اُن سے خوشی سے ملیں
۱. کونسا موقع لوگوں کو گواہی دینے کے لئے شاندار ثابت ہوتا ہے اور کیوں؟
۱ ہر سال یسوع مسیح کی یادگاری تقریب پر ہمیں دوسروں کو گواہی دینے کا شاندار موقع ملتا ہے۔ ذرا غور کریں: اِس سال توقع ہے کہ یادگاری تقریب پر تقریباً ایک کروڑ سے زیادہ لوگ آئیں گے اور یہ سیکھیں گے کہ فدیے کے ذریعے یہوواہ خدا اور یسوع مسیح نے انسانوں کے لئے کتنی محبت ظاہر کی۔ (یوح ۳:۱۶؛ ۱۵:۱۳) وہ یہ بھی سیکھیں گے کہ یسوع مسیح کی قربانی کی بِنا پر یہوواہ خدا اُن کو کون کونسی برکتیں دے گا۔ (یسع ۶۵:۲۱-۲۳) لیکن تقریب پر صرف مقرر ہی اِن لوگوں کو گواہی نہیں دے گا بلکہ ہم سب کے پاس ایسا کرنے کا موقع ہوگا۔ جب ہم اِن لوگوں کے ساتھ خوشی سے ملیں گے تو ایک لحاظ سے ہم اُن کو گواہی دے رہے ہوں گے۔—روم ۱۵:۷۔
۲. ہمیں تقریب میں آنے والے لوگوں سے کیسے ملنا چاہئے؟
۲ تقریب پر پہنچ کر چپچاپ بیٹھنے کی بجائے کیوں نہ خود جا کر لوگوں سے ملیں؟ جو لوگ پہلی بار تقریب میں شریک ہوتے ہیں، شاید وہ نہیں جانتے کہ تقریب میں کیا ہوگا اور اِس لئے وہ تھوڑا گھبرائے ہوتے ہیں۔ اگر ہم اُن سے خوشی سے ملیں گے تو وہ خود کو اجنبی محسوس نہیں کریں گے۔ آپ یہ کیسے پتہ لگا سکتے ہیں کہ ایک شخص دعوتنامے کی وجہ سے تقریب میں شریک ہوا ہے؟ آپ اُس سے پوچھ سکتے ہیں: ”کیا آپ پہلی بار یہوواہ کے گواہوں کی عبادت پر آئے ہیں؟“ یا ”کیا آپ یہاں کسی کو جانتے ہیں؟“ شاید آپ اُسے اپنے ساتھ بیٹھنے کو کہہ سکتے ہیں تاکہ آپ تقریر کے دوران اُسے اپنی بائبل میں سے آیتیں دِکھا سکیں اور گیت گاتے وقت اپنی گیتوں کی کتاب دِکھا سکیں۔ اگر تقریب کنگڈمہال میں ہے تو شاید آپ اُسے کنگڈمہال دِکھا سکتے ہیں۔ تقریب کے بعد آپ اُس شخص سے پوچھ سکتے ہیں: ”کیا کوئی ایسی بات ہے جو آپ کو سمجھ نہیں آئی؟“ اگر بعد میں کوئی اَور کلیسیا اُس جگہ کو تقریب کے لئے استعمال کرے گی تو آپ اُس شخص سے کہہ سکتے ہیں: ”مَیں جاننا چاہوں گا کہ آپ کو تقریب کیسی لگی؟ کیا اِس کے لئے مَیں دوبارہ کبھی آپ سے مل سکتا ہوں؟“ پھر اُس شخص سے ملنے کا بندوبست بنائیں۔ اِس موقعے پر بزرگوں کو خاص طور پر ایسے مبشروں کی حوصلہافزائی کرنی چاہئے جو مُنادی کے کام میں حصہ نہیں لیتے۔
۳. یہ کیوں ضروری ہے کہ ہم یادگاری تقریب پر آنے والے نئے لوگوں سے خود جا کر ملیں؟
۳ جو لوگ تقریب میں پہلی بار آئیں گے، وہ یہ دیکھیں گے کہ ہم کتنا خوش رہتے ہیں اور ہم میں کتنا امنواتحاد ہے۔ اِس طرح وہ روحانی فردوس کی جھلک دیکھیں گے۔ (زبور ۲۹:۱۱؛ یسع ۱۱:۶-۹؛ ۶۵:۱۳، ۱۴) یادگاری تقریب میں آنے والے نئے لوگ کیا یادیں لے کر جائیں گے؟ اِس کا انحصار بڑی حد تک اِس بات پر ہوگا کہ ہم اُن سے کس طرح ملیں گے۔