آپ آخر تک برداشت کر سکتے ہیں
”آؤ ہم . . . اُس دوڑ میں صبر [”برداشت،“ اینڈبلیو] سے دوڑیں جو ہمیں درپیش ہے۔“—عبرانیوں ۱۲:۱۔
۱، ۲. برداشت کرنے کا کیا مطلب ہے؟
”تمہیں صبر [”برداشت،“ اینڈبلیو] کرنا ضرور ہے،“ یہ بات پولس رسول نے پہلی صدی کے عبرانی مسیحیوں کو لکھی۔ (عبرانیوں ۱۰:۳۶) اس خوبی کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے پطرس رسول نے بھی مسیحیوں کو اسی طرح تاکید کی: ”اپنے ایمان پر . . . صبر [”برداشت،“ اینڈبلیو]“ بڑھاؤ۔ (۲-پطرس ۱:۵، ۶) تاہم برداشت درحقیقت کیا ہے؟
۲ یونانی اور انگریزی کی ایک لغت ”برداشت“ کے لئے یونانی فعل کی تعریف ”ہار مانے بغیر خود کو سنبھالے رکھنے . . . ثابتقدم رہنے، قائم رہنے“ کے طور پر کرتی ہے۔ ”برداشت“ کیلئے یونانی اسم کی بابت ایک حوالہجاتی کتاب بیان کرتی ہے: ”یہ ایک ایسا جذبہ ہے جو محض صبرواستقلال کیساتھ ہی نہیں بلکہ درخشاں اُمید کیساتھ مختلف حالتوں کو سہنے کے قابل بناتا ہے . . . یہ ایک ایسی خوبی ہے جو کڑی آزمائش کی صورت میں بھی کسی کے پائےثبات کو لغزش نہیں آنے دیتی۔ یہ ایک ایسی قوت ہے جو مشکلترین آزمائش کو عظمت میں بدل سکتی ہے کیونکہ یہ دُکھتکلیف کے پار انجام پر نگاہ رکھتی ہے۔“ پس، برداشت کسی شخص کو اُمید کا دامن چھوڑے بغیر رکاوٹوں اور مشکلات کے پیشِنظر ثابتقدم رہنے کے قابل بناتی ہے۔ کن کو خاص طور پر اس خوبی کی ضرورت ہے؟
۳، ۴. (ا) کن کو برداشت کی ضرورت ہے؟ (ب) ہمیں آخر تک کیوں برداشت کرنی چاہئے؟
۳ علامتی مفہوم میں تمام مسیحی ایسی دوڑ میں دوڑ رہے ہیں جو برداشت کا تقاضا کرتی ہے۔ ۶۵ س.ع. کے لگبھگ، پولس رسول نے اپنے ہمخدمت اور وفادار ہمسفرتیمتھیس کو یہ حوصلہافزا بات لکھی: ”مَیں اچھی کشتی لڑ چکا۔ مَیں نے دوڑ کو ختم کر لیا۔ مَیں نے ایمان کو محفوظ رکھا۔“ (۲-تیمتھیس ۴:۷) ”دوڑ کو ختم کر لیا“ کا اظہار استعمال کرنے سے پولس بطور مسیحی اپنی زندگی کو مقررہ فاصلے اور حد والی ایک دوڑ سے تشبِیہ دے رہا تھا۔ اُس وقت، پولس کامیابی سے دوڑ ختم کرنے والا تھا اور بڑے اعتماد کیساتھ انعام پانے کا منتظر تھا۔ اُس نے مزید بیان کِیا کہ ”آیندہ کے لئے میرے واسطے راستبازی کا وہ تاج رکھا ہوا ہے جو عادل منصف یعنی خداوند مجھے اُس دن دیگا۔“ (۲-تیمتھیس ۴:۸) پولس کو یقین تھا کہ آخر تک برداشت کرنے کی وجہ سے اُسے انعام ضرور ملیگا۔ ہم سب کی بابت کیا ہے؟
۴ دوڑ میں حصہ لینے والوں کی حوصلہافزائی کرنے کیلئے پولس نے لکھا: ”آؤ ہم . . . اُس دوڑ میں صبر [”برداشت،“ اینڈبلیو] سے دوڑیں جو ہمیں درپیش ہے۔“ (عبرانیوں ۱۲:۱) جب ہم یسوع مسیح کے وسیلہ سے خود کو یہوواہ خدا کیلئے مخصوص کرتے ہیں تو ہم مسیحیوں کے طور پر برداشت کی اس دوڑ میں شریک ہو جاتے ہیں۔ شاگردی کی روش میں اچھا آغاز نہایت ضروری ہے لیکن اسے ختم کرنا زیادہ اہم ہے۔ یسوع نے بیان کِیا: ”مگر جو آخر تک برداشت کریگا وہ نجات پائیگا۔“ (متی ۲۴:۱۳) کامیابی سے دوڑ ختم کرنے والے کا انعام ہمیشہ کی زندگی ہے! لہٰذا، اپنے حدف کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیں آخر تک برداشت کرنا ہے۔ کونسی چیز اس حدف تک پہنچنے میں ہماری مدد کریگی؟
مناسب خوراک لازمی ہے
۵، ۶. (ا) زندگی کی دوڑ میں برداشت کرنے کیلئے ہمیں کس چیز پر دھیان دینے کی ضرورت ہے؟ (ب) ہمیں کن روحانی فراہمیوں سے فائدہ اُٹھانا چاہئے اور کیوں؟
۵ قدیم زمانے میں یونان کے شہر کرنتھس کے قریب واقع ایک خاکنائے میں مشہور کھیلیں منعقد ہوا کرتی تھیں۔ بِلاشُبہ پولس کو معلوم تھا کہ کرنتھی بھائی وہاں ہونے والی دوڑ اور دیگر مقابلوں سے واقف تھے۔ اُن کے اس علم کو بنیاد بناتے ہوئے اُس نے اُنکی توجہ زندگی کی دوڑ پر دلائی جس میں وہ سب شریک تھے: ”کیا تم نہیں جانتے کہ دوڑ میں دوڑنے والے دوڑتے تو سب ہی ہیں مگر انعام ایک ہی لے جاتا ہے؟ تم بھی ایسے ہی دوڑو تاکہ جیتو۔“ پولس دوڑتے رہنے اور آخر تک کوشش جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ تاہم، کونسی چیز اس میں اُن کیلئے مددگار ثابت ہوگی؟ اُس نے بیان کِیا کہ مقابلے میں حصہ لینے والا ہر شخص ”سب طرح کا پرہیز کرتا ہے۔“ جیہاں، اُن قدیم کھیلوں میں حصہ لینے والے جیتنے کیلئے کڑی تربیت حاصل کرتے، اپنے کھانےپینے کا خاص خیال رکھتے اور اپنے ہر کام میں ضبطِنفس کا مظاہرہ کرتے تھے۔—۱-کرنتھیوں ۹:۲۴، ۲۵۔
۶ مسیحی جس دوڑ میں دوڑ رہے ہیں اُسکی بابت کیا ہے؟ یہوواہ کے گواہوں کی ایک کلیسیا کا ایک بزرگ بیان کرتا ہے کہ ”اگر آپ زندگی کی دوڑ میں قائم رہنا چاہتے ہیں تو آپکو اپنی روحانی غذا پر دھیان دینا ہوگا۔“ غور فرمائیں کہ یہوواہ خدا نے جو ”صبر [”برداشت“ اینڈبلیو] . . . کا چشمہ“ ہے ہمارے لئے کیسی روحانی خوراک فراہم کی ہے۔ (رومیوں ۱۵:۵) اُسکا کلام، بائبل روحانی غذا کا بنیادی ماخذ ہے۔ کیا پھر ہمیں بائبل پڑھائی کا اچھا شیڈول قائم نہیں رکھنا چاہئے؟ ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ کے ذریعے یہوواہ نے مینارِنگہبانی اور جاگو! کے برمحل جریدے اور بائبل پر مبنی دیگر مطبوعات بھی فراہم کی ہیں۔ (متی ۲۴:۴۵) مستعدی سے انکا مطالعہ کرنا ہمیں روحانی طور پر مستحکم کریگا۔ جیہاں، ہمیں ذاتی مطالعے کیلئے وقت نکالنا یعنی ’وقت کو غنیمت جاننا‘ چاہئے۔—افسیوں ۵:۱۶۔
۷. (ا) ہمیں بنیادی مسیحی عقائد جان لینے سے ہی مطمئن کیوں نہیں ہونا چاہئے؟ (ب) ہم ”کمال کی طرف قدم“ کیسے بڑھا سکتے ہیں؟
۷ مسیحی شاگردی کی روش پر چلتے رہنے کیلئے ہمیں ”ابتدائی باتیں“ چھوڑ کر ”کمال کی طرف قدم“ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ (عبرانیوں ۶:۱) پس ہمیں سچائی کی ”چوڑائی اور لمبائی اور اُونچائی اور گہرائی“ میں دلچسپی لینی چاہئے اور ”سخت غذا“ سے قوت حاصل کرنی چاہئے جو ”پوری عمر والوں کے لئے ہوتی ہے۔“ (افسیوں ۳:۱۸؛ عبرانیوں ۵:۱۲-۱۴) مثال کے طور پر، یسوع کی زمینی زندگی کے چار قابلِاعتماد بیانات—متی، مرقس، لوقا اور یوحنا کی اناجیل—پر غور کیجئے۔ ان انجیلی بیانات کے محتاط مطالعے سے ہم نہ صرف یسوع کے کاموں اور شخصیت کو جان سکتے ہیں بلکہ اُسے ان کاموں کی تحریک دینے والے اندازِفکر کو بھی سمجھ سکتے ہیں۔ یوں ہم ”مسیح کی عقل“ کو حاصل کر سکتے ہیں۔—۱-کرنتھیوں ۲:۱۶۔
۸. مسیحی اجلاس زندگی کی دوڑ میں برداشت کرنے کیلئے ہماری مدد کیسے کرتے ہیں؟
۸ پولس نے ساتھی ایمانداروں کو نصیحت کی: ”محبت اور نیک کاموں کی ترغیب دینے کے لئے ایک دوسرے کا لحاظ رکھیں۔ اور ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہونے سے بعض نہ آئیں جیسا بعض لوگوں کا دستور ہے بلکہ ایک دوسرے کو نصیحت کریں اور جس قدر اس دن کو نزدیک ہوتے ہوئے دیکھتے ہو اُسی قدر زیادہ کِیا کرو۔“ (عبرانیوں ۱۰:۲۴، ۲۵) مسیحی اجلاس حوصلہافزائی کا کتنا بڑا ذریعہ ہیں! نیز ہماری ذات میں دلچسپی لینے والے اور آخر تک برداشت کرنے میں ہماری مدد کرنے والے شفیق بہن بھائیوں کی رفاقت کتنی تازگیبخش ہوتی ہے! ہم یہوواہ کی اس پُرمحبت فراہمی کو معمولی خیال نہیں کر سکتے۔ اپنے مستعد ذاتی مطالعے اور اجلاسوں پر باقاعدہ حاضری سے آئیے ہم ”سمجھ میں جوان بنیں۔“—۱-کرنتھیوں ۱۴:۲۰۔
جوش بڑھانے والے تماشائی
۹، ۱۰. (ا) برداشت کی دوڑ میں تماشائی حوصلہافزائی کا ذریعہ کیسے ثابت ہو سکتے ہیں؟ (ب) عبرانیوں ۱۲:۱ میں متذکرہ ’بڑا بادل‘ کیا ہے ’جو ہمیں گھیرے ہوئے ہے‘؟
۹ تاہم، دوڑنے والے کی تیاری خواہ کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو اُس کے راستے میں ایسے نشیبوفراز آ سکتے ہیں جن سے وہ ٹھوکر کھا سکتا ہے۔ پولس اس سلسلے میں بیان کرتا ہے کہ ”تم تو اچھی طرح دَوڑ رہے تھے کس نے تمہیں حق کے ماننے سے روک دیا؟“ (گلتیوں ۵:۷) بدیہی طور پر، گلتیہ کے بعض مسیحی بُری صحبت میں پڑ گئے تھے جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ زندگی کی دوڑ میں انتشارِخیال کا شکار ہو گئے۔ اسکے برعکس، دوسروں کی طرف سے حوصلہافزائی اور حمایت دوڑ کو نہایت سہل بنا سکتی ہیں۔ یہ کھیل کے شرکاء پر بالکل تماشائیوں جیسا اثر ڈال سکتی ہیں۔ جوشیلا ہجوم دوڑ میں اَور زیادہ سنسنی پیدا کر دیتا ہے جس سے دوڑنے والوں کو شروع سے آخر تک جدوجہد کرنے کی تحریک ملتی ہے۔ سازوں کی آواز اور تالیوں کی گونج کیساتھ تماشائیوں کی نعرہبازی آخری مرحلے میں دوڑنے والوں کے حوصلے اَور بلند کر دیتی ہے۔ واقعی، حمایتی تماشائی دوڑ میں حصہ لینے والوں پر مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔
۱۰ مسیحی زندگی کی جس دوڑ میں حصہ لیتے ہیں اُس میں تماشائی کون ہیں؟ عبرانیوں ۱۱ باب میں، مسیحی دَور سے قبل یہوواہ کے وفادار گواہوں کی فہرست پیش کرنے کے بعد پولس نے لکھا: ”پس جب کے گواہوں کا ایسا بڑا بادل ہمیں گھیرے ہوئے ہے تو آؤ ہم بھی . . . اُس دَوڑ میں صبر [”برداشت،“ اینڈبلیو] سے دوڑیں جو ہمیں درپیش ہے۔“ (عبرانیوں ۱۲:۱) بادل کا استعارہ استعمال کرنے کیلئے پولس نے مخصوص شکل اور حجم کے بادل کو بیان کرنے والا یونانی لفظ استعمال نہیں کِیا تھا۔ اسکی بجائے اُس نے وہ لفظ استعمال کِیا جو لغتنگار ڈبلیو. ای. وائن کے مطابق ”آسمان پر چھائی ہوئی کالی گھٹاؤں کا مفہوم پیش کرتا ہے۔“ پولس کے ذہن میں واضح طور پر گواہوں کا ایک بہت بڑا ہجوم تھا—اتنا بڑا کہ وہ بادل کی مانند تھے۔
۱۱، ۱۲. (ا) مسیحی دَور سے پہلے کے وفادار گواہ دوڑ میں برداشت کیساتھ دوڑنے کیلئے ہمیں کیسے جوش سے معمور کر سکتے ہیں؟ (ب) ہم ’گواہوں کے بڑے بادل‘ سے کیسے بھرپور فائدہ اُٹھا سکتے ہیں؟
۱۱ کیا مسیحی دَور سے پہلے کے وفادار گواہ جدید زمانہ میں واقعی تماشائی ثابت ہو سکتے ہیں؟ بمشکل۔ وہ سب تو قیامت کے انتظار میں موت کی نیند سو رہے ہیں۔ تاہم، اُنہوں نے اپنی زندگی میں کامیابی سے دوڑ مکمل کی تھی اور اُنکی قائمکردہ مثالیں بائبل کے اوراق میں زندۂجاوید ہیں۔ جب ہم صحائف کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ وفادار لوگ ہمارے خیالوں میں زندہ ہو جاتے ہیں اور ہمیں دوڑ ختم کرنے کی تحریک دیتے ہیں۔—رومیوں ۱۵:۴۔a
۱۲ مثال کے طور پر، جب دُنیا کی چیزیں ہمیں لبھاتی ہیں تو کیا اُس وقت موسیٰ کے نمونے پر غور کرنا جس نے مصر کی شانوشوکت کو رد کر دیا ہمیں اپنی راہ چلتے رہنے کی تحریک نہیں دیگا؟ اگر ہماری آزمائش بہت بڑی دکھائی دے تو ابرہام کے اس کڑے امتحان کو یاد رکھنا، جب اُسے اپنے بیٹے اضحاق کو قربان کرنے کا حکم دیا گیا، ہمیں واقعی اپنے ایمان کے مقابلے میں ہمت نہ ہارنے کی حوصلہافزائی دیگا۔ ان گواہوں کا ’بڑا بادل‘ جس حد تک ہم میں جوش پیدا کرتا ہے اُسکا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم اُنہیں اپنی عقل کی آنکھوں سے کسقدر صاف صاف دیکھتے ہیں۔
۱۳. جدید زمانے کے یہوواہ کے گواہ زندگی کی دوڑ میں ہمارے اندر کیسے جوش پیدا کرتے ہیں؟
۱۳ جدید زمانے میں بھی ہمارے ساتھ یہوواہ کے بہت سے گواہ ہیں۔ ممسوح مسیحیوں اور ”بڑی بِھیڑ“ کے مردوزن نے ایمان کی کتنی شاندار مثالیں قائم کی ہیں! (مکاشفہ ۷:۹) ہم اس رسالے اور واچ ٹاور کی دیگر مطبوعات میں وقتاًفوقتاً اُنکی سوانححیات پڑھ سکتے ہیں۔b جب ہم اُنکے ایمان پر غور کرتے ہیں تو ہمیں آخر تک برداشت کرنے کا حوصلہ ملتا ہے۔ نیز وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کرنے والے قریبی دوستوں اور رشتہداروں کی حمایت حاصل کرنا کتنی عمدہ بات ہے! جیہاں، زندگی کی دوڑ میں ہمارے اندر جوش پیدا کرنے والے بہت سے ہیں۔
دانشمندی سے اپنی رفتار کا تعیّن کرنا
۱۴، ۱۵. (ا) دانشمندی کیساتھ اپنی رفتار کا تعیّن کرنا اہم کیوں ہے؟ (ب) نصبالعین قائم کرنے میں ہمیں کیوں معقولپسندی سے کام لینا چاہئے؟
۱۴ میراتھن جیسی لمبی دوڑ میں دوڑنے والے شخص کو بڑی دانشمندی سے اپنی رفتار کا تعیّن کرنا پڑتا ہے۔ نیو یارک رنر رسالہ بیان کرتا ہے کہ ”دوڑ کے شروع میں ہی تیزی سے دوڑنا آپ کی ہار کا باعث بن سکتا ہے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ آپکو آخری کئی میلوں کیلئے بہت زیادہ جدوجہد کرنی پڑے یا آپ دوڑنا ہی بند کر دیں۔“ میراتھن میں دوڑنے والا ایک شخص بیان کرتا ہے: ”مَیں دوڑ کی تیاری کے سلسلے میں ایک لیکچر پر حاضر ہوا جس میں مقرر نے یہ واضح آگاہی پیش کی: ’تیز بھاگنے والوں کیساتھ ملنے کی کوشش نہ کریں۔ اپنی رفتار سے بھاگیں۔ ورنہ آپ تھک جائینگے اور دوڑنا ہی بند کر دینگے۔‘ اس آگاہی پر دھیان دینے سے دوڑ ختم کرنے میں میری مدد ہوئی۔“
۱۵ زندگی کی دوڑ میں خدا کے خادموں کو جانفشانی کرنی چاہئے۔ (لوقا ۱۳:۲۴) تاہم، شاگرد یعقوب نے لکھا: ”جو حکمت اُوپر سے آتی ہے . . . وہ . . . حلیم [معقول] . . . ہوتی ہے۔“ (یعقوب ۳:۱۷) اگرچہ دوسروں کا اچھا نمونہ زیادہ کام کرنے کیلئے ہماری حوصلہافزائی کر سکتا ہے، معقولپسندی اپنی لیاقتوں اور حالات کے مطابق حقیقتپسندانہ نصبالعین قائم کرنے میں ہماری مدد کریگی۔ صحائف ہمیں یاددہانی کراتے ہیں: ”ہر شخص اپنے ہی کام کو آزما لے۔ اس صورت میں اُسے اپنی ہی بابت فخر کرنے کا موقع ہوگا نہ کہ دوسرے کی بابت۔ کیونکہ ہر شخص اپنا ہی بوجھ اُٹھائیگا۔“—گلتیوں ۶:۴، ۵۔
۱۶. اپنی رفتار کا تعیّن کرنے میں فروتنی کیسے ہماری مدد کرتی ہے؟
۱۶ میکاہ ۶:۸ میں ہم سے یہ خیالآفرین سوال پوچھا گیا ہے: ”[یہوواہ] تجھ سے اسکے سوا کیا چاہتا ہے کہ تو . . . اپنے خدا کے حضور فروتنی سے چلے؟“ فروتنی میں اپنی حدود سے آگاہ ہونا شامل ہے۔ کیا خراب صحت یا بڑھاپے کی وجہ سے خدا کیلئے ہماری خدمت محدود ہو گئی ہے؟ ہمیں اس سے حوصلہشکن نہیں ہونا چاہئے۔ یہوواہ ہماری کاوشوں اور قربانیوں کو جو ’ہمارے پاس ہے‘ اُسکے موافق قبول کرتا ہے نہ کہ ’اُسکے موافق جو ہمارے پاس نہیں ہے۔‘—۲-کرنتھیوں ۸:۱۲؛ مقابلہ کریں لوقا ۲۱:۱-۴۔
اپنی نظریں انعام پر جمائے رکھیں
۱۷، ۱۸. کس چیز کو نگاہ میں رکھنے سے یسوع کو دُکھ کی سولی بھی برداشت کرنے میں مدد ملی تھی؟
۱۷ کرنتھس کے مسیحیوں کے سامنے زندگی کی دوڑ میں برداشت کی ضرورت کو نمایاں کرنے کیلئے پولس نے خاکنائےکرنتھس میں منعقد ہونے والی کھیلوں کے ایک اَور پہلو کا ذکر کِیا جو اُن کیلئے توجہطلب تھا۔ اُن کھیلوں میں شرکت کرنے والوں کی بابت پولس نے لکھا: ”وہ لوگ تو مرُجھانے والا سہرا پانے کے لئے [دوڑتے] ہیں مگر ہم اُس سہرے کے لئے [دوڑتے] ہیں جو نہیں مرجھاتا۔ پس مَیں بھی اِسی طرح دوڑتا ہوں یعنی بےٹھکانا نہیں۔ مَیں اِسی طرح مکوں سے لڑتا ہوں یعنی اُسکی مانند نہیں جو ہوا کو مارتا ہے۔“ (۱-کرنتھیوں ۹:۲۵، ۲۶) اُن قدیم کھیلوں میں جیتنے والے کو صنوبر یا دیگر پودوں یا پھر خشک اجمود کا بنا ہوا تاج یا ہار انعام کے طور پر دیا جاتا تھا—واقعی ”مرجھانے والا سہرا۔“ تاہم، کیا چیز آخر تک برداشت کرنے والے مسیحیوں کی منتظر ہے؟
۱۸ ہمیں نمونہ دینے والے یسوع مسیح کی بابت پولس رسول نے لکھا: ”جس نے اُس خوشی کے لئے جو اُسکی نظروں کے سامنے تھی شرمندگی کی پروا نہ کرکے صلیب کا دُکھ سہا اور خدا کے تخت کی دہنی طرف جا بیٹھا۔“ (عبرانیوں ۱۲:۲) یسوع اپنی انسانی زندگی کے آخر تک برداشت کرتا رہا کیونکہ اُسکی نظر دُکھ کی سولی کے پار اجر پر تھی جس میں یہوواہ کے نام کی تقدیس میں بنیادی کردار ادا کرنے، انسانی خاندان کو فدیہ دیکر موت سے چھڑانے اور فرمانبردار انسانوں کو فردوسی زمین پر غیرمختتم زندگی عطا کرنے کی خاطر بادشاہ اور سردار کاہن کے طور پر حکمرانی کرنے سے حاصل ہونے والی خوشی شامل ہے۔—متی ۶:۹، ۱۰؛ ۲۰:۲۸؛ عبرانیوں ۷:۲۳-۲۶۔
۱۹. مسیحی شاگردی کی روش پر چلنے کی کوشش میں ہمیں کس چیز پر توجہ مُرتکز رکھنی چاہئے؟
۱۹ جب ہم مسیحی شاگردی کی روش پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمارے سامنے رکھی خوشی پر غور کریں۔ یہوواہ نے ہمیں بادشاہت کی خوشخبری کی منادی کرنے اور دوسروں کو بائبل کا زندگیبخش علم فراہم کرنے کا تسکینبخش کام سونپا ہے۔ (متی ۲۸:۱۹، ۲۰) خدائےبرحق کی ذات میں دلچسپی رکھنے والے کسی شخص کو ڈھونڈنا اور پھر زندگی کی دوڑ میں شامل ہونے کیلئے اُسکی مدد کرنا کتنی خوشی کی بات ہے! منادی کیلئے لوگوں کے جوابیعمل سے قطعنظر، یہوواہ کے نام کی تقدیس سے منسلک کام میں شرکت کرنا ہی بہت بڑا شرف ہے۔ جس علاقے میں ہم گواہی دیتے ہیں وہاں کے لوگوں کی بےاعتنائی یا مخالفت کے باوجود خدمتگزاری میں برداشت کرنے سے ہم یہوواہ کے دل کو شاد کرنے کی خوشی حاصل کرتے ہیں۔ (امثال ۲۷:۱۱) اس کیلئے وہ ہم سے ابدی زندگی کے شاندار انعام کا وعدہ کرتا ہے۔ یہ کتنی بڑی خوشی ہوگی! ان برکات کو نظر میں رکھتے ہوئے ہمیں مستقل دوڑتے رہنے کی ضرورت ہے۔
خاتمے کی نزدیکی کے پیشِنظر
۲۰. زندگی کی دوڑ خاتمے کے قریب مزید مشکل کیسے ہو سکتی ہے؟
۲۰ زندگی کی دوڑ میں، ہمیں اپنے سب سے بڑے دشمن، شیطان ابلیس کا مقابلہ کرنا ہے۔ جُوںجُوں ہم خاتمے کے قریب پہنچتے ہیں، وہ ہمیں ٹھوکر کھلانے یا سُست کرنے کی دیوانہوار کوشش کر رہا ہے۔ (مکاشفہ ۱۲:۱۲، ۱۷) نیز ”آخری زمانہ“ کی نشاندہی کرنے والی جنگوں، قحطوں، وباؤں اور دیگر مشکلات کے پیشِنظر وفادار، مخصوصشُدہ بادشاہتی مُنادوں کے طور پر خدمت جاری رکھنا آسان نہیں ہے۔ (دانیایل ۱۲:۴؛ متی ۲۴:۳-۱۴؛ لوقا ۲۱:۱۱؛۲-تیمتھیس ۳:۱-۵) مزیدبرآں، اگر ہم عشروں پہلے اس دوڑ میں شریک ہوئے تھے تو بعضاوقات خاتمہ ہماری توقع سے کہیں دُور معلوم ہو سکتا ہے۔ تاہم، خدا کا کلام ہمیں یقین دلاتا ہے کہ خاتمہ ضرور آئیگا۔ یہوواہ فرماتا ہے کہ یہ تاخیر نہ کریگا۔ خاتمہ آ پہنچا ہے۔—حبقوق ۲:۳؛ ۲-پطرس ۳:۹، ۱۰۔
۲۱. (ا) زندگی کی دوڑ میں مستقل دوڑتے رہنے کیلئے کونسی چیز ہمیں مستحکم کریگی؟ (ب) خاتمے کی نزدیکی کے پیشِنظر ہمارا عزمِمُصمم کیا ہونا چاہئے؟
۲۱ لہٰذا، زندگی کی دوڑ میں کامیاب ہونے کیلئے ہمیں اُن تمام چیزوں سے قوت پانی چاہئے جو یہوواہ نے ہماری روحانی نشوونما کیلئے بڑی محبت سے فراہم کی ہیں۔ ہمیں اس دوڑ میں دوڑنے والے اپنے ساتھی ایمانداروں کی باقاعدہ رفاقت سے بھی حوصلہافزائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر شدید اذیت اور ناگہانی واقعات دوڑ کو ہمارے لئے مشکل بنا دیں توبھی ہم آخر تک برداشت کر سکتے ہیں کیونکہ یہوواہ ”حد سے زیادہ قدرت“ فراہم کرتا ہے۔ (۲-کرنتھیوں ۴:۷) کتنی تسلیبخش بات ہے کہ یہوواہ چاہتا ہے کہ ہم کامیابی کیساتھ دوڑ ختم کریں! عزمِمُصمم کیساتھ، آئیے ”اُس دوڑ میں صبر [”برداشت،“ اینڈبلیو] سے دوڑیں جو ہمیں درپیش ہے“ کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ ”اگر بےدل نہ ہونگے تو عین وقت پر کاٹیں گے۔“—عبرانیوں ۱۲:۱؛ گلتیوں ۶:۹۔
[فٹنوٹ]
a عبرانیوں ۱۱:۱–۱۲:۳ پر مفصل بحث کیلئے جنوری ۱۵، ۱۹۸۷ کے واچٹاور کے صفحات ۱۰-۲۰ کو دیکھئے۔
b دی واچٹاور جون ۱، ۱۹۹۸، صفحات ۲۸-۳۱؛ ستمبر ۱، ۱۹۹۸، صفحات ۲۴-۲۸؛ مینارِنگہبانی فروری ۱، ۱۹۹۹، صفحات ۲۵-۲۹ پر ایسے حوصلہافزا تجربات کی کچھ حالیہ مثالیں مل سکتی ہیں۔
کیا آپکو یاد ہے؟
◻ہمیں آخر تک برداشت کیوں کرنی چاہئے؟
◻ہمیں یہوواہ کی کن فراہمیوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے؟
◻دانشمندی سے اپنی رفتار کا تعیّن کرنا اتنا اہم کیوں ہے؟
◻دوڑ میں مستقل دوڑتے رہنے کی صورت میں ہمارے سامنے کونسی خوشی ہے؟
[صفحہ 18 پر تصویر]
مسیحی اجلاسوں سے حوصلہافزائی حاصل کریں