”یتیموں“ میں دلی دلچسپی دکھائیں
۱ یہوواہ ”یتیموں کا باپ“ ہے۔ (زبور ۶۸:۵) یہ حکم اُس نے قدیم اسرائیل کو دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اُن کی فلاح کے بارے میں فکر رکھتا ہے: ”تم کسی بیوہ یا یتیم لڑکے کو دُکھ نہ دینا۔ اگر تُو ان کو کسی طرح سے دُکھ دے اور وہ مجھ سے فریاد کریں تو مَیں ضرور ان کی فریاد سنوں گا۔“ (خر ۲۲:۲۲، ۲۳) خدا کے قانون میں ایسوں کی مادی طور پر مددکرنا بھی شامل ہے۔ (است ۲۴:۱۹-۲۱) اس مسیحی بندوبست کے تحت سچے پرستاروں کو نصیحت کی جاتی ہے ”کہ یتیموں اور بیواؤں کی مصیبت کے وقت ان کی خبر لیں۔“ (یعقو ۱:۲۷) ہم یہوواہ کی طرح اُن میں دلچسپی کسطرح دِکھا سکتے ہیں جو سنگلپیرنٹ ہیں یا جو مذہبی طور پر منقسم خاندانوں میں پرورش پا رہے ہیں؟
۲ روحانی تربیت: اگر آپ سنگلپیرنٹ ہیں یا آپ کا ساتھی ایماندار نہیں، تو گھر میں اپنے بچوں کے ساتھ مطالعہ کرنا مشکل ہو سکتا ہے، مگر باقاعدہ اور پُرمعنی مطالعہ اُن کیلئے بہت لازمی ہے تاکہ وہ توازن قائم رکھتے ہوئے پُختہ بالغ بن سکیں۔ (امثا ۲۲:۶) اُن کے ساتھ روزانہ روحانی معاملات پر باتچیت کرنا بھی بہت اہم ہے۔ (است ۶:۶-۹) شاید آپ کسی وقت بےحوصلہ محسوس کریں، لیکن ہمت نہ ہاریں۔ طاقت اور رہنمائی کے لئے یہوواہ کی طرف مڑیں ”اور خداوند کی طرف سے تربیت اور نصیحت دے دے کر ان کی پرورش کرو۔“—افس ۶:۴۔
۳ اگر آپ کو روحانی ذمہداریاں اُٹھانے کیلئے مدد کی ضرورت ہے، تو بزرگوں کو اپنی ضروریات سے آگاہ کریں۔ وہ اس قابل ہیں کہ عملی تجاویز دے سکیں یا آپکی مدد کر سکیں تاکہ آپ اپنے گھرانے میں ایک اچھا روحانی معمول قائم رکھ سکیں۔
۴ دوسرے کس طرح مدد کر سکتے ہیں: پہلی صدی میں، تیمتھیس نے منقسم گھرانے میں پرورش پائی، اسکے باوجود بھی وہ یہوواہ کا سرگرم خادم بنا۔ اُسکی ماں اور نانی کی مستعد کوشش نے اِسے بچپن سے پاک صحائف کی تعلیم دی اور بِلاشُبہ تعلیم دینے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ (اعما ۱۶:۱، ۲؛ ۲-تیم ۱:۵؛ ۳:۱۵) تاہم، اُس نے دوسرے مسیحیوں کی رفاقت سے بھی فائدہ حاصل کیا۔ ان میں پولوس رسول بھی شامل ہے، جس نے تیمتھیس کا حوالہ اسطرح دیا کہ ”وہ خداوند میں میرا پیارا اور دیانتدار فرزند ہے۔“—۱-کر ۴:۱۷۔
۵ اِسطرح آج، بھی یہ کتنا فائدہمند ہو سکتا ہے جب کلیسیا میں پُختہ بہن بھائی یتیم بچوں میں دلی دلچسپی دکھاتے ہیں! کیا آپ ہر ایک کو اِسکے نام سے جانتے ہیں؟ کیا آپ مسیحی اجلاسوں یا دیگر مواقع پر اُن سے بات کرتے ہیں؟ اُنہیں منادی میں اپنے ساتھ کام کرنے کی دعوت دیں۔ شاید آپ اُنہیں کسی وقت، اُن کے سنگلپیرنٹ، یا باایمان والدین کیساتھ، اپنے خاندان کے مطالعے یا خوشگوار تفریح کے بندوبست میں شامل کر سکتے ہیں۔ جب یہ نوجوان آپکو اپنا دلی دوست خیال کرینگے، تو وہ آپکے نمونے اور حوصلہافزائی کو اپنے دل میں بٹھا لینگے۔—فل ۲:۴۔
۶ یہوواہ یتیموں میں گہری دلچسپی رکھتا ہے، اور وہ ہماری پُرمحبت کوشش کو برکت دیتا ہے تاکہ ہم سچائی کو اپنانے میں اُنکی مدد کر سکیں۔ کئی جو سنگلپیرنٹ یا منقسم گھرانوں میں جوان ہوئے ہیں اُنہوں نے کافی حوصلہافزائی پائی ہے اور اب وہ وفاداری سے پائنیر کے طور پر، خدمتگذار خادم، بزرگ، سفرینگہبان، بیتایل میں یا مشنریز کے طور پر خدمت کر رہے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک کو اِس تلاش میں رہنا چاہئے کہ ’کشادہ ہوں‘ اور جو یتیم ہیں اُن کیلئے محبت دِکھانے میں اپنے آسمانی باپ یہوواہ کی نقل کریں۔—۲-کر ۶:۱۱-۱۳۔