اپنے حواس کی نشوونما کریں
۱ ہمارا پُرآشوب اخیر زمانہ خدا کے لوگوں پر ہر جگہ اضافی دباؤ اور طرح طرح کی سنگین آزمائشیں لایا ہے۔ (۲-تیم ۳:۱-۵) ہم سب کو ایمان میں قائم رہنے کے لئے حوصلہافزائی کی ضرورت ہے۔ (۱-کر ۱۶:۱۳) ہم یہوواہ کے کلام سے باقاعدہ خوراک حاصل کرنے، اس کی روح پر انحصار کرنے اور اس کی تنظیم کی قربت میں رہنے سے ایسا کر سکتے ہیں۔—زبور ۳۷:۲۸؛ روم ۸:۳۸، ۳۹؛ مکا ۲:۱۰۔
۲ اس سال سپیشل اسمبلی ڈے پروگرام کا عنوان ”سمجھ میں جوان بنیں،“ بڑا معقول تھا۔ یہ ۱-کرنتھیوں ۱۴:۲۰ پر مبنی تھا جہاں ہم پولس رسول کے ان الفاظ کو پڑھتے ہیں: ”اَے بھائیو! تم سمجھ میں بچے نہ بنو۔ بدی میں تو بچے رہو مگر سمجھ میں جوان بنو۔“ آپ اس پروگرام کے متعلق کیا سوچتے ہیں؟
۳ ”کیا ہی حوصلہافزا!“ ”ہمیں تو بس اسی کی ضرورت تھی!“ یہ صرف چند ایک اظہارات تھے۔ اپنی ۱۲ سالہ بیٹی کا بپتسمہ دیکھنے کی غرض سے آنے والے ایک شخص نے بھی کہا جو گواہ نہیں تھا کہ وہ اس پروگرام سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہے اور وہ دیکھ سکتا ہے کہ کیسے یہ اس کے خاندان کے لئے فائدہمند ہوگا۔ کیا آپ بھی ایسا محسوس کرتے ہیں؟ آئیے پروگرام کی چند خاص خاص باتوں کو یاد کریں۔
۴ حواس کی نشوونما کیلئے درست علم ضروری ہے: تمہیدی تقریر ”اپنی سمجھ کو بڑھانے کا وقت اب ہے،“ میں مقرر نے کس بات پر زور دیا جو آجکل کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کیلئے ضروری ہے؟ ذہنی صلاحیت سے کچھ زیادہ کی ضرورت ہے۔ ہمیں بائبل کی اپنی سمجھ کو گہرا اور وسیع کرنا چاہئے مبادا کہ جس بُرائی کا ہمیں سامنا ہے وہ ہم پر غالب آ جائے۔ یہ سمجھ الہٰی ہدایت کا تقاضا کرتی ہے۔ ہمیں زبورنویس کی طرح، یہوواہ سے دُعا میں درخواست کرنی چاہئے کہ ہمیں اپنے آئین اور شہادتوں کی سمجھ عطا کرے تاکہ ہم پورے دلوجان کے ساتھ اس کی خدمت کر سکیں۔—زبور ۱۱۹:۱، ۲، ۳۴۔
۵ اگلے حصے میں، سرکٹ اوورسیئر نے ظاہر کِیا کہ یہوواہ اپنے کلام اور تنظیم کے ذریعے ”بائبل کی سمجھ میں جوان بنانے کیلئے امدادی چیزیں“ مہیا کرتا ہے۔ سمجھداری کی تعریف یوں کی گئی تھی کہ یہ ”معاملے کی تہ تک پہنچنے کی صلاحیت ہے اور معاملے کے تمام حصوں اور پہلوؤں کے درمیان روابط کو سمجھنے سے اس کی اجزائےترکیبی کو بھانپ کر اس کا مفہوم حاصل کرنا ہے۔“ اس صلاحیت کو پیدا کرنے کے سلسلے میں کون ہماری مدد کر سکتا ہے؟ یہوواہ نے روحانی طور پر ترقی کرنے میں ہماری مدد کیلئے آدمیوں کی صورت میں انعام فراہم کئے ہیں۔ (افس ۴:۱۱، ۱۲) اس کی زمینی تنظیم ہمیں خدا کا کلام روزانہ پڑھنے اور کلیسیائی اجلاسوں پر باقاعدہ حاضر ہونے کی تاکید کرتی ہے۔ (زبور ۱:۲) ہمیں بائبل اور مسیحی مطبوعات کو اپنے ذاتی اور خاندانی مطالعہ میں، اجلاسوں اور میدانی خدمت میں استعمال کرنے کا طریقہ سکھایا جاتا ہے۔ کیا آپ ان تمام فراہمیوں سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں؟ کیا آپ ایک باقاعدہ، ذاتی بائبل پڑھائی کے پروگرام کی پابندی کرتے ہیں؟ دُنیاوی رُجحانات، فیشن، فیلسوفیوں اور گمراہکُن اثرات سے بچنے کیلئے یہ لازمی ہے۔—کل ۲:۶-۸۔
