یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • خدم 2/‏00 ص.‏ 3-‏6
  • پورے اعتقاد کیساتھ خوشخبری کی مُنادی کرنا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • پورے اعتقاد کیساتھ خوشخبری کی مُنادی کرنا
  • ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۲۰۰۰
  • ملتا جلتا مواد
  • کامل ہوکر پورے اعتقاد کیساتھ قائم رہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
  • پورا یقین رکھیں کہ جن باتوں پر آپ ایمان لائے ہیں، وہ سچی ہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2020ء
  • سیلاس حوصلہ افزائی کا ذریعہ
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • پورے یقین کے ساتھ سچائی کو تھامے رہیں!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2021ء
مزید
ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۲۰۰۰
خدم 2/‏00 ص.‏ 3-‏6

پورے اعتقاد کیساتھ خوشخبری کی مُنادی کرنا

۱ پہلی صدی کے اوائل میں، یسوع مسیح نے اپنے پیروکاروں کو بادشاہی کی خوشخبری کی مُنادی کرنے اور ”‏سب قوموں کو شاگرد“‏ بنانے کا حکم دیا۔ (‏متی ۲۴:‏۱۴؛‏ ۲۸:‏۱۹، ۲۰‏)‏ یہوواہ کے گواہوں نے اُسکی ہدایات پر سنجیدگی سے عمل کِیا ہے اور یوں ۲۰ویں صدی کے آخر تک ہماری مسیحی برادری اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ ۲۳۴ ممالک میں ۵۹،۰۰،۰۰۰ سے زائد شاگرد ہو گئے ہیں۔ یہ ہمارے آسمانی باپ کیلئے کیسی حمدوستائش کا باعث ہے!‏

۲ اب ہم ۲۱ویں صدی میں داخل ہو گئے ہیں۔ ہمارا مخالف اِبلیس عیاری کیساتھ بادشاہتی مُنادی اور شاگرد بنانے کے ہمارے ضروری کام میں مداخلت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہماری توجہ کو ہٹانے، ہمارے وقت کو ہڑپ کر جانے اور ہماری توانائیوں کو غیرضروری تفکرات اور دلچسپیوں میں ضائع کر دینے کی غرض سے وہ اس نظام‌اُلعمل کے دباؤ استعمال کرتا ہے۔ اس نظام‌اُلعمل کو اپنی زندگی میں ترجیحات کا تعیّن کرنے کی اجازت دینے کی بجائے ہم خود خدا کے کلام سے یہ سمجھتے ہیں کہ یہوواہ کی مرضی بجا لانا اوّلین مقام کا حامل ہے۔ (‏روم ۱۲:‏۲‏)‏ اس کا مطلب ’‏وقت اور بے‌وقت کلام کی مُنادی کرنا اور اپنی خدمتگزاری کو پورا کرنے‘‏ کی صحیفائی نصیحت پر عمل کرنا ہے۔—‏۲-‏تیم ۴:‏۲،‏ ۵‏۔‏

۳ مضبوط اعتقاد پیدا کریں:‏ مسیحیوں کو ”‏کامل ہو کر پورے اعتقاد کے ساتھ خدا کی پوری مرضی پر قائم“‏ رہنے کی ضرورت ہے۔ (‏کل ۴:‏۱۲‏)‏ لفظ ”‏اعتقاد“‏ کا مطلب ”‏پُختہ ایمان یا عقیدہ؛ معتقد ہو جانے کی حالت“‏ ہے۔ مسیحیوں کے طور پر ہمیں اس بات کا معتقد ہونا چاہئے کہ خدا کا نبوّتی کلام سچا ہے اور یہ کہ اب ہم خاتمے کے وقت میں بہت آگے نکل آئے ہیں۔ ہمیں پولس رسول جیسا مضبوط ایمان رکھنا چاہئے جس نے کہا تھا کہ خوشخبری ”‏ہر ایک ایمان لانے والے کے واسطے .‏ .‏ .‏ نجات کے لئے خدا کی قدرت ہے۔“‏—‏روم ۱:‏۱۶‏۔‏

