مستعدی سے مُنادی کریں!
۱. ہمارے لئے پولس رسول کی کونسی نصیحت پر دھیان دینا ضروری ہے؟
۱ پولس رسول تاکید کرتا ہے: ”کلام کی مُنادی کر۔ وقت اور بےوقت مستعد رہ۔“ (۲-تیم ۴:۲) پولس رسول کی یہ نصیحت آجکل ہمارے لئے اتنی اہم کیوں ہے؟ نیز، یہ ہماری اور دوسروں کی زندگیوں پر کیسا اثر ڈال سکتی ہے؟
۲. ہم مستعدی کے ساتھ اُن لوگوں کی تلاش کیوں کرتے ہیں جنہوں نے ابھی تک خوشخبری کو نہیں سنا؟
۲ زندگیاں خطرے میں ہیں: دُنیا میں لاکھوں ایسے لوگ ہیں جنہوں نے ابھی تک خدا کی بادشاہی کی خوشخبری کو نہیں سنا جوکہ اُن کے لئے نجات کا باعث بن سکتی ہے۔ (روم ۱۰:۱۳-۱۵؛ ۱-تیم ۴:۱۶) جب کسی علاقے میں باربار مُنادی کی جاتی ہے تو وہاں خلوصدل لوگ ضرور ملتے ہیں۔ اگر ہم کسی مختلف دن یا وقت پر مُنادی کے لئے جاتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ ہماری ملاقات گھر کے کسی دوسرے فرد سے ہو جائے۔ لوگوں کو تلاش کرنے کی ایسی کوشش ہمیں اپنے ضمیر کو صاف رکھنے اور دوسروں کے خون سے پاک رہنے کے قابل بنائے گی۔—اعما ۲۰:۲۶۔
۳. مُنادی کے دوران ہم اپنے وقت کو دانشمندی سے کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟
۳ پہلی صدی کے مسیحیوں نے سخت مخالفت کے باوجود ”تمام یرؔوشلیم میں اپنی تعلیم پھیلا دی۔“ (اعما ۵:۲۸) کیا آپ بھی ’مُنادی کرنے اور گواہی دینے‘ کے لئے ایسا ہی جذبہ رکھتے ہیں؟ (اعما ۱۰:۴۲) کیا ہم مُنادی کے دوران اپنے وقت کو دانشمندی سے استعمال کرتے ہیں؟ جب ہمارے ساتھ مُنادی کرنے والے بہنبھائی واپسی ملاقات کے لئے جاتے ہیں اور ہم اُن کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں تو کیا ہم اپنے پاس سے گزرنے والے لوگوں کو گواہی دینے کی کوشش کرتے ہیں؟
۴. مستعدی کے ساتھ مُنادی کرنا ہمیں جاگتے رہنے میں کیسے مدد دیتا ہے؟
۴ جاگتے اور ہوشیار رہیں: جوںجوں اِس دُنیا کا خاتمہ نزدیک آ رہا ہے ہمیں زیادہ ہوشیار اور جاگتے رہنے کی ضرورت ہے۔ (۱-تھس ۵:۱-۶) جب ہم باقاعدگی کے ساتھ لوگوں کو خدا کی بادشاہت کی اُمید دیتے ہیں تو ہم اِس دُنیا کی فکروں سے سُست پڑ نے سے بچ جاتے ہیں۔ (لو ۲۱:۳۴-۳۶) اِس کے علاوہ، جب ہم یہوواہ خدا کے دن کے ”مشتاق“ رہتے ہیں تو ہمارے اندر زندگی بچانے کے کام یعنی مُنادی کرنے میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔—۲-پطر ۳:۱۱، ۱۲۔
۵. زندگی کے لئے یہوواہ خدا جیسا نظریہ ہمیں مُنادی کرنے کی تحریک کیسے دیتا ہے؟
۵ جب ہم مستعدی کے ساتھ مُنادی کرتے ہیں تو ہم زندگی کی بابت یہوواہ خدا جیسا نظریہ ظاہر کرتے ہیں کیونکہ خدا ”کسی کی ہلاکت نہیں چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ سب کی توبہ تک نوبت پہنچے۔“ (۲-پطر ۳:۹؛ حز ۳۳:۱۱) پس ہمیں اپنے علاقے میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو گواہی دینے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ یہوواہ خدا کے نام کو جلال ملے۔—زبور ۱۰۹:۳۰۔