یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • خدم 1/‏97 ص.‏ 5-‏6
  • دوسروں کو تعلیم دینے کیلئے لائق اور لیس

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • دوسروں کو تعلیم دینے کیلئے لائق اور لیس
  • ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۱۹۹۷
  • ملتا جلتا مواد
  • سچے خدا کا علم زندگی کا باعث ہے
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۱۹۹۶
  • خدا کا علم بہت سے سوالوں کا جواب دیتا ہے
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۱۹۹۷
  • ‏”‏ہمیشہ کی زندگی یہ ہے“‏
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۱۹۹۶
  • ہمیشہ کی زندگی کا باعث بننے والے علم کو پھیلانا
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۱۹۹۶
مزید
ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۱۹۹۷
خدم 1/‏97 ص.‏ 5-‏6

دوسروں کو تعلیم دینے کیلئے لائق اور لیس

جب موسیٰ کو یہوواہ کے نمائندے کے طور پر مقرر کِیا گیا تو اُس نے خود کو فرعون کے سامنے خدا کا کلام بیان کرنے کے لائق نہ سمجھا۔ (‏خروج ۴:‏۱۰؛ ۶:‏۱۲)‏ یرمیاہ نے یہوواہ کے نبی کی حیثیت سے خدمت کرنے کے اہل ہونے کی بابت اعتماد کی کمی ظاہر کی اور خدا سے کہا کہ مَیں تو بول نہیں سکتا۔ (‏یرمیاہ ۱:‏۶‏)‏ شروع میں اپنے اعتماد کی کمی کے باوجود، وہ دونوں نبی یہوواہ کے دلیر گواہ ثابت ہوئے۔ خدا نے اُنہیں پوری طرح اس لائق بنایا تھا۔‏

۲ یہوواہ کا شکر ہے کہ آج ہمارے پاس وہ سب چیزیں موجود ہیں جنکی ہمیں اپنی خدمتگزاری کو اعتماد کیساتھ پورا کرنے کیلئے ضرورت ہے۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۳:‏۴، ۵؛‏ ۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۷‏)‏ پورے اوزاروں کیساتھ ایک لائق میکینک کی طرح، ہم اپنی تفویض‌شُدہ خدمتگزاری کو مہارت کیساتھ سرانجام دینے کیلئے موزوں طور پر لیس ہیں۔ جنوری میں ہم ۱۹۲ صفحات کی کوئی بھی ایسی کتاب پیش کر رہے ہیں جو ۱۹۸۴ سے پہلے شائع ہوئی اور جو کلیسیا کے پاس موجود ہے۔ اگرچہ یہ روحانی اوزار نئے تو نہیں لیکن انکے صحیفائی موضوعات ابھی تک تازہ ہیں اور یہ کتابیں سچائی سیکھنے میں لوگوں کی مدد کرینگی۔ جوبھی کتاب پیش کی جا رہی ہے مندرجہ‌ذیل مجوزہ پیشکشوں کو اُسکے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔‏

۳ خدا کے کلام میں دلچسپی پیدا کرنے کے لئے تعلیم کے موضوع کو استعمال کِیا جا سکتا ہے۔ آپ کچھ یوں کہتے ہوئے گفتگو کا آغاز کر سکتے ہیں:‏

▪ ”‏آجکل معیاری تعلیم کی ضرورت پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ آپکے خیال میں، زندگی میں عظیم خوشی اور کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے ایک شخص کو کس قسم کی تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے؟ [‏جواب دینے دیں۔]‏ جو لوگ خدا کا علم حاصل کرتے ہیں وہ ابدی فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ [‏امثال ۹:‏۱۰، ۱۱ پڑھیں۔]‏ یہ دستی کتاب [‏جو کتاب آپ پیش کر رہے ہیں اُسکا عنوان بتائیں]‏ بائبل پر مبنی ہے۔ یہ علم کے واحد ماخذ کی نشاندہی کرتی ہے جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث بن سکتا ہے۔“‏ کتاب سے کوئی واضح مثال دکھائیں۔ اگر حقیقی دلچسپی پائی جاتی ہے تو کتاب پیش کریں اور واپسی ملاقات کا بندوبست بنائیں۔‏

