سبق نمبر 64
دانیایل شیروں کی ماند میں
بابل کا ایک اَور بادشاہ تھا جس کا نام دارا تھا۔ وہ مادی تھا۔ دارا نے دیکھا کہ دانیایل باقی لوگوں سے الگ ہیں۔ اُس نے دانیایل کو ملک کے خاص خاص آدمیوں کا نگران بنا دیا۔ وہ آدمی دانیایل سے جلنے لگے اور وہ دانیایل سے چھٹکارا پانا چاہتے تھے۔ اُنہیں پتہ تھا کہ دانیایل دن میں تین بار یہوواہ سے دُعا کرتے ہیں۔ اِس لیے اُنہوں نے دارا سے کہا: ”بادشاہ سلامت! ایک ایسا قانون ہونا چاہیے کہ ہر شخص آپ سے دُعا کرے اور جو کوئی اِس قانون کو نہ مانے، اُسے شیروں کی ماند میں ڈال دیا جائے۔“ دارا کو اُن کا یہ مشورہ اچھا لگا اور اُس نے اِس قانون پر دستخط کر دیے۔
جیسے ہی دانیایل کو اِس نئے قانون کا پتہ چلا، وہ اپنے گھر گئے اور اپنے کمرے کی کھڑکی کے سامنے گُھٹنوں کے بل بیٹھ کر یہوواہ سے دُعا کرنے لگے۔ جو آدمی دانیایل سے جلتے تھے، وہ اُن کے گھر میں گُھس آئے اور اُنہیں دُعا کرتے ہوئے دیکھ لیا۔ وہ بھاگ کر دارا کے پاس گئے اور اُس سے کہا: ”دانیایل آپ کی بات نہیں مان رہے۔ وہ ہر روز تین بار اپنے خدا سے دُعا کرتے ہیں۔“ دارا دانیایل کو بہت پسند کرتا تھا اور نہیں چاہتا تھا کہ اُن کی جان جائے۔ وہ پورا دن سوچتا رہا کہ دانیایل کو کیسے بچائے۔ لیکن بادشاہ بھی اُس قانون کو نہیں بدل سکتا تھا جس پر اُس نے دستخط کیے ہوتے تھے۔ اُسے اپنے آدمیوں کو حکم دینا پڑا کہ دانیایل کو خطرناک شیروں کی ماند میں ڈال دیا جائے۔
اُس رات بادشاہ دارا دانیایل کے لیے اِتنا زیادہ پریشان رہا کہ وہ سو بھی نہیں پایا۔ صبح ہوتے ہی وہ شیروں کی ماند کے پاس گیا اور دانیایل کو آواز دے کر کہا: ”کیا تمہارے خدا نے تمہیں بچا لیا ہے؟“
دارا نے ایک آواز سنی۔ یہ دانیایل کی آواز تھی! دانیایل نے دارا سے کہا: ”یہوواہ کے فرشتے نے شیروں کے مُنہ بند کر دیے۔ اُنہوں نے مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔“ دارا بہت خوش ہوا۔ اُس نے حکم دیا کہ دانیایل کو ماند سے باہر نکالا جائے۔ دانیایل کے جسم پر ایک خراش بھی نہیں تھی۔ پھر بادشاہ نے حکم دیا: ”جن آدمیوں نے دانیایل پر اِلزام لگایا تھا، اُنہیں ماند میں پھینک دیا جائے۔“ جب اُن آدمیوں کو ماند میں پھینکا گیا تو شیروں نے اُنہیں پھاڑ کھایا۔
دارا نے اپنے سب لوگوں کو یہ حکم دیا: ”سب لوگ دانیایل کے خدا کا خوف رکھیں۔ اُس نے دانیایل کو شیروں سے بچایا۔“
کیا آپ بھی دانیایل کی طرح ہر روز یہوواہ سے دُعا کرتے ہیں؟
”یہوواہ اپنے بندوں کو آزمائش کے وقت بچائے گا۔“—2-پطرس 2:9