خوشی سے کام کرنے والے بنیں
۱ یسوع نے بیان کِیا کہ نوح کے زمانے کی طرح بیشتر لوگ اسکی موجودگی کے دوران بھی ’کوئی توجہ نہ دینگے۔‘ (متی ۲۴:۳۷-۳۹) لہٰذا، یہ توقع کرنا معقول ہے کہ اس وقت بہتیرے لوگ بادشاہتی خوشخبری پر دھیان نہ دینگے۔ اپنی خدمتگزاری کے دوران پُرمسرت جذبہ برقرار رکھنے کیلئے کونسی چیز ہماری مدد کریگی؟—زبور ۱۰۰:۲۔
۲ اوّل، ہمیں یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا پیغام اور منادی کی تفویض دونوں خدا کی طرف سے ہیں۔ ہماری بہترین کوششوں کے باوجود خدمتگزاری میں جوابیعمل کی کمی درحقیقت یہوواہ کو رد کرنے کے مترادف ہے۔ اگر ہم یہ یاد رکھتے ہیں کہ منادی کے کام میں ہماری وفاداری اُسے پسند آتی ہے تو اس سے خدا کے کلام پر عمل کرنے والوں کے طور پر باطنی خوشی اور اطمینان برقرار رکھنے میں ہماری مدد ہوگی۔—یعقو ۱:۲۵۔
۳ دوم، ابھی تک ایسے لوگ ہیں جو یہوواہ کی نجات کے ذریعے کو قبول کرینگے۔ اگرچہ اکثریت بےحسی کا مظاہرہ کریگی توبھی اس آخری زمانے میں ابھی بھیڑخصلت لوگوں کو جمع کرنا باقی ہے۔ ہمیں ”شہر یا گاؤں میں“ منادی کرتے ہوئے یہ دریافت کرنے کی ضرورت ہے کہ ”اُس میں کون لائق ہے۔“—متی ۱۰:۱۱-۱۳۔
۴ مثبت رُجحان برقرار رکھیں: جھوٹے مذہب کے افسوسناک ریکارڈ نے بہتیرے لوگوں کی آنکھوں پر پڑے ہوئے پردے کو ہٹا دیا ہے۔ بیشتر اس نظاماُلعمل کی وجہ سے ”خستہحال اور پراگندہ“ ہو گئے ہیں۔ (متی ۹:۳۶) ملازمت، اچھی صحت اور تحفظ کی کمی نے بہتیروں کو مایوس کر دیا ہے۔ اس بات کو سمجھنے سے ہمیں اپنا کام جاری رکھنے میں مدد ملیگی۔ اپنے علاقے کے لوگوں کے تشویشناک مسائل پر باتچیت شروع کرنے کی کوشش کریں۔ انکی یہ سمجھنے میں مدد کریں کہ خدا کی بادشاہت ہی واحد حل ہے۔ خوشخبری کو ان کے دل تک پہنچانے کے لئے صحائف اور مطبوعات میں سے خاص نکات استعمال کریں۔—عبر ۴:۱۲۔
۵ خدا کے کلام پر خوشی سے عمل کرنے والے ہمیشہ یاد رکھتے ہیں: ”خداوند [”یہوواہ،“اینڈبلیو] کی شادمانی [اُن کی] پناہگاہ ہے۔“ (نحم ۸:۱۰) اپنی خوشی کو کھو دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ”اگر وہ گھر لائق ہو تو تمہارا سلام اُسے پہنچے اور اگر لائق نہ ہو تو تمہارا سلام تم پر پھر آئے۔“ (متی ۱۰:۱۳) اگر ہم یہوواہ کی پاک خدمت میں صبروبرداشت کا مظاہرہ کرتے ہیں تو وہ ہماری خوشی اور طاقت کو دوبالا کرنے کے علاوہ ہماری وفاداری کا اجر بھی دیتا ہے۔