آپبیتی
یہوواہ کی خدمت میں خوشیوں بھری زندگی
کینیڈا کے بیتایل میں مجھے جو سب سے پہلا کام دیا گیا، وہ اُس عمارت کا فرش صاف کرنا تھا جہاں چھپائی کا کام کِیا جاتا تھا۔ مَیں نے 1958ء میں بیتایل میں خدمت کرنی شروع کی۔ اُس وقت مَیں صرف 18 سال کا تھا۔ مجھے بیتایل میں خدمت کرنا بہت اچھا لگتا تھا اور جلد ہی مجھے ایک ایسی مشین کو چلانے کا کام دیا گیا جو رسالوں کے کنارے کاٹتی تھی۔
اگلے سال بیتایل میں اِعلان ہوا کہ جنوبی افریقہ برانچ میں بھائیوں کی ضرورت ہے کیونکہ وہاں چھپائی کی ایک نئی مشین آئی ہے۔ مَیں نے وہاں جانے کے لیے اپنا نام لکھوایا اور جب مجھے چُن لیا گیا تو مَیں بہت خوش ہوا۔ میرے علاوہ تین اَور بھائیوں کو بھی وہاں بھیجا گیا جن کے نام ڈینس لیچ، بِل مکلیلن اور کین نورڈن تھے۔ ہمیں یہ کہہ کر بھیجا گیا کہ ہمیں وہاں کافی لمبے عرصے تک کام کرنا ہوگا۔
مَیں نے اِس بات کی خبر دینے کے لیے اپنی امی کو فون کِیا اور اُن سے کہا: ”امی! مَیں جنوبی افریقہ جا رہا ہوں!“ میری امی کافی خاموش طبیعت تھیں۔ مگر اُن کا ایمان اور یہوواہ کے ساتھ اُن کی دوستی بہت مضبوط تھی۔ حالانکہ اُنہوں نے میری بات سُن کر کچھ زیادہ کہا نہیں لیکن مَیں جانتا تھا کہ وہ اِس فیصلے میں میرا ساتھ دیں گی۔ نہ ہی میری امی نے اور نہ ہی ابو نے میرے اِس فیصلے پر اِعتراض کِیا حالانکہ وہ دونوں ہی میرے اِتنے دُور جانے سے اُداس ہو گئے تھے۔
جنوبی افریقہ کے سفر پر روانہ
سن 1959ء میں ڈینس لیچ، کین نورڈن اور بِل مکلیلن کے ساتھ ایک ٹرین میں شہر جوہانسبرگ جاتے ہوئے
ہم چاروں بھائی 2019ء میں دوبارہ ایک دوسرے کے ساتھ
سب سے پہلے تو ہم چار بھائی بروکلن بیتایل گئے جہاں ہمیں اُس خاص مشین کو چلانے کی تربیت دی گئی۔ بعد میں ہم ایک بحری جہاز کے ذریعے جنوبی افریقہ کے شہر کیپٹاؤن گئے۔ اُس وقت میں صرف 20 سال کا تھا۔ جب ہم کیپٹاؤن پہنچے تو شام ہو گئی تھی۔ ہم لوگوں نے وہاں سے شہر جوہانسبرگ جانے کے لیے ٹرین پکڑی جو کہ کافی لمبا سفر تھا۔ صبح سویرے ٹرین اپنے پہلے سٹیشن پر رُکی جو شہر کارو میں تھا۔ یہ ایک چھوٹا ریگستانی علاقہ تھا۔ یہاں بہت ہی گرد، دھواں اور گرمی تھی۔ ہم چاروں نے کھڑکی سے باہر جھانک کر دیکھا اور سوچا کہ یہ کیسی جگہ ہے۔ ہمیں یہ فکر ہونے لگی کہ پتہ نہیں یہاں خدمت کرنا کیسا ہوگا۔ کچھ عرصے بعد جب ہم اِن شہروں میں دوبارہ آئے تو ہمیں اندازہ ہوا کہ یہاں کی زندگی تو بڑی خوبصورت اور پُرسکون تھی۔
کچھ سالوں تک تو مَیں نے ایک بہت ہی پیچیدہ مشین پر کام کِیا۔ یہ لائنو ٹائپ مشین تھی جس میں لوہے کی گرم پلیٹوں پر ایک ایک جملے کو ٹائپ کِیا جاتا تھا اور پھر اِنہیں ”مینارِنگہبانی“ اور ”جاگو!“ کی چھپائی کے لیے اِستعمال کِیا جاتا تھا۔ افریقہ برانچ بہت سی افریقی زبانوں میں کتابیں اور رسالے چھاپتی تھی۔ ہم بڑے خوش تھے کہ جس مشین کو اِستعمال کرنے کے لیے ہم کینیڈا سے اِتنی دُور آئے، وہ اِتنی فائدہمند ثابت ہو رہی تھی۔
بعد میں مَیں اُس فیکٹری میں کام کرنے لگا جہاں چھپائی، ترجمے اور کلیسیاؤں کو کتابیں رسالے وغیرہ بھیجنے کا کام کِیا جاتا تھا۔ حالانکہ میری زندگی بہت مصروف گزر رہی تھی لیکن مَیں اِس سے بہت خوش اور مطمئن تھا۔
شادی اور خدا کی خدمت میں ایک نئی ذمےداری
سن 1968ء میں مَیں اور لورا خصوصی پہلکاروں کے طور پر خدمت کرتے ہوئے
1968ء میں میری شادی لورا بوئین نامی پہلکار سے ہوئی جو بیتایل کے قریب ہی رہتی تھیں۔ وہ پہلکار کے طور پر خدمت کرنے کے ساتھ ساتھ ترجمے کے شعبے میں ٹائپنگ کا کام بھی کِیا کرتی تھیں۔ اُس زمانے میں نئے شادیشُدہ جوڑے بیتایل میں کام نہیں کر سکتے تھے۔ اِس لیے ہمیں خصوصی پہلکاروں کے طور پر خدمت کرنے کو کہا گیا۔ اِس ذمےداری کے ملنے پر مَیں تھوڑا پریشان ہوا۔ دراصل مَیں 10 سال سے بیتایل میں کام کر رہا تھا جہاں ہمیں ہمیشہ کھانا پینا اور رہائش دی جاتی ہے۔ مَیں نے سوچا کہ خصوصی پہلکاروں کے طور پر ہمیں جو تھوڑے سے پیسے ملیں گے، اُن میں ہم اپنے اخراجات کیسے پورے کر پائیں گے۔ ہم دونوں میں سے ہر ایک کو مہینے میں 25 رینڈ (اُس زمانے کے حساب سے 35 امریکی ڈالر) ملتے تھے۔ مگر وہ بھی اُسی صورت میں اگر ہم نے اُتنے گھنٹے مُنادی کی ہوتی، اُتنی واپسی ملاقاتیں کی ہوتیں اور اُتنی کتابیں اور رسالے پیش کیے ہوتے جتنے کا ہم سے تقاضا کِیا گیا تھا۔ اِنہی پیسوں میں ہمیں اپنے گھر کا کرایہ، اپنا کھانا پینا، آنے جانے کا خرچہ، علاج کا خرچہ اور دیگر اخراجات پورے کرنے ہوتے تھے۔
ہمیں شہر ڈربن کے قریب ایک علاقے میں پہلکاروں کے طور پر بھیجا گیا۔ یہاں بھارتیوں کی کافی آبادی تھی۔ اِن میں سے بہت سے اُن لوگوں کی اولاد تھے جو تقریباً 1875ء میں چینی کی ملوں میں کام کرنے کے لیے لائے گئے۔ اب یہ لوگ یہاں طرح طرح کے کام کر رہے تھے لیکن اُنہوں نے اپنی ثقافت اور کھانوں کو زندہ رکھا ہوا تھا۔ یہ لوگ انگریزی زبان بولتے تھے جس کی وجہ سے ہمارے لیے اُنہیں بائبل کا پیغام سنانا آسان تھا۔
خصوصی پہلکاروں کو ہر مہینے 150 گھنٹے مُنادی کرنی ہوتی تھی۔ لہٰذا ہم نے طے کِیا کہ پہلے دن ہم چھ گھنٹے مُنادی کریں گے۔ جب ہم گھر سے نکلے تو گرمی اور حبس بہت زیادہ تھا۔ ہمارے پاس نہ تو کوئی واپسی ملاقات تھی اور نہ ہی ہم کسی کو بائبل کورس کرا رہے تھے۔ اِس لیے ہمیں چھ گھنٹے گھر گھر مُنادی کرنی تھی۔ کچھ دیر بعد جب مَیں نے گھڑی دیکھی تو ہمیں مُنادی کرتے صرف 40 منٹ ہی ہوئے تھے۔ مَیں نے سوچا کہ اگر ایسے ہی رہا تو بڑا مشکل ہو جائے گا۔
لیکن پھر ہم نے مُنادی کرنے کا اچھا معمول بنایا۔ ہم ہر روز اپنے لیے سینڈوچ بناتے اور تھرماس میں سوپ یا کافی ساتھ لے جاتے۔ پھر جب ہمیں بیچ میں وقفہ لینا ہوتا تو ہم اپنی گاڑی درخت کے نیچے کھڑی کر کے کھانا کھاتے۔ کبھی کبھی تو ہماری گاڑی کے اِردگِرد بہت سے بچے آ جاتے جو بڑی حیرانی سے ہمیں دیکھتے۔ کچھ ہی دنوں میں ہم نے دیکھا کہ شروع کے دو تین گھنٹوں کے بعد باقی کا دن جلد ہی گزر جاتا ہے۔
ہمیں اپنے علاقے کے لوگوں کو پاک کلام کی سچائیاں سکھا کر بڑی خوشی ملی! ہم نے دیکھا کہ بھارتی لوگ بڑے ملنسار ہوتے ہیں، دوسروں کا بڑا احترام کرتے ہیں اور خدا سے محبت کرتے ہیں۔ بہت سے ہندوؤں نے تو بائبل کی تعلیمات کو قبول کر لیا۔ اُنہوں نے یہوواہ خدا، یسوع مسیح، بائبل، نئی دُنیا اور مُردوں کے جی اُٹھنے کی اُمید کے بارے میں سچائیاں سیکھیں۔ ایک سال کے اندر اندر ہم 20 لوگوں کو بائبل کورس کرانے لگے۔ جن گھرانوں کو ہم بائبل کورس کراتے تھے، اُن میں سے ایک کے ساتھ ہم روزانہ کھانا کھاتے تھے۔ ہم پہلکاروں کے طور بہت خوش تھے۔
لیکن پھر ہمیں ایک نئی ذمےداری ملی۔ مجھے بحرِہند کے ساحلی علاقوں پر واقع کلیسیاؤں میں حلقے کے نگہبان کے طور پر خدمت کرنے کو کہا گیا۔ ہر ہفتے ہم کلیسیا کا دورہ کرنے کے لیے کسی بہن یا بھائی کے گھر رُکتے تھے اور وہاں کے مبشروں کے ساتھ مل کر مُنادی کرتے اور اُن کا حوصلہ بڑھاتے تھے۔ جن بہن بھائیوں کے ہاں ہم رُکتے تھے، وہ ہمیں اپنے گھر والوں کی طرح سمجھتے تھے۔ ہم اُن کے بچوں اور پالتو جانوروں کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ جب مجھے حلقے کا نگہبان بنے دو سال ہو گئے تو ایک دن ہمیں جنوبی افریقہ برانچ سے فون آیا۔ بھائیوں نے کہا کہ وہ ہمیں واپس بیتایل بلانا چاہتے ہیں۔ اِس پر مَیں نے اُنہیں جواب دیا کہ ہم یہاں بہت خوش ہیں۔ لیکن ہم یہوواہ کی خدمت کے لیے کہیں بھی جانے کو تیار تھے۔
واپس بیتایل میں خدمت
بیتایل میں مجھے خدمتی شعبے میں کام کرنے کو کہا گیا جہاں مَیں نے بہت سے تجربہکار بھائیوں سے بہت کچھ سیکھا۔ اُس زمانے میں جب حلقے کا نگہبان کسی کلیسیا کا دورہ کرنے کے بعد برانچ کو رپورٹ بھیجتا تھا تو خدمتی شعبہ اُس کلیسیا کو ایک خط بھیجتا تھا جو حلقے کے نگہبان کی رپورٹ پر مبنی ہوتی تھی۔ اِس خط کو بھیجنے کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ بہن بھائیوں کی حوصلہافزائی کی جائے اور اگر کسی معاملے میں اُنہیں ہدایت کی ضرورت ہے تو اُن کی مدد کی جائے۔ اِس حوالے سے خدمتی شعبے میں سیکرٹریوں کے طور پر کام کرنے والے بھائی بڑی محنت کرتے تھے۔ وہ خوسہ، زولو اور دیگر زبانوں میں بنائی گئی حلقے کے نگہبان کی رپورٹ کا ترجمہ انگریزی میں کرتے تھے اور پھر انگریزی میں برانچ کی تیار کی گئی رپورٹ کا ترجمہ اُن زبانوں میں کرتے تھے۔ مَیں اُن بھائیوں کی محنت کے لیے اُن کا دل سے شکرگزار ہوں۔ اِن بھائیوں نے میری یہ بھی مدد کی کہ مَیں اُن مشکلوں کو بہتر طور پر سمجھ سکوں جن کا سامنا ہمارے سیاہفام افریقی بہن بھائی کر رہے تھے۔
اُس زمانے میں جنوبی افریقہ میں ایک ایسی حکومت تھی جس نے لوگوں کو اُن کے قومی گروہوں کے مطابق علاقے دیے ہوئے تھے۔ اِس لیے فرق فرق قوموں کے لوگ ایک دوسرے سے زیادہ ملتے جلتے نہیں تھے۔ ہمارے سیاہفام بہن بھائی صرف اپنی زبان بولتے تھے اور اِسی میں دوسروں کو بائبل کی تعلیم دیتے اور عبادت کرتے تھے۔
مَیں اپنے بہت سے سیاہفام افریقی بہن بھائیوں کو نہیں جانتا تھا کیونکہ شروع سے مَیں ایسے علاقوں میں رہا جہاں لوگ انگریزی زبان بولتے تھے۔ لیکن اب مجھے اپنے اِن بہن بھائیوں کی ثقافت کو جاننے کا موقع ملا۔ مَیں نے دیکھا کہ ہمارے یہ بہن بھائی اپنی مقامی روایتوں اور اپنے علاقے میں پھیلے جھوٹے عقیدوں کی وجہ سے کتنی مشکلوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ اور جب اُنہوں نے جھوٹی روایتوں اور اُن کاموں سے اِنکار کر دیا جن کا تعلق بُرے فرشتوں سے تھا تو اُنہیں اپنے گھر والوں اور گاؤں والوں کی طرف سے کتنی سخت مخالفت سہنی پڑی۔ دُور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگ تو بہت ہی غریب تھے۔ یہ لوگ بہت کم پڑھے لکھے یا پھر اَنپڑھ تھے۔ لیکن بائبل کا بہت احترام کرتے تھے۔
مَیں نے کچھ ایسے مُقدموں میں بھی بھائیوں کا ساتھ دیا جو آزادی سے یہوواہ کی عبادت کرنے کے حوالے سے تھے۔ ہمارے بہن بھائیوں کے چھوٹے بچوں کی دلیری اور یہوواہ کے لیے اُن کی وفاداری کو دیکھ کر بھی میرا ایمان بہت مضبوط ہوا۔ اُنہیں اِس وجہ سے سکول سے نکال دیا گیا کیونکہ اُنہوں نے باقی بچوں کے ساتھ اُن کی دُعائیں پڑھنے اور مذہبی گیت گانے سے اِنکار کر دیا۔
ایک اَور افریقی ملک میں بہن بھائیوں کو ایک فرق مسئلے کا سامنا کرنا پڑا۔ اُس ملک کو اُس زمانے میں سوازیلینڈ کہا جاتا تھا۔ جب اُس ملک کا بادشاہ سبھوزا دوم فوت ہو گیا تو تمام شہریوں کو کہا گیا کہ وہ اُن رسموں میں حصہ لیں جو کسی کے مرنے پر منائی جاتی ہیں۔ اِن میں سے ایک رسم یہ تھی کہ آدمی اپنے سر منڈوائیں اور عورتیں اپنے بال چھوٹے کریں۔ بہت سے بہن بھائیوں نے اِن رسموں کو منانے سے اِنکار کر دیا کیونکہ اِن کا تعلق باپدادا کی پرستش سے تھا۔ اِس وجہ سے اُن پر بہت اذیت ڈھائی گئی۔ اُنہوں نے یہوواہ کے لیے جو وفاداری ظاہر کی، اُس سے ہمارے دل خوشی سے بھر گئے۔ ہم نے اپنے افریقی بہن بھائیوں سے یہوواہ کا وفادار رہنا اور صبر ظاہر کرنا سیکھا اور ہمارا ایمان بہت مضبوط ہوا۔
بیتایل کے چھاپہخانے میں دوبارہ خدمت
1981ء میں مَیں دوبارہ چھپائی کے شعبے میں کام کرنے لگا اور جدید طریقے سے ہونے والی چھپائی میں بھائیوں کی مدد کرنے لگا۔ اب مجھے اِس کام میں اَور مزہ آنے لگا۔ چھپائی کی مشینیں بیچنے والے ایک شخص نے ہماری برانچ کو مُفت میں ایک نئی مشین ٹیسٹ کرنے کے لیے دی۔ اور پھر ہم نے نو پُرانی مشینوں کی جگہ پانچ نئی مشینیں خرید لیں۔ ہم نے ایک پورا نیا چھاپہخانہ بھی لگایا۔ اب چھپائی کا کام اَور بھی تیزی سے ہونے لگا۔
ہم نے MEPS نامی ایک کمپیوٹر پروگرام اِستعمال کِیا جس کے ذریعے ہم مضامین ٹائپ کر سکتے اور اُنہیں چھپائی کے لیے تیار کر سکتے تھے۔ یہ پروگرام لائنو ٹائپ مشین سے زیادہ تیز تھا۔ جب سے کینیڈا سے ہم چار بھائی وہاں کام کرنے گئے تب سے جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے اِس کام میں اَور بہتری آئی ہے۔ (یسع 60:17) اُس وقت تک ہم چاروں کی شادی ہو چُکی تھی۔ ہماری بیویاں شادی سے پہلے پہلکار تھیں اور یہوواہ سے بہت محبت کرتی تھیں۔ بِل اور مَیں بیتایل میں خدمت کر رہے تھے جبکہ کین اور ڈینس قریب کے علاقے میں ہی اپنے بیوی اور بچوں کے ساتھ رہ رہے تھے۔
برانچ میں کام تیزی سے بڑھتا جا رہا تھا۔ بائبل پر مبنی کتابوں اور رسالوں کا ترجمہ اور اِن کی چھپائی اَور زیادہ زبانوں میں کی جانے لگی اور اِنہیں دوسری برانچوں میں بھی بھیجا جانے لگا۔ کام کے بڑھنے کی وجہ سے ایک بڑے بیتایل کی ضرورت تھی۔ لہٰذا بھائیوں نے جوہانسبرگ سے باہر ایک بڑا خوبصورت بیتایل تعمیر کِیا جسے 1987ء میں یہوواہ کے لیے مخصوص کِیا گیا۔ اِن تمام شاندار کاموں کو اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتا دیکھ کر اور کئی سالوں تک جنوبی افریقہ برانچ میں برانچ کی کمیٹی کے رُکن کے طور پر خدمت کر کے مجھے بےحد خوشی ملی۔
ایک اَور نئی ذمےداری
مجھے اُس وقت بڑی خوشی ہوئی جب2001ء میں مجھے امریکہ برانچ کی کمیٹی کے ایک رُکن کے طور پر خدمت کرنے کو کہا گیا۔ یہ کمیٹی نئی نئی قائم ہوئی تھی۔ حالانکہ ہم جنوبی افریقہ میں یہوواہ کی خدمت کو چھوڑنے اور اپنے دوستوں سے دُور جانے کی وجہ سے بڑے دُکھی تھے لیکن ہم خوش تھے کہ ہم امریکہ کے بیتایل میں بہن بھائیوں کے ساتھ کام کریں گے اور ایک نئی زندگی شروع کریں گے۔
مگر ہمیں لورا کی امی سے دُور جانے کی فکر تھی جو بوڑھی ہو گئی تھیں۔ نیو یارک میں رہ کر ہم اُن کی زیادہ مدد نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن لورا کی تین بہنوں نے اُن کی امی کی دیکھبھال کرنے اور اُن کی ضرورتیں پوری کرنے کی ذمےداری لے لی۔ اُنہوں نے ہم سے کہا: ”ہم خود تو کُلوقتی طور پر یہوواہ کی خدمت نہیں کر سکتیں لیکن امی کی دیکھبھال کرنے سے ہم آپ کی مدد ضرور کر سکتی ہیں تاکہ آپ ایسا کرتے رہیں۔“ ہم اُن کی اِس مدد کے لیے اُن کے دل سے شکرگزار ہیں۔
جہاں تک میرے والدین کی بات تھی تو میرے ابو فوت ہو گئے تھے۔ اِس لیے میرے بھائی اور بھابھی نے امی کی دیکھبھال کرنے کی ذمےداری لے لی جو کینیڈا کے شہر ٹورانٹو میں رہ رہے تھے۔ امی بھائی اور بھابھی کے ساتھ 20 سال سے زیادہ عرصے تک رہیں۔ بھائی اور بھابھی نے بڑے پیار سے امی کی موت تک اُن کا خیال رکھا۔ اُن کی اِس مدد کے لیے ہم اُن کے دل سے شکرگزار ہیں۔ میری امی ہمارے نیو یارک آنے کے تھوڑے عرصے بعد فوت ہوئیں۔ لورا اور میرے گھر والوں نے ہمارا بڑا ساتھ دیا ہے۔ اُنہوں نے ہمارے عمررسیدہ والدین کی دیکھبھال کرنے کے لیے اپنی زندگیوں میں بڑی ردوبدل کی جو کہ کبھی کبھار اُن کے لیے کافی مشکل تھا۔
امریکہ میں مَیں نے کئی سالوں تک کتابوں اور رسالوں کو تیار کرنے والے شعبے میں کام کِیا جو اب پہلے سے زیادہ جدید اور آسان ہو گیا ہے۔ حال ہی میں مجھے خریدوفروخت کرنے والے شعبے میں کام کرنے کی ذمےداری دی گئی ہے۔ یہ ہمارے لیے بڑی خوشی اور اعزاز کی بات ہے کہ ہمیں اِس بڑی سی برانچ میں کام کرتے ہوئے 20 سال ہو گئے ہیں جہاں اب تقریباً 5000 بہن بھائی کام کرتے ہیں اور تقریباً 2000 بہن بھائی گھر سے کام کرنے کے لیے آتے ہیں۔
60 سال پہلے مَیں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ زندگی مجھے کہاں لے جائے گی۔ لورا نے اِن تمام سالوں کے دوران میرا پورا ساتھ دیا ہے۔ یہوواہ نے مجھے بڑی برکتیں دی ہیں۔ ہم نے یہوواہ کی خدمت میں فرق فرق ذمےداریاں نبھائیں اور بڑے اچھے بہن بھائیوں کے ساتھ کام کِیا۔ اِن میں سے کچھ بہن بھائیوں کے ساتھ ہم نے اُس وقت کام کِیا جب ہم مختلف برانچوں میں خدمت کرنے گئے۔ اب میری عمر 80 سال سے زیادہ ہو گئی ہے اِس لیے میرے کام کو کم کر دیا گیا ہے اور جوان بھائیوں کو تربیت دی گئی ہے جو اِن کاموں کو اچھی طرح سے کر سکتے ہیں۔
زبور لکھنے والے خدا کے ایک بندے نے کہا: ”مبارک ہے وہ قوم جس کا خدا [یہوواہ] ہے۔“ (زبور 33:12) یہ بات کتنی سچ ہے نا! مَیں بہت خوش ہوں کہ مجھے یہوواہ کے بندوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا موقع ملا جو خوشی سے اُس کی خدمت کرتے ہیں۔