۶ ہمارے حواس کی تربیت ضروری ہے: مہمان مقرر نے اپنی پہلی تقریر بعنوان، ”اپنے حواس کی تربیت کرنے سے روحانیت کو محفوظ رکھیں“ میں واضح کِیا کہ دُنیا کے لوگ درست اور غلط میں امتیاز نہیں کر سکتے۔ (یسع ۵:۲۰، ۲۱) یہ اُنکے خدا کے راست معیاروں کو تسلیم نہ کرنے اور اُن پر عمل کرنے سے انکار کرنے کی وجہ سے ہے۔ اس کے برعکس، ہم نے یہوواہ کی تنظیم میں روحانی تربیت حاصل کی ہے اور خدا کے معیاروں کو تسلیم کرتے ہیں جو ہماری کارگزاری اور چالچلن کی رہبری کرتے ہیں۔ چنانچہ ہم یہ ثابت کرنے کی حالت میں ہیں کہ یہوواہ کی نظروں میں کیا اچھا اور مقبول اور اس کی کامل مرضی کے مطابق ہے۔—روم ۱۲:۲۔
۷ دُنیا کی ابتر سوچ اور اس سے حاصل ہونے والے بُرے پھل سے بچنے کے لئے، ہمیں اپنے حواس کی مسلسل تربیت کرنی چاہئے۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ عبرانیوں ۵:۱۲-۱۴ کے مطابق، پولس رسول نے کلام کے ”دودھ“ سے بڑھ کر خوراک حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ہمیں ٹھوس روحانی خوراک کی ضرورت ہے جیساکہ ہم کلیسیائی کتابی مطالعہ پر بائبل کہانیوں کی میری کتاب کے ”سوالی کتابچے“ میں اضافی سوالات کی تحقیق کرنے سے حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے بعد جوکچھ ہم سیکھتے ہیں ہمیں فوراً اس کا اطلاق کرنا چاہئے۔ ایسا کرنے سے ہم اس بات کے قائل ہو جائینگے کہ صرف یہوواہ ہی کے اصول اور معیار درست ہیں۔ اِس سے درست اور غلط میں واضح طور پر امتیاز کرنے کیلئے ہمارے حواس کی تربیت ہوتی ہے۔
۸ افسوس کی بات ہے کہ بعض روحانی طور پر کمزور ہو گئے ہیں۔ کیوں؟ انہوں نے اِس بات پر توجہ نہیں دی کہ یہوواہ کی نظر میں نیک اور راست کیا ہے۔ نتیجتاً، وہ صحیفائی نقطۂنظر سے قابلِاعتراض ریڈیو اور ٹیلیویژن ٹاک شوز سے لیکر گھٹیا موسیقی یا کمپیوٹر چیٹرومز تک کے بُرے اثرات کا شکار ہو گئے ہیں۔ دانشمندی کو عمل میں لاتے ہوئے ہم بداخلاق، احمق یا شریر آدمیوں کے اثر سے بچینگے۔—امثا ۱۳:۲۰؛ گل ۵:۷؛ ۱-تیم ۶:۲۰، ۲۱۔
۹ نوجوانوں کو ”بدی میں بچے“ بننا چاہئے: پروگرام کے دو حصوں نے اپنے حواس کی نشوونما کرنے کے سلسلے میں خاص طور پر نوجوان اشخاص کی حوصلہافزائی کی۔ مقرر نے ظاہر کِیا کہ ”بدی میں بچے“ بننے کا مطلب یہوواہ کی نظروں میں ناپاک چیزوں کے سلسلے میں کمسن بچوں کی مانند، ناتجربہکار یا معصوم بنے رہنا ہے۔ (۱-کر ۱۴:۲۰) ہم سب کی حوصلہافزائی کی گئی تھی کہ اپنے وقت کو استعمال کرنے کے طریقوں پر غور کریں تاکہ ہر طرح کی بُرائی کی مزاحمت کرتے ہوئے اس سے بچا جا سکے۔ (افس ۵:۱۵-۱۷) ہماری حوصلہافزائی کی گئی تھی کہ اُس وقت کا حساب لگائیں جسے ہم ایسا مواد پڑھنے میں صرف کرتے ہیں جس کا روحانی باتوں کو سمجھنے اور ہماری ترقی سے براہِراست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ کیا آپ نے ایسا کِیا ہے؟ نتائج نے کیا آشکارا کِیا ہے؟ روزانہ کی بائبل پڑھائی کرنے کے علاوہ، تنظیم کی طرف سے فراہمکردہ مواد کو بدستور پڑھنے کیلئے پُرعزم رہیں۔ ایسا کرنا ”فہم حاصل“ کرنے میں نوجوانوں سمیت، سب کی مدد کریگا۔—امثا ۴:۷-۹۔
۱۰ ”سمجھ کیساتھ بائبل اصولوں کا اطلاق کرنے سے فائدہ اُٹھائیں“: یہ سپیشل اسمبلی ڈے پروگرام کی اختتامی تقریر کا عنوان تھا۔ مہمان مقرر نے وضاحت کی کہ یہوواہ اُس زندگیبخش سمجھداری کا ماخذ ہے جو تمام نسلِانسانی سے نہایت ہی برتر ہے۔ یہوواہ کی سمجھ حاصل کرنے کا موقع پانے کا ذرا تصور کریں! وہ ایمان کیساتھ اس کی جستجو اور اس کیلئے درخواست کرنے والوں کو فیاضی کیساتھ بخشتا ہے۔ (امثا ۲:۳-۵، ۹؛ ۲۸:۵) کیا آپ اس کی پیشکش سے پورا فائدہ اُٹھا رہے ہیں؟
