدمت کرنے لگے۔ (گل ۱:۱۳، ۱۴) چاہے ایک شخص بائبل کی سچائیوں میں دلچسپی لے یا نہ لے، اگر ہم غصہ کرنے کی بجائے صلحپسند ہوں گے تو اِس سے یہوواہ خدا کی بڑائی ہوگی اور ہم مؤثر طریقے سے تعلیم دیں گے۔—۲-کر ۶:۳۔