اَے نوجوانو! دنیا کی روح کا مقابلہ کرو
”ہم نے نہ دنیا کی روح بلکہ وہ روح پایا جو خدا کی طرف سے ہے۔“—۱-کرنتھیوں ۲:۱۲۔
۱، ۲. (۱)دنیا کے نوجوانوں اور یہوواہ کے گواہوں کی کلیسیاؤں کے نوجوانوں کے درمیان کونسا تضاد دیکھا جا سکتا ہے؟ (ب) نوجوان گواہوں کو کونسی شاباش دی جا سکتی ہے؟
”ہماری نوجوان نسل مایوس، ٹھکرائی ہوئی، اور باغی ہے۔“ ایک آسٹریلوی اخبار دی سن-ہیرلڈ نے یوں بیان کِیا۔ اس نے مزید بیان کِیا: ”عدالتی ریکارڈ نابالغ مجرموں کی تعداد میں [گذشتہ سال کی نسبت] ۲۲ فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں جو سنگین حملے کے الزامات کی بنا پر سامنے آئے ہیں . . . نوعمر جس شرح سے خودکُشی کر رہے ہیں وہ ۶۰ کے دہے کے وسط سے لیکر تین گنا ہو گئی ہے . . . نیز نسلی خلا ایک حقیقی خلیج بن گیا ہے جس میں نوجوان لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد منشیات، الکحل اور خودانہدامی کے ہاتھوں ڈوب رہی ہے۔“ تاہم، یہ حالت کسی ایک ملک تک محدود نہیں ہے۔ ساری دنیا میں والدین، اساتذہ اور ماہرینِنفسیات نوجوانوں کی اس حالت پر افسوس کرتے ہیں۔
۲ آجکل کے بیشتر نوجوانوں اور یہوواہ کے گواہوں کی کلیسیاؤں کے اندر خوشوخرم نوجوانوں کے مابین کیا ہی ڈرامائی تضاد پایا جاتا ہے! وہ کامل نہیں ہیں۔ وہ بھی ”جوانی کی خواہشوں“ کے ساتھ نبردآزما ہیں۔ (۲-تیمتھیس ۲:۲۲) لیکن ایک گروہ کے طور پر، ان نوجوانوں نے راستی کے لئے جرأتمندانہ مؤقف اختیار کِیا ہؤا ہے اور دنیاوی دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کِیا ہؤا ہے۔ ہم پورے دل سے ان تمام نوجوانوں کو شاباش دیتے ہیں جو شیطان کے عیارانہ ”منصوبوں“ کے خلاف جنگ جیت رہے ہیں! (افسیوں ۶:۱۱) یوحنا رسول کی مانند ہم یہ کہنے کی تحریک پاتے ہیں: ”اَے جوانو! مَیں نے تمہیں اس لئے لکھا ہے کہ تم مضبوط ہو اور خدا کا کلام تم میں قائم رہتا ہے۔ اور تم اُس شریر پر غالب آ گئے ہو۔“—۱-یوحنا ۲:۱۴۔
۳. لفظ ”روح“ کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟
۳ تاہم، اس شریر کے خلاف اپنی فتح برقرار رکھنے کیلئے آپ کو مستعدی سے اس چیز کا مقابلہ کرنا چاہئے جسے بائبل ”دنیا کی روح“ کہتی ہے۔ (۱-کرنتھیوں ۲:۱۲) یونانی زبان کی ایک کتاب کے مطابق، ”روح“ کا مطلب ”وہ مزاج یا اثر ہو سکتا ہے جو کسی شخص کی جان کو معمور اور اثرپذیر کرے۔“ مثال کے طور پر اگر آپ کسی بدمزاج شخص کو دیکھتے ہیں تو آپ شاید کہیں کہ وہ بُری ”روح“ کا مالک ہے۔ آپ کی ”روح،“ مزاج یا ذہنی رغبت اُن انتخابات پر اثرانداز ہوتی ہے جو آپ کرتے ہیں؛ یہ آپ کے افعال اور کلام پر اثرانداز ہوتی ہے۔ دلچسپی کی بات ہے کہ لوگ انفرادی طور پر اور اجتماعی طور پر ایسی ”روح“ کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ پولس رسول نے مسیحیوں کے ایک گروہ کو تحریر کِیا: ”ہمارے خداوند یسوؔع مسیح کا فضل تمہاری رُوح پر ہوتا رہے۔“ (فلیمون ۲۵) توپھر یہ دنیا کونسی روح کا مظاہرہ کرتی ہے؟ چونکہ ”ساری دنیا اُس شریر،“ شیطان ابلیس ”کے قبضہ میں پڑی ہوئی ہے“ اس لئے اس دنیا کی روح ممکنہ طور پر خوشگوار نہیں ہو سکتی ہے۔—۱-یوحنا ۵:۱۹۔
دنیا کی روح کی شناخت کرنا
۴، ۵. (۱)مسیحی بننے سے پہلے افسیوں کی کلیسیا کس روح سے متاثر تھی؟ (ب) ”ہوا کی عملداری کا حاکم“ کون ہے اور ”ہوا“ کیا ہے؟
۴ پولس نے لکھا: ”اُس [خدا] نے تمہیں بھی زندہ کیا جب اپنے قصوروں اور گناہوں کے سبب سے مُردہ تھے۔ جن میں تم پیشتر دُنیا کی روش پر چلتے تھے اور ہوا کی عملداری کے حاکم یعنی اُس روح کی پیروی کرتے تھے جو اب نافرمانی کے فرزندوں میں تاثیر کرتی ہے۔ اِن میں ہم بھی سب کے سب پہلے اپنے جسم کی خواہشوں میں زندگی گزارتے اور جسم اور عقل کے ارادے پورے کرتے تھے اور دوسروں کی مانند طبعی طور پر غضب کے فرزند تھے۔“—افسیوں ۲:۱-۳۔
۵ مسیحی روش کی بابت سیکھنے سے پہلے، افسس کے مسیحی نادانستہ طور پر ”ہوا کی عملداری کے حاکم“ یعنی شیطان ابلیس کے پیروکار رہے تھے۔ یہ ”ہوا“ کوئی حقیقی جگہ نہیں ہے جہاں شیطان اور شیاطین سکونتپذیر ہیں۔ جب پولس نے یہ الفاظ تحریر کئے تو شیطان اور اس کے شیاطین کو ابھی تک آسمان تک رسائی حاصل تھی۔ (مقابلہ کریں ایوب ۱:۶ مکاشفہ ۱۲:۷-۱۲۔) لفظ ”ہوا“ کا مطلب روح یا ذہنی رویہ ہے جو شیطان کی دنیا پر مسلّط ہے۔ (مقابلہ کریں مکاشفہ ۱۶:۱۷-۲۱۔) ہمارے اردگرد ہوا کی مانند، یہ روح ہر جگہ پائی جاتی ہے۔
۶. ”ہوا کی عملداری“ کیا ہے اور یہ بہتیرے نوجوانوں پر کیسے اثرانداز ہوتی ہے؟
۶ لیکن ”ہوا کی عملداری“ کیا ہے؟ بدیہی طور پر، یہ اس گہرے اثر کا اشارہ دیتی ہے جو یہ ”ہوا“ لوگوں پر رکھتی ہے۔ پولس نے کہا کہ یہ روح ”نافرمانی کے فرزندوں میں تاثیر کرتی ہے۔“ پس دنیا کی روح نافرمانی اور بغاوت کی روح پیدا کرتی ہے اور ایک طریقہ دوستوں کا دباؤ ہے جس سے یہ عملداری واقع ہوتی ہے۔ ایک نوجوان گواہ لڑکی نے بیان کِیا کہ ”جب آپ سکول میں ہوتے ہیں تو تھوڑا بہت باغی بننے کیلئے ہر کوئی ہمیشہ آپ کی حوصلہافزائی کرتا ہے۔ اگر آپ باغی روش کے قریب چلے جاتے ہیں تو بچے آپ کی اَور زیادہ عزت کرتے ہیں۔“
دنیا کی روح کے ظہور
