یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م11 1/‏3 ص.‏ 22-‏26
  • ‏”‏تم بھی تیار رہو“‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ‏”‏تم بھی تیار رہو“‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2011ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • نوح کی طرح تیار رہیں
  • نوح اور اُن کے گھر والے تیار رہے
  • موسیٰ تیار رہے
  • جاگتے رہیں
  • وہ ’‏خدا کے ساتھ ساتھ چلتے رہے‘‏
    اِن جیسا ایمان ظاہر کریں
  • وہ ’‏خدا کے ساتھ‌ساتھ چلتے رہے‘‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2013ء
  • خدا نے نوح اور ’‏سات اَور لوگوں کو بچا لیا‘‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2013ء
  • نوح کا ایمان دُنیا کو مجرم ٹھہراتا ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2011ء
م11 1/‏3 ص.‏ 22-‏26

‏”‏تم بھی تیار رہو“‏

‏”‏تُم بھی تیار رہو کیونکہ جس گھڑی تُم کو گمان بھی نہ ہوگا ابنِ‌آدم آ جائے گا۔“‏ —‏متی ۲۴:‏۴۴‏۔‏

۱، ۲.‏ (‏الف)‏ بائبل میں کس حملے کے بارے میں پیشینگوئی کی گئی ہے؟ (‏ب)‏ یہوواہ کے دن پر نجات حاصل کرنے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟‏

ایک آدمی نے کافی سال تک بنگالی شیروں کے ساتھ کرتب دکھائے۔ ایک دفعہ اُس نے کہا:‏ ”‏جب ایک جانور آپ سے مانوس ہو جاتا ہے تو آپ کو بہت خوشی ہوتی ہے۔“‏ لیکن ۳ اکتوبر ۲۰۰۳ء کو ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس کی اِس آدمی کو توقع بھی نہیں تھی۔ کرتب کے دوران اُس پر ایک شیر نے اچانک حملہ کر دیا جس کا وزن ۱۷۲ کلو (‏۳۸۰ پونڈ)‏ تھا۔‏

۲ بائبل میں بھی ایک ایسے ”‏حیوان“‏ کا ذکر کِیا گیا ہے جو اچانک کسی پر حملہ کرے گا۔ ‏(‏مکاشفہ ۱۷:‏۱۵-‏۱۸ کو پڑھیں۔)‏ یہ ”‏حیوان“‏ کون ہے؟ اور وہ کس پر حملہ کرے گا؟ قرمزی رنگ کا یہ حیوان اقوام متحدہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جبکہ ”‏دس سینگ“‏ دُنیا کی تمام حکومتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ حیوان اور دس سینگ، بڑے شہر بابل یعنی تمام جھوٹے مذاہب پر حملہ کریں گے اور اُسے ہلاک کر دیں گے۔ یہ واقعہ بہت سے لوگوں کے لئے حیران‌کُن ہوگا کیونکہ حیوان اور بڑے شہر بابل کی آپس میں بہت دوستی ہے اور دونوں ہی شیطان کی دُنیا کا حصہ ہیں۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومتیں کب جھوٹے مذاہب پر حملہ کریں گی؟ یہ سب یہوواہ خدا کے دن پر ہوگا۔ ہم اُس دن کے بارے میں نہیں جانتے۔ لیکن ہمیں یہ ضرور پتہ ہے کہ جب ہمیں توقع بھی نہیں ہوگی، یہ دن آ جائے گا اور اب اِس کے آنے میں بہت کم وقت رہ گیا ہے۔ (‏متی ۲۴:‏۳۶،‏ ۴۴؛‏ ۱-‏پطر ۴:‏۷‏)‏ لہٰذا ہمیں ابھی سے یہوواہ خدا کے دن کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ تب ہی ہم نجات حاصل کر سکیں گے۔ (‏لو ۲۱:‏۲۸‏)‏ بائبل میں ہمیں خدا کے کئی خادموں کی مثالیں ملتی ہیں جو تیار رہے۔ اِس لئے اُنہوں نے یہوواہ خدا کے وعدوں کو پورا ہوتے ہوئے دیکھا۔ آئیں، اِن میں سے کچھ کی مثالوں پر غور کریں۔‏

