جمعرات، 16 اپریل
مَیں نے پریشانی کے عالم میں یہوواہ کو پکارا . . . اور مدد کے لیے میری فریاد اُس کے کانوں تک پہنچی۔—زبور 18:6۔
بادشاہ داؤد یہوواہ کو اچھی طرح سے جانتے تھے اور اُس پر پورا بھروسا کرتے تھے۔ جب داؤد کے دُشمن اُن کی جان لینے پر تُلے ہوئے تھے جن میں بادشاہ ساؤل بھی شامل تھے تو داؤد نے مدد کے لیے یہوواہ سے دُعا کی۔ جب یہوواہ نے داؤد کی دُعا کا جواب دیا اور اُنہیں اُن کے دُشمنوں کے ہاتھ سے بچایا تو داؤد نے کہا: ”یہوواہ زندہ خدا ہے!“ (زبور 18:46) یہ بات کہنے سے داؤد صرف یہ تسلیم نہیں کر رہے تھے کہ یہوواہ موجود ہے۔ زبور کی کتاب پر تبصرہ کرنے والی ایک کتاب میں بتایا گیا ہے کہ داؤد یہوواہ کے بارے میں یہ بات یقین سے کہہ رہے تھے کہ ”وہ زندہ خدا ہے جو اپنے بندوں کی مدد کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے۔“ واقعی داؤد نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ اُن کا سچا اور زندہ خدا جانتا ہے کہ اُن کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور وہ اُن کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔ اِس یقین کی وجہ سے داؤد کا یہ عزم اَور پکا ہو گیا کہ وہ اپنے خدا کی عبادت اور اُس کی بڑائی کرتے رہیں گے۔ (زبور 18:28، 29، 49) اگر ہم اِس بات پر پکا یقین رکھیں گے کہ یہوواہ زندہ خدا ہے تو ہم جوش سے اُس کی خدمت کر پائیں گے۔ اِس سے ہمیں مشکلوں کو ثابتقدمی سے برداشت کرنے کی طاقت ملے گی اور ہمارے دل میں لگن سے یہوواہ کی خدمت کرتے رہنے کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اِس کے علاوہ ہمارا یہ عزم بھی اَور مضبوط ہو جائے گا کہ ہم یہوواہ کے قریب رہیں۔ م24.06 ص. 20-21 پ. 3-4
جمعہ، 17 اپریل
کسی کی باتوں میں نہ آئیں۔—2-تھس 2:3۔
پولُس رسول نے تھسلُنیکے میں رہنے والے مسیحیوں کے نام جو خط لکھا، اُس سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟ جب ہم کوئی ایسی بات یا خبر سنتے ہیں جو بائبل میں لکھی تعلیمات سے میل نہیں کھاتی تو ہمیں اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو اِستعمال کرنا چاہیے۔ اِس سلسلے میں ذرا ایک واقعے پر غور کریں۔ سابقہ سوویت یونین میں حکومت کے کچھ لوگوں نے ہمارے بھائیوں کو ایک ایسا خط بھیجا جسے دیکھ کر لگ رہا تھا کہ یہ خط اُنہیں ہمارے مرکز ی دفتر کی طرف سے ملا ہے۔ اِس خط میں یہ حوصلہافزائی کی گئی تھی کہ کچھ بھائی الگ سے ایک تنظیم قائم کریں۔ خط کو دیکھ کر بھائیوں کو لگ رہا تھا کہ یہ اُنہیں مرکزی دفتر کی طرف سے ہی ملا ہے۔ لیکن ہمارے بھائی دھوکے میں نہیں آئے۔ اُنہوں نے دیکھا کہ خط میں لکھی باتیں اُن تعلیمات کے مطابق نہیں ہیں جو اُنہوں نے بائبل سے سیکھی ہیں۔ آج بھی سچائی کے دُشمن کبھی کبھار جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ہمیں گمراہ کرنا اور ہم میں پھوٹ ڈالنا چاہتے ہیں۔ جب وہ ایسا کرتے ہیں تو ’فوراً اُلجھن میں پڑنے اور پریشان ہونے‘ کی بجائے ہم اِس بات پر غور کر سکتے ہیں کہ جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں یا سُن رہے ہیں، کیا وہ اُن سچائیوں کے مطابق بھی ہے جو ہم نے سیکھی ہیں؟ اِس طرح ہم خود کو جھوٹی باتوں سے محفوظ رکھ پائیں گے۔—2-تھس 2:2؛ 1-یوح 4:1۔ م24.07 ص. 12 پ. 14-15
ہفتہ، 18 اپریل
اگر کوئی شخص گُناہ کرے بھی تو . . . ہمارا ایک مددگار ہے۔—1-یوح 2:1۔
ایک شخص اپنی زندگی میں سب سے بڑا اور اہمترین فیصلہ تب لیتا ہے جب وہ اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرتا ہے اور اُس کے خاندان کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہوواہ چاہتا ہے کہ ہر شخص یہ فیصلہ لے۔ کیوں؟ کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ اِنسان اُس کے دوست بنیں اور ہمیشہ تک زندہ رہیں۔ (اِست 30:19، 20؛ گل 6:7، 8) لیکن یہوواہ کسی بھی شخص کو مجبور نہیں کرتا کہ وہ اُس کی عبادت کرے۔ اُس نے ہر شخص کو خود یہ فیصلہ کرنے کی آزادی دی ہے۔ لیکن اگر کوئی بپتسمہیافتہ مسیحی سنگین گُناہ کر کے یہوواہ کا حکم توڑ دیتا ہے تو پھر کیا کِیا جانا چاہیے؟ اگر وہ اپنے گُناہ سے توبہ نہیں کرتا تو اُسے کلیسیا سے نکال دیا جانا چاہیے۔ (1-کُر 5:13) جب ایسا ہوتا ہے تو یہوواہ پھر بھی اِس بات کی اُمید نہیں چھوڑتا کہ گُناہ کرنے والا شخص ایک دن اُس کی طرف لوٹ آئے گا۔ دراصل اِسی وجہ سے تو اُس نے اِنسانوں کے لیے فدیہ فراہم کِیا ہے تاکہ اُن لوگوں کو معافی مل سکے جو اپنے گُناہ سے توبہ کرتے ہیں۔ ہمارا شفیق خدا گُناہ کرنے والے لوگوں سے بڑے پیار سے درخواست کرتا ہے کہ وہ توبہ کریں۔—زِک 1:3؛ روم 2:4؛ یعقو 4:8۔ م24.08 ص. 14 پ. 1-2