یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م11 1/‏3 ص.‏ 26-‏30
  • یرمیاہ کی طرح بیدار رہیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • یرمیاہ کی طرح بیدار رہیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2011ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ایک اہم پیغام
  • یرمیاہ کو لوگوں سے محبت تھی
  • یرمیاہ کو یہوواہ خدا کی طرف سے دلیری حاصل ہوئی
  • یرمیاہ نے اپنی خوشی برقرار رکھی
  • خدا کے کام کو کرنے کے لئے بیدار رہیں
  • یرمیاہ کی طرح دلیر بنیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2004ء
  • یرمیاہ کی کتاب سے اہم نکات
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2007ء
  • یہوواہ نے یرمیاہ کو مُنادی کرنے بھیجا
    پاک کلام سے آپ کے لیے خاص سبق
  • یرمیاہ—‏بُرے لوگوں میں ایک دلیر آدمی
    بچوں کو پاک کلام سے سکھائیں
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2011ء
م11 1/‏3 ص.‏ 26-‏30

یرمیاہ کی طرح بیدار رہیں

‏”‏مَیں [‏یہوواہ]‏ اپنے کلام کو پورا کرنے کے لئے بیدار رہتا ہوں۔“‏—‏یرم ۱:‏۱۲‏۔‏

۱، ۲.‏ یہوواہ خدا کے بیدار رہنے کو بادام کے درخت سے تشبیہ کیوں دی جا سکتی ہے؟‏

لبنان اور اسرائیل کے پہاڑوں پر بادام کے درختوں پر دوسرے درختوں کی نسبت جلد پھول نکلتے ہیں۔ اکثر اِن درختوں پر جنوری کے آخر میں یا فروری کے شروع میں ہی پھول نکلنے لگتے ہیں۔ عبرانی زبان میں بادام کے درخت کے لئے جو لفظ استعمال ہوا ہے، اُس کا مطلب ”‏بیدار رہنے والا“‏ ہے۔‏

۲ جب یہوواہ خدا نے یرمیاہ کو نبی کے طور پر مقرر کِیا تو اُس نے اُنہیں رویا میں بادام کے درخت کی ایک شاخ دکھائی۔ اِس رویا کا کیا مطلب تھا؟ یہوواہ خدا نے کہا:‏ ”‏مَیں اپنے کلام کو پورا کرنے کے لئے بیدار رہتا ہوں۔“‏ (‏یرم ۱:‏۱۱، ۱۲‏)‏ جس طرح بادام کا درخت دوسرے درختوں سے پہلے بیدار ہوتا ہے اِسی طرح یہوواہ خدا لوگوں کو پہلے سے آگاہ کرتا ہے کہ وہ کیا کرنے والا ہے۔ ماضی میں اُس نے نبیوں کے ذریعے لوگوں کو آگاہ کِیا کہ اگر وہ اُس کی نافرمانی کریں گے تو اِس کے کیا نتائج نکلیں گے۔ (‏یرم ۷:‏۲۵‏)‏ لیکن لوگوں نے اِن نبیوں کی بات نہ سنی۔ اِس لئے ۶۰۷ قبل‌ازمسیح میں یہودی قوم پر تباہی آئی۔‏

۳.‏ ہم کس بات پر بھروسا رکھ سکتے ہیں؟‏

۳ یہوواہ خدا آج بھی اپنی مرضی پوری کرنے کے لئے بیدار رہتا ہے۔ وہ جو کہتا ہے، اُسے ضرور پورا کرتا ہے۔ کیا آپ کو اِس بات پر پورا یقین ہے کہ ماضی کی طرح آج بھی یہوواہ خدا اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے بیدار ہے؟ اگر ہمارے دل میں اِس بات کے لئے ذرا سا بھی شک ہے تو اب وقت ہے کہ ہم روحانی نیند سے جاگیں۔ (‏روم ۱۳:‏۱۱‏)‏ یہوواہ خدا کے نبی کے طور پر یرمیاہ بیدار رہے۔ آئیں، دیکھیں کہ اُنہوں نے اُس کام کو کیسے پورا کِیا جو یہوواہ خدا نے اُنہیں دیا تھا؟ اور ہم اُن کی مثال سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

ایک اہم پیغام

۴.‏ (‏الف)‏ یرمیاہ کو خدا کا پیغام سنانا مشکل کیوں لگا؟ (‏ب)‏ یرمیاہ نے لوگوں کو کیا پیغام دیا؟‏

۴ یہوواہ خدا نے یرمیاہ کو لوگوں کو یہ بتانے کے لئے مقرر کِیا کہ خدا کا غضب اُن پر نازل ہوگا۔ اُس وقت یرمیاہ کی عمر تقریباً ۲۵ سال تھی۔ (‏یرم ۱:‏۱، ۲‏)‏ اُن کا خیال تھا کہ وہ قوم کے بزرگوں سے بات کرنے کے لائق نہیں ہیں کیونکہ وہ سب اُن سے عمر میں بڑے ہیں اور اعلیٰ مرتبہ رکھتے ہیں۔ (‏یرم ۱:‏۶‏)‏ یرمیاہ کو خاص طور پر کاہنوں، جھوٹے نبیوں، حکمرانوں اور اُن لوگوں کو خدا کا پیغام سنانا تھا جو ’‏اپنی راہ سے پھر‘‏ گئے تھے اور ”‏برگشتگی پر اڑے“‏ ہوئے تھے۔ (‏یرم ۶:‏۱۳؛‏ ۸:‏۵، ۶‏)‏ یرمیاہ نے لوگوں کو بتایا کہ ہیکل تباہ ہو جائے گی جہاں چار صدیوں سے خدا کی عبادت کی جا رہی تھی، یروشلیم اور یہوداہ برباد ہو جائیں گے اور وہاں رہنے والے لوگوں کو قیدی بنا لیا جائے گا۔ خدا کا یہ پیغام واقعی بہت اہم تھا!‏

۵، ۶.‏ (‏الف)‏ آج‌کل یہوواہ خدا نے ممسوح مسیحیوں کو کونسا کام سونپا ہے؟ (‏ب)‏ اِس مضمون میں ہم کس بات پر غور کریں گے؟‏

۵ جدید زمانے میں یہوواہ خدا نے ممسوح مسیحیوں کے ایک گروہ کو مقرر کِیا ہے جو لوگوں کو اِس دُنیا پر آنے والی تباہی سے آگاہ کر رہا ہے۔ بہت سالوں سے یہ گروہ لوگوں کو بتا رہا ہے کہ ہم ایک بہت اہم دَور میں رہ رہے ہیں۔ (‏یرم ۶:‏۱۷‏)‏ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ یہوواہ خدا اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں دیر نہیں کرتا۔ لہٰذا اُس کا دن مقررہ وقت پر آئے گا جب لوگوں کو اِس کی توقع بھی نہیں ہوگی۔—‏صفن ۳:‏۸؛‏ مر ۱۳:‏۳۳؛‏ ۲-‏پطر ۳:‏۹، ۱۰‏۔‏

۶ یہوواہ کے خادم جانتے ہیں کہ بہت جلد نئی دُنیا قائم ہونے والی ہے اور اُن کے پاس خدا کا پیغام سنانے کے لئے بہت کم وقت ہے۔ اِس لئے وہ اِس کام کو اپنی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ کیا آپ مُنادی کے کام میں بڑھ‌چڑھ کر حصہ لیتے ہیں؟ جب آپ ایسا کرتے ہیں تو لوگوں کو موقع ملتا ہے کہ وہ خدا کی خدمت کرنے کا فیصلہ کریں۔ آئیں، دیکھیں کہ یرمیاہ کن وجوہات کی بِنا پر یہوواہ خدا کا کام کرنے کے لئے بیدار رہے؟‏

