”خدا سے سب کچھ ہو سکتا ہے“
۱ مسیحی کلیسیا کا بنیادی کام عالمگیر پیمانے پر بادشاہتی پیغام کی منادی کرنا ہے۔ (متی ۲۴:۱۴) یہ بہت بھاری ذمہداری ہے۔ بہتیرے لوگوں کے خیال میں، اس کام کے لئے ہماری حیثیت سے کہیں زیادہ وسائل کی ضرورت ہے۔ ہم چونکہ تمسخر، مخالفت اور اذیت کا نشانہ بنتے ہیں اس لئے بعض کے نزدیک اس کام کی تکمیل ناقابلِتصور ہے۔ (متی ۲۴:۹؛ ۲-تیم ۳:۱۲) مُتشکِک اشخاص بھی اس کام کو ناممکن سمجھتے ہیں۔ تاہم، یسوع نے کہا: ”خدا سے سب کچھ ہو سکتا ہے۔“—متی ۱۹:۲۶۔
۲ قابلِتقلید مثبت مثالیں: جب یسوع نے اپنی خدمت شروع کی تو وہ پوری دُنیا کے مقابلے میں تنہا تھا۔ اُسے ناکام کرنے کی کوشش میں، مخالفین نے ہر طرح اسکی تحقیر کی اور انجامکار اسے کربناک موت مار ڈالا۔ تاہم، آخر میں یسوع نے پورے اعتماد کیساتھ کہا: ”مَیں دُنیا پر غالب آیا ہوں۔“ (یوح ۱۶:۳۳) واقعی، ناقابلِیقین کامیابی!
۳ یسوع کے شاگردوں نے بھی مسیحی خدمتگزاری میں ایسی ہی جرأتمندی اور گرمجوشی کا مظاہرہ کِیا تھا۔ بہتیروں کو کوڑے لگائے گئے، ماراپیٹا گیا، قیدخانہ میں ڈالا گیا، حتیٰکہ ہلاک بھی کر دیا گیا۔ تاہم، وہ ’اس بات پر خوش تھے کہ وہ اُس کے نام کی خاطر بےعزت ہونے کے لائق تو ٹھہرے۔‘ (اعما ۵:۴۱) انہوں نے ناموافق حالات کے باوجود، ”زمین کی انتہا تک“ خوشخبری کی منادی کا بظاہر ناممکن کام سرانجام دیا۔—اعما ۱:۸؛ کل ۱:۲۳۔
۴ اس زمانے میں کامیابی کا طریقہ: ہم نے بھی بڑے جوشوجذبے سے ناموافق حالات کے باوجود بادشاہتی منادی کے کام کو پورا کرنے کی ذمہداری اُٹھائی ہے۔ پابندی، اذیت، قیدوبند اور دیگر پُرتشدد حملوں کے باوجود، ہمیں کامیابی حاصل ہو رہی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ ”نہ تو زور سے اور نہ توانائی سے بلکہ میری رُوح سے ربُالافواج فرماتا ہے۔“ (زک ۴:۶) یہوواہ کی پُشتپناہی کے باعث کوئی بھی چیز ہمارے کام کو روک نہیں سکتی!—روم ۸:۳۱۔
۵ جب ہم منادی کرتے ہیں تو ہمیں ڈرنا یا خود کو نااہل محسوس نہیں کرنا چاہئے۔ (۲-کر ۲:۱۶، ۱۷) ہمارے پاس بادشاہتی خوشخبری پھیلانے کی کوشش میں لگے رہنے کی خاص وجوہات ہیں۔ یہوواہ کی مدد سے ہم ’ناممکن‘ دکھائی دینے والا کام سرانجام دینے کے قابل ضرور ہونگے!—لو ۱۸:۲۷۔