۴ اِبلیس بدکار اور دھوکے‌باز آدمیوں کو استعمال کرتا ہے جو خود گمراہ ہو گئے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ (‏۲-‏تیم ۳:‏۱۳‏)‏ اس کی بابت پہلے سے آگاہ ہونے کی وجہ سے ہم اپنے اعتقاد کو مضبوط کرنے کیلئے ضروری اقدام اُٹھاتے ہیں کہ ہمارے پاس سچائی ہے۔ اپنی گرمجوشی کو زندگی کی فکروں کے ہاتھوں ماند پڑنے کی اجازت دینے کی بجائے ہم بادشاہتی مفادات کو پہلا درجہ دیتے ہیں۔ (‏متی ۶:‏۳۳، ۳۴‏)‏ ہم اِس احساس کیساتھ کہ اس نظام‌اُلعمل کا خاتمہ ابھی دُور ہے ان ایّام کی نزاکت کو بھولنا نہیں چاہتے۔ یہ بہت قریب آ رہا ہے۔ (‏۱-‏پطر ۴:‏۷‏)‏ پہلے ہی جتنی گواہی دی جا چکی ہے اُسکے پیشِ‌نظر، شاید ہم یہ محسوس کریں کہ بعض ممالک میں خوشخبری پیش کئے جانے کا بہت کم اثر ہؤا ہے، تاہم آگاہی کے کام کو جاری رہنا چاہئے۔—‏حز ۳۳:‏۷-‏۹۔‏

۵ اِن آخری ایّام میں بنیادی سوالات یہ ہیں:‏ ’‏کیا مَیں شاگرد بنانے کے یسوع کے حکم کو سنجیدگی سے لیتا ہوں؟ جب مَیں خوشخبری کی مُنادی کرتا ہوں تو کیا مَیں پورا اعتقاد ظاہر کرتا ہوں کہ بادشاہت حقیقی ہے؟ کیا مَیں زندگی بچانے کی اس خدمتگزاری میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کا عزم رکھتا ہوں؟‘‏ یہ جانتے ہوئے کہ ہم خاتمے کے اس دَور میں کتنا آگے نکل آئے ہیں ہمیں اپنے مُنادی اور تعلیم دینے کے کام پر دھیان دینا چاہئے کیونکہ ایسا کرنا ہماری اپنی اور ہمارے سننے والوں کی بھی نجات کا باعث ہوگا۔ (‏۱-‏تیم ۴:‏۱۶‏)‏ ہم سب بطور خادموں کے اپنے اعتقاد کو کیسے مضبوط کر سکتے ہیں؟‏

۶ تھسلینکیوں کی نقل کریں:‏ پولس رسول نے تھسلنیکے کے بھائیوں کی سخت محنت کو یاد کرتے ہوئے اُن سے کہا:‏ ”‏ہماری خوشخبری تمہارے پاس نہ فقط لفظی طور پر پہنچی بلکہ قدرت اور روح‌القدس اور پورے اعتقاد کے ساتھ بھی چنانچہ تم جانتے ہو کہ ہم تمہاری خاطر تم میں کیسے بن گئے تھے۔ اور تم کلام کو بڑی مصیبت میں روح‌القدس کی خوشی کے ساتھ قبول کرکے ہماری اور خداوند کی مانند بنے۔“‏ (‏۱-‏تھس ۱:‏۵، ۶‏)‏ مزیدبرآں، پولس نے تھسلنیکے کی کلیسیا کی تعریف کی کیونکہ بہت زیادہ مشکلات کے باوجود اُنہوں نے گرمجوشی اور پورے اعتقاد کیساتھ مُنادی کی تھی۔ اُنہیں کس چیز نے ایسا کرنے کے قابل بنایا تھا؟ بڑی حد تک، پولس رسول اور اُس کے ساتھیوں کی گرمجوشی اور اعتقاد نے اُن پر مثبت اثر ڈالا تھا۔ وہ کیسے؟‏