نوح کی طرح تیار رہیں

۳.‏ نوح کن حالات کے باوجود خدا کی خدمت کرتے رہے؟‏

۳ نوح کے زمانے میں زمین ظلم اور بُرائی سے بھری ہوئی تھی۔ لیکن نوح اُن باتوں کے لئے تیار تھے جو یہوواہ خدا نے کہی تھیں۔ ذرا سوچیں کہ نوح کے زمانے میں حالات اِتنے خراب کیوں تھے؟ خدا کے کچھ فرشتوں نے انسانی جسم اختیار کر لیا تھا اور زمین پر آکر خوبصورت عورتوں سے شادیاں کی تھیں۔ اُن کے ملاپ سے جو اولاد پیدا ہوئی تھی، اُسے بائبل میں جبار کہا گیا ہے۔ یہ بہت طاقتور تھے اور دوسروں پر ظلم ڈھاتے تھے۔ (‏پید ۶:‏۴‏)‏ اُن کی وجہ سے پوری زمین پر بُرائی پھیل گئی تھی۔ اِس لئے یہوواہ خدا نے بُرے لوگوں کو ہلاک کرنے کا فیصلہ کِیا۔‏‏—‏پیدایش ۶:‏۳،‏ ۵،‏ ۱۱،‏ ۱۲ کو پڑھیں۔‏

۴، ۵.‏ ہمارے زمانے کے حالات نوح کے زمانے کے حالات کی طرح کیسے ہیں؟‏

۴ یسوع مسیح نے پیشینگوئی کی تھی کہ ہمارے زمانے کے حالات بالکل نوح کے زمانے کی طرح ہوں گے۔ (‏متی ۲۴:‏۳۷‏)‏ سچ ہے کہ آج‌کل بُرے فرشتے انسانی جسم اختیار نہیں کر سکتے لیکن پھر بھی وہ انسانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ (‏مکا ۱۲:‏۷-‏۹،‏ ۱۲‏)‏ وہ لوگوں کو بُرے کام کرنے پر اُکساتے ہیں۔ اور جب لوگ بُرے کام کرتے ہیں تو اِن بُرے فرشتوں کو تسکین ملتی ہے۔—‏افس ۶:‏۱۱، ۱۲‏۔

۵ بائبل میں شیطان کو ”‏خونی“‏ کہا گیا ہے۔ اِس میں یہ بھی لکھا ہے کہ اُسے ”‏موت پر قدرت“‏ حاصل ہے۔ (‏یوح ۸:‏۴۴؛‏ عبر ۲:‏۱۴‏)‏ لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ جسے چاہے، اُسے مار سکتا ہے۔ تو پھر اُسے کس لحاظ سے موت پر قدرت حاصل ہے؟ وہ لوگوں کو اُکساتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو تکلیف پہنچائیں یا خودکُشی کر لیں۔ وہ لوگوں کے دل میں دوسروں کے لئے بھی نفرت پیدا کرتا ہے اور اُنہیں قتل کرنے پر اُکساتا ہے۔ اِس وجہ سے ہمارے زمانے میں بھی بُرائی بہت بڑھ گئی ہے۔ جب خدا نے نوح کے زمانے میں بُرائی کو ختم کرنے کے لئے کارروائی کی تو کیا وہ ہمارے زمانے میں ایسا نہیں کرے گا؟‏

۶، ۷.‏ نوح اور اُن کے گھر والوں نے یہ کیسے ظاہر کِیا کہ وہ خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور اُس کا خوف رکھتے ہیں؟‏

۶ خدا نے نوح کو بتایا کہ وہ زمین پر پانی کا طوفان لائے گا اور تمام بُرے لوگوں کو ہلاک کر دے گا۔ (‏پید ۶:‏۱۳،‏ ۱۷‏)‏ یہوواہ خدا نے نوح کو حکم دیا کہ وہ ایک بڑے صندوق جیسی کشتی بنائیں۔ نوح اور اُن کے گھروالوں نے یہوواہ خدا کا حکم مانا اور کشتی بنانی شروع کر دی۔ مگر وہ یہوواہ خدا کا حکم ماننے اور آنے والی تباہی کے لئے تیار رہنے کے قابل کیسے ہوئے؟‏

