اُس کام میں شریک ہوں جو کبھی دہرایا نہیں جائیگا
۱ انسانی تاریخ کے دوران مختلف اوقات پر، یہوواہ کیلئے اپنے دشمنوں کو سزا دینا ضروری ہو گیا تھا۔ تاہم، اپنے رحم کی بدولت، اُس نے راستدل لوگوں کو نجات کا موقع فراہم کِیا۔ (زبور ۱۰۳:۱۳) اُنکے ردِعمل نے اُنکے انجام کا تعیّن کِیا۔
۲ مثال کے طور پر، ۲۳۷۰ ق.س.ع. میں، طوفان سے پہلے، نوح ”راستبازی کا مُناد“ تھا۔ ہلاک ہونے والے لوگ وہ تھے جنہوں نے الہٰی آگاہی کو نظرانداز کر دیا تھا۔ (۲-پطرس ۲:۵؛ عبرانیوں ۱۱:۷) ۷۰ س.ع. میں یروشلیم کی بربادی سے پہلے، یسوع نے اُس کارروائی کو واضح طور پر بیان کر دیا تھا جو کسی بھی شخص کیلئے اُس شہر پر آنے والی بربادی سے بچنے کی خاطر کرنا ضروری ہوگی۔ جن لوگوں نے اُس کے انتباہی پیغام کو رد کِیا اُنہیں خوفناک نتائج کا سامنا ہوا۔ (لوقا ۲۱:۲۰-۲۴) ایسی الہٰی آگاہیوں اور عدالتی فیصلوں کو تاریخ میں بارہا دہرایا گیا۔
۳ زمانۂجدید کا انتباہی کام: یہوواہ نے کافی عرصہ پہلے بتا دیا تھا کہ اُس کا غضب آجکل کے شریر نظاماُلعمل کے خلاف بھڑکے گا اور یہ کہ صرف حلیم لوگ ہی بچیں گے۔ (صفنیاہ ۲:۲، ۳؛ ۳:۸) اس انتباہی پیغام کی مُنادی کرنے کا وقت بڑی تیزی سے ختم ہو رہا ہے! ”بڑی مصیبت“ بالکل قریب ہے اور حلیم لوگوں کو اب جمع کِیا جا رہا ہے۔ بِلاشُبہ، ”کھیتوں“ کی ”فصل پک گئی“ ہے۔ لہٰذا، فوری ضرورت اور اہمیت کے لحاظ سے کوئی بھی دوسرا کام اس کام کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔—متی ۲۴:۱۴، ۲۱، ۲۲؛ یوحنا ۴:۳۵۔
۴ ہمیں زمانۂجدید کی آگاہی دوسرے لوگوں کو سنانے میں حصہ لینا چاہئے، ”خواہ وہ سنیں یا نہ سنیں۔“ یہ ایک خداداد تفویض ہے جس سے ہمیں غفلت نہیں برتنی چاہئے۔ (حزقیایل ۲:۴، ۵؛ ۳:۱۷، ۱۸) ہمارا اس کام میں بھرپور شرکت کرنا خدا کے لئے ہماری گہری محبت، اپنے پڑوسیوں کے لئے ہماری حقیقی فکرمندی اور اپنے مُنجی یسوع مسیح پر ہمارے غیرمتزلزل ایمان کا یقینی ثبوت فراہم کرتا ہے۔
۵ اب کام کرنے کا وقت ہے: ماضی میں یہوواہ کے عدالتی فیصلوں کے بعد، بدکاری نے ہمیشہ دوبارہ سر اُٹھایا کیونکہ شیطان اور اُس کے شیاطین اُس وقت تک سرگرمِعمل تھے۔ تاہم، اس مرتبہ، حالت مختلف ہوگی۔ شیطانی اثرورسُوخ ختم کر دیا جائے گا۔ آنے والی ”بڑی مصیبت“ کی بابت عالمگیر آگاہی کی پھر کبھی ضرورت نہیں پڑے گی۔ (مکاشفہ ۷:۱۴؛ رومیوں ۱۶:۲۰) ہمیں پھر کبھی دہرائے نہ جانے والے کام میں شرکت کرنے کا خاص شرف حاصل ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم اس موقع سے بھرپور فائدہ اُٹھائیں۔
۶ اپنی مُنادی کی کارگزاری کی بابت پولس رسول نے بڑے اعتماد سے بیان کِیا: ”مَیں . . . سب آدمیوں کے خون سے پاک ہوں۔“ (اعمال ۲۰:۲۶) آگاہی سنانے میں کسی بھی طرح کی ناکامی کے باعث اُس نے خود کو خون کا مُجرم محسوس نہیں کِیا تھا۔ کیوں نہیں؟ کیونکہ وہ اپنی خدمتگزاری کی بابت کہہ سکتا تھا: ”اسی لئے مَیں اُسکی اُس قوت کے موافق جانفشانی سے محنت کرتا ہوں۔“ (کلسیوں ۱:۲۹) آئیے جہاں تک ممکن ہو اُس کام میں جو کبھی دہرایا نہیں جائیگا بھرپور شرکت کرنے سے ایسے ہی اطمینان سے لطفاندوز ہوں!—۲-تیمتھیس ۲:۱۵۔