مطالعے کا مضمون نمبر 11
گیت نمبر 57: ہر طرح کے لوگوں کو مُنادی کریں
یسوع کی طرح جوش سے مُنادی کریں
”ہمارے مالک نے . . . اُنہیں دو دو کر کے اپنے آگے ہر اُس شہر اور جگہ بھیجا جہاں وہ خود جانے والے تھے۔“—لُو 10:1۔
غور کریں کہ . . .
آپ کن چار طریقوں سے مُنادی کے لیے ویسا ہی جوش دِکھا سکتے ہیں جیسا یسوع نے دِکھایا۔
1. کون سی خوبی یہوواہ کے بندوں کو دُنیا کے لوگوں سے فرق کرتی ہے؟
یہوواہ کے بندوں کے دل میں خوشخبری کی مُنادی کرنے کی شدید خواہش ہوتی ہے اور وہ یہ کام بہت لگن سے کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسی خوبی ہے جو اُنہیں دُنیا کے اُن لوگوں سے فرق کرتی ہے جو مسیحی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ (طِط 2:14) لیکن ہو سکتا ہے کہ کبھی کبھار آپ کو مُنادی میں اپنے جوش کو برقرار رکھنا مشکل لگے۔ شاید آپ بھی بالکل ویسا ہی محسوس کریں جیسا ایک کلیسیا کے محنتی بزرگ نے کِیا۔ اُس نے کہا: ”کبھی کبھار تو میرے دل میں مُنادی کرنے کی ذرا سی بھی خواہش نہیں ہوتی۔“
2. کبھی کبھار ہمارے لیے مُنادی میں اپنے جوش کو برقرار رکھنا مشکل کیوں ہو سکتا ہے؟
2 شاید ہمیں مُنادی کرنے سے زیادہ یہوواہ کی خدمت کے کسی اَور پہلو میں حصہ لینا اچھا لگے۔ کیوں؟ کیونکہ جب ہم اپنی عبادتگاہوں کی تعمیر یا مرمت میں حصہ لیتے ہیں، قدرتی آفت کے دوران اپنے بہن بھائیوں کی مدد کرتے ہیں یا کسی اَور طرح سے اپنے ہمایمانوں کا حوصلہ بڑھاتے ہیں تو ہمیں فوراً ہی اِس کے اچھے نتیجے نظر آنے لگتے ہیں اور ہمیں بہت خوشی ملتی ہے۔ اِس کے علاوہ جب ہم ایک صلحپسند اور خوشگوار ماحول میں اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں تو ہم اُن کی محبت کو محسوس کر پاتے ہیں اور ہمیں پتہ ہوتا ہے کہ ہم اُن کے لیے جو کام کر رہے ہیں، وہ اُس کی قدر کرتے ہیں۔ لیکن اگر مُنادی کی بات کی جائے تو شاید ہم کافی سالوں سے ایک ہی علاقے میں مُنادی کر رہے ہیں اور لوگ ہمارے پیغام میں بہت کم دلچسپی لیتے ہیں۔ یا پھر کچھ لوگ اِسے سننا ہی نہیں چاہتے۔ اِس کے علاوہ ہم جانتے ہیں کہ جیسے جیسے اِس دُنیا کا خاتمہ نزدیک آ رہا ہے، ہماری مخالفت بڑھتی جائے گی۔ (متی 10:22) تو کیا چیز ہماری مدد کر سکتی ہے تاکہ ہم مُنادی کے لیے اپنے جوش کو قائم رکھ سکیں، یہاں تک کہ اِسے اَور زیادہ بڑھا سکیں؟
3. ہم یسوع مسیح کی بتائی ہوئی اُس مثال سے کیا سیکھ سکتے ہیں جو لُوقا 13:6-9 میں لکھی ہے؟
3 آئیے یسوع مسیح کی بتائی ہوئی ایک مثال پر غور کرتے ہیں جس سے ہم دیکھ پائیں گے کہ ہم مُنادی کے لیے اپنے جوش کو کیسے برقرار رکھ سکتے ہیں۔ جب یسوع زمین پر تھے تو اُنہوں نے مُنادی کے لیے اپنے جوش کو کبھی ٹھنڈا نہیں ہونے دیا۔ دراصل جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، یسوع اَور بھی لگن سے مُنادی کرنے لگے۔ (لُوقا 13:6-9 کو پڑھیں۔) یسوع مسیح نے ایک مثال میں اپنا موازنہ اُس آدمی سے کِیا جس کے پاس انگور کا باغ تھا۔ وہ آدمی تین سال تک لگاتار اِنجیر کے ایسے درخت سے پھل جمع کرنے کے لیے جاتا رہا جس پر پھل نہیں لگ رہا تھا۔ اِسی طرح یسوع مسیح تقریباً تین سال تک یہودیوں میں مُنادی کرتے رہے جن میں سے زیادہتر نے اُن کے پیغام کو قبول نہیں کِیا۔ لیکن جس طرح انگور کے باغ کے مالک نے یہ اُمید نہیں چھوڑی کہ اُسے ایک نہ ایک دن اِنجیر کے درخت سے پھل مل جائے گا اُسی طرح یسوع مسیح نے لوگوں کو مُنادی کرنے میں ہمت نہیں ہاری اور نہ ہی وہ ایسا کرنے میں ڈھیلے پڑے۔ اِس کی بجائے اُنہوں نے لوگوں کے دل تک پہنچنے کے لیے اَور بھی زیادہ کوشش کی۔
4. ہم مُنادی کے حوالے سے یسوع مسیح سے کون سی چار باتیں سیکھیں گے؟
4 اِس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ یسوع مسیح نے مُنادی کے لیے جوش کیسے دِکھایا، خاص طور پر زمین پر اپنی زندگی کے آخری چھ مہینوں میں۔ (لُو 10:1) اگر ہم یسوع کی سکھائی ہوئی باتوں پر عمل کریں گے اور وہ کام کریں گے جو اُنہوں نے کیے تو ہم مُنادی کے لیے اپنے جوش کو قائم رکھ پائیں گے۔ آئیے چار ایسی باتوں پر غور کرتے ہیں جو ہم یسوع سے سیکھ سکتے ہیں: (1)اُنہوں نے اپنی توجہ اِس بات پر رکھی کہ یہوواہ اُن سے کیا چاہتا ہے، (2)اُنہوں نے بائبل کی پیشگوئیوں پر دھیان دیا، (3)اُنہوں نے مدد کے لیے یہوواہ پر بھروسا کِیا اور (4)اُنہوں نے کبھی یہ اُمید نہیں چھوڑی کہ کچھ لوگ اُن کے پیغام کو ضرور قبول کریں گے۔
یسوع نے اپنی توجہ اِس بات پر رکھی کہ یہوواہ اُن سے کیا چاہتا ہے
5. یسوع مسیح نے کیسے ثابت کِیا کہ اُن کی توجہ اِس بات پر تھی کہ یہوواہ اُن سے کیا چاہتا ہے؟
5 یسوع مسیح نے جوش سے دوسروں کو ”خدا کی بادشاہت کی خوشخبری“ سنائی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہوواہ چاہتا ہے کہ وہ یہ کام کریں۔ (لُو 4:43) یسوع مسیح کی نظر میں خوشخبری سنانا اُن کی زندگی کا سب سے اہم کام تھا۔ جب زمین پر یسوع مسیح کی زندگی کے کچھ ہی مہینے باقی رہ گئے تھے تو وہ تب بھی شہر شہر اور گاؤں گاؤں جا کر لوگوں کو تعلیم دیتے رہے۔ (لُو 13:22) اِس کے علاوہ اُنہوں نے اپنے اَور شاگردوں کو مُنادی کرنے کی ٹریننگ بھی دی۔—لُو 10:1۔
6. حالانکہ یہوواہ چاہتا ہے کہ ہم اُس کی خدمت کے دوسرے پہلوؤں میں بھی حصہ لیں لیکن وہ مُنادی کے کام کو کیسا خیال کرتا ہے؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
6 آج بھی خوشخبری سنانا وہ خاص کام ہے جس کی یہوواہ اور یسوع ہم سے توقع کرتے ہیں۔ (متی 24:14؛ 28:19، 20) ہم یہوواہ کی خدمت کے حوالے سے جو بھی کام کرتے ہیں، اُس کا مُنادی سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ہم اپنی عبادتگاہیں تعمیر کرتے ہیں تاکہ وہاں ایسے لوگ یہوواہ کی عبادت کرنے کے لیے آ سکیں جنہیں ہم مُنادی کرتے ہیں۔ اِس کے علاوہ ہم بیتایل میں جو کام کرتے ہیں، اُس کے ذریعے بھی خوشخبری کے کام کو پھیلایا جاتا ہے۔ اور جب کسی ملک میں قدرتی آفت آتی ہے تو اِمدادی کمیٹی آفت سے متاثر بہن بھائیوں کی مدد کرتی ہے تاکہ وہ پھر سے عبادتوں میں جانا اور مُنادی کرنا شروع کر سکیں۔ جب ہم مُنادی کرنے کی اہمیت کو سمجھ جاتے ہیں اور یہ یاد رکھتے ہیں کہ یہوواہ ہم سے یہ اہم کام کرنے کی توقع کرتا ہے تو ہمارے دل میں اِسے باقاعدگی سے کرنے کی خواہش بڑھتی ہے۔ ذرا ہنگری میں رہنے والے کلیسیا کے ایک بزرگ کی بات پر غور کریں جن کا نام یانوش ہے۔ اُنہوں نے کہا: ”مَیں اکثر خود کو یاد دِلاتا ہوں کہ ہم یہوواہ کی خدمت میں جو بھی کام کرتے ہیں، وہ مُنادی کی جگہ نہیں لے سکتا۔ دوسروں کو خوشخبری سنانا ہماری سب سے اہم ذمےداری ہے۔“
آج بھی خوشخبری سنانا وہ خاص کام ہے جس کی یہوواہ اور یسوع ہم سے توقع کرتے ہیں۔ (پیراگراف نمبر 6 کو دیکھیں۔)
7. یہوواہ یہ کیوں چاہتا ہے کہ ہم مُنادی کرتے رہیں؟ (1-تیمُتھیُس 2:3، 4)
7 اگر ہم لوگوں کے لیے اُتنی ہی فکر رکھیں گے جتنی یہوواہ رکھتا ہے تو ہم مُنادی کے لیے اپنا جوش بڑھا پائیں گے۔ یہوواہ چاہتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ بادشاہت کی خوشخبری سنیں اور سچائی کے بارے میں علم حاصل کریں۔ (1-تیمُتھیُس 2:3، 4 کو پڑھیں۔) چونکہ بادشاہت کی خوشخبری سے لوگوں کی زندگی بچ سکتی ہے اِس لیے یہوواہ اِس کام کو اَور اچھے سے کرنے کے لیے ہمیں ٹریننگ دے رہا ہے۔ مثال کے طور پر کتاب ”محبت دِکھائیں—شاگرد بنائیں“ میں ہمیں ایسے مشورے دیے گئے ہیں جن کی مدد سے ہم لوگوں کے ساتھ اِس طرح سے باتچیت شروع کر سکتے ہیں جس سے وہ آگے چل کر بائبل کورس کرنے لگیں اور مسیح کے شاگرد بن سکیں۔ اور اگر لوگ ابھی ہمارے پیغام کو قبول نہیں بھی کرتے تو شاید بڑی مصیبت کے ختم ہونے سے پہلے اُن کے پاس اِسے قبول کرنے کا موقع ہوگا۔ ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں اُنہیں ہماری بتائی ہوئی باتیں یاد آئیں اور اُن میں یہوواہ کی عبادت کرنے کی خواہش پیدا ہو جائے۔ لیکن ایسا تبھی ہوگا اگر ہم مُنادی کرتے رہیں گے۔
یسوع نے بائبل میں لکھی پیشگوئیوں پر دھیان دیا
8. بائبل میں لکھی پیشگوئیوں پر دھیان دینے سے یسوع اپنے وقت کو سمجھداری سے کیسے اِستعمال کر پائے؟
8 یسوع مسیح جانتے تھے کہ بائبل میں لکھی پیشگوئیاں کیسے پوری ہوں گی۔ وہ جانتے تھے کہ وہ زمین پر صرف ساڑھے تین سال تک یہوواہ کی خدمت کریں گے۔ (دان 9:26، 27) پیشگوئیوں کے ذریعے یسوع یہ بھی جانتے تھے کہ وہ کب اور کیسی موت مریں گے۔ (لُو 18:31-34) چونکہ یسوع مسیح پاک کلام میں لکھی پیشگوئیوں کو سمجھتے تھے اِس لیے وہ اپنے وقت کا بہترین اِستعمال کر پائے۔ اِس وجہ سے اُنہوں نے جوش سے مُنادی کی تاکہ وہ اُس کام کو پورا کر سکیں جو اُنہیں دیا گیا تھا۔
9. بائبل میں لکھی پیشگوئیوں پر دھیان دینے سے ہم میں جوش سے مُنادی کرنے کی خواہش کیسے پیدا ہوگی؟
9 اگر ہم بائبل میں لکھی اُن پیشگوئیوں پر غور کریں گے جو ہمارے زمانے میں پوری ہو چُکی ہیں اور بہت جلد پورے ہونے والی ہیں تو ہم میں جوش سے مُنادی کرنے کی خواہش بڑھے گی۔ ہم جانتے ہیں کہ اِس دُنیا کا خاتمہ بہت قریب ہے۔ ہم اپنے اِردگِرد جو واقعات ہوتے دیکھ رہے ہیں اور لوگ جس طرح کا رویہ ظاہر کر رہے ہیں، وہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ بائبل کی پیشگوئی کے مطابق ہم آخری زمانے میں رہ رہے ہیں۔ ہم یہ بھی سمجھ گئے ہیں کہ جو دُشمنی برطانیہ اور امریکہ کی عالمی طاقت اور روس اور اُس کے اِتحادیوں کے بیچ چل رہی ہے، اُس سے بائبل کی وہ پیشگوئی پوری ہو رہی ہے جو ”آخری وقت“ یعنی آخری زمانے میں شاہِشمال اور شاہِجنوب کے بارے میں کی گئی تھی۔ (دان 11:40، اُردو جیو ورشن) اِس کے علاوہ ہم جان گئے ہیں کہ دانیایل 2:43-45 میں بتائی گئی مورت کے پاؤں برطانیہ اور امریکہ کی عالمی طاقت کی طرف اِشارہ کرتے ہیں۔ بائبل میں لکھی پیشگوئیوں کا مطالعہ کرنے سے ہمیں اِس بات کا پکا یقین ہو گیا ہے کہ بہت جلد خدا کی بادشاہت تمام اِنسانی حکومتوں کو ختم کر دے گی۔ اِن تمام پیشگوئیوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم خاتمے کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔ اِس لیے ہمیں اپنے وقت کا بہترین اِستعمال کرتے ہوئے خوشخبری کی مُنادی کرنی چاہیے۔
10. بائبل میں لکھی پیشگوئیاں اَور کن طریقوں سے ہمارے دل میں مُنادی کرنے کا جوش بڑھا سکتی ہیں؟
10 بائبل میں لکھی پیشگوئیوں میں ہمیں ایسا پیغام بھی ملتا ہے جسے ہم بڑی خوشی سے دوسروں کو بتانا چاہتے ہیں۔ اِس سلسلے میں ذرا ڈومینیکن ریپبلک میں رہنے والی ایک بہن کی بات پر غور کریں جن کا نام کیری ہے۔ اُنہوں نے کہا: ”جب مَیں اُن شاندار چیزوں پر غور کرتی ہوں جنہیں مستقبل میں دینے کا وعدہ یہوواہ نے ہم سے کِیا ہے تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ مجھے اِن وعدوں کے بارے میں دوسروں کو بھی بتانا چاہیے۔“ اُنہوں نے یہ بھی کہا: ”جب مَیں دیکھتی ہوں کہ لوگ کتنی مشکلوں کا سامنا کر رہے ہیں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہوواہ کے وعدے صرف میرے لیے ہی نہیں بلکہ اُن کے لیے بھی ہیں۔“ بائبل کی پیشگوئیوں سے ہمیں یہ حوصلہ بھی ملتا ہے کہ یہوواہ خوشخبری سنانے کے کام میں ہماری مدد کر رہا ہے۔ اِس طرح ہم میں اِس کام کو کرتے رہنے کی ہمت پیدا ہوتی ہے۔ اِس حوالے سے ہنگری میں رہنے والی بہن لائیلا نے کہا: ”یسعیاہ 11:6-9 میں لکھی بات سے میرے دل میں اُن لوگوں کو بھی خوشخبری سنانے کی خواہش پیدا ہوتی ہے جن کے بارے میں مجھے لگتا ہے کہ وہ اِسے سننا نہیں چاہیں گے۔“ اور زمبیا میں رہنے والے بھائی کرسٹوفر نے کہا: ”مرقس 13:10 میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ خوشخبری کی مُنادی ساری دُنیا میں ہوگی۔ یہ میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ مَیں اِس پیشگوئی کے پورا ہونے میں حصہ لے رہا ہوں۔“ بائبل کی کن پیشگوئیوں کے ذریعے آپ کے دل میں مُنادی کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے؟
یسوع نے مدد کے لیے یہوواہ پر بھروسا کِیا
11. یسوع مسیح کو جوش سے مُنادی کرتے رہنے کے لیے یہوواہ کی مدد پر بھروسا کرنے کی ضرورت کیوں تھی؟ (لُوقا 12:49، 53)
11 یسوع مسیح اِس بات پر پورا بھروسا رکھتے تھے کہ یہوواہ اُن کی مدد کرے گا تاکہ وہ جوش سے مُنادی کرتے رہیں۔ حالانکہ یسوع مُنادی کرتے وقت بہت سوچ سمجھ کر الفاظ اِستعمال کرتے تھے اور لوگوں کے ساتھ بہت احترام سے بات کرتے تھے لیکن وہ جانتے تھے کہ بادشاہت کا پیغام سُن کر کچھ لوگ غصے میں آ جائیں گے اور اُن کی مخالفت کریں گے۔ (لُوقا 12:49، 53 کو پڑھیں۔) مذہبی رہنماؤں کو تو یسوع کا پیغام اِتنا چبھتا تھا کہ اُنہوں نے یسوع کو کئی بار مار ڈالنے کی کوشش کی۔ (یوح 8:59؛ 10:31، 39) لیکن یسوع پھر بھی مُنادی کرتے رہے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہوواہ اُن کے ساتھ ہے۔ اُنہوں نے کہا: ”مَیں اکیلا نہیں ہوں بلکہ میرا باپ جس نے مجھے بھیجا ہے، میرے ساتھ ہے۔ . . . اُس نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا کیونکہ مَیں ہمیشہ وہی کام کرتا ہوں جو اُس کو پسند ہے۔“—یوح 8:16، 29۔
12. یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کو مخالفت کے باوجود مُنادی کرتے رہنے کے لیے کیسے تیار کِیا؟
12 یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کو بھی یاد دِلایا کہ وہ مدد کے لیے یہوواہ پر بھروسا کر سکتے ہیں۔ اُنہوں نے بار بار اُنہیں یقین دِلایا کہ یہوواہ اُس وقت بھی اُن کے ساتھ ہوگا جب اُنہیں اذیت کا سامنا ہوگا۔ (متی 10:18-20؛ لُو 12:11، 12) لیکن یسوع جانتے تھے کہ بہت سے لوگ بادشاہت کی خوشخبری کی مخالفت کریں گے اِس لیے اُنہوں نے اپنے شاگردوں کو محتاط رہنے کی نصیحت کی۔ (متی 10:16؛ لُو 10:3) اُنہوں نے شاگردوں کو یہ ہدایت بھی دی کہ وہ اُن لوگوں کو بادشاہت کا پیغام سننے پر مجبور نہ کریں جو اِسے قبول نہیں کرنا چاہتے۔ (لُو 10:10، 11) پھر یسوع نے اُن سے یہ بھی کہا کہ اگر اُنہیں ایک علاقے میں اذیت دی جاتی ہے تو وہ کسی دوسرے علاقے میں چلے جائیں۔ (متی 10:23) حالانکہ یسوع مسیح بہت جوش سے مُنادی کرتے تھے اور یہوواہ پر مکمل بھروسا کرتے تھے لیکن اُنہوں نے بِلاوجہ خود کو خطرے میں نہیں ڈالا۔—یوح 11:53، 54۔
13. آپ اِس بات کا پکا یقین کیوں رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ آپ کی مدد کرے گا؟
13 آج بہت سے لوگ مُنادی کی وجہ سے ہماری مخالفت کرتے ہیں۔ اِس لیے سب لوگوں کو جوش سے خوشخبری سنانے کے لیے ہمیں یہوواہ کی مدد کی ضرورت ہے۔ (مُکا 12:17) آپ اِس بات کا پکا یقین کیوں رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ آپ کی مدد ضرور کرے گا؟ ذرا یسوع مسیح کی اُس دُعا پر غور کریں جو اُنہوں نے یوحنا 17 باب میں کی۔ یسوع نے یہوواہ سے درخواست کی کہ وہ اُن کے رسولوں کی حفاظت کرے اور یہوواہ نے اُن کی دُعا سنی۔ اعمال کی کتاب میں ہمیں اِس بات کے کئی ثبوت ملتے ہیں کہ یہوواہ نے کیسے رسولوں کی مدد کی تاکہ وہ اذیت کے باوجود جوش سے مُنادی کرتے رہیں۔ یسوع نے دُعا میں یہوواہ سے یہ بھی کہا کہ وہ اُن لوگوں کی بھی حفاظت کرے جو رسولوں کے پیغام کو سُن کر ایمان لے آئیں گے اور جو مستقبل میں اُن کے شاگرد بنیں گے۔ اِس میں آپ بھی شامل ہیں۔ یہوواہ ابھی بھی یسوع کی دُعا کا جواب دے رہا ہے۔ وہ آپ کی بھی بالکل ویسے ہی مدد کرے گا جیسے اُس نے رسولوں کی مدد کی تھی۔—یوح 17:11، 15، 20۔
14. ہم یہ بات کیسے جانتے ہیں کہ ہم جوش سے مُنادی کرتے رہیں گے؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
14 جیسے جیسے اِس دُنیا کا خاتمہ نزدیک آ رہا ہے، ہمارے لیے خوشخبری سنانا اَور مشکل ہو سکتا ہے۔ لیکن یسوع مسیح نے ہمیں یقین دِلایا ہے کہ ہمیں ہمیشہ وہ مدد ملتی رہے گی جس کے ذریعے ہم جوش سے مُنادی کرتے رہیں گے۔ (لُو 21:12-15) یسوع مسیح اور اُن کے شاگردوں کی طرح ہم بھی لوگوں کو یہ فیصلہ کرنے دیں گے کہ وہ ہمارا پیغام سنیں گے یا نہیں اور ہم اُن سے کوئی بحث نہیں کریں گے۔ جن ملکوں میں ہمارے بہن بھائی آزادی سے مُنادی نہیں کر سکتے، وہاں بھی وہ کسی نہ کسی طریقے سے دوسروں کو خوشخبری سناتے رہتے ہیں کیونکہ وہ اپنی طاقت پر نہیں بلکہ یہوواہ پر بھروسا کرتے ہیں۔ جس طرح یہوواہ نے پہلی صدی عیسوی میں اپنے بندوں کو طاقت دی تھی اُسی طرح وہ ہمیں بھی طاقت دے گا تاکہ ”مُنادی کا کام اچھی طرح سے“ اُس وقت تک کِیا جا سکے جب تک یہوواہ چاہتا ہے۔ (2-تیم 4:17) آپ اِس بات کا پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ اگر آپ یہوواہ پر بھروسا کریں گے تو وہ آپ کو جوش سے مُنادی کرتے رہنے کے قابل بنائے گا۔
بھلے ہی کچھ ملکوں میں ہمارے بہن بھائی آزادی سے مُنادی نہیں کر سکتے لیکن وہ سمجھداری سے کام لیتے ہوئے اپنے ایمان کا اِظہار کرنے کے طریقے نکال ہی لیتے ہیں۔ (پیراگراف نمبر 14 کو دیکھیں۔)a
یسوع نے کبھی اُمید کا دامن نہیں چھوڑا
15. یہ کیسے پتہ چلتا ہے کہ یسوع مسیح کو پکا یقین تھا کہ مُنادی کرنے کے اچھے نتیجے نکلیں گے؟
15 یسوع کو اِس بات کا پکا یقین تھا کہ کچھ لوگ اُن کے پیغام کو ضرور قبول کریں گے۔ اِسی وجہ سے وہ خوشی، جوش اور لگن سے مُنادی کرتے رہے۔ مثال کے طور پر جب یسوع نے مُنادی کرنا شروع کی تو اِس کے تقریباً ایک سال بعد یعنی 30ء کے آخر میں اُنہوں نے دیکھا کہ بہت سے لوگ خوشخبری کو سننا چاہتے ہیں۔ اُنہوں نے اِن لوگوں کو ایسی فصل کہا جو کٹائی کے لیے تیار ہے۔ (یوح 4:35) پھر اِس کے تقریباً ایک سال بعد اُنہوں نے اپنے شاگردوں سے کہا: ’فصل بہت ہے۔‘ (متی 9:37، 38) اور پھر بعد میں اُنہوں نے دوبارہ اِس بات پر زور دیا: ’فصل بہت ہے۔ اِس لیے کٹائی کے مالک کی مِنت کریں کہ وہ کٹائی کے لیے اَور مزدور بھیجے۔‘ (لُو 10:2) یسوع مسیح نے کبھی اِس بات کی اُمید نہیں چھوڑی کہ لوگ اُن کا پیغام سنیں گے۔ اور جب لوگوں نے ایسا کِیا تو یسوع کو بہت خوشی ہوئی۔—لُو 10:21۔
16. یسوع مسیح کی بتائی مثالوں سے کیسے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مُنادی کے حوالے سے بہت اچھی سوچ رکھتے تھے؟ (لُوقا 13:18-21) (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
16 یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ جوش سے مُنادی کرتے رہنے کے لیے وہ اِس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں کہ اِس کام کے کتنے اچھے نتیجے نکلتے ہیں۔ اِس حوالے سے ذرا یسوع مسیح کی بتائی ہوئی دو مثالوں پر غور کریں۔ (لُوقا 13:18-21 کو پڑھیں۔) ایک مثال میں یسوع مسیح نے بادشاہت کے پیغام کو ایک چھوٹے سے رائی کے دانے کی طرح کہا جو ایک بڑا درخت بن گیا۔ اِس مثال کا مطلب یہ تھا کہ بہت سے لوگ بادشاہت کے پیغام کو قبول کریں گے اور کوئی بھی چیز ایسا ہونے سے نہیں روک سکے گی۔ پھر اُنہوں نے ایک اَور مثال میں بادشاہت کے پیغام کو خمیر کی طرح کہا۔ اُنہوں نے یہ اِس لیے کہا کیونکہ بادشاہت کے پیغام نے دُنیا بھر میں بہت سی جگہوں میں پھیل جانا تھا اور اِس نے لوگوں کی زندگیاں بدل دینی تھی، بھلے ہی دوسروں کو یہ تبدیلیاں فوراً نظر نہ آتیں۔ تو اِس طرح یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کو یقین دِلایا کہ جو پیغام وہ دوسروں تک پہنچا رہے ہیں، اُس کے اچھے نتیجے ضرور نکلیں گے۔
یسوع مسیح کی طرح ہم بھی اِس بات کی اُمید رکھتے ہیں کہ کچھ لوگ ہمارا پیغام ضرور قبول کریں گے۔ (پیراگراف نمبر 16 کو دیکھیں۔)
17. ہم کن وجوہات کی بِنا پر مُنادی کے بارے میں اچھی سوچ رکھ سکتے ہیں؟
17 جب ہم اِس بارے میں سوچتے ہیں کہ پوری دُنیا میں خوشخبری سنانے کی وجہ سے لوگوں کی کتنی مدد ہو رہی ہے تو ہمیں مُنادی کرتے رہنے کی ہمت ملتی ہے۔ ہر سال لاکھوں لوگ مسیح کی موت کی یادگاری تقریب میں آتے ہیں اور ہم سے بائبل کورس کرتے ہیں۔ سینکڑوں لوگ بپتسمہ لیتے ہیں اور ہمارے ساتھ مل کر مُنادی میں حصہ لیتے ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ اَور کتنے زیادہ لوگ خوشخبری کو قبول کریں گے۔ لیکن ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ یہوواہ ایک بڑی بِھیڑ کو جمع کرے گا جو بڑی مصیبت میں سے بچ جائے گی۔ (مُکا 7:9، 14) یہوواہ کٹائی کا مالک ہے اور اُسے اِس بات کا پورا یقین ہے کہ ابھی بھی بہت سے لوگ خوشخبری کو قبول کریں گے۔ اِس لیے ہمیں اِسے سنانے کی پوری کوشش کرنی چاہیے۔
18. جن لوگوں کو ہم مُنادی کرتے ہیں، ہم اُن کی توجہ کس بات پر دِلانا چاہتے ہیں؟
18 شروع سے ہی یسوع کے سچے شاگرد جوش سے مُنادی کرتے آئے ہیں۔ مثال کے طور پر جب پہلی صدی عیسوی میں لوگوں نے مُنادی کے لیے رسولوں کی دلیری اور اُن کا جوش دیکھا تو ’اُنہیں اندازہ ہو گیا کہ وہ یسوع کے ساتھ ہوتے تھے۔‘ (اعما 4:13) ہم بھی یسوع کے رسولوں کی طرح دلیری اور جوش سے مُنادی کرنا چاہتے ہیں۔ اِس طرح لوگ یہ دیکھ پائیں گے کہ ہم یسوع کی مثال پر عمل کر رہے ہیں۔
گیت نمبر 58: صلحپسندوں کی تلاش
a تصویر کی وضاحت: ایک بھائی بڑی سمجھداری سے کام لیتے ہوئے پٹرول پمپ پر ایک آدمی کو گواہی دے رہا ہے۔
20