” اِتحاد کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کریں“
پولُس رسول نے اِفسس میں رہنے والے مسیحیوں کی یہ حوصلہافزائی کی: ”محبت کی بِنا پر ایک دوسرے کی برداشت کریں۔ اُس اِتحاد کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کریں جو ہمیں پاک روح کے ذریعے حاصل ہے اور صلح کے بندھن کو قائم رکھیں۔“—اِفِس 4:2، 3۔
ہم میں اور ہمارے ہمایمانوں کے بیچ جو ”اِتحاد“ پایا جاتا ہے، وہ یہوواہ کی ”پاک روح“ کی وجہ سے ہے۔ لیکن یہ اِتحاد اپنے آپ ہی قائم نہیں رہ سکتا بلکہ اِسے برقرار رکھنے کے لیے سخت کوشش کی ضرورت ہے۔ مگر ایسا کرنے کی ذمےداری کس کی ہے؟ ہر مسیحی کی۔ ہم سبھی کو ”پاک روح کے ذریعے حاصل“ ہونے والے ”اِتحاد کو برقرار“رکھنے کی پوری کوشش کرنی چاہیے۔
اِس بات کو سمجھنے کے لیے اِس مثال پر غور کریں: فرض کریں کہ ایک شخص آپ کو تحفے میں نئی گاڑی دیتا ہے۔ لیکن اِس گاڑی کو اچھی حالت میں رکھنے کی ذمےداری کس کی ہے؟ ظاہری بات ہے کہ آپ کی۔ اگر گاڑی خراب ہو جاتی ہے تو آپ گاڑی دینے والے شخص کو قصوروار نہیں ٹھہرا سکتے۔ آپ نے گاڑی کا اچھے سے خیال نہیں رکھا تھا جس کی وجہ سے یہ خراب ہو گئی۔
اِسی طرح ہمارے بیچ پایا جانے والا اِتحاد یہوواہ کی طرف سے ایک نعمت ہے۔ لیکن یہ ہم سب کی ذمےداری ہے کہ ہم اِس نعمت کا اچھے سے خیال رکھیں یعنی اپنے اِتحاد کو برباد نہ ہونے دیں۔ اگر ہماری کسی بھائی یا بہن کے ساتھ صلح نہیں ہے تو ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے: ”کیا مَیں اپنی طرف سے اِتحاد کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کر رہا ہوں اور اُس کے ساتھ اپنے اِختلاف کو دُور کر رہا ہوں؟“
”اِتحاد کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کریں“
پولُس کی بات سے پتہ چلتا ہے کہ کبھی کبھار اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ اِتحاد برقرار رکھنا بہت مشکل ہو سکتا ہے، خاص طور پر اُس وقت جب اُن میں سے کوئی ہمارا دل دُکھاتا ہے۔ لیکن کیا اِتحاد برقرار رکھنے کے لیے ہمیشہ یہ ضروری ہوتا ہے کہ ہم دل دُکھانے والے شخص سے بات کر کے مسئلہ حل کریں؟ یہ ضروری نہیں۔ ہم خود سے پوچھ سکتے ہیں: ”کیا اِس مسئلے پر بات کرنے سے مسئلہ حل ہو جائے گا یا اَور بگڑ جائے گا؟“ کبھی کبھار سمجھداری اِسی بات میں ہوتی ہے کہ ہم معاملے کو نظرانداز کریں اور اُس شخص کو معاف کر دیں۔—اَمثا 19:11؛ مر 11:25۔
خود سے پوچھیں: ”کیا اِس مسئلے پر بات کرنے سے مسئلہ حل ہو جائے گا یا اَور بگڑ جائے گا؟“
ہمیں پولُس کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے ”محبت کی بِنا پر ایک دوسرے کی برداشت“ کرنی چاہیے۔ (اِفِس 4:2) ایک کتاب میں بتایا گیا ہے کہ اِصطلاح ”محبت کی بِنا پر ایک دوسرے کی برداشت“ کرنے کا ترجمہ یہ بھی کِیا جا سکتا ہے: ”اُنہیں ویسے ہی قبول کریں جیسے وہ ہیں۔“ اِس کا مطلب ہے کہ ہمیں اِس بات کو قبول کرنا چاہیے کہ ہمارے ہمایمان ہماری طرح عیبدار ہیں۔ بےشک ہم سب ”نئی شخصیت“ کو پہننے کی کوشش کرتے ہیں۔ (اِفِس 4:23، 24) لیکن ہم میں سے کوئی بھی پوری طرح سے ایسا نہیں کر سکتا۔ (روم 3:23) تو اگر ہم اِس حقیقت کو تسلیم کریں گے تو ہمارے لیے اپنے بہن بھائیوں کی غلطیوں کو برداشت کرنا اور اُنہیں معاف کرنا آسان ہوگا۔ اِس طرح ہم اپنے ”اِتحاد کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش“ کر رہے ہوں گے۔
جب ہم دل ہی دل میں اپنے کسی بھائی یا بہن کو معاف کر دیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ اُس نے ہمارے ساتھ کیا کِیا تھا تو ہم کلیسیا میں ”صلح کے بندھن کو قائم“ رکھتے ہیں۔ اِفِسیوں 4:3 میں جس یونانی لفظ کا ترجمہ ”صلح کا بندھن“ کِیا گیا ہے، وہ اُن مضبوط ریشوں کی طرف اِشارہ کرتا ہے جو ایک ہڈی کو دوسری ہڈی سے جوڑے رکھتے ہیں۔ اِسی طرح صلح اور محبت تب بھی ہمیں اپنے بہن بھائیوں سے جوڑے رکھتی ہیں جب ہم اُن کی کسی بات سے اِتفاق نہیں کرتے۔
تو اگر ہم کسی بہن یا بھائی کی بات کی وجہ سے غصے میں آ جاتے ہیں یا ہمارا دل دُکھتا ہے تو ہمیں اُس کی بُری بات پر دھیان دینے کی بجائے اُسے سمجھنے اور اُس کے لیے ہمدردی دِکھانے کی ضرورت ہے۔ (کُل 3:12) ہم سبھی عیبدار ہیں اِس لیے ہم بھی کبھی کبھار کسی کا دل دُکھا بیٹھتے ہیں۔ اگر ہم یہ بات یاد رکھیں گے تو ہم سبھی ”اِتحاد کو برقرار رکھنے“ میں اپنا کردار نبھانے کی پوری کوشش کریں گے۔