۴ آپ نے جس صاحبِ‌خانہ کے ساتھ بائبل تعلیم کی اہمیت پر گفتگو کی تھی جب آپ اُسکے پاس واپس جاتے ہیں تو آپ کہہ سکتے ہیں:‏

▪ ”‏گذشتہ ملاقات پر، ہم نے بائبل پر ایسی تعلیم کے ماخذ کے طور پر گفتگو کی تھی جو ہمارے ابدی مستقبل کو یقینی بنا سکتی ہے۔ بیشک، ہم صحائف سے جو علم حاصل کرنا چاہتے ہیں اُسے سیکھنے کیلئے کوشش درکار ہے۔ [‏پڑھیں امثال ۲:‏۱-‏۵‏۔]‏ بہتیرے لوگ بائبل کے کچھ حصوں کو سمجھنا مشکل محسوس کرتے ہیں۔ مَیں مختصراً ایسے طریقے کا مظاہرہ کرنا چاہونگا جو ہم نے بائبل کی بنیادی تعلیمات سیکھنے میں دوسروں کی مدد کرنے کیلئے وسیع پیمانے پر استعمال کِیا ہے۔“‏ جو کتاب چھوڑی گئی تھی اُسے استعمال کرتے ہوئے، موزوں صفحہ پر کھولیں اور مختصراً بائبل مطالعے کا مظاہرہ کریں۔ اگر صاحبِ‌خانہ باقاعدہ مطالعہ کرنا چاہتا ہے تو وضاحت کریں کہ آپ اپنی مطالعے کی امدادی کتاب علم جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہے لیکر دوبارہ آئینگے۔‏

۵ بہتیرے لوگ دُنیا میں لاکھوں مصیبت‌زدہ بچوں کی وجہ سے پریشان ہوتے ہیں۔ شاید آپ یہ کہتے ہوئے صاحبِ‌خانہ کی سمجھنے میں مدد کر سکیں کہ خدا اس بُری حالت کو کیسا خیال کرتا ہے:‏

▪ ”‏بِلاشُبہ آپ نے پوری دُنیا سے ایسے بچوں کی بابت خبریں سنی ہونگی جو فاقہ‌زدہ، بیمار اور بے‌توجہی کا شکار ہیں۔ متعلقہ تنظیمیں صورتحال کو بہتر بنانے کے قابل کیوں نہیں ہوئی ہیں؟ [‏جواب دینے دیں۔]‏ خدا انسانوں کی بہتری چاہتا ہے۔ جیساکہ بائبل میں درج ہے، غور کریں کہ وہ بچوں اور بالغوں سے کیا وعدہ کرتا ہے۔ [‏پڑھیں مکاشفہ ۲۱:‏۴‏۔]‏ یہ کتاب [‏عنوان بتائیں]‏ خدا کی بنائی ہوئی ایسی دُنیا کی بابت مزید تفصیلات فراہم کرتی ہے جہاں تمام قسم کا دُکھ‌درد ختم ہو جائیگا۔“‏ اگر ممکن ہو تو فردوس کی عکاسی کرنے والی کوئی تصویر دکھائیں اور اس پر گفتگو کریں۔ کتاب پیش کریں اور اگلی ملاقات کیلئے بندوبست بنائیں۔‏

۶ اگر آپ نے شروع میں مصیبت‌زدہ بچوں کی بابت گفتگو کی تھی تو اگلی ملاقات پر آپ کچھ یوں کہتے ہوئے گفتگو جاری رکھ سکتے ہیں:‏

▪ ”‏جب حال ہی میں مَیں یہاں آیا تھا تو آپ نے اُن بچوں کی خستہ‌حالی کی بابت فکر ظاہر کی تھی جو شکستہ گھروں، قحط، بیماری اور تشدد کے باعث مصیبت اُٹھاتے ہیں۔ بائبل میں ایک ایسی دُنیا کی بابت پڑھکر تسلی حاصل ہوتی ہے جہاں بچے اور بالغ بیماری، دکھ‌درد یا موت کے ہاتھوں مصیبت نہیں اُٹھائیں گے۔ یسعیاہ کی کتاب میں ایک پیشینگوئی زمین پر بہتر زندگی کی وضاحت کرتی ہے۔“‏ یسعیاہ ۶۵:‏۲۰-‏۲۵ پڑھیں اور اس پر گفتگو کریں۔ بالآخر علم کی کتاب سے بائبل مطالعے کی طرف لے جائیں۔‏

۷ چونکہ مذہبی لوگوں کیلئے دُعا کرنا عام بات ہے اسلئے آپ اس موضوع پر ان الفاظ کیساتھ گفتگو شروع کر سکتے ہیں:‏

▪ ”‏زندگی میں کبھی نہ کبھی ہم میں سے بیشتر لوگوں کو ایسے مسائل کا تجربہ ہوتا ہے جو ہمیں مدد کیلئے خدا سے دُعا کرنے کی تحریک دیتے ہیں۔ لیکن، بہتیرے محسوس کرتے ہیں کہ اُنکی دُعاؤں کا جواب نہیں دیا جاتا۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اَمن کیلئے مذہبی پیشواؤں کی طرف سے کی جانے والی اعلانیہ دُعائیں بھی نہیں سنی جاتیں۔ ہم یہ اسلئے کہتے ہیں کیونکہ جنگ اور تشدد نوعِ‌انسان پر مسلسل مصیبت لا رہے ہیں۔ کیا خدا واقعی دُعاؤں کو سنتا ہے؟ اگر وہ سنتا ہے توپھر بہت سی دُعاؤں کی شنوائی کیوں نہیں ہوتی؟ [‏جواب دینے دیں۔]‏ زبور ۱۴۵:‏۱۸ وضاحت کرتی ہے کہ ہماری دُعاؤں کے سنے جانے کیلئے کس چیز کا تقاضا کِیا جاتا ہے۔ [‏صحیفہ پڑھیں۔]‏ ایک بات تو یہ ہے کہ خدا کے حضور پیش کی جانے والی دُعاؤں کو سنجیدہ اور اُسکے کلام، بائبل کی سچائی کے مطابق ہونا چاہئے۔“‏ جو کتاب آپ پیش کر رہے ہیں اُسے دکھائیں اور یہ دُعا کی قدروقیمت کے سلسلے میں جوکچھ کہتی ہے اُسے اُجاگر کریں۔‏

۸ دُعا کی بابت گذشتہ گفتگو سے بات کو آگے بڑھانے کیلئے آپ اس رسائی کو آزما سکتے ہیں:‏

▪ ”‏مَیں نے دُعا کے موضوع پر اپنی گفتگو سے بہت لطف اُٹھایا تھا۔ آپ یقیناً یسوع کے خیالات کو اس سلسلے میں مفید رہبر پائیں گے کہ کن چیزوں کے لئے دُعا کی جائے۔“‏ متی ۶:‏۹، ۱۰ پڑھیں اور یسوع نے اپنی نمونے کی دُعا میں جن بنیادی فکروں کا ذکر کِیا اُنہیں اُجاگر کریں۔ علم کی کتاب میں باب ۱۶، ”‏جس طرح آپ خدا کے نزدیک جا سکتے ہیں،“‏ دکھائیں اور پوچھیں کہ آیا آپ مواد کا مطالعہ کرنے کے طریقے کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔‏

۹ جب دوسروں تک خدا کا علم پہنچانے کی بات آتی ہے تو ہم پوچھ سکتے ہیں، ”‏کون ان باتوں کے لائق ہے؟“‏ صحائف جواب دیتے ہیں:‏ ”‏ہم ہیں۔“‏—‏۲-‏کرنتھیوں ۲:‏۱۶، ۱۷‏۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں