”کیا مجھے نقلمکانی کرنی چاہئے؟“
۱ یسوع کے حکم ”جا کر سب قوموں کو شاگرد بناؤ“ کے جواب میں یہوواہ کے بہتیرے مخصوصشُدہ خادموں نے زیادہ ضرورت والے علاقوں میں نقلمکانی کی ہے۔ (متی ۲۸:۱۹) وہ پولس کی تقلید کر رہے ہیں جس نے اِس دعوت کیلئے جوابیعمل دکھایا تھا: ”پار اُتر کر مکدنیہ میں آ اور ہماری مدد کر۔“ (اعما ۱۶:۹) یہ کام ایک عملی طریقے سے کیسے انجام دیا جا سکتا ہے؟
۲ ایک وقت میں ایک قدم اُٹھائیں: پاکستان میں پبلشروں کی تعداد محدود ہونے کی وجہ سے، تمام کلیسیاؤں کے پاس ایسے علاقے ہیں جہاں شاذونادر ہی کام کِیا جاتا ہے۔ کسی اَور جگہ جانے کا فیصلہ کرنے سے پہلے، آپ اِن علاقوں میں کام کرنے پر اپنی کوششیں مرکوز کر سکتے ہیں۔ بعض کلیسیائیں کچھ مخصوص اشخاص کے لئے ایک علاقے یا اُس کے مخصوص حصے میں کئی بار کام کرنے کا بندوبست کرتی ہیں۔ یہ کوشش، وقت اور پیسے کی بچت پر منتج ہوتی ہے۔ وہ کیسے؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ گھر پر نہ ملنے والے اشخاص، واپسی ملاقاتیں اور بائبل مطالعے مختلف علاقوں کی بجائے ایک مخصوص علاقے میں ہونگے جہاں پہنچنے کے لئے لمبا سفر طے کرنا نہیں پڑے گا۔ اِس سے ہمارے پیغام میں دلچسپی ظاہر کرنے والے تمام لوگوں سے ملاقات کرنے کی مزید تحریک ملتی ہے۔ اپنی کلیسیا کے خدمتی نگہبان سے کسی ذاتی علاقے کے لئے کیوں نہ درخواست کی جائے؟ اِس کے بعد اپنے ”کھیت“ [علاقے] میں رہنے والے تمام لوگوں سے واقفیت پیدا کرنے کی مستعد اور منظم کوشش کریں۔—متی ۱۳:۳۸۔
۳ نقلمکانی کرنے کی بابت محتاط رہیں: ہمارے بھائیوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد معیارِزندگی بہتر بنانے یا ظلمواستبداد سے نجات حاصل کرنے کے لئے دوسرے ممالک میں جا رہی ہے۔ اس دوران، بعض بھائی ایسے بددیانت اشخاص کے پھندے میں پھنس گئے ہیں جو ایک نئے ملک میں آباد ہونے میں اُن کی مدد کرنے کا وعدہ تو کرتے ہیں مگر وہ صرف اُن کے روپےپیسے حاصل کرکے اُنہیں چھوڑ دیتے ہیں۔ بعضاوقات ایسے اشخاص پناہگزینوں کو بداخلاقی کرنے پر بھی مجبور کرتے ہیں۔ انکار کرنے پر اُنہیں اُس ملک کے رحموکرم پر چھوڑ دیاجاتا ہے جس میں وہ داخل ہوئے ہیں۔ لہٰذا، اِن تارکینوطن کی حالت اپنے وطن سے بھی زیادہ بدتر ہو جاتی ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ سکتی ہے کہ اُنہیں بھائیوں سے رہائش یا پھر کسی اَور سلسلے میں مدد کیلئے درخواست کرنی پڑتی ہے اور یوں دوسرے مسیحی خاندانوں پر بوجھ بننا پڑتا ہے جو پہلے ہی اپنے مسائل اور مشکلات سے نبردآزما ہیں۔ اِس غیردانشمندانہ نقلمکانی کی وجہ سے بعض گھرانوں کے افراد جسمانی طور پر ایک دوسرے سے جدا ہو گئے ہیں اور خاندان روحانی طور پر کمزور پڑ گئے ہیں۔—۱-تیم ۶:۸-۱۱۔
۴ اگر آپ ذاتی فائدے کیلئے نقلمکانی کرنا چاہتے ہیں تو یاد رکھیں کہ آپ خواہ کہیں بھی رہیں آپکو مشکلات کا مقابلہ کرنا ہی پڑے گا۔ ایک غیرمانوس ماحول کی بجائے ایک ایسی جگہ مسائل پر قابو پانا زیادہ آسان ہوتا ہے جسکی ثقافت اور زبان سے آپ پہلے ہی سے واقف ہوتے ہیں۔