شکرگزاری کا اظہار کریں
۱ اگرچہ ہم ”اخیر زمانہ“ میں رہ رہے ہیں توبھی ہمارے پاس یہوواہ کے شکرگزار ہونے کی بیشمار وجوہات ہیں۔ (۲-تیم ۳:۱) ہمارے پاس اُس کے شکرگزار ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اُس نے اپنے بیٹے کو ایک قیمتی تحفہ کے طور پر ہماری خاطر دے دیا ہے۔ (یوح ۳:۱۶) مزیدبرآں، جھوٹے مذہب کے لوگ اگرچہ روحانی قحط کا شکار ہیں مگر ہم افراط سے روحانی خوراک سے مستفید ہو رہے ہیں۔ (یسع ۶۵:۱۳) ہم ایک عالمگیر برادری کا حصہ ہیں اور ہمیں سچی پرستش کو فروغ دینے کے شاندار کام میں شریک ہونے کا شرف حاصل ہے۔ (یسع ۲:۳، ۴؛ ۶۰:۴-۱۰، ۲۲) ہم یہوواہ کی برکات کے لئے اُس کے شکرگزار کیسے ہو سکتے ہیں؟—کل ۳:۱۵، ۱۷۔
۲ مسرور اور پورے دل کے ساتھ خدمت: مالی عطیات دینے کا ذکر کرتے ہوئے پولس رسول نے لکھا: ”خدا خوشی سے دینے والے کو عزیز رکھتا ہے۔“ (۲-کر ۹:۷) ہماری خدائی خدمت پر بھی اس اُصول کا اطلاق ہوتا ہے۔ شکرگزاری کا اظہار سچائی کے لئے ہماری گرمجوشی سے، مسیحی اجلاسوں سے خوشی حاصل کرنے سے، میدانی خدمت میں ہمارے جوشوجذبے سے اور خوشی کے ساتھ الہٰی مرضی پوری کرنے سے ہوتا ہے۔—زبور ۱۰۷:۲۱، ۲۲؛ ۱۱۹:۱۴؛ ۱۲۲:۱؛ روم ۱۲:۸، ۱۱۔
۳ قدیم اسرائیل میں، شریعت میں بعض قربانیوں کے سلسلے میں کسی مخصوص مقدار کا تقاضا نہیں کِیا گیا تھا۔ ہر پرستار اپنے حصے میں سے ’جیسی برکت یہوواہ خدا نے اُس کو بخشی ہو اپنی توفیق کے مطابق‘ دینے سے اپنی شکرگزاری کا اظہار کر سکتا تھا۔ (است ۱۶:۱۶، ۱۷) اسی طرح آجکل بھی شکرگزار دل ہمیں اپنے حالات کے مطابق بادشاہتی مُنادی کرنے اور شاگرد بنانے کے کام میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کی تحریک دے گا۔ موسمِگرما اکثر ہمیں اپنی شکرگزاری ظاہر کرنے کے اضافی مواقع فراہم کرتا ہے۔ بہتیرے ملازمت یا سکول سے چھٹی یا دن لمبے ہو جانے کی وجہ سے میدانی خدمت میں زیادہ وقت صرف کرتے یا امدادی پائنیر خدمت میں شریک ہوتے ہیں۔ کیا آپ بھی اس موسمِگرما میں اپنی خدمتگزاری کو وسیع کر سکتے ہیں؟
۴ شکرگزاری سے معمور: یہوواہ کے لئے شکرگزاری ظاہر کرنے کا بڑا ذریعہ دُعا ہے۔ (۱-تھس ۵:۱۷، ۱۸) خدا کا کلام ہمیں تاکید کرتا ہے کہ ”ایمان میں مضبوط رہو اور خوب شکرگزاری کِیا کرو۔“ (کل ۲:۷) جب ہم مصروف یا دباؤ کا شکار بھی ہوتے ہیں تو اُس وقت بھی ہمیں اپنی روزمرّہ دُعاؤں میں شکرگزاری کا اظہار کرنا چاہئے۔ (فل ۴:۶) بیشک ہمیں اپنی خدمتگزاری اور دُعا کے ذریعے ”خدا کی بڑی شکرگزاری“ کرنی چاہئے۔—۲-کر ۹:۱۲۔