نوجوانو! مستقبل کیلئے ایک عمدہ بنیاد ڈالیں
۱ آپکے ذہن میں کونسی بات سرِفہرست ہے؟ آپ کیا سوچتے ہیں؟ کیا آپکی بنیادی فکر حال کی چیزوں پر مُرتکز ہے یا کیا مستقبل کی بابت اور ان باتوں پر مُرتکز ہے جنکا خدا نے وعدہ کِیا ہے؟ (متی ۶:۲۴، ۳۱-۳۳؛ لو ۸:۱۴) خدا کے وعدوں کے مطابق عمل کرنے کیلئے مضبوط ایمان کی ضرورت ہے جیساکہ ابرہام اور موسیٰ کی مثالوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ (عبر ۱۱:۸-۱۰، ۲۴-۲۶) آپ ایسا ایمان کیسے پیدا کر سکتے اور ”آیندہ کیلئے اپنے واسطے ایک اچھی بنیاد“ ڈال سکتے ہیں؟—۱-تیم ۶:۱۹۔
۲ یہوواہ کے طالب ہوں: اگر آپ اپنے خاندان میں روحانی کارگزاری کا معمول رکھتے ہیں تو یہ قابلِتعریف ہے۔ لیکن یہ قیاس نہ کریں کہ ایسا معمول خودبخود مضبوط ایمان پیدا کریگا۔ ’یہوواہ کے علم‘ کو حاصل کرنے کیلئے آپکو ذاتی طور پر یہوواہ کے طالب ہونے کی ضرورت ہے۔ (امثا ۲:۳-۵؛ ۱-توا ۲۸:۹) نوجوان بادشاہ یوسیاہ نے ایسا کِیا۔ وہ روحانی ماحول کے بغیر، ۱۵ سال کی عمر میں ”اپنے باپ داؔؤد کے خدا کا طالب ہوا۔“—۲-توا ۳۴:۳۔
۳ آپ یہوواہ کے طالب کیسے ہو سکتے ہیں؟ جوکچھ ہم مانتے ہیں اسکا محتاط تجزیہ کرنے اور سچائی کو اپنے لئے حقیقت میں ثابت کرنے سے ایسا کِیا جا سکتا ہے۔ (روم ۱۲:۲) مثال کے طور پر، کیا آپ خون کی بابت بائبل کے نظریہ کو بیان کر سکتے ہیں یا کیا آپ ثابت کر سکتے ہیں کہ خدا کی بادشاہت نے ۱۹۱۴ سے آسمان پر حکمرانی کرنا شروع کر دی ہے؟ ”سچائی کی پہچان“ حاصل کرنا مستقبل کیلئے عمدہ بنیاد ڈالنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔—۱-تیم ۲:۳، ۴۔
۴ خدا کیلئے یوسیاہ کی تلاش نے اچھے نتائج پیدا کئے۔ اس نے ۲۰ سال کی عمر کو پہنچنے تک دلیری کیساتھ مُلک کو جھوٹی پرستش سے پاک کرنے کیلئے کارروائی کی۔ (۲-توا ۳۴:۳-۷) اسی طرح، آپکی روحانی ترقی آپکے کاموں سے ظاہر ہوگی۔ (۱-تیم ۴:۱۵) اگر آپ ایک غیربپتسمہیافتہ پبلشر ہیں تو اپنی خدمتگزاری کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ صرف لٹریچر پیش کرنے پر اکتفا نہ کریں۔ بائبل استعمال کرنے کو اپنا نشانہ بنائیں اور دلچسپی کی پیروی کریں۔ (روم ۱۲:۷) یہ روحانی ترقی کرنے میں آپکو مدد دیگا۔
۵ یہوواہ کو اپنی بہترین چیز دیں: جب آپ بپتسمہ لینے سے یہوواہ کیلئے اپنی مخصوصیت کا اظہار کرتے ہیں تو آپ خدا کے مقررکردہ خادم بن جاتے ہیں۔ (۲-کر ۳:۵، ۶) یہ آپکے سامنے یہوواہ کی کُلوقتی خدمت کرنے کے مواقع کھول سکتی ہے۔ ان میں پائنیر خدمت کے علاوہ بیتایل خدمت، مشنری خدمت اور بینالاقوامی خدمت بھی شامل ہے۔ اپنی خدمت کو وسیع کرنے میں کوئی دوسری زبان سیکھنا یا زیادہ ضرورت والے علاقے میں منتقل ہونا بھی شامل ہے۔
۶ بیشک، سب لوگ ان خدمتی کاموں کیلئے خود کو دستیاب نہیں رکھ سکتے لیکن ہم میں سے ہر ایک یہوواہ کو اپنی بہترین چیز دے سکتا ہے۔ (متی ۲۲:۳۷) آپکے حالات خواہ کچھ بھی ہوں یہوواہ کی خدمت کرنے کو اپنی زندگی کا محور بنائیں۔ (زبور ۱۶:۵) ایسا کرنے سے، آپ مستقبل کیلئے اچھی بنیاد ڈال رہے ہونگے۔
]سوالات[
۱. مسیحیوں کو مضبوط ایمان کی ضرورت کیوں ہے؟
۲. ہم یوسیاہ بادشاہ کے نمونے سے کیا سیکھتے ہیں؟
۳. آجکل مسیحی نوجوان کیسے یہوواہ کے طالب ہوتے ہیں؟
۴. غیربپتسمہیافتہ پبلشر اپنی ترقی کیسے ظاہر کر سکتے ہیں؟
۵. بپتسمہیافتہ مسیحیوں کیلئے اپنی خدمتگزاری کو وسیع کرنے کیلئے کونسے مواقع ہیں؟
۶. ہم سب مستقبل کیلئے اچھی بنیاد کیسے ڈال سکتے ہیں؟