۷ پولس اور اُس کے سفری ساتھیوں کی زندگیاں اس بات کا مُنہ بولتا ثبوت تھیں کہ خدا کی رُوح اُن کیساتھ تھی نیز وہ اپنی مُنادی پر پورے دل سے ایمان بھی رکھتے تھے۔ تھسلنیکے میں آنے سے پہلے، پولس اور سیلاس کیساتھ فلپی میں بہت بُرا سلوک کِیا گیا تھا۔ کوئی مقدمہ چلائے بغیر، اُنہیں مارا پیٹا گیا، قید کر دیا گیا اور اُن کے پاؤں کاٹھ میں ٹھونک دئے گئے تھے۔ تاہم، اس صبرآزما تجربے سے خوشخبری کیلئے اُن کا جذبہ ماند نہیں پڑا تھا۔ الہٰی مداخلت اُنکی رہائی، داروغہ اور اُسکے خاندان کے تبدیلئ‌مذہب اور ان بھائیوں کے لئے اپنی خدمتگزاری کو جاری رکھنے کا باعث بنی۔—‏اعما ۱۶:‏۱۹-‏۳۴‏۔‏

۸ خدا کی رُوح کی مدد سے، پولس اور سیلاس تھسلنیکے پہنچے۔ وہاں پولس نے اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے سخت جانفشانی کی اور یوں خود کو پوری طرح سے تھسلنیکیوں کو سچائی سکھانے کیلئے وقف کر دیا۔ اُس نے ہر موقع پر خوشخبری سنانے کے لئے دلیری دکھائی۔ (‏۱-‏تھس ۲:‏۹‏)‏ پورے اعتقاد کیساتھ پولس کی مُنادی نے مقامی لوگوں پر اتنا اثر کِیا کہ اُنہوں نے اپنی پُرانی بُت‌پرستانہ پرستش کو ترک کر دیا اور سچے خدا یہوواہ کے پرستار بن گئے۔—‏۱-‏تھس ۱:‏۸-‏۱۰‏۔‏

۹ اذیت بھی ایمان لانے والوں کو خوشخبری کے مطابق چلنے سے باز نہ رکھ سکی۔ اپنے نئے ایمان سے تحریک پا کر اس بات پر پورا اعتقاد رکھتے ہوئے کہ اُنہیں دائمی برکات حاصل ہونگی، تھسلنیکیوں نے جس سچائی کو قبول کِیا تھا اُسکا اعلان کرنے کی بھی ترغیب پائی۔ وہ کلیسیا اسقدر سرگرم تھی کہ اُنکے ایمان اور جذبے کی خبر مکدنیہ اور اخیہ تک بھی پہنچ گئی۔ پس جب پولس نے تھسلنیکیوں کو اپنا پہلا خط لکھا تو اُنکے نیک کاموں کا پہلے ہی بڑا چرچا تھا۔ (‏۱-‏تھس ۱:‏۷‏)‏ کیا ہی شاندار نمونہ!‏

۱۰ خدا اور انسانوں کیلئے محبت سے تحریک پانا:‏ آجکل خوشخبری کی مُنادی کرتے وقت ہم بھی تھسلنیکیوں کی طرح مضبوط ذاتی اعتقاد کیسے قائم رکھ سکتے ہیں؟ پولس نے لکھا:‏ ”‏[‏ہم]‏ تمہارے ایمان کے کام اور محبت کی محنت .‏ .‏ .‏ کو بِلاناغہ یاد کرتے ہیں۔“‏ (‏۱-‏تھس ۱:‏۳‏)‏ بدیہی طور پر وہ یہوواہ خدا اور اُن لوگوں کیلئے گہری اور حقیقی محبت رکھتے تھے جن میں وہ مُنادی کرتے تھے۔ یہی وہ محبت تھی جس نے پولس اور اُس کے ساتھیوں کو تھسلنیکیوں کیلئے ”‏نہ فقط خدا کی خوشخبری بلکہ اپنی جان تک بھی .‏ .‏ .‏ دے دینے“‏ کی تحریک دی تھی۔—‏۱-‏تھس ۲:‏۸‏۔‏