۷ نوح اور اُن کے گھر والے خدا پر ایمان رکھتے تھے اور خدا کا خوف رکھتے تھے۔ اِس لئے اُنہوں نے بالکل ویسا ہی کِیا جیسا خدا نے اُن کو حکم دیا۔ (‏پید ۶:‏۲۲؛‏ عبر ۱۱:‏۷‏)‏ نوح خدا کی قربت میں رہے اور لوگوں کے بُرے کاموں میں شریک نہیں ہوئے۔ (‏پید ۶:‏۹‏)‏ اِس طرح نوح نے اپنے گھر والوں کے لئے ایک اچھی مثال قائم کی۔ وہ خاندان کے سربراہ تھے اِس لئے وہ چاہتے تھے کہ اُن کے گھروالے بھی لوگوں کی بُری سوچ اور طورطریقے نہ اپنائیں۔ نوح اور اُن کے گھروالے جانتے تھے کہ یہوواہ خدا نے اُنہیں ایک اہم کام دیا ہے۔ اِس لئے وہ اپنے روزمرّہ کاموں میں مگن نہیں ہوئے بلکہ خدا کے کام پر توجہ دی۔‏‏—‏پیدایش ۶:‏۱۴،‏ ۱۸ کو پڑھیں۔‏

نوح اور اُن کے گھر والے تیار رہے

۸.‏ ہمیں کیسے پتہ چلتا ہے کہ نوح کے گھر والے بھی یہوواہ خدا کی عبادت کرتے تھے؟‏

۸ بائبل میں نوح کا ذکر اُن کے گھر والوں کی نسبت زیادہ کِیا گیا ہے۔ لیکن اُن کے گھر والے بھی یہوواہ خدا کی عبادت کرتے تھے۔ حزقی‌ایل نبی نے اِس بات کی تصدیق کی۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر نوح اُن کے زمانے میں ہوتے تو بھی وہ اپنی وفاداری کی بِنا پر صرف اپنی ہی جان بچا سکتے، اپنے بیٹوں کی نہیں۔ (‏حز ۱۴:‏۱۹، ۲۰)‏ نوح کے بیٹے چھوٹے بچے نہیں تھے۔ وہ اپنی مرضی سے اِس بات کا فیصلہ کر سکتے تھے کہ وہ خدا کا حکم مانیں گے یا نہیں۔ اُنہوں نے خدا کا حکم مانا اور اپنے کاموں سے یہ ثابت کِیا کہ وہ یہوواہ خدا سے محبت رکھتے ہیں۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوح کے گھر والے بھی اُن کی طرح خدا کے وعدوں پر ایمان رکھتے تھے۔ اِس لئے اُنہوں نے نوح کی ہدایات پر عمل کِیا اور مشکلات کے باوجود اُن کے ساتھ مل کر وہ کام کِیا جس کا خدا نے اُن کو حکم دیا تھا۔‏

۹.‏ آج‌کل کون نوح کی مثال پر عمل کرتے ہیں؟‏

۹ نوح نے خاندان کے سربراہوں کے لئے ایک اچھی مثال قائم کی۔ خوشی کی بات ہے کہ ہماری کلیسیاؤں میں خاندان کے سربراہ اُن کی مثال پر عمل کرتے ہیں۔ وہ اپنے خاندانوں کے لئے کھانے‌پینے، پہننے اور رہنے کا انتظام کرتے ہیں اور اپنے بچوں کو تعلیم دلاتے ہیں۔ لیکن وہ اپنے گھروالوں کی اِن ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ‌ساتھ اُن کی روحانی ضروریات کو بھی پورا کرتے ہیں۔ ایسا کرنے سے وہ خود کو اور اپنے خاندان کو یہوواہ خدا کے آنے والے دن کے لئے تیار کرتے ہیں۔‏

۱۰، ۱۱.‏ (‏الف)‏ نوح اور اُن کے گھر والوں نے طوفان سے بچ جانے پر کیسا محسوس کِیا ہوگا؟ (‏ب)‏ ہمیں خود سے کونسا سوال پوچھنا چاہئے؟‏

۱۰ نوح اور اُن کے گھروالوں کو کشتی بنانے میں تقریباً ۵۰ سال لگے۔ ذرا سوچیں کہ اِس دوران اُنہوں نے کتنی محنت کی۔ اُنہوں نے کشتی کو پانی سے محفوظ رکھنے کے لئے اِس کے اندر اور باہر رال لگائی۔ اُنہوں نے کافی مقدار میں کھانے‌پینے کی چیزیں بھی اکٹھی کیں۔ وہ جانوروں کو بھی کشتی میں لے کر گئے۔ اِس دوران وہ سینکڑوں مرتبہ کشتی کے اندر اور باہر گئے ہوں گے۔ لیکن جب اُنہوں نے سارے کام ختم کر لئے تو خدا نے اُن کو کشتی میں جانے اور وہیں رہنے کے لئے کہا۔ جب وہ کشتی میں چلے گئے تو خدا نے اِس کا دروازہ بند کر دیا۔ اور پھر ۲۳۷۰ قبل‌ازمسیح میں دوسرے مہینے کی ۱۷ تاریخ کو بہت تیز بارش شروع ہو گئی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ آسمان سے سیلاب آ رہا ہے۔ (‏پید ۷:‏۱۱،‏ ۱۶‏)‏ کشتی سے باہر تمام لوگ ہلاک ہو گئے۔ لیکن نوح اور اُن کے گھر والے بچ گئے۔ اُنہوں نے کیسا محسوس کِیا ہوگا؟ بِلاشُبہ وہ یہوواہ خدا کے بہت شکرگزار تھے۔ وہ بہت خوش تھے کہ وہ یہوواہ خدا کے ساتھ‌ساتھ چلتے رہے اور آنے والی تباہی کے لئے تیار رہے۔ (‏پید ۶:‏۹‏)‏ جو لوگ ہرمجِدّون سے بچ کر خدا کی نئی دُنیا میں جائیں گے، وہ بھی یقیناً ایسا ہی محسوس کریں گے۔‏

۱۱ خدا نے وعدہ کِیا ہے کہ وہ شیطان کی اِس دُنیا کو ختم کر دے گا۔ کوئی بھی خدا کو ایسا کرنے سے نہیں روک سکتا۔ ہمیں خود سے پوچھنا چاہئے:‏ ”‏کیا مجھے یقین ہے کہ خدا مقررہ وقت پر اپنے وعدوں کو پورا کرے گا؟“‏ اگر آپ کو پورا یقین ہے تو یہوواہ خدا کے دن کے لئے تیار رہیں۔—‏۲-‏پطر ۳:‏۱۲‏۔‏

موسیٰ تیار رہے

۱۲.‏ کن باتوں کی وجہ سے موسیٰ کی توجہ خدا کی خدمت سے ہٹ سکتی تھی؟‏

۱۲ آئیں، اب موسیٰ کی مثال پر غور کریں۔ موسیٰ مصر میں بہت اہم مقام حاصل کر سکتے تھے۔ اُنہیں فرعون کی بیٹی نے اپنا بیٹا بنا کر پالا تھا۔ وہ شاہی محل میں رہتے تھے، اچھے سے اچھا کھاتے تھے اور اچھے سے اچھا پہنتے تھے۔ اُنہوں نے مصر کے تمام علوم کی تعلیم پائی تھی۔ ‏(‏اعمال ۷:‏۲۰-‏۲۲ کو پڑھیں۔)‏ شاہی گھرانے میں پرورش پانے کی وجہ سے اُنہیں بہت زیادہ جائیداد مل سکتی تھی۔‏

۱۳.‏ موسیٰ نے مصر میں پرورش پانے کے باوجود یہوواہ خدا کی عبادت کرنا کیوں نہیں چھوڑا؟‏

۱۳ مصر کے لوگ بُتوں کی پرستش کرتے تھے۔ لیکن موسیٰ جانتے تھے کہ اِس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ جب وہ چھوٹے تھے تو اُن کے والدین نے ضرور اُن کو بتایا ہوگا کہ صرف یہوواہ ہی سچا خدا ہے۔ (‏خر ۳۲:‏۸)‏ اِس لئے مصر کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور شاہی محل میں پرورش پانے کے باوجود موسیٰ نے یہوواہ خدا کی عبادت نہیں چھوڑی۔ موسیٰ نے ضرور اُن وعدوں پر سوچ‌بچار کی ہوگی جو یہوواہ خدا نے اُن کے باپ‌دادا سے کئے تھے۔ وہ خدا کے اِن وعدوں کے پورا ہونے کے منتظر تھے اور خدا کا ہر حکم ماننے کو تیار تھے۔ اِس لئے جب وہ اسرائیلیوں کے پاس گئے تو اُنہوں نے کہا:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ .‏ .‏ .‏ اؔبرہام کے خدا اور اِضحاؔق کے خدا اور یعقوؔب کے خدا نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے۔“‏‏—‏خروج ۳:‏۱۵-‏۱۷ کو پڑھیں۔‏

