عالمِبالا کی چیزوں کے خیال میں رہیں
۱ اُس نسل پر جو ہمارے چوگرد ہے اور مستقبل کی بابت اِسکے نقطۂنظر پر تبصرہ کرتے ہوئے، دسمبر ۳۱، ۱۹۹۴ کے دی نیو یارک ٹائمز کے ایک مضمون میں بیان کِیا گیا: ”وہ مستقبل سے خوفزدہ ہیں۔ وہ ملازمتوں کے پیشِنظر، بیماری کے پیشِنظر، معاشیات کے پیشِنظر، دنیا کی حالتوں کے پیشِنظر خوفزدہ ہیں۔“ ہم جہاں کہیں نگاہ دوڑاتے ہیں، زندگی کی بابت بےیقینی کا احساس پایا جاتا ہے۔ یہوؔواہ کے گواہوں کے طور پر ہماری خدمتگزاری ہمارا رابطہ روزانہ اُن لوگوں سے کراتی ہے جو اِس طرح محسوس کرتے ہیں۔ جبکہ ہم بھی اُن جیسے مسائل کا سامنا کرتے ہیں تو بھی خدا کے کلام کے یقینی وعدوں پر ہمارا ایمان اور اعتماد ہمیں زندگی اور نوعِانسان کے مستقبل کی بابت کافی مختلف نقطۂنظر رکھنے کے قابل بناتا ہے۔—یسعیاہ ۶۵:۱۳، ۱۴، ۱۷۔
۲ ہماری رجائیتپسندی اور یقینی اُمید والا نقطۂنظر بہت سے خلوصدل لوگوں کیلئے اُس پیغام کو سننے کا سبب بنتا ہے جو ہم اُنکے پاس لیکر جاتے ہیں۔ بہت سے اشخاص جو افسردہ اور مظلوم محسوس کرتے ہیں ہمارے ساتھ باتچیت کرنے کو تازگیبخش پاتے ہیں۔ چونکہ جوکچھ وہ سنتے ہیں وہ اُسے پسند کرتے ہیں، اِس لئے بعض ہمارے ساتھ بائبل کا مطالعہ کرنے کے لئے متفق ہو جاتے ہیں۔ تاہم، بعضاوقات، لوگ شاید پہلے اپنے مسائل کی بابت باتچیت کرنا پسند کریں۔ اگرچہ کچھ وقت کسی کی ذاتی پریشانیوں کو سننے کے لئے صرف کِیا جا سکتا ہے تو بھی ہمیں اپنے مقصد سے غفلت نہیں برتنی چاہئے، جوکہ لوگوں کو خدا کے کلام کی مثبت سچائیوں کی تعلیم دینا ہے۔
۳ ہم اُن کے ساتھ اظہارِہمدردی کرنا چاہتے ہیں جوکہ ستمرسیدہ ہیں۔ یسوؔع نے نمونہ قائم کِیا جب اُس نے کہا، جیسےکہ متی ۱۱:۲۸ میں درج ہے: ”اَے محنت اُٹھانے والو اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگو سب میرے پاس آؤ۔“ ہم بھی اِسی طریقے سے لوگوں کی حوصلہافزائی کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، غور کریں کہ ۲۸ آیت کے آخر پر، یسوؔع نے کہا: ”مَیں تم کو آرام دونگا۔“ یہی ہمارا نصبالعین ہونا چاہئے۔ ہم خدا کے کلام سے فرحتبخش وعدوں کو بیان کرنے سے ایسا کرتے ہیں۔ ایک اچھا سامع ہونا ہماری ذاتی دلچسپی اور فکرمندی کو ظاہر کرتا ہے اور اس بات کو سمجھنے کے لئے دوسروں کی مدد کرتے ہوئے کہ بادشاہت نوعِانسان کے تمام مسائل کا واحد یقینی حل ہے یہ بادشاہت کی خوشخبری کی منادی کرنے کی اپنی ذمہداری کو پورا کرنے کے لئے لازمی ہے۔—متی ۲۴:۱۴۔
۴ ہمارا کام پیشہور ماہر معالجوں جیسا نہیں ہے۔ بلکہ یہ ویسا ہے جیساکہ پولسؔ رسول نے وضاحت کی، جیسے ۱-تیمتھیس ۴:۶ میں بیان کِیا گیا ہے، ایک خدمتگزاری جو ”اچھی تعلیم،“ پر مرتکز ہے، ایسی تعلیمات جو خدا کے کلام میں پائی جاتی ہیں۔ جنہیں ذاتی یا جذباتی مسائل کا سامنا ہے اُنہیں یہوؔواہ پر تکیہ کرنے کی حوصلہافزائی دی جانے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ اُنہیں سکھائیں کہ ”عالمِبالا کی چیزوں کے خیال میں رہیں“—چیزیں جن کا بادشاہتی اُمید سے تعلق ہے۔ (کلسیوں ۳:۲) جب لوگ اپنی توجہ خدا کے کلام پر مرکوز رکھتے ہیں تو وہ اُس زوردار اثر کی بدولت تقویت پا سکتے ہیں جو یہ اُنکی زندگیوں پر کرتا ہے۔—عبرانیوں ۴:۱۲۔
۵ پس ہمارا نصبالعین لوگوں کی مدد کرنا ہے کہ وہ ’پاک، پسندیدہ، اور تعریف کی باتوں‘ کے متعلق اپنی سوچ پر غور کریں۔ (فلپیوں ۴:۸) اگر وہ بادشاہتی اُمید پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں تو وہ بھی اُسی طرح برکت پائینگے جیسے ہم نے پائی ہے۔ وہ بھی اُسی خوشی کا تجربہ کرینگے جو اُس علم سے ملتی ہے کہ بالآخر یہوؔواہ اپنی بادشاہت کے ذریعے اُن کے تمام مسائل حل کر دے گا۔—زبور ۱۴۵:۱۶۔