یرمیاہ کو لوگوں سے محبت تھی

۷.‏ ہمیں کیسے پتہ چلتا ہے کہ یرمیاہ لوگوں سے محبت کرتے تھے؟‏

۷ یرمیاہ کو لوگوں سے محبت تھی اِس لئے اُنہوں نے مشکلات کے باوجود بھی مُنادی کرنا جاری رکھا۔ وہ جانتے تھے کہ جھوٹے مذہبی رہنما لوگوں کی اچھی طرح سے پیشوائی نہیں کر رہے۔ (‏یرم ۲۳:‏۱، ۲‏)‏ اِسی وجہ سے اُنہیں لوگوں پر ترس آتا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ لوگ خدا کا پیغام سنیں تاکہ اُن کی جان بچ جائے۔ اُنہیں لوگوں کی اِتنی فکر تھی کہ وہ اُن پر آنے والی تباہی کا سوچ کر غم‌زدہ ہو جاتے تھے۔ ‏(‏یرمیاہ ۸:‏۲۱؛‏ ۹:‏۱ کو پڑھیں۔)‏ نوحہ کی کتاب میں بھی ہم پڑھتے ہیں کہ یرمیاہ کو یہوواہ خدا اور اُس کے لوگوں سے بہت محبت تھی۔ (‏نوحہ ۴:‏۶،‏ ۹‏)‏ آج‌کل بہت سے لوگ اُن ’‏بھیڑوں کی مانند خستہ‌حال اور پراگندہ ہیں جن کا چرواہا نہ ہو۔‘‏ کیا ایسے لوگوں کو دیکھ کر آپ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اُنہیں خدا کی بادشاہت کا پیغام دیں؟—‏متی ۹:‏۳۶‏۔‏

۸.‏ یہ کیسے ظاہر ہوتا ہے کہ یرمیاہ لوگوں کے بُرے سلوک کے باوجود اُن کے ساتھ نرمی سے پیش آئے؟‏

۸ یرمیاہ جن لوگوں کی مدد کرنا چاہتے تھے، اِن میں سے بعض نے اُن کو اذیت دی۔ لیکن یرمیاہ نے اُن سے بدلہ نہیں لیا بلکہ اُن کے ساتھ نرمی سے پیش آئے۔ یہاں تک کہ جب بادشاہ صدقیاہ نے اُنہیں قتل کرنے کے لئے لوگوں کے حوالہ کر دیا تو بھی اُنہوں نے بادشاہ سے منت کی کہ وہ یہوواہ خدا کی بات سنے۔ (‏یرم ۳۸:‏۴، ۵،‏ ۱۹، ۲۰‏)‏ کیا ہم بھی لوگوں سے یرمیاہ کی طرح پیار کرتے ہیں؟‏

یرمیاہ کو یہوواہ خدا کی طرف سے دلیری حاصل ہوئی

۹.‏ ہم کیسے جانتے ہیں کہ یہوواہ خدا نے یرمیاہ کو دلیری بخشی؟‏

۹ جب یہوواہ خدا نے یرمیاہ سے کہا کہ وہ لوگوں کو اُس کا پیغام سنائیں تو یرمیاہ ایسا کرنے سے ہچکچائے۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یرمیاہ پیدائشی طور پر دلیر نہیں تھے۔ لیکن یہوواہ خدا پر بھروسا رکھنے کی وجہ سے وہ دلیری سے اُس کی خدمت کرنے کے قابل ہوئے۔ بائبل میں لکھا ہے کہ یہوواہ خدا ”‏مہیب بہادر کی مانند“‏ یرمیاہ کے ساتھ رہا۔ (‏یرم ۲۰:‏۱۱‏)‏ اِس کا مطلب ہے کہ خدا نے اُنہیں دلیری بخشی تاکہ وہ اُس کا کام کر سکیں۔ یرمیاہ اپنی دلیری کی وجہ سے اِتنے مشہور ہو گئے کہ جب یسوع مسیح زمین پر آئے تو لوگ سمجھے کہ یرمیاہ دوبارہ آ گئے ہیں۔—‏متی ۱۶:‏۱۳، ۱۴‏۔‏

۱۰.‏ ممسوح مسیحیوں کو کس لحاظ سے قوموں اور سلطنتوں پر مقرر کِیا گیا ہے؟‏

۱۰ یہوواہ خدا ’‏قوموں کا بادشاہ‘‏ ہے۔ اِس لئے اُس نے یرمیاہ کو بھیجا کہ وہ قوموں اور سلطنتوں کو یہ پیغام سنائیں کہ خدا اُنہیں سزا دینے والا ہے۔ (‏یرم ۱۰:‏۶، ۷‏)‏ یہوواہ خدا نے یرمیاہ کی طرح ممسوح مسیحیوں کو بھی ایک خاص کام سونپا ہے۔ اُنہیں خدا کے کلام سے قوموں کو یہ بتانا ہے کہ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب خدا قوموں کو سزا دے گا۔ (‏یرم ۱۸:‏۷-‏۱۰؛‏ مکا ۱۱:‏۱۸‏)‏ اِس لحاظ سے خدا نے اُن کو بھی ”‏قوموں پر اور سلطنتوں پر مقرر“‏ کِیا ہے۔ (‏یرم ۱:‏۱۰‏)‏ ممسوح مسیحی پوری دُنیا میں لوگوں کو یہوواہ خدا کا پیغام سنانے کے لئے پُرعزم ہیں۔‏