۱۱ ہماری حوصلہافزائی کی گئی تھی کہ ہم بائبل پڑھتے وقت اصولوں کی شناخت کرنا سیکھیں۔ (۲-تیم ۳:۱۶، ۱۷) درست سمجھ حاصل کرنے کیلئے یہوواہ کے کلام کا بغور مطالعہ کریں۔ ان اصولوں پر غوروخوض کرنے کیلئے وقت نکالیں اور انہیں اپنے دلودماغ پر نقش کر لیں۔ اِس سے آپ کے حواس کی تربیت ہوگی تاکہ آپ زندگی میں فیصلے کرتے وقت کامیاب ہو سکیں۔ (یشو ۱:۸) آئیے چند ایسی حالتوں کا جائزہ لیں جنکا بیشتر لوگ سامنا کرتے ہیں اور دیکھیں کہ بائبل اصولوں کا اطلاق کامیاب ہونے میں کیسے ہماری مدد کر سکتا ہے۔
۱۲ ’کیا مجھے مخصوص اسٹائل کا لباسوآرائش اپنانا چاہئے؟‘ لباسوآرائش کے سلسلے میں دُنیا کے فیشن کی بابت رُجحانات اکثراوقات باغیانہ روح کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایسی روح لوگوں کو گھٹیا اور بدذوق یا جنسی ترغیب دینے والے لباس کی طرف مائل کر سکتی ہے۔ ایسے رُجحانات کا مقابلہ کرنے کیلئے کونسے متعلقہ بائبل اصول ہماری مدد کر سکتے ہیں؟ اپنے حواس کی تربیت کرنے سے، ہم ۱-تیمتھیس ۲:۹، ۱۰ میں پائے جانے والے اصول پر غور کرینگے تاکہ ”حیادار . . . شرم اور پرہیزگاری کے ساتھ“ ملبوس ہوں ”جیسا خداپرستی کا اقرار کرنے [والے لوگوں] کو مناسب ہے۔“ دیگر عائد ہونے والے اصولوں کا ذکر ۲-کرنتھیوں ۶:۳ اور کلسیوں ۳:۱۸، ۲۰ میں آتا ہے۔
۱۳ ’مَیں اپنے خاندانی بندھن کو کیسے مضبوط رکھ سکتا ہوں؟‘ خاندانی افراد کیساتھ اچھا رابطہ بہت ضروری ہے۔ یعقوب ۱:۱۹ ہمیں بتاتی ہے: ”ہر آدمی سننے میں تیز اور بولنے میں دھیرا اور قہر کرنے میں دھیما ہو۔“ خاندانی افراد کو سننے اور دوسرے شخص سے بات کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ خاندانی رابطہ دو طرفہ راستہ ہے۔ اگر ہم اپنی درست بات کو بھی سخت، متکبرانہ یا کٹھور انداز سے کہتے ہیں تو اِس سے فائدے کی بجائے نقصان ہو سکتا ہے۔ پس ایک شوہر یا بیوی، والدین یا بچے کے طور پر ہماری باتچیت کو ”ہمیشہ . . . پُرفضل اور نمکین“ ہونا چاہئے۔—کل ۴:۶۔
۱۴ ’کیا مَیں مادہپرستی سے متاثر ہوں؟‘ مادہپرستی ایک دُنیاوی دباؤ ہے جو کسی کی زندگی کو پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ یہ خوشی کا دروازہ نہیں کھولتی۔ (واعظ ۵:۱۰؛ لو ۱۲:۱۵؛ ۱-تیم ۶:۹، ۱۰) مادہپرستی کے پھندے سے بچنے کیلئے، یسوع نے ہمیں یہ اہم اصول سکھایا: آنکھ کو سادہ رکھیں۔ متوازن، کم پیچیدہ زندگی بسر کرنے میں اپنی نظریں بادشاہتی مفادات پر مُرتکز رکھ کر ہر دوسری چیز کو ثانوی درجے پر رکھنا شامل ہے۔—متی ۶:۲۲، ۲۳، ۳۳۔
۱۵ ہمارا مقصد کیا ہونا چاہئے: خدا کا کلام درست فیصلے کرنے میں ہماری راہنمائی کیلئے راست اصولوں کا ایک قابلِاعتماد ذریعہ ہے۔ ہمیں اِن اصولوں کی بابت سیکھنے، ان پر غور کرنے اور اپنی زندگی میں ان کا اطلاق کرنے کا طریقہ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ یوں ’نیکوبد میں امتیاز کرنے کیلئے اپنے حواس کی تربیت کرنے سے،‘ ہم خود کو فائدہ پہنچائینگے اور یہوواہ کو جلال دینگے۔—عبر ۵:۱۴۔