سبق نمبر 63
دیوار پر ایک اہم پیغام
کچھ وقت بعد بیلشضر بابل کا بادشاہ بن گیا۔ ایک رات اُس نے ملک کے بہت سے خاص لوگوں کو دعوت پر بُلایا۔ اُس نے اپنے خادموں کو حکم دیا کہ وہ سونے کے اُن پیالوں کو لائیں جنہیں نبوکدنضر یہوواہ کی ہیکل میں سے اُٹھا لایا تھا۔ بیلشضر اور اُس کے مہمانوں نے اُن پیالوں میں شراب پی اور اپنے دیوتاؤں کی بڑائی کی۔ اچانک دیوار پر ایک ہاتھ دِکھائی دینے لگا اور وہ کھانے کے کمرے کی دیوار پر کچھ ایسے لفظ لکھنے لگا جو کسی کو سمجھ نہیں آ رہے تھے۔
بیلشضر بہت ڈر گیا۔ اُس نے اپنے جادوگروں کو بُلایا اور اُن سے یہ وعدہ کِیا: ”جو شخص مجھے اِن الفاظ کا مطلب بتائے گا، مَیں اُسے بابل کا تیسرا سب سے طاقتور شخص بناؤں گا۔“ اُن جادوگروں نے کوشش کی مگر کوئی بھی اُن الفاظ کا مطلب نہیں بتا پایا۔ پھر ملکہ آئی اور اُس نے بیلشضر سے کہا: ”دانیایل نام کا ایک آدمی بادشاہ نبوکدنضر کو ایسی باتوں کا مطلب بتاتا تھا۔ وہ آپ کو اِن الفاظ کا مطلب بتا سکتا ہے۔“
دانیایل بادشاہ کے پاس آئے۔ بیلشضر نے اُن سے کہا: ”اگر تُم اِن الفاظ کو پڑ ھ کر مجھے اِن کا مطلب بتاؤ گے تو مَیں تمہیں سونے کا ہار دوں گا اور بابل کا تیسرا سب سے طاقتور شخص بناؤں گا۔“ دانیایل نے کہا: ”مجھے آپ کے تحفے نہیں چاہئیں لیکن مَیں آپ کو بتاؤں گا کہ اِن لفظوں کا کیا مطلب ہے۔ آپ کے ابو نبوکدنضر بہت مغرور شخص تھے۔ لیکن یہوواہ نے اُنہیں خاکسار بنایا۔ آپ کو پتہ ہے کہ اُن کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ پھر بھی آپ نے یہوواہ کی ہیکل کے پیالوں میں شراب پی کر یہوواہ کی توہین کی۔ اِس لیے خدا نے یہ الفاظ لکھے ہیں: ”منے، منے، تقیل اور فرسین۔“ اِن لفظوں کا مطلب ہے کہ مادی اور فارس بابل پر قبضہ کر لیں گے اور آپ بادشاہ نہیں رہیں گے۔“
ایسا لگتا تھا کہ بابل پر کوئی قبضہ نہیں کر سکتا کیونکہ اِس کے چاروں طرف موٹی دیواریں اور ایک گہرا دریا تھا۔ لیکن اُسی رات مادیوں اور فارسیوں نے بابل پر حملہ کر دیا۔ فارس کے بادشاہ خورس نے دریا کا رُخ موڑ دیا تاکہ اُس کے فوجی چل کر شہر کے دروازوں تک جا سکیں۔ جب وہ وہاں پہنچے تو اُنہوں نے دیکھا کہ شہر کے دروازے کُھلے ہوئے ہیں۔ وہ فوجی شہر میں گُھس گئے۔ اُنہوں نے شہر پر قبضہ کر لیا اور بادشاہ کو مار ڈالا۔ پھر خورس نے بابل پر حکمرانی شروع کر دی۔
ایک سال کے اندر اندر خورس نے یہ اِعلان کِیا: ”یہوواہ نے مجھ سے کہا ہے کہ یروشلم میں اُس کی ہیکل کو دوبارہ بنواؤں۔ اُس کے لوگوں میں سے جو بھی اِس کام میں مدد کے لیے جانا چاہتا ہے، وہ جا سکتا ہے۔“ اِس لیے یہوواہ کے وعدے کے مطابق یہودی یروشلم کی تباہی کے 70 سال بعد اپنے گھر واپس گئے۔ خورس نے وہ سونے اور چاندی کے پیالے اور دوسرے برتن بھی واپس یروشلم بھیج دیے جو نبوکدنضر ہیکل سے اُٹھا لایا تھا۔ کیا آپ نے دیکھا کہ یہوواہ نے کیسے خورس کے ذریعے اپنے بندوں کی مدد کی؟
”اُس نے شکست کھائی! بابلِعظیم نے شکست کھائی! اب اُس میں بُرے فرشتے رہتے ہیں۔“—مُکاشفہ 18:2