صحیح نتیجے پر پہنچنے میں دوسروں کی مدد کریں
۱. ہم بائبل کے کس بیان پر غور کریں گے، اور کیوں؟
۱ پولس رسول نے اعمال ۱۳:۱۶-۴۱ میں درج بیان کے مطابق پِسدیہ کے انطاکیہ کے ایک عبادتخانہ میں تقریر کے دوران لوگوں کی صحیح نتیجے پر پہنچنے میں مدد کرنے کا عمدہ نمونہ قائم کِیا۔ پولس نے اپنے سامعین کے پسمنظر اور نظریات کا لحاظ رکھتے ہوئے خوشخبری سنائی۔ آئیے اس بات پر غور کریں کہ ہم اپنی خدمتگزاری میں اس طریقۂکار کو کیسے استعمال کر سکتے ہیں۔
۲. پولس رسول کی تقریر کے آغاز سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟
۲ اُس بات سے شروع کریں جس پر آپ دونوں متفق ہیں: اگرچہ پولس کے پیغام کا مرکز خدا کے مقصد میں یسوع کا کردار تھا توبھی اس نے اپنی تقریر کا آغاز اس بات سے نہیں کِیا۔ پولس کے سامعین میں زیادہتر یہودی تھے اسلئے اُس نے یہودی لوگوں کی تاریخ سے بات شروع کی، کیونکہ پولس خود بھی سابقہ یہودی تھا۔ (اعما ۱۳:۱۶-۲۲) اسی طرح، ہم بھی اُن باتوں پر گفتگو کرنے سے لوگوں کے دلوں تک پہنچتے ہوئے اُنکی توجہ حاصل کر سکتے ہیں جن پر وہ بھی متفق ہیں۔ اپنے سامعین کے دل کی بات کو جاننے کیلئے موقع کی مناسبت سے سوال پوچھیں اور انکی بات کو دھیان سے سنیں تاکہ آپ یہ جان سکیں کہ کونسی چیز اُنکے لئے اہمیت کی حامل ہے۔
۳. کس بات نے پولس کے سامعین کیلئے یسوع کو موعودہ مسیحا تسلیم کرنا مشکل بنا دیا تھا؟
۳ پولس نے یہودی تاریخ پر بات کرتے ہوئے اپنے سامعین کو داؤد کی نسل سے نجاتدہندہ کی بابت خدا کے وعدے کی یاد دلائی۔ تاہم، بہتیرے یہودی ایک ایسے حکمران کے منتظر تھے جو اُنہیں رومی غلامی سے آزاد کرائے گا اور یہودی قوم کو دوسری قوموں سے بلند کرے گا۔ یقیناً، وہ اس بات سے اچھی طرح واقف تھے کہ مذہبی راہنماؤں نے یروشلیم میں یسوع کو رد کرتے ہوئے رومی حکومت کے حوالہ کر دیا اور بالآخر اُسے موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ پولس اُنہیں اس بات کیلئے قائل کرنے کے قابل کیسے ہوا کہ یسوع ہی موعودہ مسیحا تھا؟
۴. پولس نے اپنے یہودی سامعین کیساتھ مہارت سے استدلال کیسے کِیا؟
۴ گفتگو کو سامعین کے مطابق ڈھالیں: پولس رسول نے اپنے سامعین کے نظریات کو بنیاد بناتے ہوئے بائبل صحائف سے اُنہی باتوں پر استدلال کِیا جو وہ پہلے سے جانتے تھے۔ مثال کے طور پر، پولس نے یسوع کو داؤد کی نسل اور ایک ایسے شخص کے طور پر متعارف کرایا جسکی یوحنا بپتسمہ دینے والے نے شناخت کرائی تھی، جسے زیادہتر لوگ خدا کا نبی مانتے تھے۔ (اعما ۱۳:۲۳-۲۵) پولس نے واضح کِیا کہ مذہبی پیشواؤں نے ”نبیوں کی باتیں“ پوری کرتے ہوئے یسوع کو رد کر دیا اور اُسے موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ (اعما ۱۳:۲۶-۲۸) اسکے علاوہ، اُس نے اس بات کو واضح کِیا کہ یسوع کے جی اُٹھنے کے گواہ موجود ہیں اور اُس نے ایسے صحائف بھی بتائے جو یسوع کے جی اُٹھنے کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔—اعما ۱۳:۲۹-۳۷۔
۵. (ا) پولس نے اپنے یونانی سامعین سے باتچیت کرتے وقت کس طریقۂکار کو استعمال کِیا؟ (ب) مقامی علاقے میں منادی کرتے وقت ہم پولس کے نمونے کی نقل کیسے کر سکتے ہیں؟
۵ اس کے برعکس، پولس نے اتھینے میں اریوپگس کے مقام پر یونانیوں سے باتچیت کرتے وقت بالکل فرق طریقۂکار استعمال کِیا۔ (اعما ۱۷:۲۲-۳۱) پولس نے اُسی پیغام کو ایک مختلف طریقے سے پیش کِیا، دونوں مواقع پر اسکے بہترین نتائج حاصل ہوئے۔ (اعما ۱۳:۴۲، ۴۳؛ ۱۷:۳۴) اِسی طرح، آجکل ہم بھی خدمتگزاری میں اُن باتوں پر گفتگو کرنے سے جن پر دونوں متفق ہیں اور اپنی پیشکش کو سامعین کے پسِمنظر کے مطابق ڈھالنے سے اچھے نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