بادشاہی کی منادی کرو
۱ عبرانیوں ۱۰:۲۳ میں، ہمیں تاکید کی گئی ہے کہ ”اپنی اُمید کے اقرار کو مضبوطی سے تھامے رہیں۔“ اور ہماری اُمید خدا کی بادشاہت پر مُرتکز ہے۔ یسوع نے صاف طور پر حکم دیا کہ ضرور ہے کہ تمام قوموں میں خوشخبری کی منادی کی جائے۔ (مرقس ۱۳:۱۰) ہمیں اپنی خدمتگزاری میں شرکت کرتے وقت اس بات کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے۔
۲ جب ہم لوگوں سے ملتے ہیں تو ہم کسی ایسی چیز کی بابت گفتگو شروع کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو اُنکی دلچسپی کی حامل ہے یا اُنکے لئے باعثِتشویش ہے۔ ہم عموماً ایسی باتوں کا ذکر کرتے ہیں جن سے وہ اچھی طرح واقف ہوتے ہیں، جیسےکہ آسپڑوس میں جُرم، نوجوان لوگوں کے مسائل، روزی کمانے کی بابت پریشانیاں، یا دُنیاوی امور میں کوئی بحران۔ چونکہ بیشتر لوگوں کے ذہن ان ”زندگی کی فکروں“ پر لگے ہوئے ہیں، اسلئے جب ہم ظاہر کرتے ہیں کہ ہم فکرمند اور صاحبِفہم ہیں تو جوکچھ لوگوں کے ذہنوں میں ہوتا ہے وہ اکثر اُسکا اظہار کر دینگے۔ (لوقا ۲۱:۳۴) یہ ہمارے لئے اپنی اُمید کی بابت بتانے کی راہ کھول سکتا ہے۔
۳ تاہم، اگر ہم محتاط نہیں ہیں تو گفتگو اس حد تک منفی باتوں کا رُخ اختیار کر سکتی ہے کہ ہم اپنی ملاقات کے مقصد—بادشاہت کے پیغام کی منادی—کو پورا کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ ہم بُری حالتوں کی طرف توجہ دلاتے ہیں جو بہت زیادہ پریشانی پر منتج ہوتی ہیں، ہمارا مقصد بادشاہت پر توجہ مبذول کرانا ہے جو بالآخر نوعِانسانی کے تمام مسائل کو حل کر دیگی۔ ہمارے پاس واقعی شاندار اُمید ہے جسے سننے کی لوگوں کو اشد ضرورت ہے۔ پس جبکہ ہو سکتا ہے کہ ہم پہلی مرتبہ اُن ”تشویشناک ایّام“ کے کسی پہلو پر گفتگو کریں ”جن سے نپٹنا مشکل ہے،“ ہمیں فوراً اپنے اصلی پیغام، ”ابدی خوشخبری“ پر توجہ مُرتکز کرنی چاہیے۔ اس طرح سے ہم اپنی خدمتگزاری کو پوری طرح سرانجام دیں گے۔—۲-تیمتھیس ۳:۱؛ ۴:۵ اینڈبلیو؛ مکاشفہ ۱۴:۶۔