۱۱.‏ ہم مشکلات کے باوجود دلیری سے مُنادی کرنے کے قابل کیسے ہو سکتے ہیں؟‏

۱۱ جب ہمیں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ ہم بے‌حوصلہ ہو جائیں۔ (‏۲-‏کر ۱:‏۸‏)‏ لیکن ہمیں یرمیاہ کی مثال پر عمل کرنا چاہئے جو مشکلات کے باوجود لوگوں کو یروشلیم کی تباہی کے بارے میں بتاتے رہے۔ ہمیں یہوواہ خدا سے مدد مانگنی چاہئے اور اُس پر بھروسا رکھنا چاہئے۔ اِس طرح ہمیں دلیری حاصل ہوگی اور ہم یہوواہ خدا کی خدمت کرنے کے لئے بیدار رہیں گے۔ (‏۱-‏تھس ۲:‏۲‏)‏ ہم لوگوں کو بتاتے رہیں گے کہ خدا بہت جلد اُن لوگوں کو تباہ کر دے گا جو مسیحی ہونے کا محض دعویٰ کرتے ہیں۔ چاہے کچھ بھی ہو، ممسوح مسیحی نہ صرف ”‏[‏یہوواہ]‏ کے فضل کے سال“‏ کے بارے میں بتاتے رہیں گے بلکہ اپنے ”‏خدا کے انتقام کے دن“‏ کے بارے میں بھی بتائیں گے۔—‏یسع ۶۱:‏۱، ۲‏، نیو اُردو بائبل ورشن؛‏ ۲-‏کر ۶:‏۲‏۔‏

یرمیاہ نے اپنی خوشی برقرار رکھی

۱۲.‏ (‏الف)‏ اِس بات کا کیا ثبوت ہے کہ یرمیاہ خوشی سے خدا کا کام کرتے تھے؟ (‏ب)‏ یرمیاہ اپنی خوشی کو برقرار رکھنے کے قابل کیسے ہوئے؟‏

۱۲ یرمیاہ خوشی سے خدا کا کام کرتے تھے۔ اُنہوں نے یہوواہ خدا سے کہا:‏ ”‏تیرا کلام ملا اور مَیں نے اُسے نوش کِیا اور تیری باتیں میرے دل کی خوشی اور خرمی تھیں کیونکہ اَے [‏یہوواہ]‏ .‏ .‏ .‏ مَیں تیرے نام سے کہلاتا ہوں۔“‏ (‏یرم ۱۵:‏۱۶‏)‏ یرمیاہ کو اِس بات پر فخر تھا کہ وہ سچے خدا کے نام سے کہلاتے ہیں اور اُس کے کلام کی مُنادی کرتے ہیں۔ لیکن جب کبھی یرمیاہ اِس بات پر دھیان دیتے تھے کہ لوگ اُن کا مذاق اُڑاتے ہیں تو وہ اپنی خوشی کھو بیٹھتے تھے۔ پر جب وہ خدا کے پیغام کی اہمیت پر غور کرتے تھے تو دوبارہ خوشی سے بھر جاتے تھے۔—‏یرم ۲۰:‏۸، ۹‏۔‏

۱۳.‏ ہم بائبل کی گہری باتوں پر غور کرنے سے اپنی خوشی کو کیسے برقرار رکھ سکتے ہیں؟‏

۱۳ مُنادی کے کام میں اپنی خوشی کو برقرار رکھنے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ ہمیں بائبل کی گہری باتوں پر غور کرنا چاہئے۔ (‏عبر ۵:‏۱۴‏)‏ ایسا کرنے سے ہمارا ایمان اَور مضبوط ہوگا۔ (‏کل ۲:‏۶، ۷‏)‏ ہم یہ بھی سمجھنے کے قابل ہوں گے کہ جب ہم اچھے کام کرتے ہیں تو خدا کتنا خوش ہوتا ہے۔ شاید ہمیں لگے کہ ہمارے پاس بائبل کا مطالعہ کرنے کے لئے وقت نہیں ہے۔ اِس صورت میں ہمیں دوسرے کاموں سے وقت نکالنا چاہئے۔ اگر ہم ہر دن تھوڑی دیر کے لئے بھی بائبل کو پڑھیں گے اور اِس پر سوچ‌بچار کریں گے تو ہم یہوواہ خدا کے اَور قریب ہو جائیں گے اور یرمیاہ کی طرح ہماری خوشی بھی برقرار رہے گی۔‏

۱۴، ۱۵.‏ (‏الف)‏ یرمیاہ کے تعمیر کرنے اور لگانے کے کام کا کیا نتیجہ نکلا؟ (‏ب)‏ خدا کے خادم مُنادی کے کام سے کیوں خوش ہوتے ہیں؟‏

۱۴ یرمیاہ نے نہ صرف لوگوں کو یہوواہ خدا کے غضب کے بارے میں بتایا بلکہ ’‏تعمیر کرنے اور لگانے‘‏ کا کام بھی کِیا۔ (‏یرم ۱:‏۱۰‏)‏ تعمیر کرنے اور لگانے سے مُراد ہے کہ یرمیاہ نے خلوص‌دل لوگوں کی مدد کی کہ وہ اپنے ایمان کو مضبوط رکھیں۔ اِس لئے جب ۶۰۷ قبل‌ازمسیح میں یروشلیم کو تباہ کِیا گیا تو بعض یہودی اور غیریہودی یروشلیم کی تباہی سے بچ گئے۔ اِن لوگوں میں ریکاب کا قبیلہ، عبدملک اور باروک شامل تھے۔ (‏یرم ۳۵:‏۱۹؛‏ ۳۹:‏۱۵-‏۱۸؛‏ ۴۳:‏۵-‏۷‏)‏ جس طرح خدا کے اِن وفادار لوگوں نے یرمیاہ کا ساتھ دیا اِسی طرح ”‏بڑی بِھیڑ“‏ کے لوگ ممسوح مسیحیوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ (‏مکا ۷:‏۹‏)‏ ممسوح مسیحی بھی بڑی بِھیڑ کے لوگوں کی مدد کرتے ہیں کہ وہ اپنے ایمان کو مضبوط رکھیں۔ ایسا کرنے سے ممسوح مسیحیوں کو بہت خوشی ملتی ہے۔ اور جب بڑی بِھیڑ کے لوگ دوسروں کو خدا کے بارے میں سکھاتے ہیں تو اُنہیں بھی بڑی خوشی ملتی ہے۔‏

۱۵ ہم نہ صرف اِس وجہ سے لوگوں کو خوشخبری سناتے ہیں کہ ہم اُنہیں فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں بلکہ اِس وجہ سے بھی کہ یہ ہماری عبادت کا حصہ ہے۔ اِس لئے چاہے لوگ ہمارے پیغام کو سنیں یا نہیں، ہمیں اِس کام سے خوشی ملتی ہے۔—‏زبور ۷۱:‏۲۳؛‏ رومیوں ۱:‏۹ کو پڑھیں۔‏

خدا کے کام کو کرنے کے لئے بیدار رہیں

۱۶، ۱۷.‏ اِس دُنیا کے خاتمے کے سلسلے میں ہمیں مکاشفہ ۱۷:‏۱۰ اور حبقوق ۲:‏۳ سے کیا پتہ چلتا ہے؟‏

۱۶ اب وہ وقت بہت قریب ہے جب یہوواہ خدا اِس دُنیا کو تباہ کر دے گا۔ اِس بات کا اشارہ ہمیں مکاشفہ ۱۷:‏۱۰ کی پیشینگوئی سے ملتا ہے۔ اِس پیشینگوئی میں جس ساتویں بادشاہ کا ذکر کِیا گیا ہے، وہ عالمی طاقت اینگلو امریکہ ہے۔ یہ طاقت اب موجود ہے۔ اِس پیشینگوئی کے مطابق ساتواں بادشاہ ”‏کچھ عرصہ تک“‏ رہے گا۔ اب یہ عرصہ ختم ہونے والا ہے۔ اِس دُنیا کے خاتمے کے سلسلے میں حبقوق نبی نے لکھا:‏ ”‏یہ رویا ایک مقررہ وقت کے لئے ہے۔ .‏ .‏ .‏ اِس کا منتظر رہ کیونکہ یہ یقیناً وقوع میں آئے گی۔ تاخیر نہ کرے گی۔“‏—‏حبق ۲:‏۳۔‏

۱۷ لہٰذا ہمیں خود سے پوچھنا چاہئے:‏ کیا میری زندگی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مَیں اِس بات کو سمجھتا ہوں کہ دُنیا کا خاتمہ نزدیک ہے؟ یا کیا میرے فیصلوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مَیں سمجھتا ہوں کہ دُنیا کا خاتمہ ابھی دُور ہے؟‏

۱۸، ۱۹.‏ ہمیں منادی کے کام میں سستی کیوں نہیں کرنی چاہئے؟‏

۱۸ یہوواہ خدا نے ممسوح مسیحیوں کو جو کام دیا ہے، وہ ابھی تک ختم نہیں ہوا۔ ‏(‏یرمیاہ ۱:‏۱۷-‏۱۹ کو پڑھیں۔)‏ اِس لئے ممسوح مسیحی بڑے جوش سے یہ کام کر رہے ہیں۔ وہ ایک ”‏فصیل‌دار شہر“‏ اور ’‏لوہے کے ستون‘‏ کی طرح ہیں۔ اِس کا مطلب ہے کہ اُنہیں خدا کے کام سے ہٹایا نہیں جا سکتا۔ اُنہوں نے ”‏سچائی سے اپنی کمر کس“‏ لی ہے۔ (‏افس ۶:‏۱۴‏)‏ وہ خدا کے کلام سے طاقت حاصل کرتے ہیں تاکہ اپنا کام پورا کر سکیں۔ بڑی بِھیڑ کا بھی عزم ہے کہ وہ اِس کام کو پورا کرنے میں ممسوح مسیحیوں کی مدد کرے۔‏

۱۹ دُنیا کا خاتمہ بہت نزدیک ہے اِس لئے ہمیں مُنادی کا کام کرنے میں سُستی نہیں کرنی چاہئے۔ اِس کی بجائے ہمیں یرمیاہ ۱۲:‏۵ کے الفاظ کی اہمیت پر غور کرنا چاہئے۔ ‏(‏پڑھیں۔)‏ آج‌کل ہم سب مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ اِن مشکلات کا مقابلہ کرنا پیادوں کے ساتھ دوڑنے کی طرح ہے۔ لیکن جوں‌جوں ”‏بڑی مصیبت“‏ نزدیک آئے گی، ہماری مشکلات اَور بڑھ جائیں گی۔ (‏متی ۲۴:‏۲۱‏)‏ اِن مشکلات کا مقابلہ کرنا گھڑسواروں کے ساتھ دوڑنے کی طرح ہوگا۔ واقعی گھوڑوں کے ساتھ دوڑنا پیادوں کے ساتھ دوڑنے سے زیادہ مشکل ہے۔ لہٰذا اگر ہم ابھی سے مشکلات کا مقابلہ کرتے ہیں تو ہم مستقبل میں بھی مشکلات کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوں گے۔‏

۲۰.‏ آپ نے کیا عزم کِیا ہے؟‏

۲۰ ہم یرمیاہ کی مثال پر عمل کرتے ہوئے منادی کرنے کی ذمہ‌داری کو پورا کر سکتے ہیں۔ یرمیاہ نے ۶۷ سال تک منادی کا کام کِیا۔ اِس کی وجہ یہ تھی کہ اُنہیں لوگوں سے محبت تھی، اُنہیں یہوواہ خدا کی طرف سے دلیری حاصل ہوئی تھی اور اُنہوں نے اپنی خوشی برقرار رکھی تھی۔ بادام کے درخت کی تمثیل سے ہم نے سیکھا ہے کہ یہوواہ خدا اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے بیدار رہتا ہے۔ لہٰذا ہمیں بھی یرمیاہ کی طرح خدا کے کام کو پورا کرنے کے لئے بیدار رہنا چاہئے۔‏

کیا آپ کو یاد ہے؟‏

‏• ہم کیسے جانتے ہیں کہ یرمیاہ کو لوگوں سے محبت تھی؟‏

‏• ہمیں دلیری کی ضرورت کیوں ہے؟‏

‏• یرمیاہ اپنی خوشی برقرار رکھنے کے قابل کیسے ہوئے؟‏

‏• آپ کو بیدار کیوں رہنا چاہئے؟‏

‏[‏صفحہ ۲۹ پر تصویریں]‏

کیا آپ مشکلات میں بھی منادی کرنا جاری رکھتے ہیں؟‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں