مطالعے کا مضمون نمبر 46
گیت نمبر 17: مدد کرنے کو تیار
اپنا دھیان اپنے ہمدرد کاہنِاعظم یسوع پر رکھیں
” ہمارا کاہنِاعظم ایسا نہیں کہ ہماری کمزوریوں کو نہ سمجھے۔“—عبر 4:15۔
غور کریں کہ . . .
ہمدردی کی خوبی کی وجہ سے یسوع ایک بہترین کاہنِاعظم کیسے بن پائے اور وہ آج کن طریقوں سے ہماری مدد کر رہے ہیں۔
1-2. (الف)یہوواہ نے اپنے بیٹے کو زمین پر کیوں بھیجا تھا؟ (ب)اِس مضمون میں ہم کس بارے میں بات کریں گے؟ (عبرانیوں 5:7-9)
تقریباً 2000 سال پہلے یہوواہ نے اپنے پیارے بیٹے یسوع کو زمین پر بھیجا۔ کیوں؟ اِس کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ اِنسانوں کو گُناہ اور موت کی غلامی سے آزاد کرائیں اور اُس نقصان کو ٹھیک کریں جو شیطان کی وجہ سے ہوا تھا۔ (یوح 3:16؛ 1-یوح 3:8) یہوواہ یہ بھی جانتا تھا کہ زمین پر اِنسان کے طور پر زندگی گزارنے سے یسوع ہمارے درد کو اچھی طرح سے سمجھ سکیں گے اور یوں ایک بہترین کاہنِاعظم بن پائیں گے۔ یسوع نے یہ کردار 29ء میں اپنے بپتسمے کے بعد نبھانا شروع کِیا تھا۔a
2 اِس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ یسوع نے زمین پر رہتے ہوئے جن باتوں کا تجربہ کِیا، اُن کی وجہ سے وہ کاہنِاعظم کے طور پر اَور اچھی طرح سے خدمت کرنے کے قابل کیسے بنے۔ ہمارے لیے اِس بات کو گہرائی سے سمجھنا بہت ضروری ہے کیونکہ اِس طرح ہم اُس وقت بھی کُھل کر یہوواہ سے دُعا کر سکیں گے اور اُس کے قریب رہ سکیں گے جب ہم اپنی غلطیوں یا گُناہوں کی وجہ سے مایوس ہو جائیں گے۔—عبرانیوں 5:7-9 کو پڑھیں۔
خدا کا عزیز بیٹا زمین پر آیا
3-4. (الف)یسوع نے زمین پر آنے کے لیے کیا کچھ قربان کِیا؟ (ب)زمین پر یسوع کی زندگی کیسی تھی؟
3 ہم میں سے بہت سے بہن بھائیوں کو اپنی زندگی میں کچھ تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑا جیسے کہ کچھ بہن بھائیوں کو اپنا پیارا گھر اور اپنے گھر والوں اور دوستوں کو چھوڑ کر کسی اَور جگہ جانا پڑا۔ اپنی زندگی میں اِس طرح کی تبدیلیاں کرنا آسان نہیں ہوتا۔ لیکن کسی بھی اِنسان نے اپنی زندگی میں کبھی بھی ویسی تبدیلیاں نہیں کیں جیسی یسوع نے کی تھیں۔ آسمان پر یسوع مسیح وہ فرشتے تھے جنہیں باقی سب فرشتوں سے پہلے بنایا گیا تھا اور جو سب سے اہم تھے۔ یہوواہ یسوع پر اپنی محبت نچھاور کرتا تھا اور یسوع کو بھی اپنے باپ کی ”دائیں طرف رہ کر“ کام کرنے سے بہت خوشی ملتی تھی۔ (زبور 16:11؛ اَمثا 8:30) لیکن فِلپّیوں 2:7 میں بتایا گیا ہے کہ اُنہوں نے خوشی سے آسمان پر اپنا اعلیٰ رُتبہ چھوڑ دیا تاکہ وہ زمین پر عیبدار اِنسانوں کے ساتھ رہ سکیں۔
4 اب ذرا اُن حالات پر غور کریں جن میں یسوع کی پیدائش ہوئی تھی اور یہ بھی سوچیں کہ زمین پر اُن کی زندگی کا پہلا سال کیسا تھا۔ یسوع ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ ہم یہ بات اِس لیے کہہ سکتے ہیں کیونکہ یسوع کی پیدائش پر اُن کے والدین نے یہوواہ کے حضور قربانی کے طور پر صرف دو چھوٹے پرندے پیش کیے تھے۔ (احبا 12:8؛ لُو 2:24) پھر جب ہیرودیس کو یسوع کی پیدائش کے بارے میں پتہ چلا تو اُس نے اُنہیں مار ڈالنے کی کوشش کی۔ یسوع کو بچانے کے لیے اُن کے ماں باپ کو کچھ وقت کے لیے مصر میں رہنا پڑا۔ (متی 2:13، 15) واقعی زمین پر یسوع کی زندگی، آسمان پر اُن کی زندگی سے بالکل فرق تھی۔
5. یسوع کو زمین پر کن باتوں کا تجربہ ہوا اور اِن کی وجہ سے وہ کاہنِاعظم کے طور پر اپنا کردار نبھانے کے لیے کیسے تیار ہو پائے؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
5 زمین پر رہتے ہوئے یسوع نے اپنے اِردگِرد لوگوں کو تکلیفیں سہتے دیکھا۔ اُنہوں نے خود بھی محسوس کِیا کہ اِنسان پر اُس وقت کیا بیتتی ہے جب اُس کا کوئی عزیز موت کی وجہ سے اُس سے بچھڑ جاتا ہے۔ بےشک اُنہوں نے کئی ایسے لوگوں کو فوت ہوتے ہوئے دیکھا ہوگا جنہیں وہ اچھی طرح سے جانتے تھے۔ اِن میں سے ایک اُن کے سوتیلے باپ یوسف تھے۔ زمین پر خدمت کرتے ہوئے یسوع کئی ایسے لوگوں سے ملے جنہیں کوڑھ کی بیماری تھی اور جو اندھے، لنگڑے اور معذور تھے۔ وہ ایسے ماں باپ سے بھی ملے جو اپنے بچوں کے فوت ہو جانے پر غم سے ٹوٹ گئے تھے۔ یسوع اِن سب لوگوں کا درد محسوس کر سکتے تھے۔ (متی 9:2، 6؛ 15:30؛ 20:34؛ مر 1:40، 41؛ لُو 7:13) سچ ہے کہ یسوع نے یہ سب تکلیفیں آسمان سے بھی دیکھی تھیں لیکن اب ایک اِنسان کے طور پر وہ اِنہیں بالکل فرق نظر سے دیکھ پائے تھے۔ (یسع 53:4) زمین پر رہنے سے یسوع اِنسانوں کے احساسات، اُن کی پریشانیوں اور تکلیفوں کو پوری طرح سے سمجھ پائے۔ ایک اِنسان ہوتے ہوئے یسوع کو بھی دوسرے اِنسانوں کی طرح تھکاوٹ، پریشانی اور مایوسی ہوتی تھی۔
یسوع لوگوں کی تکلیف کو محسوس کرتے تھے اور دل سے اُن کی فکر کرتے تھے۔ (پیراگراف نمبر 5 کو دیکھیں۔)
یسوع نے لوگوں کے لیے ہمدردی دِکھائی
6. یسعیاہ نبی نے یسوع کے بارے میں پیشگوئی کرتے وقت جو مثالیں اِستعمال کیں، اُن سے ہمیں یسوع کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟ (یسعیاہ 42:3)
6 زمین پر یسوع نے اُن کے لوگوں کے لیے بہت زیادہ ہمدردی دِکھائی جن کے ساتھ بہت بُرا سلوک کِیا جاتا تھا۔ اِس طرح وہ پیشگوئی پوری ہوئی جو یہوواہ نے یسعیاہ نبی کے ذریعے کی تھی۔ عبرانی صحیفوں میں کبھی کبھار اُن لوگوں کو سیراب باغ یا بڑے درختوں کی طرح کہا گیا ہے جو یہوواہ پر مضبوط ایمان رکھتے ہیں۔ (زبور 92:12؛ یسع 61:3؛ یرم 31:12) لیکن بےبس اور لاچار لوگوں کو کچلے ہوئے سرکنڈے اور ٹمٹماتی ہوئی بتی کی طرح کہا گیا ہے جو کسی کام کے نہیں لگتے۔ (یسعیاہ 42:3 کو پڑھیں۔) یہوواہ نے یسعیاہ نبی کے ذریعے یہ مثالیں اِس لیے لکھوائیں تاکہ وہ یہ بتا سکے کہ یسوع اُن لوگوں کے ساتھ کتنی محبت اور ہمدردی سے پیش آئیں گے جنہیں بےکار اور حقیر سمجھا جاتا تھا۔
7-8. یسعیاہ نے جو پیشگوئی کی، وہ یسوع پر کیسے پوری ہوئی؟
7 متی نے اپنی اِنجیل میں بتایا کہ یسوع مسیح پر یسعیاہ نبی کی یہ بات پوری ہوئی: ”وہ کسی جھکے ہوئے سرکنڈے کو نہیں کچلے گا اور ٹمٹماتی ہوئی بتی کو نہیں بجھائے گا۔“ (متی 12:20) یسوع نے بہت سے ایسے لوگوں کے لیے معجزے کیے جن کے ساتھ بُرا سلوک کِیا جاتا تھا اور جو اِس بات کی اُمید کھو بیٹھے تھے کہ اُن کے ساتھ کبھی کچھ اچھا ہوگا۔ اِنہی لوگوں میں سے ایک وہ آدمی تھا جو کوڑھ سے بھرا ہوا تھا۔ بےشک اُسے لگا ہوگا کہ اُس کے ٹھیک ہونے کی کوئی اُمید نہیں رہی اور وہ کبھی بھی اپنے گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ نہیں رہ پائے گا۔ (لُو 5:12، 13) اور ذرا اُس آدمی کے بارے میں بھی سوچیں جو بہرا اور تتلا کر بولتا تھا۔ سوچیں کہ جب وہ لوگوں کو آپس میں بات کرتے ہوئے دیکھتا ہوگا اور اُسے کچھ بھی سمجھ نہیں آتا ہوگا تو اُسے کیسا لگتا ہوگا۔ (مر 7:32، 33) لیکن بات صرف لوگوں کی بیماری یا معذوری تک ہی نہیں تھی۔
8 یسوع کے زمانے میں بہت سے یہودیوں کا ماننا تھا کہ جو شخص معذور یا بیمار ہوتا ہے، وہ اپنے یا اپنے ماں باپ کے گُناہوں کی سزا بھگت رہا ہوتا ہے۔ (یوح 9:2) اِس غلط نظریے کی وجہ سے یہ لوگ خود کو کسی کام کا نہیں سمجھتے تھے اور دوسرے اُن کے ساتھ بہت بُرا سلوک کرتے تھے۔ لیکن یسوع نے یسعیاہ کی پیشگوئی کے مطابق لوگوں کو شفا دی اور اُنہیں احساس دِلایا کہ خدا اُن کی بہت فکر کرتا ہے۔ اِس سے ہمیں یسوع کے بارے میں کس بات کا پکا یقین ہو جاتا ہے؟
9. عبرانیوں 4:15، 16 میں اِس بات کو کیسے نمایاں کِیا گیا ہے کہ ہمارا کاہنِاعظم عیبدار اِنسانوں کے احساسات کو اچھی طرح سے سمجھتا ہے؟
9 عبرانیوں 4:15، 16 کو پڑھیں۔ ہم یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ یسوع مسیح ہمیشہ ہمارے ساتھ ہمدردی سے پیش آئیں گے۔ عبرانیوں 4:15 میں جس یونانی لفظ کا ترجمہ ”سمجھے“ کِیا گیا ہے، اُس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یسوع دل سے ہمارے درد اور دُکھ کو محسوس کرتے ہیں۔ بائبل میں یسوع کے معجزوں کو پڑھتے وقت ہم صاف طور پر دیکھ پاتے ہیں کہ لوگوں کو تکلیف میں دیکھ کر یسوع کے دل پر کتنا گہرا اثر ہوتا تھا۔ وہ بس فرض سمجھ کر لوگوں کو شفا نہیں دیتے تھے۔ وہ دل سے اُن کی فکر کرتے تھے اور اُن کے لیے کچھ کرنا چاہتے تھے۔ مثال کے طور پر جب اُنہوں نے کوڑھ سے بھرے آدمی کو شفا دی تو وہ دُور کھڑے ہو کر ہی ایسا کر سکتے تھے۔ لیکن اُنہوں نے اُس آدمی کو چُھوا۔ شاید یہ کئی سالوں میں پہلی بار تھا کہ کسی شخص نے اُس کوڑھی کو چُھوا تھا۔ اور جب یسوع نے بہرے اور توتلے آدمی کو شفا دی تھی تو اُنہوں نے اُس کے لیے بھی فکرمندی دِکھائی تھی۔ وہ اُسے شفا دینے کے لیے بِھیڑ سے دُور ایک خاموش جگہ پر لے گئے تھے۔ اور ذرا اُس واقعے پر بھی غور کریں جب ایک بدچلن عورت نے اپنے گُناہوں پر پچھتاتے ہوئے اپنے آنسوؤں سے یسوع کے پاؤں بھگو دیے تھے اور بعد میں اِنہیں اپنے بالوں سے پونچھا تھا۔ اُس وقت ایک فریسی اُس عورت کو حقارت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ لیکن یسوع اُس عورت کے حق میں بولے۔ (متی 8:3؛ مر 7:33؛ لُو 7:44) یسوع نے کبھی بھی معذور اور سنگین گُناہ کرنے والے لوگوں کو نظرانداز نہیں کِیا۔ اِس کی بجائے اُنہوں نے اِن لوگوں کو اپنے پاس آنے کی دعوت دی اور اُنہیں اپنی محبت کا احساس دِلایا۔
اپنے کاہنِاعظم کی مثال پر چلیں
10. آج ہم بہرے اور اندھے لوگوں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟ (تصویروں کو بھی دیکھیں۔)
10 یسوع کے پیروکاروں کے طور پر ہم اُن کے نقشِقدم پر چلتے ہوئے دوسروں کے لیے محبت اور ہمدردی دِکھانا چاہتے ہیں۔ (1-پطر 2:21؛ 3:8) سچ ہے کہ ہم اندھے اور بہرے لوگوں کو شفا تو نہیں دے سکتے لیکن ہم اُنہیں یہوواہ کے بارے میں سکھانے اور اُس کے قریب جانے میں اُن کی مدد ضرور کر سکتے ہیں۔ ہم بہرے لوگوں کی مدد کرنے کے لیے اپنی تنظیم کی وہ کتابیں یا ویڈیوز اِستعمال کر سکتے ہیں جو 100 سے زیادہ اِشاروں کی زبان میں موجود ہیں۔ اور ہم اندھے اور کمزور نظر والے لوگوں کی مدد کرنے کے لیے بریل والی کتابیں اِستعمال کر سکتے ہیں جو 60 سے زیادہ زبانوں میں موجود ہیں۔ اِس کے علاوہ اِن لوگوں کے لیے 100 سے زیادہ زبانوں میں ہماری ویڈیوز کی آڈیو ریکارڈنگز بھی دستیاب ہیں جن میں بتایا جاتا ہے کہ ایک ویڈیو میں کیا دِکھایا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ اِسی لیے کِیا گیا ہے تاکہ بہرے اور اندھے لوگ یہوواہ اور اُس کے بیٹے کے قریب جا سکیں۔
تقریباً 1000 سے زیادہ زبانوں میں بائبل سے تیار کی ہوئی ہماری کتابیں اور ویڈیوز
دائیں: 100 سے زیادہ اِشاروں کی زبانوں میں
بائیں: 60 سے زیادہ نابینا لوگوں کی زبانوں میں
(پیراگراف نمبر 10 کو دیکھیں۔)
11. یہوواہ کی تنظیم سب لوگوں کے لیے یسوع جیسی ہمدردی کیسے دِکھا رہی ہے؟ (اعمال 2:5-7، 33) (تصویروں کو بھی دیکھیں۔)
11 یہوواہ کی تنظیم ہر طرح کے لوگوں کو یہوواہ کے قریب لانے کی جیتوڑ کوشش کر رہی ہے۔ یاد کریں کہ یسوع نے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد اپنے شاگردوں کو پاک روح دی تھی تاکہ وہ یروشلم میں آنے والے اُن سب لوگوں کو اُن کی زبان میں خوشخبری سنا سکیں جو عیدِپنتِکُست منانے کے لیے وہاں جمع ہوئے تھے۔ (اعمال 2:5-7، 33 کو پڑھیں۔) یسوع کی رہنمائی میں آج یہوواہ کی تنظیم 1000 سے زیادہ زبانوں میں کتابیں اور ویڈیوز تیار کرتی ہے جن میں سے کچھ زبانیں تو ایسی ہیں جنہیں بہت ہی کم لوگ بولتے ہیں۔ مثال کے طور پر امریکہ کے شمال اور جنوب میں کچھ ایسی زبانیں بولی جاتی ہیں جنہیں بہت کم لوگ بولتے ہیں۔ لیکن ہماری تنظیم نے اِن زبانوں میں سے تقریباً 160 زبانوں میں کتابیں اور ویڈیوز تیار کی ہیں۔ ہماری کچھ کتابیں اور رسالے 20 سے زیادہ رومنی زبانوں میں بھی موجود ہیں جنہیں بولنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔ اِن زبانوں کو بولنے والے زیادہتر لوگ شمالی اور جنوب شمالی یورپ میں رہتے ہیں اور اِن لوگوں کو مسلسل تعصب اور اذیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اِن زبانوں کو بولنے والے ہزاروں لوگ اب یہوواہ کی عبادت کر رہے ہیں۔
دائیں: امریکہ کے شمال اور جنوب میں بولی جانے والی زبانوں میں سے تقریباً 160 زبانوں میں
بائیں: 20 سے زیادہ رومنی زبانوں میں
(پیراگراف نمبر 11 کو دیکھیں۔)
12. یہوواہ کی تنظیم اَور کن طریقوں سے لوگوں کی مدد کرتی ہے؟
12 یہوواہ کی تنظیم خوشخبری پھیلانے کے علاوہ قدرتی آفتوں سے متاثر لوگوں کی بھی مدد کرتی ہے۔ اِس حوالے سے ہمارے ہزاروں بہن بھائی خوشی سے اپنے ضرورتمند بہن بھائیوں کی مدد کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔ یہوواہ کی تنظیم عبادتوں کے لیے ایسی سادہ جگہوں کا بھی بندوبست کرتی ہے جہاں لوگ جمع ہو کر یہوواہ کی محبت کے بارے میں اَور زیادہ سیکھ سکتے ہیں۔
ہمارا کاہنِاعظم ہماری مدد کر سکتا ہے
13. کچھ ایسے طریقے بتائیں جن سے یسوع ہماری مدد کرتے ہیں۔
13 یسوع مسیح ایک اچھے چرواہے ہیں۔ اِس لیے وہ اِس بات کا پورا خیال رکھتے ہیں کہ ہمارے پاس ہر وہ چیز ہو جس کے ذریعے ہم یہوواہ کے قریب رہ سکیں۔ (یوح 10:14؛ اِفِس 4:7) کبھی کبھار ہماری زندگی میں ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں جن میں ہمیں لگتا ہے کہ ہم بالکل جھکے ہوئے سرکنڈے اور ٹمٹماتی ہوئی بتی کی طرح ہیں۔ مثال کے طور پر شاید ہمیں کوئی سنگین بیماری لگ گئی ہے، ہم سے کوئی غلطی ہو گئی ہے یا پھر کلیسیا میں اپنے کسی بہن یا بھائی سے اِختلاف ہو گیا ہے۔ ایسی صورت میں ہمارے لیے اپنا دھیان اپنی پریشانیوں اور تکلیفوں سے ہٹا کر مستقبل کے بارے میں اپنی اُمید پر لگانا بہت مشکل ہو سکتا ہے۔ لیکن یاد رکھیں کہ یسوع اچھی طرح سے سمجھتے ہیں کہ آپ کس تکلیف سے گزر رہے ہیں اور وہ آپ کے درد کو محسوس کرتے ہوئے آپ کی مدد بھی کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب آپ کمزور ہوتے ہیں تو وہ یہوواہ کی پاک روح کے ذریعے آپ کو طاقت دے سکتے ہیں۔ (یوح 16:7؛ طِط 3:6) اِس کے علاوہ یسوع ’آدمیوں کے رُوپ میں نعمتوں‘ یعنی بزرگوں اور آپ کے دوسرے ہمایمانوں کے ذریعے آپ کو حوصلہ دے سکتے ہیں۔—اِفِس 4:8۔
14. جب ہم بےحوصلہ ہو جاتے ہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟
14 اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی ہمت جواب دے گئی ہے یا آپ ایک ایسی ٹمٹماتی ہوئی بتی کی طرح ہیں جو کسی بھی لمحے بجھ جائے گی تو اپنے کاہنِاعظم یسوع کے کردار پر سوچ بچار کریں۔ یاد رکھیں کہ یہوواہ نے یسوع کو زمین پر صرف اپنی جان قربان کرنے کے لیے نہیں بھیجا تھا بلکہ اِس لیے بھی بھیجا تھا تاکہ وہ اچھی طرح سے عیبدار اِنسانوں کی مشکلوں اور تکلیفوں کو سمجھ سکیں۔ تو جب بھی یسوع دیکھتے ہیں کہ ہم اپنے گُناہوں یا کمزوریوں کی وجہ سے بےحوصلہ ہو رہے ہیں تو وہ ”ضرورت کے[اُس]وقت“ میں ہماری مدد کرنے کے لیے تیار کھڑے ہوتے ہیں۔—عبر 4:15، 16۔
15. کس چیز نے ایک بھائی کی مدد کی تاکہ وہ کلیسیا میں لوٹ آئے؟
15 یسوع اپنے پیروکاروں کی رہنمائی کرتے ہیں تاکہ وہ اُن لوگوں کو تلاش کرنے اور یہوواہ کی طرف واپس لانے میں مدد کر سکیں جو اُس سے دُور ہو گئے ہیں۔ (متی 18:12، 13) اِس سلسلے میں ذرا سٹیفنb نام کے بھائی کی مثال پر غور کریں۔ اُنہیں کلیسیا سے نکال دیا گیا تھا۔ لیکن جب 12 سال بعد اُنہوں نے عبادت میں جانے کا فیصلہ کِیا تو اُنہوں نے کہا: ”میرے لیے یہ بالکل آسان نہیں تھا۔ لیکن مَیں پھر سے یہوواہ کے خاندان کا حصہ بننا چاہتا تھا۔ جب عبادتگاہ میں کلیسیا کے بزرگ مجھ سے ملے تو مجھے بہت اپنائیت کا احساس ہوا۔ کبھی کبھار مَیں یہ سوچ کر بہت دُکھی ہو جاتا تھا کہ مَیں نے یہوواہ کو چھوڑ دیا تھا۔ مجھے خود پر اِتنا افسوس ہوتا تھا کہ مَیں ہمت ہارنے لگتا تھا۔ لیکن بزرگوں نے مجھے یاد دِلایا کہ یہوواہ اور یسوع چاہتے ہیں کہ مَیں ہمت سے کام لیتا رہوں۔ پھر جب مَیں دوبارہ سے کلیسیا کا حصہ بن گیا تو بہن بھائیوں نے میرا اور میرے گھرانے کا خوشی سے خیرمقدم کِیا۔ بعد میں میری بیوی بائبل کورس کرنے لگی اور اب ہم دونوں اپنی بیٹی کے ساتھ مل کر یہوواہ کی خدمت کر رہے ہیں۔“ ذرا سوچیں کہ ہمارے شفیق کاہنِاعظم یسوع کو یہ دیکھ کر کتنی خوشی ہوتی ہوگی کہ کلیسیا میں سب بہن بھائی توبہ کرنے والے لوگوں کی مدد کر رہے ہیں تاکہ وہ یہوواہ کے پاس لوٹ آئیں!
16. آپ اِتنے ہمدرد کاہنِاعظم کے لیے یہوواہ کے شکرگزار کیوں ہیں؟
16 جب یسوع زمین پر تھے تو اُنہوں نے بہت سے لوگوں کی ضرورت کے وقت مدد کی۔ آج ہم بھی اِس بات کا پکا بھروسا رکھ سکتے ہیں کہ یسوع ہماری بھی اُس وقت مدد کریں گے جب ہمیں اِس کی ضرورت ہوگی۔ اور بہت جلد نئی دُنیا میں وہ یہوواہ کے وفادار بندوں کو گُناہ اور ہر طرح کے عیب سے پاک کر دیں گے۔ ہم اپنے خدا یہوواہ کے بہت شکرگزار ہیں کہ اُس نے ہمارے لیے محبت اور رحم دِکھایا اور اپنے بیٹے کو ہمارا کاہنِاعظم بنایا جو ہمارے درد کو سمجھ سکتا ہے۔
گیت نمبر 13: مسیح کی عمدہ مثال
a یہ جاننے کے لیے کہ یسوع نے کاہنِاعظم کے طور پر جو کردار ادا کِیا، اُس نے بنیاِسرائیل میں کاہنِاعظم کے کردار کی جگہ کیسے لی، اِس شمارے کو دیکھیں: ”مینارِنگہبانی،“ اکتوبر 2023ء، مضمون ”یہوواہ کی روحانی ہیکل میں اُس کی عبادت کرنے کے اعزاز کی قدر کریں،“ صفحہ نمبر 26، پیراگراف نمبر 7-9۔
b فرضی نام اِستعمال کِیا گیا ہے۔