سبق نمبر 81
پہاڑ پر ایک تقریر
جب یسوع نے اپنے 12 رسولوں کو چُن لیا تو وہ پہاڑ سے اُتر کر ایک ایسی جگہ گئے جہاں بہت سے لوگ جمع تھے۔ وہ سب لوگ گلیل، یہودیہ، صُور، صیدا، سُوریہ اور دریائےاُردن کے پار سے آئے تھے۔ وہ اپنے ساتھ ایسے لوگوں کو لے کر آئے تھے جنہیں طرح طرح کی بیماریاں تھیں اور کچھ ایسے لوگوں کو بھی جنہیں بُرے فرشتے بہت اذیت دیتے تھے۔ یسوع نے اُن سب کو ٹھیک کر دیا۔ پھر یسوع پہاڑ کی ایک طرف بیٹھ گئے اور لوگوں کو تعلیم دینے لگے۔ اُنہوں نے بتایا کہ ہمیں خدا کے ساتھ دوستی مضبوط کرنے کے لیے کیا کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ہمیں یہوواہ کی ضرورت ہے اور ہمیں اُس سے محبت کرنی چاہیے۔ لیکن ہم تبھی خدا سے محبت کر پائیں گے جب ہم لوگوں سے محبت کریں گے۔ ہمیں سب کے ساتھ بھلائی کرنی چاہیے، یہاں تک کہ اپنے دُشمنوں کے ساتھ بھی۔
یسوع نے کہا: ”صرف اپنے دوستوں سے محبت رکھنا ہی کافی نہیں ہے۔ آپ کو اپنے دُشمنوں سے بھی محبت کرنی چاہیے اور لوگوں کو دل سے معاف کرنا چاہیے۔ اگر کسی کو آپ کی وجہ سے دُکھ پہنچا ہے تو فوراً اُس کے پاس جائیں اور اُس سے معافی مانگیں۔ جیسا سلوک آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کے ساتھ کریں آپ بھی اُن کے ساتھ ویسا ہی سلوک کریں۔“
یسوع نے لوگوں کو پیسے اور چیزوں کے بارے میں بھی اچھے مشورے دیے۔ اُنہوں نے کہا: ”پیسہ جمع کرنے سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ آپ کی یہوواہ کے ساتھ دوستی ہو۔ چور آپ کا پیسہ چُرا سکتا ہے لیکن کوئی بھی یہوواہ کے ساتھ آپ کی دوستی کو نہیں چُرا سکتا۔ یہ فکر کرنا چھوڑ دیں کہ آپ کیا کھائیں گے، کیا پئیں گے یا کیا پہنیں گے۔ پرندوں کو دیکھیں! خدا ہمیشہ اُنہیں کھانے کے لیے دیتا ہے۔ فکر کرنے سے آپ اپنی زندگی کا ایک دن بھی نہیں بڑھا سکتے۔ یاد رکھیں کہ یہوواہ کو پتہ ہے کہ آپ کو کس چیز کی ضرورت ہے۔“
لوگوں نے کسی کو بھی یسوع جیسی باتیں کرتے نہیں سنا تھا۔ لوگوں کو اُن کے مذہبی رہنماؤں نے یہ باتیں نہیں سکھائی تھیں۔ یسوع اِتنی اچھی طرح کیوں سکھا پاتے تھے؟ کیونکہ وہ جو کچھ سکھاتے تھے، وہ اُنہیں یہوواہ نے بتایا تھا۔
”میرا جُوا اُٹھا لیں اور مجھ سے سیکھیں کیونکہ مَیں نرممزاج اور دل سے خاکسار ہوں۔ پھر آپ تازہدم ہو جائیں گے۔“—متی 11:29