۷-۹. (ا) بعض طریقوں کے بارے میں بتائیں جن میں دنیا کی روح آجکل کے نوجوانوں کے درمیان ظاہر ہوئی ہے۔ (ب) کیا ان میں سے بعض مقامی طور پر آپ کے مشاہدے میں آئے ہیں؟
۷ آجکل نوجوان لوگوں میں دنیا کی روح کے بعض ظہور کونسے ہیں؟ بددیانتی اور بغاوت۔ ایک رسالے کی رپورٹ نے بیان کِیا کہ کالج جوئنیروں اور سینیئروں کے ۷۰ فیصد سے زائد نے کہا کہ انہوں نے ہائی سکول کے دوران نقل کی تھی۔ ناشائستہ، طنزیہ اور گندی گفتگو بھی عام بات ہے۔ یہ سچ ہے کہ ایوب اور پولس رسول نے بعضاوقات راست برہمی کا اظہار کرنے کیلئے دوسروں سے طنزیہ بات کہی۔ (ایوب ۱۲:۲؛ ۲-کرنتھیوں ۱۲:۱۳) تاہم، بہتیرے نوجوان لوگوں کے مُنہ سے سنا جانے والا سخت طنز اکثراوقات گالی کے برابر ہوتا ہے۔
۸ تفریح کی زیادتی بھی دنیا کی روح کے ظہور ہیں۔ نوجوانوں کے نائٹکلب، رقصوسرود کی محافلa اور دیگر اقسام کی بےلگام رنگرلیاں نوجوان لوگوں میں مقبول ہیں۔ لباس اور پہناوے میں انتہاپسندی اسی طرح چھائی ہوئی ہے۔ بڑے سائز کے ہپہاپ اسٹائل سے لیکر حیرانکُن فیشن تک، جیسے کہ جسم کو نمایاں کرنے والے لباس، آجکل کے بہتیرے نوجوانوں کی شناخت دنیا کی باغی روح کے ساتھ کراتے ہیں۔ (مقابلہ کریں رومیوں ۶:۱۶۔) مادی چیزوں میں حد سے زیادہ مصروفیت ایک اَور ظہور ہے۔ ایک تعلیمی جریدے کے مطابق، ”خریدوفروخت کرنے والے خوفناک تکنیکوں اور جنگی سازوسامان اور اسلحہسازی کی مصنوعات کی بچوں پر مسلسل بھرمار کر رہے ہیں۔“ ریاستہائےمتحدہ میں نوجوانوں کے ہائی سکول سے فارغالتحصیل ہونے تک وہ ۳،۶۰،۰۰۰ ٹیوی اشتہارات دیکھ چکے ہونگے۔ آپ کے دوست خریدنے کیلئے شاید آپ پر دباؤ بھی ڈالیں۔ ایک ۱۴ سالہ لڑکی بیان کرتی ہے: ”ہر کوئی ہمیشہ پوچھتا ہے، ’آپ کا سوئٹر، جیکٹ یا جینز کس برانڈ کی ہے؟‘“
۹ بائبل وقتوں سے لیکر، غیرصحتمندانہ موسیقی ناپاک طرزِعمل پر آمادہ کرنے کیلئے شیطان کا آلہ رہا ہے۔ (مقابلہ کریں خروج ۳۲:۱۷-۱۹؛ زبور ۶۹:۱۲؛ یسعیاہ ۲۳:۱۶۔) پس کچھ عجب نہیں کہ جنسی طور پر ترغیب دینے والی—اگر واضح نہیں تو—شاعری، بیہودگی اور ہیجان یعنی جوش پیدا کرنے والی موسیقی مقبولِعام ہے۔ تاہم، اس دنیا کی ناپاک روح کا ایک اَور ظہور جنسی بداخلاقی ہے۔ (۱-کرنتھیوں ۶:۹-۱۱) دی نیو یارک ٹائمز رپورٹ دیتا ہے: ”بہتیرے نوجوانوں کیلئے جنس تقریباً دستور بن گیا ہے . . . دو تہائی سے زائد سکول سینیئر جنسی مباشرت کر چکے ہیں۔“ دی وال سٹریٹ جرنل میں ایک مضمون نے اس شہادت کا حوالہ دیا کہ ۸ اور ۱۲ سال کی عمروں کے درمیان بچے ”جنس کی طرف زیادہ مائل ہو رہے“ ہیں۔ حال ہی میں سکول سے ریٹائرڈ ہونے والے ایک مشیر نے کہا: ”ہم چھٹی جماعت میں پڑھنے والی بچیوں کو حاملہ ہوتے ہوئے دیکھنے لگے ہیں۔“b
دُنیا کی روح مسترد کرنا
۱۰. بعض مسیحی گھرانوں کے نوجوان کس طرح دنیا کی روح کا شکار ہو گئے ہیں؟
۱۰ افسوس کی بات ہے کہ بعض مسیحی نوجوان دنیا کی روح کا شکار ہو گئے ہیں۔ ”مَیں اپنے والدین اور ساتھی مسیحیوں کے سامنے تو عمدہ رویہ ظاہر کرتی تھی،“ ایک جاپانی لڑکی نے تسلیم کِیا۔ ”لیکن مَیں دوہری زندگی گزارتی تھی۔“ کینیا سے ایک نوجوان لڑکی نے کہا: ”کچھ وقت سے مَیں دوہری زندگی بسر کرتی رہی ہوں جس میں پارٹیاں، راک میوزک اور بدکار دوست رکھنا شامل تھا۔ مَیں جانتی تھی کہ یہ غلط ہے لیکن مَیں نے اس اُمید پر نظرانداز کرنے کی کوشش کی کہ یہ سب ختم ہو جائے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہؤا۔ معاملات اور بگڑ گئے۔“ جرمنی سے، ایک اَور نوجوان لڑکی کہتی ہے: ”یہ سب کچھ غلط قسم کے دوست رکھنے سے شروع ہؤا۔ پھر مَیں تمباکونوشی کرنے لگ گئی۔ مَیں اپنے والدین کو ٹھیس پہنچانا چاہتی تھی مگر مَیں نے اپنے آپ ہی کو نقصان پہنچایا۔“
۱۱. جب دس جاسوس بُری خبر لیکر آئے تو کالب کس طرح بِھیڑ کا ساتھ دینے کی مزاحمت کرنے کے لائق ہوا تھا؟
۱۱ پھربھی، دنیا کی روح کا مقابلہ کرنا، جیہاں، اسے مسترد کرنا ممکن ہے۔ کالب کی قدیم مثال پر غور کریں۔ جب دس بزدل جاسوس ملکِموعود کی بابت ایک غلط رپورٹ لیکر آئے تو کالب نے یشوع کے ساتھ ملکر، ڈرنے اور بِھیڑ کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے جرأتمندی سے بیان کِیا: ”وہ ملک جس کا حال دریافت کرنے کو ہم اُس میں سے گذرے نہایت اچھا ملک ہے۔ اگر خدا ہم سے راضی رہے تو وہ ہمکو اُس ملک میں پہنچائیگا اور وہی ملک جس میں دودھ اور شہد بہتا ہے ہمکو دیگا۔“ (گنتی ۱۴:۷، ۸) اس تمام دباؤ کا مقابلہ کرنے کیلئے کس چیز نے کالب کی مدد کی؟ یہوواہ نے کالب کی بابت کہا: ”میرے بندہ کاؔلب کے ساتھ ایک فرق روح تھی۔“—گنتی ۱۴:۲۴، اینڈبلیو۔
”ایک فرق روح“ ظاہر کرنا
۱۲. کسی شخص کی باتچیت کے سلسلے میں ”ایک فرق روح“ ظاہر کرنا کیوں اہم ہے؟
۱۲ آجکل ”ایک فرق روح،“ یا ذہنی رُجحان ظاہر کرنے کے لئے حوصلہ اور قوت درکار ہوتی ہے جو اس دنیا سے مختلف ہو۔ ایک طریقہ جس سے آپ ایسا کر سکتے ہیں وہ طنزیہ، گستاخانہ گفتگو سے گریز کرنا ہے۔ دلچسپی کی بات ہے کہ اردو لفظ ”طنز“ جس یونانی فعل سے لیا گیا ہے اس کا لفظی مطلب ”کتوں کی مانند گوشت نوچنا“ ہے۔ (مقابلہ کریں گلتیوں ۵:۱۵۔) جیسے ایک کتے کے دانت کسی ہڈی سے گوشت نوچ سکتے ہیں ویسے ہی طنزیہ ”مذاق“ دوسروں کی عزتِنفس مجروح کرتا ہے۔ تاہم کلسیوں ۳:۸ آپ کو نصیحت کرتی ہے کہ ”اب تم بھی ان سب کو یعنی غصہ اور قہر اور بدخواہی اور بدگوئی اور مُنہ سے گالی بکنا چھوڑ دو۔“ اسی طرح سے امثال ۱۰:۱۹ بیان کرتی ہے: ”کلام کی کثرت خطا سے خالی نہیں لیکن ہونٹوں کو قابو میں رکھنے والا دانا ہے۔“ اگر کوئی آپ کی توہین کرتا ہے تو ’دوسرا گال پھیرنے‘ کیلئے ضبطِنفس پیدا کریں، شاید بُرا بھلا کہنے والے سے علیٰحدگی میں سکون اور اطمینان کیساتھ بات کریں۔—متی ۵:۳۹؛ امثال ۱۵:۱۔
۱۳. نوجوان مادی چیزوں کے سلسلے میں کیسے متوازن نظریہ ظاہر کر سکتے ہیں؟
۱۳ ”ایک فرق روح،“ ظاہر کرنے کا ایک اَور طریقہ مادی چیزوں کی بابت متوازن نظریہ برقرار رکھنا ہے۔ بےشک، عمدہ چیزیں حاصل کرنے کی خواہش ایک فطرتی بات ہے۔ یسوع مسیح کے پاس بدیہی طور پر ایک عمدہ پوشاک تھی۔ (یوحنا ۱۹:۲۳، ۲۴) تاہم، جب چیزیں جمع کرنا ایک خبط بن جاتا ہے اور آپ مسلسل اپنے والدین سے وہ چیزیں مانگتے رہتے ہیں جن کی درحقیقت وہ استطاعت نہیں رکھتے یا آپ محض دوسرے نوجوانوں کی نقل کرنا چاہتے ہیں توپھر، دنیا کی روح کا شاید آپ کی سوچ سے بھی بڑھ کر آپ پر اختیار ہے۔ بائبل کہتی ہے: ”جو کچھ دنیا میں ہے یعنی جسم کی خواہش اور آنکھوں کی خواہش اور زندگی کی شیخی وہ باپ کی طرف سے نہیں بلکہ دنیا کی طرف سے ہے۔“ جیہاں، دنیا کی مادہپرستانہ روح کے اختیار سے متاثر نہ ہوں! جو کچھ آپ کے پاس ہے اس پر قناعت کرنا سیکھیں۔—۱-یوحنا ۲:۱۶؛ ۱-تیمتھیس ۶:۸-۱۰۔
۱۴. (ا) یسعیاہ کے دنوں میں خدا کے لوگوں نے کس طرح تفریح کی بابت ایک غیرمتوازن نظریہ ظاہر کِیا تھا؟ (ب) نائٹ کلبوں اور بےہنگم محفلوں پر بعض مسیحی نوجوان کن خطرات کا سامنا کرتے ہیں؟
۱۴ تفریح کو اس کے جائز مقام پر رکھنا بھی اہم بات ہے۔ یسعیاہ نبی نے بیان کِیا: ”اُن پر افسوس جو صبح سویرے اُٹھتے ہیں تاکہ نشہبازی کے درپے ہوں اور جو رات کو جاگتے ہیں جب تک شراب اُنکو بھڑکا نہ دے! اور اُن کے جشن کی محفلوں میں بربط اور ستار اور دف اور بین اور شراب ہیں لیکن وہ [یہوواہ] کے کام کو نہیں سوچتے اور اُس کے ہاتھوں کی کاریگری پر غور نہیں کرتے۔“ (یسعیاہ ۵:۱۱، ۱۲) افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض مسیحی نوجوان اس طرح کی بےہنگم پارٹیوں میں مصروف پائے گئے ہیں۔ جب مسیحی نوجوانوں کے کسی گروہ سے یہ بیان کرنے کے لئے پوچھا گیا کہ نوجوانوں کے نائٹکلبوں میں کیا کچھ ہوتا ہے تو ایک نوجوان بہن نے کہا: ”ہر وقت لڑائی ہوتی رہتی ہے۔ پھر بھی مَیں وہاں ہوتی ہوں۔“ ایک اَور نوجوان بھائی نے اضافہ کِیا: ”شرابنوشی، تمباکونوشی، اس طرح کی دیگر چیزیں۔“ ایک اَور نوجوان بھائی نے تسلیم کیا: ”لوگ شراب پی لیتے ہیں۔ وہ احمقوں کی طرح حرکتیں کرتے ہیں! اس کے علاوہ وہاں منشیات کا بھی دور چلتا ہے۔ بہت بُری باتیں واقع ہوتی ہیں۔ اگر آپ وہاں جائیں اور سوچیں کہ آپ پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا تو آپ غلطی پر ہیں۔“ بائبل معقول طور پر ناچرنگ، یا ”بےہنگم محفلوں“ کو ”جسم کے کاموں“ میں سے ایک کے طور پر شمار کرتی ہے۔—گلتیوں ۵:۱۹-۲۱؛ بائنگٹن؛ رومیوں ۱۳:۱۳۔
۱۵. تفریح کے متعلق بائبل کونسا متوازن نظریہ پیش کرتی ہے؟
۱۵ نقصاندہ تفریح سے بچنے کا مطلب ناشاد زندگی نہیں ہوگا۔ ہم ”خدایِمبارک“ کی پرستش کرتے ہیں جو چاہتا ہے کہ آپ اپنی جوانی سے لطف اُٹھائیں! (۱-تیمتھیس ۱:۱۱؛ واعظ ۱۱:۹) مگر بائبل خبردار کرتی ہے: ”عیاش [”تفریحپسند،“ لامسا] کنگال رہے گا۔“ (امثال ۲۱:۱۷) علاوازیں، اگر آپ تفریح کو اپنی زندگی میں اہمترین چیز بنا لیتے ہیں تو آپ روحانی طور پر کنگال ہو جائینگے۔ پس، تفریح کے انتخاب کے سلسلے میں بائبل اصولوں پر عمل کریں۔ خوش رہنے کے اور بھی بہت سارے دوسرے طریقے ہیں جو آپکو بےحوصلہ، دلشکستہ کرنے کی بجائے مضبوط کریں گے۔c—واعظ ۱۱:۱۰۔
۱۶. مسیحی نوجوان اپنے آپ کو کس طرح فرق ظاہر کر سکتے ہیں؟
۱۶ اپنے لباس اور آرائش میں دنیاوی فیشن مسترد کرتے ہوئے حیاداری دکھانا بھی آپ کو فرق ظاہر کرے گا۔ (رومیوں ۱۲:۲؛ ۱-تیمتھیس ۲:۹) اسی طرح موسیقی کے سلسلے میں بھی انتخابپسند ہونا آپ کو فرق ظاہر کرے گا۔ (فلپیوں ۴:۸، ۹) ایک نوجوان مسیحی کہتا ہے: ”میرے پاس ایسا میوزک ہے جو مجھے چھوڑ دینا چاہئے مگر وہ مجھے بہت ہی اچھا لگتا ہے!“ ایک اَور نوجوان اسی طرح سے تسلیم کرتا ہے: ”میوزک میرے لئے پوشیدہ خطرہ ہے کیونکہ مجھے اس سے پیار ہے۔ اگر مجھے اس میں کوئی خرابی نظر آتی ہے یا اگر میرے والدین اسے میری توجہ میں لاتے ہیں تو مجھے اپنے ذہن کو مجبور کرنا پڑتا ہے کہ میرے دل پر قابو پائے کیونکہ مَیں اپنے دل میں موسیقی کو پیار کرتا ہوں۔“ اَے نوجوانو! شیطان کے ”حیلوں سے ناواقف“ نہ رہیں۔ (۲-کرنتھیوں ۲:۱۱) وہ نوجوان مسیحیوں کو یہوواہ سے ہٹانے کیلئے میوزک کو استعمال کر رہا ہے! واچ ٹاور مطبوعات میں ایسے مضامین شائع ہوئے ہیں جو رَیپ، ہیوی میٹل اور متبادل راک میوزک پر باتچیت کرتے رہے ہیں۔d تاہم، واچ ٹاور مطبوعات ممکنہ طور پر ہر قسم کے نئے میوزک پر بات نہیں کر سکتیں جو شاید مارکیٹ میں آئیں۔ لہٰذا جب آپ میوزک کا انتخاب کرتے ہیں تو آپ کو ”تمیز“ اور ”فہم“ کو کام میں لانا چاہئے۔—امثال ۲:۱۱۔
۱۷. (۱)پورنیا کیا ہے اور اس میں کونسے کام شامل ہے؟ (ب) جب اخلاقیات کی بات آتی ہے تو خدا کی مرضی کیا ہے؟
۱۷ آخر میں، آپ خود کو اخلاقی طور پر پاک رکھیں۔ بائبل تاکید کرتی ہے: ”حرامکاری سے بھاگو۔“ (۱-کرنتھیوں ۶:۱۸) حرامکاری کیلئے اصل یونانی لفظ پورنیا تمام ناجائز جنسی کاموں کا حوالہ دیتا ہے جس میں شادی کے بندھن سے باہر تناسلی اعضا کا استعمال ہے۔ اس میں اعضائے مخصوصہ کا غلط استعمال اور جنسی اعضا سے دانستہ چھیڑچھاڑ شامل ہے۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد اس خیال کیساتھ ایسے طرزِعمل میں پڑ گئی ہے کہ وہ حقیقت میں حرامکاری نہیں کر رہے۔ تاہم، خدا کا کلام واضح طور پر بیان کرتا ہے: ”خدا کی مرضی یہ ہے کہ تُم پاک بنو یعنی حرامکاری سے بچے رہو۔ اور ہر ایک تُم میں سے پاکیزگی اور عزت کیساتھ اپنے ظرف کو حاصل کرنا جانے۔“—۱-تھسلنیکیوں ۴:۳، ۴۔
۱۸. (۱)ایک نوجوان دنیا کی روح سے آلودہ ہونے سے کیسے بچ سکتا ہے؟ (ب) اگلے مضمون میں کس چیز پر باتچیت کی جائے گی؟
۱۸ جیہاں، یہوواہ کی مدد کیساتھ آپ دنیا کی روح کے ذریعے آلودہ ہونے سے بچ سکتے ہیں! (۱-پطرس ۵:۱۰) بہرکیف، شیطان اکثر اپنے مُہلک پھندے خفیتہً لگاتا ہے اور بعض اوقات خطرے کو بھانپنے کیلئے حقیقی تمیز کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارا اگلا مضمون نوجوانوں کی مدد کرنے کیلئے ترتیب دیا گیا ہے کہ اپنے حواس کو تیز کریں۔
[فٹنوٹ]
a رقصوسرود کی محافل عام طور پر ساری رات چلتی ہیں۔ مزید معلومات کیلئے دسمبر ۲۲، ۱۹۹۷ کے اویک! کے شمارے میں دیکھیں ”نوجوان لوگ پوچھتے ہیں . . . کیا رقصوسرود کی محافل بےضرر تفریح ہیں؟“
b تقریباً ۱۱ سالہ بچیاں۔
c تجاویز کیلئے کتاب کویسچنز ینگ پیپل آسک—آنسر دیٹ ورک کے صفحات ۲۹۶-۳۰۳ دیکھیں۔
d جولائی ۱۹۹۳ کا مینارِنگہبانی دیکھیں۔
اعادے کیلئے سوالات
◻”دنیا کی روح“ کیا ہے اور لوگ کس طرح اس کی ”عملداری“ کے تحت ہیں؟
◻آجکل کے نوجوانوں کے درمیان دنیا کی روح کے بعض کونسے اظہارات پائے جاتے ہیں؟
◻مسیحی نوجوان باتچیت اور تفریح کے سلسلے میں ”ایک فرق روح“ کیسے ظاہر کر سکتے ہیں؟
◻مسیحی نوجوان اخلاقیات اور میوزک کے سلسلے میں ”ایک فرق روح“ کیسے ظاہر کر سکتے ہیں؟
[صفحہ 9 پر تصویر]
بہتیرے نوجوان اپنے چالچلن کے ذریعے ظاہر کرتے ہیں کہ وہ دنیاوی روح کی ”عملداری“ کے تحت ہیں
[صفحہ 10 پر تصویر]
میوزک کے اپنے چناؤ میں انتخابپسند بنیں
[صفحہ 11 پر تصویر]
دنیا کی روح کا مقابلہ کرنے کیلئے حوصلہ چاہئے