۱۴.‏ موسیٰ نے ایمان اور دلیری کیسے ظاہر کی؟‏

۱۴ بائبل میں موسیٰ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ”‏وہ اَن‌دیکھے کو گویا دیکھ کر ثابت‌قدم رہا۔“‏ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ موسیٰ کی نظر میں یہوواہ خدا ایک حقیقی ہستی تھا۔ موسیٰ کو پورا یقین تھا کہ یہوواہ خدا اپنے لوگوں کو مصر کی غلامی سے آزادی دلائے گا۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ خدا ایسا کب کرے گا۔ (‏عبر ۱۱:‏۲۴، ۲۵،‏ ۲۷‏)‏ ایک دفعہ موسیٰ نے ایک مصری کو مار ڈالا جو ایک اسرائیلی پر ظلم کر رہا تھا۔ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ اُن کی خواہش تھی کہ بنی‌اِسرائیل، مصر کی غلامی سے آزاد ہو جائیں۔ (‏خر ۲:‏۱۱، ۱۲)‏ لیکن اسرائیلیوں کو نجات دلانے کے لئے یہوواہ خدا کا وقت ابھی نہیں آیا تھا۔ چونکہ موسیٰ کی جان کو خطرہ تھا اِس لئے اُنہیں مصر سے بھاگنا پڑا۔ وہ مصر میں بڑی آرام‌دہ زندگی گزار رہے تھے۔ ایسی زندگی کو چھوڑ کر بیابان میں رہنا آسان نہیں تھا۔ پھر بھی وہ یہوواہ خدا کا ہر حکم ماننے کے لئے تیار رہے۔ اِس لئے چالیس سال کے بعد جب یہوواہ خدا کا وقت آ گیا تو اُس نے اسرائیلیوں کو نجات دلانے کے لئے موسیٰ کو استعمال کِیا۔ یہوواہ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے موسیٰ واپس مصر چلے گئے۔ (‏خر ۳:‏۲، ۷، ۸، ۱۰)‏ موسیٰ جو ”‏سب آدمیوں سے زیادہ حلیم“‏ تھے، اُنہیں ایمان اور دلیری کی ضرورت تھی تاکہ وہ باربار فرعون کے سامنے جا کر اُسے خدا کا پیغام دے سکیں۔—‏گن ۱۲:‏۳۔‏

۱۵.‏ موسیٰ مشکلات میں بھی یہوواہ خدا کی تمجید کیوں کرتے رہے؟‏

۱۵ موسیٰ ۱۵۱۳ قبل‌ازمسیح میں بنی‌اِسرائیل کو مصر سے نکال لائے۔ اِس کے بعد بھی ۴۰ سال تک موسیٰ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اُنہوں نے خدا کے نام کی تمجید کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ اُنہوں نے اسرائیلیوں کو بھی خدا کی بڑائی کرنے کی نصیحت کی۔ (‏استثنا ۳۱:‏۱-‏۸)‏ موسیٰ کو پورا یقین تھا کہ صرف خدا کی حکمرانی انسانوں کے لئے فائدہ‌مند ہے۔ اور وہ چاہتے تھے کہ خدا کے نام کی بڑائی ہو۔ (‏خر ۳۲:‏۱۰-‏۱۳؛ گن ۱۴:‏۱۱-‏۱۶)‏ آج جب ہمیں بھی مشکلات کا سامنا ہے تو ہمیں موسیٰ کی طرح اِس بات پر یقین رکھنا چاہئے کہ خدا کے حکموں پر عمل کرنے میں ہماری بھلائی ہے۔—‏یسع ۵۵:‏۸-‏۱۱؛‏ یرم ۱۰:‏۲۳‏۔‏

جاگتے رہیں

۱۶، ۱۷.‏ مرقس ۱۳:‏۳۵-‏۳۷ میں دی گئی نصیحت ہمارے لئے کیوں اہم ہے؟‏

۱۶ جب یسوع مسیح نے دُنیا کے آخر ہونے کے نشان کے بارے میں بتایا تو اُنہوں نے کہا:‏ ”‏خبردار!‏ جاگتے اور دُعا کرتے رہو کیونکہ تُم نہیں جانتے کہ وہ وقت کب آئے گا۔“‏ (‏مر ۱۳:‏۳۳‏)‏ پھر اُنہوں نے کہا:‏ ”‏جاگتے رہو کیونکہ تُم نہیں جانتے کہ گھر کا مالک کب آئے گا۔ شام کو یا آدھی رات کو یا مُرغ کے بانگ دیتے وقت یا صبح کو۔ ایسا نہ ہو کہ اچانک آکر وہ تُم کو سوتے پائے۔ اور جو کچھ مَیں تُم سے کہتا ہوں وہی سب سے کہتا ہوں کہ جاگتے رہو۔“‏—‏مر ۱۳:‏۳۵-‏۳۷‏۔‏

۱۷ یسوع مسیح کی یہ نصیحت ہمارے لئے بہت اہم ہے۔ یسوع مسیح نے رات کے چار پہروں کا ذکر کِیا۔ آخری پہر صبح تین بجے سے سورج نکلنے تک ہوتا ہے جس کے دوران جاگتے رہنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اِس لئے یہ خیال کِیا جاتا ہے کہ یہ وقت دُشمن مُلک کی فوج پر حملہ کرنے کا بہترین وقت ہے۔ ہمارے زمانے کی دُنیا روحانی لحاظ سے سو رہی ہے اِس لئے ہمیں جاگتے رہنے کے لئے سخت کوشش کرنی پڑتی ہے۔ کیا آپ اِس بات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں کہ اِس دُنیا کے خاتمے سے بچنے کے لئے ہمیں خبردار اور جاگتے رہنے کی ضرورت ہے؟‏

۱۸.‏ ہمیں کس موقعے کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہئے؟‏

۱۸ اِس مضمون کے شروع میں کرتب دکھانے والے جس آدمی کا ذکر کِیا گیا ہے، اُس کی تو جان بچ گئی۔ لیکن جھوٹے مذاہب اور یہ دُنیا آنے والی تباہی سے نہیں بچ سکیں گے۔ (‏مکا ۱۸:‏۴-‏۸‏)‏ لہٰذا ہم سب کو تیار رہنے کی اہمیت کو سمجھنا چاہئے۔ ایسا کرنے سے ہم نوح اور اُن کے گھر والوں کی مثال پر عمل کریں گے۔ آج کل کئی لوگ خدا کے وجود سے انکار کرتے ہیں اور بہت سے جھوٹے مذہبی پیشوا اپنی باتوں اور کاموں سے خدا کی توہین کرتے ہیں۔ وہ ہماری سوچ پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں اِس لئے ہمیں خبردار رہنا چاہئے۔ آئیں، ہم سب نوح اور موسیٰ کی طرح تیار رہیں اور اپنے عظیم خدا یہوواہ کی تمجید کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں۔—‏استثنا ۱۰:‏۱۷۔‏

کیا آپ کو یاد ہے؟‏

‏• یہ کیوں اہم تھا کہ نوح اپنے خاندان کی روحانی ضروریات کو پورا کریں؟‏

‏• ہمارے زمانے کے حالات نوح کے زمانے کے حالات کی طرح کیسے ہیں؟‏

‏• موسیٰ مشکلات میں بھی یہوواہ خدا کی تمجید کیوں کرتے رہے؟‏

‏• بائبل کی کونسی پیشینگوئیاں جاگتے رہنے میں آپ کی مدد کرتی ہیں؟‏

‏[‏صفحہ ۲۴ پر تصویر]‏

نوح اور اُن کے گھر والوں نے پوری توجہ سے یہوواہ خدا کا کام کِیا۔‏

‏[‏صفحہ ۲۵ پر تصویر]‏

یہوواہ خدا کے وعدوں پر ایمان رکھنے کی وجہ سے موسیٰ اُس کے حکموں کو ماننے کے لئے تیار رہے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں