تعریف تازگی بخشتی ہے
۱ ”کیا مَیں آج اچھی لڑکی نہیں بنی ہوں؟“ چھوٹی بچی نے رات کو سوتے وقت مُنہ بسور کر کہا۔ اس سوال نے اُسکی ماں کو پریشان کر دیا۔ یہ جاننے کے باوجود کہ آج اُس چھوٹی بچی نے اچھی لڑکی بننے کیلئے کتنی تگودو کی تھی ماں نے اُسکی تعریف میں ایک لفظ بھی نہیں کہا تھا۔ اس بچی کے آنسوؤں کو ہمیں یاد دلانا چاہئے کہ ہم سب کو شاباش یا تعریف کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیا ہم دوسروں کے اچھے کاموں کیلئے قدردانی کا اظہار کرتے ہیں؟—امثا ۲۵:۱۱۔
۲ ساتھی مسیحی مختلف وجوہات کی بِنا پر تعریف کے مستحق ہوتے ہیں۔ بزرگ، خدمتگزار خادم اور پائنیر اپنی ذمہداریاں پوری کرنے کیلئے سخت محنت کرتے ہیں۔ (۱-تیم ۴:۱۰؛ ۵:۱۷) خداپرست والدین اپنے بچوں کو یہوواہ کی راہوں کی تعلیم دینے کیلئے بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ (افس ۶:۴) نوجوان مسیحی ”دُنیا کی روح“ کا مقابلہ کرنے کیلئے سخت جدوجہد کرتے ہیں۔ (۱-کر ۲:۱۲؛ افس ۲:۱-۳) دیگر زیادہ عمر، صحت کے مسائل یا دیگر آزمائشوں کے باوجود وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کرتے ہیں۔ (۲-کر ۱۲:۷) ایسے تمام لوگ تعریف کے مستحق ہیں۔ کیا ہم اُنکی قابلِتعریف کاوشوں کو تسلیم کرتے ہیں؟
۳ مخصوص اور ذاتی: ہم سب پلیٹفارم سے شاباش سننے کی واقعی قدر کرتے ہیں۔ تاہم، ذاتی تعریف زیادہ تازگیبخش ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، رومیوں کے نام اپنے خط کے ۱۶ باب میں پولس نے دوسروں کیساتھ ساتھ خاص طور پر فیبے، پرسکہ اور اکولہ، تروفینہ اور تروفوسہ اور پرسس کیلئے قدردانی کا اظہار کِیا ہے۔ (روم ۱۶:۱-۴، ۱۲) ان وفادار لوگوں کیلئے پولس کی قدرافزائی کس قدر تازگیبخش ثابت ہوئی ہوگی! ایسے تعریفی کلمات ہمارے بہن بھائیوں کو اپنائیت کی یقیندہانی کراتے ہیں اور یہ ہمیں ایک دوسرے کے زیادہ قریب لاتے ہیں۔ کیا آپ نے حال ہی میں ذاتی طور پر کسی کی تعریف کی ہے؟—افس ۴:۲۹۔
۴ دل سے: حقیقت میں تازگی بخشنے کیلئے تعریف کا دل سے کِیا جانا بہت ضروری ہے۔ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ آیا ہم دل سے کہہ رہے ہیں یا محض ”زبانی خوشامد“ کر رہے ہیں۔ (امثا ۲۸:۲۳) جب ہم دوسروں میں اچھائی تلاش کرنے کیلئے اپنی تربیت کرتے ہیں تو ہمارے دل تعریف کرنے کی تحریک پائینگے۔ یہ جانتے ہوئے کہ ”باموقع بات کیا خوب ہے!“ ہمیں تعریف کرنے میں فیاضی دکھانی چاہئے۔—امثا ۱۵:۲۳۔