پیشگی منصوبہسازی—کس کام کیلئے؟
۱ ہم سب اپنے مستقبل کی بابت سوچتے ہیں۔ زمینی اُمید رکھنے والے لوگ خدا کی راست نئی دُنیا میں ابدی زندگی کے منتظر ہیں۔ تاہم، ایسی ترغیبات بھی ہیں جو ہماری اس دلی اُمید کو چھین سکتی ہیں۔ جسم کی گمراہکُن خواہشات سے بچنے اور بادشاہتی مفادات کو اپنی زندگی کا محور بنانے کیلئے مخلصانہ کوشش درکار ہے۔—۱-یوح ۲:۱۵-۱۷۔
۲ دُنیا روحانی لوگوں کے اغراضومقاصد کو سمجھ نہیں سکتی۔ (۱-کر ۲:۱۴) تمام دوسرے لوگ شہرت، طاقت اور مالودولت حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہیں جبکہ ہم روحانی خزانوں کی تلاش میں ہیں۔ (متی ۶:۱۹-۲۱) اگر ہم مستقبل کی بابت اپنی سوچ کو دُنیا کے نقطۂنظر کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں تو کیا ہم اپنے روحانی نصباُلعین تک پہنچ پائینگے؟ اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو جلد ہی یہ دُنیوی چیزیں ہمارے دلوں میں بسیرا کر لینگی۔ ہم اس سے کیسے بچ سکتے ہیں؟
۳ ”خداوند یسوع مسیح کو پہن لو“: اپنی گفتگو کا جائزہ لینا بادشاہتی مفادات کو اپنے مستقبل کی بنیاد بنانے کا ایک طریقہ ہے۔ کیا ہم ہر وقت دُنیاوی چیزوں اور مفادات کے متعلق باتچیت کرتے رہتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو ہمیں غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ہمارے دل میں روحانی اقدار کی وقعت کم تو نہیں ہو رہی۔ شاید ہمیں ’جسم کی خواہشوں کیلئے تدبیریں کرنے کی بجائے خداوند یسوع مسیح کو پہننے‘ پر زیادہ دھیان دینے کی ضرورت ہے۔—روم ۱۳:۱۴۔
۴ نوجوان اُس دن کیلئے منصوبہسازی کرنے سے ’یسوع کو پہن‘ سکتے ہیں جب وہ کُلوقتی خدمتگزاری کا آغاز کرینگے۔ باقاعدہ پائنیر بننے کے خواہشمند ایک نوجوان نے ایسے معاشرے میں پرورش پائی جہاں دستور کے مطابق نوجوانوں کیلئے مالی تحفظ اور استحکام نہایت ضروری سمجھا جاتا ہے۔ لہٰذا، وہ کاروبار میں اسقدر مصروف ہو گیا کہ اجلاس اور خدمتگزاری میں اُس کی شرکت برائےنام تھی۔ لیکن جب وہ متی ۶:۳۳ میں درج یسوع کی بات پر بھروسا کرنے لگا تو اُس نے اپنے اُکتا دینے والے معمول کو ترک کرکے کُلوقتی خدمت اختیار کر لی۔ اُس کا کہنا ہے کہ اب وہ ایک صاف ضمیر کیساتھ ’اپنی تمامتر صلاحیتوں کو بروئےکار لاتے ہوئے‘ یہوواہ کی خدمت کر رہا ہے۔
۵ بائبل بیان کرتی ہے کہ مستقبل کیلئے منصوبہسازی کرنا عقلمندی ہے۔ (امثا ۲۱:۵) دُعا ہے کہ ہم سب خدا کی مرضی کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایسا ہی کریں۔—افس ۵:۱۵-۱۷۔