سبق نمبر 82
یسوع نے اپنے شاگردوں کو دُعا کرنا سکھایا
فریسی جو بھی کام کرتے تھے، وہ دوسروں سے تعریفیں پانے کے لیے کرتے تھے۔ وہ لوگوں کو دِکھانے کے لیے دوسروں کی مدد کرتے تھے۔ وہ ایسی جگہوں پر دُعا کرتے تھے جہاں سے لوگ اُنہیں دیکھ سکیں۔ اُنہوں نے لمبی لمبی دُعائیں یاد کی ہوئی تھیں۔ وہ عبادتگاہوں اور چوکوں پر اِنہیں دُہراتے تھے تاکہ لوگ اُن کی دُعائیں سُن سکیں۔ اِس لیے لوگ اُس وقت بہت حیران ہوئے جب یسوع نے اُن سے کہا: ”فریسیوں کی طرح دُعا نہ کریں۔ اُنہیں لگتا ہے کہ خدا لمبی لمبی دُعاؤں سے خوش ہوتا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ دُعا صرف آپ کے اور یہوواہ کے بیچ ہونی چاہیے۔ دُعا کرتے وقت ایک ہی بات کو نہ دُہرائیں۔ یہوواہ چاہتا ہے کہ آپ اُس کو اپنے دل کی بات بتائیں۔
آپ اُس سے اِس طرح دُعا کِیا کریں: ”اَے آسمانی باپ! تیرا نام پا ک مانا جائے۔ تیری بادشاہت آئے۔ تیری مرضی جیسے آسمان پر ہو رہی ہے ویسے ہی زمین پر ہو۔““ یسوع نے لوگوں سے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے روز کے کھانے، گُناہوں کی معافی اور اپنی زندگی کے دوسرے معاملوں کے بارے میں دُعا کریں۔
یسوع نے کہا: ”کبھی بھی دُعا کرنا نہ چھوڑیں۔ اپنے آسمانی باپ سے اچھی چیزیں مانگتے رہیں۔ ہر ماں باپ اپنے بچے کو اچھی چیزیں دینا چاہتا ہے۔ اگر آپ کا بیٹا آپ سے روٹی مانگے تو کیا آپ اُسے پتھر دیں گے؟ اگر وہ آپ سے مچھلی مانگے تو کیا آپ اُسے سانپ دیں گے؟“
پھر یسوع نے یہ بات ایسے سمجھائی: ”اگر آپ اپنے بچوں کو اچھی چیزیں دیتے ہیں تو کیا آپ کا آسمانی باپ آپ کو پاک روح نہیں دے گا؟ آپ کو بس اُس سے مانگتے رہنا ہے۔“ کیا آپ یسوع کی بات مانتے ہیں؟ آپ کن باتوں کے بارے میں دُعا کرتے ہیں؟
”مانگتے رہیں تو آپ کو دیا جائے گا؛ ڈھونڈتے رہیں تو آپ کو مل جائے گا؛ دروازہ کھٹکھٹاتے رہیں تو آپ کے لیے کھولا جائے گا۔“—متی 7:7