۱۱ اسی طرح، یہوواہ اور ساتھی انسانوں کیلئے ہماری گہری محبت ہمیں مُنادی کے کام میں جو خدا نے ہمیں سونپا ہے بھرپور شرکت کرنے کی تحریک دیتی ہے۔ ایسی محبت کیساتھ، ہم سمجھتے ہیں کہ خوشخبری کی منادی کرنا ہماری ذاتی ذمہ‌داری ہے۔ یہوواہ نے ”‏حقیقی زندگی“‏ کی طرف ہماری راہنمائی کرنے کیلئے جو کچھ کِیا ہے جب ہم اُس پر مثبت انداز اور قدرافزائی کیساتھ غوروخوض کرتے ہیں تو ہمیں یہ تحریک ملتی ہے کہ دوسرے لوگوں کو بھی اُن شاندار سچائیوں کی بابت بتائیں جنہیں ہم دل سے مانتے ہیں۔—‏۱-‏تیم ۶:‏۱۹‏۔‏

۱۲ جب ہم مُنادی کرنے کے کام میں مشغول رہتے ہیں تو یہوواہ اور لوگوں کیلئے ہماری محبت کو روزبروز بڑھنا چاہئے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ہمیں گھربہ‌گھر خدمتگزاری میں اپنی شمولیت کو مزید بڑھانے اور اپنے لئے دستیاب گواہی کے دیگر طریقوں کو تلاش کرنے کی ترغیب ملے گی۔ ہم رشتے‌داروں، پڑوسیوں اور واقف‌کاروں کو غیررسمی گواہی دینے کے مواقع سے بھی فائدہ اُٹھائینگے۔ لوگوں کی اکثریت اُس خوشخبری کو شاید مسترد کر دے جو ہم پیش کرتے ہیں اور بعض بادشاہتی مُنادی کے کام کو روکنے کی بھی کوشش کرینگے، اس کے باوجود ہم باطنی خوشی کا تجربہ کرتے ہیں۔ کیوں؟ اسلئے کہ ہم جانتے ہیں کہ ہم نے بادشاہت کی بابت گواہی دینے اور لوگوں کو نجات حاصل کرنے میں مدد دینے کیلئے اپنی پوری کوشش کی ہے۔ لہٰذا یہوواہ راستدل اشخاص کو تلاش کرنے میں ہماری کاوشوں کو ضرور برکت دیگا۔ جب زندگی کے دباؤ بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں اور شیطان ہماری خوشی کو چھین لینے کے درپے ہوتا ہے تو پھر بھی ہم اپنے پورے اعتقاد اور گواہی دینے کیلئے اپنی گرمجوشی کو قائم رکھنے کے قابل ہوتے ہیں۔ جب ہم سب اپنا حصہ ادا کرتے ہیں تو یہ تھسلنیکے جیسی مضبوط، سرگرم کلیسیا پر منتج ہوتا ہے۔‏

۱۳ آزمائش کے تحت کبھی ہمت نہ ہاریں:‏ جب ہم مختلف آزمائشوں کا سامنا کرتے ہیں تو اُس وقت بھی اعتقاد کی ضرورت پڑتی ہے۔ (‏۱-‏پطر ۱:‏۶، ۷‏)‏ یسوع نے اپنے شاگردوں پر واضح کر دیا تھا کہ اگر وہ اُس کی پیروی کرینگے تو ”‏ سب قومیں [‏اُن]‏ سے عداوت رکھینگی۔“‏ (‏متی ۲۴:‏۹‏)‏ فلپی میں پولس اور سیلاس کو بھی اسکا تجربہ ہؤا تھا۔ اعمال ۱۶ باب کا بیان بتاتا ہے کہ پولس اور سیلاس کو اندرونی کوٹھری میں قید کر کے اُنکے پاؤں کاٹھ میں ٹھونک دئے گئے تھے۔ عام طور پر، بڑا قیدخانہ ایک صحن یا دالان کی طرح ہوتا تھا جسکے کناروں پر ایسی کوٹھریاں تعمیر کی گئی تھیں جن میں ہوا اور روشنی داخل ہو سکتی تھی۔ تاہم، اندرونی قیدخانہ کے اندر روشنی کا کوئی بندوبست نہیں تھا جبکہ ہوا بھی نہ ہونے کے برابر تھی۔ پولس اور سیلاس کو اس نہایت گھٹیا قیدخانے کی تاریکی، گرمی اور بدبُو برداشت کرنا پڑی تھی۔ کیا آپ اُس درد کا تصور کر سکتے ہیں جو اُنہیں کمر پر کوڑھوں کے زخموں اور بینت لگنے سے نکلنے والے خون اور گھنٹوں تک کاٹھ میں پاؤں ٹھونکے رہنے کی وجہ سے ہو رہا ہوگا؟‏

۱۴ ان تمام مشکلات کے باوجود، پولس اور سیلاس وفادار رہے۔ اُنہوں نے دلی اعتقاد کا مظاہرہ کِیا جو اُنہیں آزمائش سے قطع‌نظر یہوواہ کی خدمت کرنے کی تقویت دے رہا تھا۔ اُن کے اعتقاد کو ۱۶ باب کی ۲۵ آیت میں نمایاں کِیا گیا ہے جو بیان کرتی ہے کہ پولس اور سیلاس ”‏دُعا کر رہے اور خدا کی حمد کے گیت گا رہے تھے۔“‏ تاہم، اندرونی قیدخانہ کے اندر ہونے کے باوجود اُن کے دل اسقدر اعتقاد سے معمور تھے کہ وہ زوردار طریقے سے گیت گا رہے تھے جنہیں دوسرے بھی سُن سکتے تھے!‏ ہمیں بھی آجکل آزمائشوں کا سامنا کرتے وقت اسی طرح کا اعتقاد رکھنا چاہئے۔‏

۱۵ تاہم، ابلیس ہم پر طرح طرح کی آزمائشیں لاتا ہے۔ بعض کیلئے یہ خاندان کی طرف سے اذیت ہو سکتی ہے۔ ہمارے کئی بھائیوں کو قانونی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ برگشتہ لوگوں کی طرف سے مخالفت کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ مالی مشکلات اور گزربسر کرنے کی پریشانی بھی لاحق ہو سکتی ہے۔ نوجوانوں کو سکول میں ساتھیوں کی طرف سے دباؤ کا سامنا ہوتا ہے۔ ہم اِن آزمائشوں کا کامیابی کیساتھ کیسے مقابلہ کر سکتے ہیں؟ مکمل اعتقاد ظاہر کرنے کیلئے کس چیز کی ضرورت ہے؟‏

۱۶ سب سے پہلے تو ہمیں یہوواہ کیساتھ قریبی رشتہ قائم رکھنے کی ضرورت ہے۔ جب پولس اور سیلاس اندرونی قیدخانہ میں تھے تو اُنہوں نے اس وقت کو اپنی حالت پر افسوس یا شکایت کرنے کیلئے استعمال نہیں کِیا تھا۔ اُنہوں نے فوراً خدا سے دُعا کی اور اُس کے حضور حمد کے گیت گائے۔ کیوں؟ اسلئے کہ وہ اپنے آسمانی باپ کیساتھ قریبی رشتہ رکھتے تھے۔ وہ جان گئے تھے کہ وہ راستبازی کی خاطر دُکھ اُٹھا رہے تھے اور یہ کہ اُنکی رہائی فقط یہوواہ ہی کے ہاتھوں میں تھی۔—‏زبور ۳:‏۸‏۔‏

۱۷ آج جب ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ہمیں بھی اُسی پر آس لگانی چاہئے۔ مسیحیوں کے طور پر پولس ہماری حوصلہ‌افزائی کرتا ہے کہ ’‏ہماری درخواستیں خدا کے سامنے پیش کی جانی چاہئیں تو خدا کا اطمینان جو سمجھ سے بالکل باہر ہے ہمارے دلوں اور خیالوں کو محفوظ رکھے گا۔‘‏ (‏فل ۴:‏۶، ۷‏)‏ یہ جاننا کسقدر اطمینان‌بخش ہے کہ یہوواہ ہمیں ان آزمائشوں میں تنہا نہیں چھوڑیگا۔ (‏یسع ۴۱:‏۱۰‏)‏ جب تک ہم حقیقی اعتقاد کیساتھ اُسکی خدمت کرتے ہیں تو وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ ہے۔—‏زبور ۴۶:‏۷‏۔‏

۱۸ اعتقاد ظاہر کرنے میں ایک اَور اہم مدد یہوواہ کی خدمت میں مشغول رہنا ہے۔ (‏۱-‏کر ۱۵:‏۵۸‏)‏ پولس اور سیلاس کو خوشخبری کی منادی کرنے کی وجہ سے قید میں ڈالا گیا تھا۔ کیا اُنہوں نے اِن آزمائشوں کی وجہ سے مُنادی کرنا چھوڑ دی؟ ہرگز نہیں، وہ قیدخانے میں بھی مُنادی کرتے رہے اور رہائی پانے کے بعد وہ تھسلنیکے چلے گئے اور یہودیوں کے عبادتخانے میں جا کر ’‏صحائف میں سے اُنکے سامنے دلیلیں پیش کیں۔‘‏ (‏اعما ۱۷:‏۱-‏۳‏)‏ جب ہم یہوواہ پر پورا ایمان اور یقین رکھتے ہیں اور اس بات کے معتقد ہو جاتے ہیں کہ ہمارے پاس سچائی ہے تو کوئی بھی چیز ہمیں ”‏خدا کی جو محبت ہمارے خداوند مسیح یسوؔع میں ہے اُس سے .‏ .‏ .‏ جدا [‏نہیں]‏ کر سکے گی۔“‏—‏روم ۸:‏۳۵-‏۳۹‏۔‏

۱۹ مضبوط اعتقاد کی جدید مثالیں:‏ ہمارے زمانہ میں بھی پولس اور سیلاس کی طرح مضبوط اعتقاد کا مظاہرہ کرنے والے بہتیرے لوگوں کی مثالیں موجود ہیں۔ آوشوتز کے مرکزِاسیران سے رہائی پانے والی ایک بہن وہاں پر موجود بھائی بہنوں کی طرف سے دکھائے جانے والے غیرمتزلزل ایمان اور اعتقاد کی بابت بیان کرتی ہے۔ وہ کہتی ہے:‏ ”‏ایک مرتبہ تفتیش کے دوران، ایک افسر زور سے گھونسا تان کر میری طرف بڑھا۔ پھر چلّا کر بولا ’‏مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہم تم لوگوں کیساتھ کیا کریں؟ اگر تمہیں گرفتار کرتے ہیں تو تمہیں پرواہ نہیں۔ تمہیں قید کرنے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر تمہیں مرکزِاسیران میں بھیجتے ہیں تو تمہیں کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ جب ہم تمہیں موت کی سزا دیتے ہیں تو تم پھر بھی بے‌فکر کھڑے رہتے ہو۔ ہم تمہارے ساتھ کیا کریں؟‘‏“‏ ایسے کٹھن حالات کے تحت اپنے بھائیوں کے ایمان کو دیکھنا کتنا تقویت‌بخش ہے!‏ وہ برداشت حاصل کرنے کیلئے ہمیشہ یہوواہ کی مدد پر بھروسہ کرتے ہیں۔‏

۲۰ یقیناً حالیہ برسوں میں نسلیاتی نفرت کے سلسلے میں ہمیں اپنے کئی بھائیوں کا ایمان یاد آتا ہے۔ پُرخطر حالات سے دوچار ہونے کے باوجود، ذمہ‌دار بھائی اس بات کا بخوبی خیال رکھتے ہیں کہ اُن کے بھائی بہنوں کو روحانی خوراک ملتی رہے۔ سب کے سب اس پورے اعتقاد کیساتھ وفادار رہتے ہیں کہ ’‏اُنکے خلاف بنایا جانے والا کوئی ہتھیار کام نہ آئیگا۔‘‏—‏یسع ۵۴:‏۱۷‏۔‏

۲۱ ہمارے بہت سے بہن بھائی بے‌ایمان بیاہتا ساتھیوں کے باوجود مضبوط ایمان اور برداشت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ گوادےلوپ کے ایک بھائی کو اپنی بے‌ایمان بیوی کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اُسے مسیحی اجلاسوں پر جانے سے بے‌حوصلہ کرنے کیلئے وہ نہ تو اُس کیلئے کھانا تیار کرتی، نہ اُسکے کپڑے دھوتی اور نہ ہی اُسکے کپڑے استری کرتی تھی۔ کئی کئی دن وہ اُس سے بات نہیں کرتی تھی۔ مگر یہوواہ کی خدمت کرنے کیلئے دلی خواہش کا مظاہرہ کرنے اور دُعا کے ذریعے یہوواہ کی مدد کے طالب ہونے سے وہ بھائی یہ سب کچھ برداشت کرنے کے قابل ہؤا تھا۔ کتنے عرصے تک؟ تقریباً ۲۰ برس تک—‏جس کے بعد بتدریج اُسکی بیوی میں تبدیلی آ گئی تھی۔ انجام‌کار، وہ خوش ہو سکتا تھا کیونکہ اُسکی بیوی نے بادشاہتی اُمید کو قبول کر لیا تھا۔‏

۲۲ آخر میں، ہمیں ہر روز سکول جانے والے اپنے نوجوان بھائی بہنوں کے مضبوط اعتقاد کو بھی نہیں بھولنا چاہئے جو دوستوں کے دباؤ اور دیگر چیلنجوں کا سامنا کرتے ہیں۔ سکول میں جس دباؤ کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے اُسکی بابت ایک نوعمر گواہ لڑکی نے بیان کِیا:‏ ”‏جب آپ سکول میں ہوتے ہیں تو ہر کوئی آپکی تھوڑا بہت باغی ہونے کیلئے حوصلہ‌افزائی کریگا۔ بچے اُس صورت میں آپکو پسند کرتے ہیں اگر آپ کوئی باغیانہ روش اختیار کرتے ہیں۔“‏ ہمارے نوجوانوں کو کیسے کیسے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے!‏ اُنہیں آزمائش کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنے دل‌ودماغ سے مضبوط عزم کرنا چاہئے!‏

۲۳ ہمارے بہت سے نوجوان مشکلات کے باوجود، اپنی راستی پر قائم رہنے کیلئے کافی محنت کر رہے ہیں۔ ایک مثال فرانس میں رہنے والی جوان بہن کی ہے۔ ایک دن کھانے کے بعد، چند لڑکوں نے زبردستی اُسے بوسہ لینے پر مجبور کِیا، مگر اُس نے دُعا کی اور سختی سے مزاحمت کی اور یوں لڑکے اُسے چھوڑ کر چلے گئے۔ بعدازاں، اُن میں سے ایک واپس آیا اور کہا کہ وہ اُس کے حوصلے کی داد دیتا ہے۔ وہ اُسے بادشاہت کی بابت اچھی گواہی دینے کے قابل ہوئی اور یہ بھی بیان کِیا کہ یہوواہ اُن سب سے ایسے ہی بلند اخلاقی معیاروں کا تقاضا کرتا ہے جو اس سے برکات کے خواہاں ہیں۔ سکول کے سالوں کے دوران، اُس نے پوری جماعت کو اپنے اعتقادات کی بابت بتایا۔‏

۲۴ ہمارے پاس کتنا بڑا شرف ہے کہ ہمارا شمار اُن لوگوں میں ہو سکتا ہے جنہیں یہوواہ پورے اعتقاد کیساتھ اپنی مرضی بیان کرنے کیلئے استعمال کرتا ہے۔ (‏کل ۴:‏۱۲‏)‏ مزیدبرآں، ہمیں شیرببر جیسے مخالف، شیطان ابلیس کے حملے کے تحت اپنی راستی ثابت کرنے کا شاندار موقع حاصل ہے۔ (‏۱-‏پطر ۵:‏۸، ۹‏)‏ کبھی نہ بھولیں کہ یہوواہ بادشاہتی پیغام کو ہم مُنادی کرنے والوں اور ہمارے سننے والوں دونوں کی نجات کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ دُعا ہے کہ ہمارے فیصلے اور ہمارا روزمرّہ کا طرزِزندگی یہ ثابت کرے کہ ہم بادشاہی کو مقدم رکھتے ہیں۔ پس آئیے پورے اعتقاد کیساتھ خوشخبری کی مُنادی کرتے رہیں!‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں