یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م25 نومبر ص.‏ 22-‏27
  • ‏”‏آپ بہت انمول ہیں“‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ‏”‏آپ بہت انمول ہیں“‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • یسوع نے لوگوں کو اُن کی قدروقیمت کا احساس کیسے دِلایا؟‏
  • ہم خود کو یہوواہ کی نظر سے کیسے دیکھ سکتے ہیں؟‏
  • ‏”‏مَیں نے مالک کو دیکھا ہے“‏
    دلیری سے خدا کے ساتھ ساتھ چلیں
  • یہوواہ ”‏دُکھ سے چُور لوگوں کو شفا دیتا ہے“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2024ء
  • یہوواہ ہمارے لیے شفقت دِکھاتا ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2024ء
  • زمین پر یسوع مسیح کے آخری 40 دنوں سے سبق
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2024ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
م25 نومبر ص.‏ 22-‏27

مطالعے کا مضمون نمبر 47

گیت نمبر 38‏:‏ وہ آپ کو طاقت بخشے گا

‏”‏ آپ بہت انمول ہیں“‏

‏”‏ آپ بہت انمول ہیں۔“‏‏—‏دان 9:‏23‏، ترجمہ نئی دُنیا۔‏

غور کریں کہ ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏

اِس مضمون کے ذریعے اُن بہن بھائیوں کی مدد کیسے ہوگی جو خود کو یہوواہ کی محبت کے لائق نہیں سمجھتے۔ اِس مضمون کی مدد سے یہ بہن بھائی دیکھ پائیں گے کہ وہ یہوواہ کی نظر میں کتنے انمول ہیں۔‏

1-‏2.‏ کیا چیز ہماری مدد کر سکتی ہے تاکہ ہم اِس بات کا پکا یقین رکھ سکیں کہ ہم یہوواہ کی نظر میں بہت انمول ہیں؟‏

یہوواہ کی نظر میں اُس کا ایک ایک بندہ بہت قیمتی ہے۔ لیکن یہوواہ کے بندوں میں سے کچھ کو شاید اِس بات پر یقین کرنا مشکل لگے کہ یہوواہ اُن سے پیار کر سکتا ہے۔ شاید وہ ایسا اِس لیے محسوس کرتے ہیں کیونکہ دوسرے اُنہیں یہ احساس دِلاتے ہیں کہ وہ کسی کام کے نہیں ہیں۔ کیا آپ کو بھی کبھی ایسا لگا جیسے آپ کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے؟ اگر ہاں تو کیا چیز آپ کی مدد کر سکتی ہے تاکہ آپ اِس بات کا پکا یقین رکھ سکیں کہ آپ یہوواہ کی نظر میں بہت انمول ہیں؟‏

2 اِس سلسلے میں آپ کو بائبل میں لکھے اُن واقعات پر سوچ بچار کرنے سے بہت فائدہ ہو سکتا ہے جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہوواہ دوسروں کے ساتھ پیش آنے کے حوالے سے اِنسانوں سے کیا توقع کرتا ہے۔ یہوواہ کے بیٹے یسوع ہمیشہ دوسروں کے ساتھ عزت اور پیار سے پیش آئے۔ ایسا کرنے سے اُنہوں نے ظاہر کِیا کہ وہ اور اُن کا باپ اُن لوگوں کی بہت قدر کرتے ہیں جو خود کو حقیر سمجھتے ہیں۔ (‏یوح 5:‏19؛‏ عبر 1:‏3‏)‏ اِس مضمون میں ہم اِن دو سوالوں پر غور کریں گے:‏ (‏1)‏یسوع نے لوگوں کی یہ سمجھنے میں مدد کیسے کی کہ وہ یہوواہ کی نظر میں بہت قیمتی ہیں؟ اور (‏2)‏ہم خود کو یہ یقین کیسے دِلا سکتے ہیں کہ یہوواہ ہماری بہت قدر کرتا ہے؟—‏حج 2:‏7۔‏

یسوع نے لوگوں کو اُن کی قدروقیمت کا احساس کیسے دِلایا؟‏

3.‏ یسوع گلیل میں رہنے والے اُن لوگوں کے ساتھ کیسے پیش آئے جو اُن سے مدد مانگ رہے تھے؟‏

3 جب یسوع گلیل میں مُنادی کر رہے تھے تو بہت سے لوگ اُن سے تعلیم اور شفا پانے کے لیے اُن کے پاس آئے۔ اِن لوگوں کے بارے میں یسوع نے کہا کہ ’‏وہ ایسی بھیڑوں کی طرح ہیں جن کا کوئی چرواہا نہ ہو۔‘‏ (‏متی 9:‏36‏)‏ اُن کے مذہبی رہنما اُن کی فکر کرنا تو دُور، اُنہیں دیکھنا تک پسند نہیں کرتے تھے۔ وہ تو اُنہیں ”‏لعنتی“‏ کہتے تھے۔ (‏یوح 7:‏47-‏49‏)‏ لیکن یسوع لوگوں کے ساتھ نرمی اور عزت سے پیش آتے تھے اور وہ اُنہیں تعلیم دینے اور بیماریوں سے شفا دینے کے لیے وقت نکالتے تھے۔ (‏متی 9:‏35‏)‏ اِس کے علاوہ اُنہوں نے اَور بھی زیادہ لوگوں کی مدد کرنے کے لیے اپنے رسولوں کو مُنادی کرنے کی ٹریننگ دی اور اُنہیں بیمار اور معذور لوگوں کو شفا دینے کا اِختیار بھی دیا۔—‏متی 10:‏5-‏8‏۔‏

4.‏ یسوع جس طرح سے اُن لوگوں کے ساتھ پیش آئے جن کے ساتھ بُرا سلوک کِیا جاتا تھا، اُس سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟‏

4 یسوع نے لوگوں کے ساتھ عزت اور پیار سے پیش آنے سے ظاہر کِیا کہ وہ اور اُن کا باپ ایسے لوگوں کو بہت بیش‌قیمت خیال کرتے ہیں جنہیں دوسرے حقیر سمجھتے ہیں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہوواہ کی نظر میں آپ کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے تو اِس بارے میں سوچیں کہ یسوع اُن لوگوں کے ساتھ کیسے پیش آئے تھے جو اُن سے تعلیم پانا چاہتے تھے۔ ایسا کرنے سے آپ یہ دیکھ پائیں گے کہ آپ یہوواہ کی نظروں میں کتنے انمول ہیں۔‏

5.‏ گلیل میں یسوع کی ملاقات جس عورت سے ہوئی تھی، اُس کی حالت کیسی تھی؟‏

5 یسوع مسیح صرف لوگوں کی بِھیڑ کو تعلیم ہی نہیں دیتے تھے بلکہ ہر اُس شخص کو پوری توجہ بھی دیتے تھے جسے ذاتی طور پر مدد کی ضرورت ہوتی تھی۔ مثال کے طور پر جب یسوع گلیل میں مُنادی کر رہے تھے تو اِس دوران اُن کی ملاقات ایک ایسی عورت سے ہوئی جس کو 12 سال سے لگاتار خون آ رہا تھا۔ (‏مر 5:‏25‏)‏ موسیٰ کو دی گئی شریعت کے مطابق وہ عورت ناپاک تھی اور جو کوئی بھی اُسے چُھوتا، وہ بھی ناپاک ہو جاتا۔ اِس وجہ سے شاید وہ عورت زیادہ‌تر وقت اکیلے ہی گزارتی ہوگی اور لوگوں سے اِتنا ملتی جلتی نہیں ہوگی۔ اِس کے علاوہ وہ عبادت‌گاہ میں یا عید کے موقعوں پر دوسروں کے ساتھ مل کر یہوواہ کی عبادت بھی نہیں کر سکتی ہوگی۔ (‏احبا 15:‏19، 25)‏ بے‌شک یہ عورت نہ صرف جسمانی طور پر بلکہ جذباتی طور پر بھی بہت تکلیف سہہ رہی تھی۔—‏مر 5:‏26‏۔‏

6.‏ جس عورت کو لگاتار خون آ رہا تھا، اُس نے شفا پانے کے لیے کیا کِیا؟‏

6 وہ عورت اِتنی تکلیف میں تھی کہ وہ ہر صورت میں یسوع سے شفا پانا چاہتی تھی۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہ سامنے سے جا کر اُن سے مدد نہیں مانگ سکتی تھی۔ وہ کیوں؟ شاید وہ اپنی حالت کی وجہ سے بہت شرمندگی اور ذِلت محسوس کر رہی تھی۔ یا شاید وہ اِس بات سے ڈر رہی تھی کہ یسوع اُسے اِس وجہ سے ڈانٹ دیں گے کہ وہ ناپاک ہوتے ہوئے بھی بِھیڑ میں آ گئی ہے۔ اِس لیے اُس نے یہ سوچ کر یسوع کی چادر کو چُھوا کہ صرف اِسے چُھونے سے ہی وہ ٹھیک ہو جائے گی۔ (‏مر 5:‏27، 28‏)‏ اُسے اپنے مضبوط ایمان کا اجر ملا اور وہ واقعی ٹھیک ہو گئی۔ پھر جب یسوع نے لوگوں سے پوچھا کہ اُنہیں کس نے چُھوا ہے تو اُس عورت نے تسلیم کِیا کہ اُس نے ایسا کِیا ہے۔ یسوع اُس کی بات سُن کر اُس کے ساتھ کیسے پیش آئے؟‏

7.‏ یسوع مسیح اُس عورت کے ساتھ کیسے پیش آئے جو بہت تکلیف میں تھی؟ (‏مرقس 5:‏34‏)‏

7 یسوع اُس عورت کے ساتھ بہت شفقت اور عزت سے پیش آئے۔ اُنہوں نے دیکھا کہ وہ ’‏ڈر کے مارے کانپ رہی ہے۔‘‏ (‏مر 5:‏33‏)‏ اُس کی صورتحال اور احساسات کو ذہن میں رکھتے ہوئے یسوع نے اُس کا حوصلہ بڑھایا۔ اُنہوں نے تو اُسے ”‏بیٹی“‏ کہا جو کہ ایک ایسا لفظ ہے جس سے نرمی اور محبت بھرے جذبات ظاہر ہوتے ہیں۔ ‏(‏مرقس 5:‏34 کو پڑھیں۔)‏ بائبل میں صرف یہی وہ واقعہ ہے جس میں یسوع نے کسی کو بیٹی کہہ کر پکارا۔ شاید اُنہوں نے یہ لفظ اِس لیے اِستعمال کِیا کیونکہ وہ دیکھ چُکے تھے کہ وہ عورت کتنی ڈری ہوئی تھی۔ ذرا سوچیں کہ اُس عورت کو یسوع کی باتیں سُن کر کیسا لگا ہوگا؟ بے‌شک وہ اِس بات سے بہت خوش ہوئی ہوگی کہ یسوع اُس کے ساتھ اِتنی محبت سے پیش آئے ہیں۔ اب وہ وہاں سے صرف اپنی بیماری سے شفا پا کر ہی نہیں جا رہی تھی بلکہ اُس کے دل سے یہ بوجھ بھی اُتر گیا تھا کہ اُس نے یسوع کی چادر کو چُھو کر کچھ غلط کِیا ہے۔ یسوع مسیح صرف یہی نہیں چاہتے تھے کہ اُس عورت کو شفا مل جائے بلکہ وہ اُسے یہ احساس بھی دِلانا چاہتے تھے کہ اُس عورت کا آسمانی باپ اُسے اپنی بیش‌قیمت بیٹی خیال کرتا ہے۔‏

8.‏ برازیل میں رہنے والی ایک بہن کو کن مسئلوں کا سامنا تھا؟‏

8 آج بھی خدا کے کچھ بندوں کو صحت کے ایسے مسئلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کی وجہ سے وہ خود کو بہت ناکارہ سمجھنے لگتے ہیں۔ اِس سلسلے میں ذرا برازیل میں رہنے والی ایک پہل‌کار کی مثال پر غور کریں جن کا نام ماریہaہے۔ وہ اپنی پیدائش سے ہی معذور ہیں اور اُن کی ٹانگیں اور اُلٹا ہاتھ نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏سکول میں بچے میری معذوری کی وجہ سے مجھے بہت تنگ کرتے تھے۔ وہ مجھے اُلٹے سیدھے ناموں سے بُلاتے تھے۔ کبھی کبھار تو میرے اپنے گھر والے بھی میرے ساتھ ایسا سلوک کرتے تھے جس سے مجھے احساس ہوتا تھا کہ مَیں کسی کام کی نہیں ہوں۔“‏

9.‏ کس چیز نے بہن ماریہ کی مدد کی تاکہ وہ اِس بات کا یقین رکھ سکیں کہ وہ یہوواہ کی نظر میں بہت انمول ہیں؟‏

9 بہن ماریہ اپنی صورتحال سے کیسے نمٹ پائیں؟ جب وہ یہوواہ کی گواہ بن گئیں تو اُن کی کلیسیا کے بہن بھائیوں نے اُن کا بہت حوصلہ بڑھایا اور اُن کی مدد کی تاکہ وہ خود کو یہوواہ کی نظر سے دیکھ سکیں۔ بہن ماریہ نے کہا:‏ ”‏اگر مَیں ایک کتاب میں ہر اُس بہن یا بھائی کے بارے میں لکھنا شروع کروں جس نے میری مدد کی تو صفحے کم پڑ جائیں گے!‏ مَیں دل سے یہوواہ کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ اُس نے مجھے کلیسیا میں اِتنے اچھے بہن بھائی دیے ہیں۔“‏ اِن بہن بھائیوں کی مدد سے بہن ماریہ یہ دیکھ پائی ہیں کہ وہ یہوواہ کی نظر میں بہت انمول ہیں۔‏

10.‏ مریم مگدلینی کو کس مشکل صورتحال کا سامنا تھا اور اِس وجہ سے وہ کیسا محسوس کرتی تھیں؟ (‏تصویروں کو بھی دیکھیں۔)‏

10 آئیے اب دیکھیں کہ یسوع نے مریم مگدلینی کی مدد کیسے کی۔ مریم کو سات بُرے فرشتوں نے اپنے قبضے میں لیا ہوا تھا۔ (‏لُو 8:‏2‏)‏ شاید بُرے فرشتوں کے اثر میں وہ بہت عجیب کام کرتی تھیں جن کی وجہ سے لوگ اُن سے دُور بھاگتے تھے۔ اپنی زندگی کے اِس بھیانک وقت میں یقیناً اُنہیں یہ محسوس ہوتا ہوگا کہ کوئی بھی اُن سے محبت نہیں کرتا اور اُن کی مدد نہیں کر سکتا۔ یسوع نے مریم سے بُرے فرشتوں کو نکال دیا اور اِس کے بعد سے مریم اُن کی پیروکار بن گئیں۔ یسوع مسیح نے اَور کس طرح سے مریم مگدلینی کو یہ احساس دِلایا کہ وہ یہوواہ کی نظر میں بہت قیمتی ہیں؟‏

تصویروں کا مجموعہ:‏ 1.‏ یسوع مسیح مریم مگدلینی کو دیکھ رہے ہیں جو اکیلی ایک گلی میں بیٹھی رو رہی ہیں اور بہت دُکھی لگ رہی ہیں۔ 2.‏ مریم مگدلینی خوشی سے یسوع اور اُن کے شاگردوں کے ساتھ مُنادی کر رہی ہیں۔‏

یسوع مسیح نے مریم مگدلینی کو یہ احساس کیسے دِلایا کہ وہ یہوواہ کی نظر میں بہت بیش‌قیمت ہیں؟ (‏پیراگراف نمبر 10-‏11 کو دیکھیں۔)‏


11.‏ یسوع مسیح نے مریم مگدلینی کو یہ احساس کیسے دِلایا کہ وہ یہوواہ کی نظر میں بہت بیش‌قیمت ہیں؟ (‏تصویروں کو بھی دیکھیں۔)‏

11 یسوع مسیح نے مریم مگدلینی کو یہ اعزاز بخشا کہ وہ اُن کے اور اُن کے شاگردوں کے ساتھ شہر شہر اور گاؤں گاؤں جا کر مُنادی کریں۔‏b اِس طرح مریم کو کئی موقعوں پر یسوع کی تعلیمات کو سننے کا موقع ملا۔ پھر جس دن یسوع مُردوں میں سے زندہ ہوئے تو وہ مریم کو دِکھائی دیے۔ مریم اُن شاگردوں میں سے ایک تھیں جن سے یسوع نے اُس دن سب سے پہلے بات کی تھی۔ یسوع نے تو مریم سے یہ بھی کہا کہ وہ جا کر اُن کے رسولوں کو بتائیں کہ یسوع زندہ ہو گئے ہیں۔ یہ سبھی باتیں اِس بات کا ثبوت تھیں کہ یہوواہ کی نظر میں مریم بہت انمول تھیں۔—‏یوح 20:‏11-‏18‏۔‏

