والدین کو اپنے بچوں میں اچھی عادات پیدا کرنی چاہئیں
۱ انسان پیدائشی طور پر اچھی عادات کا حامل نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ اتفاقاً پیدا ہوتی ہیں۔ علاوہازیں، بچوں میں اچھی عادات پیدا کرنے کیلئے وقت درکار ہوتا ہے۔ ”پیدا کرنے“ کے اظہار کا مطلب ”بتدریج ذہننشین کرنا“ یا ”بتدریج داخل کرنا“ ہو سکتا ہے۔ اپنے بچوں کی ”خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کی طرف سے تربیت اور نصیحت دے دے کر . . . پرورش“ کرنے کیلئے والدین سے مستقلمزاج بننے کا تقاضا کِیا جاتا ہے۔—افس ۶:۴۔
۲ بچپن سے شروع کریں: چھوٹے بچوں میں نئی باتیں اور نئے کام سیکھنے اور کرنے کی غیرمعمولی صلاحیت ہوتی ہے۔ بالغ اشخاص نئی زبان سیکھنا مشکل پاتے ہیں مگر سکول نہ جانے والے بچے بھی بیکوقت دو یا تین زبانیں سیکھ سکتے ہیں۔ یہ کبھی نہ سوچیں کہ آپ کا بچہ ابھی بہت چھوٹا ہے اسلئے وہ اچھی عادات نہیں سیکھ سکتا۔ اگر ابتدا ہی سے بائبل سچائی سکھائی جاتی ہے اور اِس عمل کو جاری رکھا جاتا ہے تو چند سال کی عمر میں ہی بچے کا ذہن ایسے علم سے معمور ہوگا جو اُسے ”نجات حاصل کرنے کے لئے دانائی بخش“ سکتا ہے۔—۲-تیم ۳:۱۵۔
۳ میدانی خدمت کو عادت بنائیں: خدائی بادشاہت کی باقاعدگی سے منادی کرنا ایک اچھی عادت ہے جسے ابتدائی سالوں کے دوران بچے میں پیدا کرنا چاہئے۔ ایسا کرنے کیلئے بہتیرے والدین اپنے بچوں کو بچپن ہی سے گھربہگھر کی منادی میں لیجانا شروع کر دیتے ہیں۔ منادی کے کام میں والدین کی باقاعدہ شرکت ان کے بچوں میں منادی کے کام کیلئے قدردانی اور جوش پیدا کرنے میں مدد کریگی۔ والدین انہیں میدانی خدمت کے تمام حلقوں میں گواہی دینا سکھا سکتے ہیں۔
۴ تھیوکریٹک منسٹری سکول میں نام درج کرانے سے بھی بچے کی مدد ہوگی۔ اس سے اُنکی مطالعے کی اچھی عادات اپنانے اور سمجھ کیساتھ پڑھنے میں مدد ہوگی۔ وہ بائبل سے گفتگو کرنا، واپسی ملاقاتیں اور بائبل مطالعہ کرانا سیکھتے ہیں۔ ایسی تربیت انہیں پائنیر بننے اور خاص خدمتی استحقاقات کیلئے آگے بڑھنے کی تحریک دے سکتی ہے۔ بیشتر بیتایل ارکان اور مشنری تھیوکریٹک منسٹری سکول میں اپنے ابتدائی دنوں کو یاد کر کے اسے ایک ایسی فراہمی خیال کرتے ہیں جس نے اچھی عادات پیدا کرنے میں اُنکی بڑی مدد کی تھی۔
۵ ہم عظیم کمہار، یہوواہ کے ہاتھوں میں مٹی کی مانند ہیں۔ (یسع ۶۴:۸) مٹی جتنی تازہ ہو اس کو ڈھالنا اتنا ہی آسان ہوتا ہے۔ وہ جتنی دیر تک پڑی رہتی ہے اُتنی ہی زیادہ خشک اور سخت ہو جاتی ہے۔ انسانوں کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ بچپن میں انہیں ڈھالنا آسان ہوتا ہے، لہٰذا یہ جتنے چھوٹے ہوں اُتنا ہی اچھا ہے۔ بچپن میں ہی انکے اندر اچھے یا بُرے رُجحانات پیدا ہوتے ہیں۔ شفیق ماں یا باپ کے طور پر اپنے بچوں میں مسیحی خدمت کی اچھی عادات پیدا کریں۔