کیا آپ روحانی خوراک سے بھرپور استفادہ کرتے ہیں؟
۱ ایک عام مقولہ ہے کہ ’ہمارے جسم کا انحصار ہماری خوراک پر ہے۔‘ بیشک ہماری کھانے کی عادات ہماری صحتوتندرستی پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ جب یسوع نے کہا کہ ”آدمی صرف روٹی ہی سے جیتا نہ رہے گا بلکہ ہر بات سے جو خدا کے مُنہ سے نکلتی ہے“ تو ہماری روحانی خوراک کھانے کی عادات ہم پر اچھا یا بُرا اثر ڈال سکتی ہیں۔ (متی ۴:۴) پس، آپ کس حد تک روحانی خوراک سے استفادہ کرتے ہیں؟ کیا آپ کھانے میں نقص نکالتے ہیں؟ کیا آپ عجلت میں کھانا کھاتے ہیں؟ یا کیا آپ باقاعدہ، متوازن اور غذائیتبخش روحانی خوراک کھانے کے لئے خوشی سے وقت نکالتے ہیں؟
۲ یہوواہ نے ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ کے ذریعے ’فربہ چیزوں کی ایک ضیافت‘ اور ’مناسب وقت پر خوراک‘ فراہم کرنے کا بندوبست کِیا ہے۔ (متی ۲۴:۴۵؛ یسع ۲۵:۶) اِن پُرمحبت فراہمیوں سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کیلئے ہمیں روحانی خوراک سے پوری طرح فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔
۳ آپ خود سے پوچھ سکتے ہیں: ’کیا مَیں روزانہ کی آیت اور تبصرہ ہر روز پڑھتا ہوں؟ کیا مَیں روزانہ بائبل کی پڑھائی اور اس پر غوروخوض کرتا ہوں؟ کیا مَیں مواد کا پیشگی مطالعہ کرنے سے اجلاسوں کی تیاری کرتا ہوں؟ کیا مَیں مینارِنگہبانی اور جاگو! کے نئے شمارے آتے ہی پڑھتا ہوں؟‘
۴ یسوع نے وعدہ کِیا تھا: ”مبارک ہیں وہ جو دل کے غریب ہیں . . . مبارک ہیں وہ جو راستبازی کے بھوکے اور پیاسے ہیں کیونکہ وہ آسُودہ ہونگے۔“ (متی ۵:۳، ۶) پس، اپنے دلودماغ کو خدا کے علم سے معمور کرتے ہوئے روحانی خوراک سے بھرپور استفادہ کریں۔