12.‏ کس بات کی وجہ سے بہن لیڈیا کو یہ محسوس ہوتا تھا کہ کوئی بھی اُن سے محبت نہیں کرتا؟‏

12 مریم مگدلینی کی طرح آج بھی کئی لوگوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ دوسرے اُنہیں دُھتکارتے ہیں۔ لیڈیا نام کی بہن کی مثال پر غور کریں جو سپین سے ہیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ جب وہ اپنی امی کے پیٹ میں تھیں تو اُن کی امی اُنہیں ضائع کر دینا چاہتی تھیں۔ بہن لیڈیا کو آج بھی یاد ہے کہ اُن کے بچپن میں اُن کی امی اُنہیں کوئی توجہ نہیں دیتی تھیں اور اُن کی بہت بے‌عزتی کرتی تھیں۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏میری زندگی کا مقصد بس لوگوں کی توجہ اور محبت حاصل کرنا تھا۔ مجھے ہمیشہ یہی لگتا تھا کہ چاہے مَیں کچھ بھی کر لوں، کوئی مجھ سے محبت نہیں کرے گا۔ دراصل میری امی نے میرے ذہن میں یہ بات بٹھا دی تھی کہ مَیں بہت ہی بُری اِنسان ہوں۔“‏

13.‏ کس چیز نے بہن لیڈیا کی مدد کی تاکہ وہ خود کو یہوواہ کی نظر سے دیکھ سکیں؟‏

13 جب بہن لیڈیا نے بائبل کورس کرنا شروع کِیا تو اُن کی سوچ بدلنے لگی۔ وہ یہوواہ سے دُعا کرنے، بائبل پڑھنے اور اپنے بہن بھائیوں کی شفقت بھری باتوں اور نرم رویے سے یہ دیکھ پائیں کہ یہوواہ اُنہیں بہت قیمتی خیال کرتا ہے۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏میرے شوہر اکثر مجھے بتاتے ہیں کہ وہ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ وہ مجھے ہمیشہ یہ یاد دِلاتے رہتے ہیں کہ مجھ میں کون کون سی خوبیاں ہیں۔ میرے باقی دوست بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔“‏ کیا آپ بھی کسی ایسے شخص کی مدد کر سکتے ہیں جسے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ یہوواہ کی نظر میں بہت بیش‌قیمت ہے؟‏

ہم خود کو یہوواہ کی نظر سے کیسے دیکھ سکتے ہیں؟‏

14.‏ پہلا سموئیل 16:‏7 میں لکھی بات پر غور کرنے سے ہمیں خود کو یہوواہ کی نظر سے دیکھنے میں مدد کیسے ملتی ہے؟ (‏بکس ”‏یہوواہ اپنے بندوں کی قدر کیوں کرتا ہے؟‏‏“‏ کو بھی دیکھیں۔)‏

14 یاد رکھیں کہ یہوواہ آپ کو اُس نظر سے نہیں دیکھتا جس نظر سے دُنیا دیکھتی ہے۔‏ (‏1-‏سموئیل 16:‏7 کو پڑھیں۔)‏ یہوواہ آپ کی اہمیت کا اندازہ اِس بات سے نہیں لگاتا کہ آپ کتنے اچھے دِکھتے ہیں؛ آپ کے پاس کتنا پیسہ ہے یا آپ کتنے پڑھے لکھے ہیں۔ (‏یسع 55:‏8، 9‏)‏ تو خود کو دُنیا کے معیاروں کی روشنی میں دیکھنے کی بجائے یہوواہ کے معیاروں کی روشنی میں دیکھنے کی کوشش کریں۔ اِس سلسلے میں آپ بائبل سے کچھ ایسے لوگوں کے بارے میں پڑھ سکتے ہیں جنہیں کبھی کبھار یہ محسوس ہوا کہ اُن کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے جیسے کہ ایلیاہ، نعومی اور حنّہ۔ اِن کے بارے میں پڑھتے وقت غور کریں کہ یہوواہ اِن سے کتنی زیادہ محبت کرتا تھا۔ آپ اپنی نوٹ بُک میں وہ واقعات لکھ سکتے ہیں جن میں آپ کو پکا یقین ہو گیا تھا کہ یہوواہ آپ سے محبت کرتا اور آپ کی قدر کرتا ہے۔ اِس کے علاوہ آپ ہماری تنظیم کی کتابوں میں کسی ایسے موضوع پر تحقیق کر سکتے ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ یہوواہ ہمیں کیسا خیال کرتا ہے۔‏c

یہوواہ اپنے بندوں کی قدر کیوں کرتا ہے؟‏

یہوواہ نے اِنسانوں کو جانوروں سے بالکل مختلف بنایا ہے۔ اُس نے ہمیں اِس طرح سے بنایا ہے کہ ہم اُسے جان سکتے اور اُس کے دوست بن سکتے ہیں۔ (‏پید 1:‏27؛‏ زبور 8:‏5؛‏ 25:‏14؛‏ یسع 41:‏8‏)‏ ویسے تو صرف یہ حقیقت ہی اِس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ یہوواہ کی نظر میں ہماری کیا اہمیت ہے۔ لیکن ہمارے پاس اِس سے بھی بڑی ایک اَور وجہ ہے جس کی بِنا پر یہوواہ ہماری قدر کرتا ہے۔ جب یہوواہ دیکھتا ہے کہ ہم اُس کے اَور قریب جانا چاہتے ہیں، اُس کی فرمانبرداری کرنا چاہتے ہیں اور اپنی زندگی اُس کے نام کرنا چاہتے ہیں تو ہم اُس کی نظر میں اَور زیادہ انمول ہو جاتے ہیں۔—‏یسع 49:‏15‏۔‏

15.‏ یہوواہ دانی‌ایل کو اِتنا انمول کیوں سمجھتا تھا؟ (‏دانی‌ایل 9:‏23‏)‏

15 یاد رکھیں کہ آپ کی وفاداری آپ کو یہوواہ کی نظر میں بیش‌قیمت بناتی ہے۔‏ جب دانی‌ایل نبی 100 سال کے لگ بھگ تھے تو ایک وقت آیا کہ وہ”‏اِنتہائی نڈھال“‏ اور بے‌حوصلہ ہو گئے۔ (‏دان 9:‏20، 21‏، ترجمہ نئی دُنیا‏)‏ یہوواہ نے اُن کا حوصلہ کیسے بڑھایا؟ اُس نے اپنے فرشتے جبرائیل کو دانی‌ایل کے پاس بھیجا تاکہ وہ اُنہیں یاد دِلا سکیں کہ وہ ”‏بہت انمول ہیں“‏ اور اُن کی دُعائیں سنی گئی ہیں۔ ‏(‏دانی‌ایل 9:‏23 کو فٹ‌نوٹ سے پڑھیں۔‏d‏)‏ لیکن کس چیز نے دانی‌ایل کو یہوواہ کی نظر میں اِتنا انمول بنا دیا تھا؟ اُن کی خوبیوں نے جن میں سے دو یہ تھیں:‏ وہ نیکی یعنی صحیح کاموں سے محبت کرتے تھے اور یہوواہ کے وفادار تھے۔ (‏حِز 14:‏14)‏ یہوواہ نے اپنے کلام میں یہ بات ہمیں تسلی دینے کے لیے لکھوائی ہے۔ (‏روم 15:‏4‏)‏ وہ ہماری بھی اِس وجہ سے بہت قدر کرتا ہے کہ ہم صحیح کام کرنا چاہتے ہیں اور اُس کے وفادار ہیں۔ اور جس طرح اُس نے دانی‌ایل نبی کی دُعاؤں کو سنا تھا اُسی طرح وہ ہماری دُعاؤں کو بھی سنتا ہے۔—‏میک 6:‏8؛‏ عبر 6:‏10‏۔‏

16.‏ کیا چیز آپ کی مدد کر سکتی ہے تاکہ آپ یہوواہ کو ایک شفیق باپ خیال کریں؟‏

16 یہوواہ کو ایک ایسا باپ سمجھیں جو آپ سے پیار کرتا ہے۔‏ وہ آپ میں غلطیاں نہیں ڈھونڈتا بلکہ آپ کی مدد کرنا چاہتا ہے۔ (‏زبور 130:‏3؛‏ متی 7:‏11؛‏ لُو 12:‏6، 7‏)‏ اِس بات پر سوچ بچار کرنے سے ایسے بہت سے لوگوں کو فائدہ ہوا ہے جو خود کو بہت کم‌تر سمجھتے تھے۔ مثال کے طور پر سپین میں رہنے والی ایک بہن کی بات پر غور کریں جن کا نام الیانا ہے۔ وہ کئی سالوں سے اپنے شوہر کی کڑوی باتوں اور بدسلوکی کو برداشت کر رہی تھیں۔ اِس وجہ سے وہ خود کو بہت بے‌کار اور کسی کی محبت کے لائق نہیں سمجھتی تھیں۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏جب بھی مَیں خود کو ناکارہ سمجھنے لگتی ہوں تو مَیں یہ تصور کرنے کی کوشش کرتی ہوں کہ یہوواہ نے مجھے اپنے بازوؤں میں اُٹھایا ہوا ہے۔ اِس طرح مجھے اُس کی محبت اور تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔“‏ (‏زبور 28:‏9‏)‏ جنوبی افریقہ میں رہنے والی بہن لورین اکثر خود کو یہ بات یاد دِلاتی ہیں:‏ ”‏یہوواہ نے ہی مجھے محبت کی ڈور یوں سے اپنے پاس کھینچا تھا اور تب سے وہی میری مدد کر رہا ہے تاکہ مَیں اُس کے قریب رہ سکوں۔ اُس نے تو مجھے دوسروں کو تعلیم دینے کے لیے بھی اِستعمال کِیا ہے۔ بے‌شک یہوواہ نے میرے لیے یہ سب کچھ اِسی لیے کِیا ہے کیونکہ وہ مجھے بیش‌قیمت سمجھتا ہے اور اُسے لگتا ہے کہ مَیں اُس کے کام آ سکتی ہوں۔“‏—‏ہوس 11:‏4۔‏

17.‏ آپ کس وجہ سے اِس بات کا پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ آپ سے خوش ہے؟ (‏زبور 5:‏12‏)‏ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

17 اِس بات کا یقین رکھیں کہ یہوواہ آپ سے خوش ہے۔‏ (‏زبور 5:‏12 کو پڑھیں۔)‏ داؤد نے یہوواہ کی مہربانی کو ”‏ایک بڑی ڈھال“‏ کی طرح کہا جو نیک لوگوں کو محفوظ رکھتی ہے۔ اگر آپ یہ یاد رکھیں گے کہ یہوواہ آپ پر مہربان ہے یعنی آپ سے خوش ہے اور آپ کے ساتھ ہے تو یہ بات آپ کو شک کے تیروں سے محفوظ رکھے گی۔ آپ یہ کیسے جان سکتے ہیں کہ یہوواہ آپ سے خوش ہے؟ جیسے کہ ہم دیکھ چُکے ہیں، یہوواہ نے ہمیں اِس بات کا یقین اپنے کلام میں دِلایا ہے۔ اِس کے علاوہ وہ کلیسیا کے بزرگوں، ہمارے اچھے دوستوں اور دوسرے بہن بھائیوں کے ذریعے بھی ہمیں یہ یاد دِلاتا رہتا ہے کہ وہ ہم سے خوش ہے۔ تو جب دوسرے اِس حوالے سے آپ کا حوصلہ بڑھاتے ہیں تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟‏

دو بہنیں بڑی خوشی سے مُنادی کرنے کے لیے عبادت‌گاہ سے نکل رہی ہیں اور ایک بہن نے دوسری بہن کے کندھے پر ہاتھ رکھا ہوا ہے۔‏

اگر آپ یاد رکھیں گے کہ یہوواہ آپ سے خوش ہے تو آپ اپنے دل سے یہ خیال نکال پائیں گے کہ آپ ناکارہ ہیں۔ (‏پیراگراف نمبر 17 کو دیکھیں۔)‏


18.‏ جب دوسرے آپ کا حوصلہ بڑھانے کے لیے آپ کی تعریف کرتے ہیں تو آپ کو اِسے کیوں قبول کرنا چاہیے؟‏

18 جب وہ لوگ جو آپ کو جانتے اور آپ سے محبت کرتے ہیں، آپ کے اچھے کاموں کے لیے دل سے آپ کی تعریف کرتے ہیں تو یہ نہ سوچیں کہ وہ غلط کہہ رہے ہیں۔ یاد رکھیں کہ یہوواہ اُن کے ذریعے آپ کا حوصلہ بڑھا رہا ہے اور آپ کو یقین دِلا رہا ہے کہ وہ آپ سے خوش ہے۔ بہن الیانا نے جن کا پہلے بھی ذکر ہوا ہے، کہا:‏ ”‏دوسرے اپنی باتوں سے میرے لیے جو محبت دِکھاتے ہیں، اب مَیں اِنہیں دل سے قبول کرنے لگی ہوں۔ سچ ہے کہ ایسا کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا لیکن مَیں جانتی ہوں کہ یہوواہ چاہتا ہے کہ مَیں اِن باتوں پر یقین کروں۔“‏ بہن الیانا کی کلیسیا کے بزرگوں نے بھی بڑے پیار سے اُن کی مدد کی ہے کہ وہ خود کو یہوواہ کی نظر سے دیکھیں۔ اب وہ ایک پہل‌کار ہیں اور اپنے گھر سے بیت‌ایل کے لیے بھی کام کرتی ہیں۔‏

19.‏ آپ اِس بات کا یقین کیوں رکھ سکتے ہیں کہ آپ یہوواہ کی نظر میں بہت انمول ہیں؟‏

19 یسوع مسیح نے بڑے محبت بھرے لفظوں میں ہمیں بتایا ہے کہ ہم یہوواہ کی نظر میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ (‏لُو 12:‏24‏)‏ تو ہم اِس بات کا پورا یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ ہمیں بہت بیش‌قیمت خیال کرتا ہے۔ دُعا ہے کہ ہم یہ بات کبھی نہ بھولیں!‏آئیے ہم سب دوسروں کی یہ دیکھنے میں مدد کریں کہ وہ یہوواہ کی نظر میں بہت انمول ہیں۔‏

آپ اِن سوالوں کے کیا جواب دیں گے:‏

  • یسوع مسیح نے دوسروں کو یہ احساس کیسے دِلایا کہ وہ سب خدا کی نظر میں بہت بیش‌قیمت ہیں؟‏

  • یسوع نے اُس عورت کی مدد کیسے کی جسے لگاتار خون آ رہا تھا؟‏

  • کیا چیز ہماری مدد کر سکتی ہے تاکہ ہم خود کو یہوواہ کی نظر سے دیکھیں؟‏

گیت نمبر 139‏:‏ خود کو نئی دُنیا میں تصور کریں

a کچھ نام فرضی ہیں۔‏

b مریم مگدلینی اُن عورتوں میں سے ایک تھیں جو یسوع کے ساتھ مُنادی کے لیے جاتی تھیں۔ یہ عورتیں اپنے پیسوں سے یسوع اور اُن کے رسولوں کو ضرورت کی چیزیں دیتی تھیں۔—‏متی 27:‏55، 56؛‏ لُو 8:‏1-‏3‏۔‏

c مثال کے طور پر 15 مارچ 2014ء کے ‏”‏مینارِنگہبانی“‏ میں مضمون ”‏خدا کی خدمت میں اپنی خوشی قائم رکھیں‏“‏ کو پڑھیں اور کتاب ‏”‏زندگی گزارنے کے لیے پاک کلام کے اصول“‏ میں حصہ ”‏شک‏“‏ میں دی گئی آیتوں کو دیکھیں۔‏

d دانی‌ایل 9:‏23 ‏(‏ترجمہ نئی دُنیا)‏:‏ ”‏جب آپ نے اِلتجا کرنی شروع کی تو مجھے ایک پیغام ملا اور مَیں آپ کو وہ پیغام سنانے آیا ہوں کیونکہ آپ بہت انمول ہیں۔ اِس لیے اِس معاملے پر غور کریں اور اِس رُویا کو سمجھیں۔“‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں