ہر وقت یہوواہ کا خوف مانیں
۱ ”خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کا خوف دانائی کا شروع ہے۔“ (زبور ۱۱۱:۱۰) یہ ہمیں نیک کام کرنے کی تحریک دینے کے علاوہ بُرے کاموں سے بچنے کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ (امثا ۱۶:۶) اس خوف کا مطلب اپنے خالق کیلئے گہرا احترام دکھانا ہے جو ہمیں اسے ناخوش کرنے یا اس کی نافرمانی کرنے سے روکتا ہے۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جسے ہمیں ہر وقت فروغ دینے اور ظاہر کرنے کی ضرورت ہے۔—امثا ۸:۱۳۔
۲ شیطانی دُنیا کی روح ہم پر ہر وقت شدید دباؤ ڈالتی ہے تاکہ ہم اُسکی بُری راہوں پر چلنے لگیں۔ (افس ۶:۱۱، ۱۲) ہمارا ناکامل جسم گنہگار ہے اور فطرتاً یہ بُرائی کی طرف مائل رہتا ہے۔ (گل ۵:۱۷) لہٰذا، یہوواہ کے احکام کی فرمانبرداری کرنے، خوش رہنے اور زندگی حاصل کرنے کے لئے ہمیں ہر وقت اسکا خوف رہنا چاہئے۔—است۱۰:۱۲ ،۱۳۔
۳ عبرانیوں ۱۰:۲۵،۲۴ میں ہمیں ایک دوسرے کی حوصلہافزائی کرنے، باہم جمع ہونے اور اپنے زمانے میں ’اور زیادہ ایسا کرنے‘ کی بالخصوص نصیحت کی گئی ہے۔ اگر ہم ان آخری ایّام میں سے زندہ بچ نکلنا چاہتے ہیں تو اجلاسوں پر باقاعدہ حاضری اشد ضروری ہے۔ خدا کو ناراض نہ کرنے کا خوف ہمیں اجلاسوں پر حاضر ہونے اور ان کے مقصد کی اَور زیادہ قدر کرنے کی تحریک دیتا ہے۔ خدائی خوف رکھنے والے مسیحی اجلاسوں پر شرکت کو ایک پاک شرف خیال کرتے ہیں۔
۴ بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کے حکم کی تعمیل خدائی خوف ظاہر کرنے کا ایک اَور طریقہ ہے۔ (متی ۲۸:۲۰،۱۹؛ اعما ۱۰:۴۲) ہمارے منادی کے کام کا بنیادی مقصد دوسروں کو یہوواہ کا خوف ماننے اور اسکی مرضی بجا لانے میں مدد دینا ہے۔ ہم اسکی تکمیل کیلئے واپسی ملاقاتیں کرتے اور اس کوشش کو جاری رکھتے ہیں تاکہ گھریلو بائبل مطالعے شروع کرائیں اور اسکے ساتھ ساتھ دوسروں کو خدا کے احکام کی تعلیم دے سکیں۔ اس طرح ہم یہوواہ کیلئے خوف اور پڑوسی کیلئے اپنی محبت ظاہر کرتے ہیں۔—متی ۲۲:۳۷-۳۹۔
۵ جو لوگ خدائی خوف نہیں رکھتے وہ روحانی چیزوں کے لئے قدردانی کا رُجحان پیدا کرنے میں ناکام رہتے ہیں اور یوں وہ دُنیا کی مُہلک ہوا یا اپنے ذہنی میلان کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔ (افس ۲:۲) خدا کرے کہ ہم عزمِمُصمم کیساتھ ”خدا کی عبادت خداترسی اور خوف کے ساتھ کریں۔“ (عبر۱۲:۲۸) پس ہم بھی یہوواہ کا خوف ماننے والے لوگوں کی طرح برکات حاصل کرینگے۔