اَے نوجوانو! اپنے حواس کو تیز کرو
”سخت غذا پوری عمر والوں کیلئے ہوتی ہے جنکے حواس کام کرتے کرتے نیکوبد میں امتیاز کرنے کیلئے تیز ہو گئے ہیں۔“—عبرانیوں ۵:۱۴۔
۱، ۲. (۱)آجکل ہماری حالت افسس میں قدیم زمانہ کے مسیحیوں کی حالت کی طرح کیسے ہے؟ (ب) کونسی صلاحیتیں آپ کو خطرے سے بچا سکتی ہیں اور آپ انہیں کیسے فروغ دے سکتے ہیں؟
”غور سے دیکھو کہ کس طرح چلتے ہو۔ نادانوں کی طرح نہیں بلکہ داناؤں کی مانند چلو۔ اور وقت کو غنیمت جانو کیونکہ دن بُرے ہیں۔“ (افسیوں ۵:۱۵، ۱۶) پولس رسول نے ان الفاظ کو دو ہزار سال قبل قلمبند کِیا تھا تب سے ’بُرے اور دھوکا باز آدمی بد سے بدتر ہو گئے ہیں۔‘ ہم ”بُرے دنوں“ میں رہتے ہیں یا جیسے کہ ایک دوسرا ترجمہ انہیں ”پُرخطر“ ایام کہتا ہے۔—۲-تیمتھیس ۳:۱-۵، ۱۳؛ فلپس۔
۲ تاہم، آپ ”ہوشیاری . . . علم اور تمیز“ کو فروغ دینے سے ان خطرات سے بچ سکتے ہیں جو آپ کی راہ میں حائل ہو سکتے ہیں۔ (امثال ۱:۴) امثال ۲:۱۰-۱۲ بیان کرتی ہے: ”حکمت تیرے دل میں داخل ہوگی اور علم تیری جان کو مرغوب ہوگا۔ تمیز تیری نگہبان ہوگی۔ فہم تیری حفاظت کرے گا تاکہ تجھے شریر کی راہ سے اور کجگو سے بچائیں۔“ لیکن آپ کس طرح ان خوبیوں کو ترقی دے سکتے ہیں؟ عبرانیوں ۵:۱۴ بیان کرتی ہے: ”سخت غذا پوری عمر والوں کے لئے ہوتی ہے جن کے حواس کام کرتے کرتے نیکوبد میں امتیاز کرنے کے لئے تیز ہو گئے ہیں۔“ کسی بھی ہنر کی طرح، اپنے حواس کے استعمال میں مہارت حاصل کرنا تربیت کا تقاضا کرتا ہے۔ پولس نے جو یونانی لفظ استعمال کِیا اس کا لفظی مطلب ’ایک ورزش کرنے والے کی طرح تربیتیافتہ ہونا‘ ہے۔ آپ ایسی تربیت کا آغاز کس طرح کر سکتے ہیں؟
اپنے حواس کو تیز کرنا
۳. جب کوئی فیصلہ کرنا پڑ جائے تو آپ اپنے حواس کو کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟
۳ غور کریں کہ آپ کے حواس—نیکوبد میں امتیاز کرنے کی آپ کی صلاحیت—”کام“ کرنے سے تیز ہوتی ہے۔ جب آپ کو کوئی فیصلہ کرنا ہو تو قیاسآرائی کرنا، منمانی کرنا یا محض بِھیڑ کی پیروی کرنا شاذونادر ہی دانشمندانہ انتخاب پر منتج ہوتا ہے۔ دانشمندانہ فیصلے کرنے کیلئے آپ کو اپنے حواس کو کام میں لانا چاہئے۔ کیسے؟ سب سے پہلے، صورتحال کی مکمل چھانبین کریں اور تمام حقائق جمع کریں۔ اگر ضروری ہو تو سوالات پوچھیں۔ اپنے حقِانتخابات کا تعیّن کریں۔ امثال ۱۳:۱۶ بیان کرتی ہے: ”ہر ایک ہوشیار آدمی دانائی سے کام کرتا ہے۔“ اس کے بعد، یہ تعیّن کرنے کی کوشش کریں کہ اس موضوع کی تائید کونسے بائبل قوانین یا اصول کرتے ہیں۔ (امثال ۳:۵) بےشک، ایسا کرنے کیلئے آپ کے پاس بائبل کا علم ہونا چاہئے۔ اسی لئے پولس ”سخت غذا“ کھانے کی حوصلہافزائی کرتا ہے تاکہ سچائی کی ”چوڑائی اور لمبائی اور اُونچائی اور گہرائی“ معلوم کر سکیں۔—افسیوں ۳:۱۸۔
۴. خدا کے اصولوں کا علم کیوں لازمی ہے؟
۴ ایسا کرنا لازمی ہے کیونکہ ہم ناکامل، گناہ کی طرف مائل ہیں۔ (پیدایش ۸:۲۱؛ رومیوں ۵:۱۲) ”دل سب چیزوں سے زیادہ حیلہباز اور لاعلاج ہے،“ یرمیاہ ۱۷:۹ بیان کرتی ہے۔ ہماری راہنمائی کرنے والے خدائی اصولوں کے بغیر، ہم خود کو اس سوچ میں دھوکہ دے سکتے ہیں کہ کوئی بُری چیز اچھی ہے—محض اس لئے کہ ہمارا جسم اس کی خواہش کرتا ہے۔ (مقابلہ کریں یسعیاہ ۵:۲۰۔) زبورنویس نے لکھا: ”جوان اپنی روش کس طرح پاک رکھے؟ تیرے کلام کے مطابق اُس پر نگاہ رکھنے سے۔ تیرے قوانین سے مجھے فہم حاصل ہوتا ہے اسلئے مجھے ہر جھوٹی راہ سے نفرت ہے۔“—زبور ۱۱۹:۹، ۱۰۴۔
۵. (۱) بعض نوجوان کیوں جھوٹی راہوں پر چلتے ہیں؟ (ب) کیسے ایک نوجوان نے سچائی کو اپنا بنا لیا؟
۵ مسیحی گھرانوں میں پرورش پانے والے نوجوان کیوں جھوٹی راہوں پر چلے؟ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ ایسے نوجوانوں نے کبھی بھی ’خدا کی نیک اور پسندیدہ مرضی کے لئے خود کو لائق ثابت‘ نہیں کِیا ہے۔ (رومیوں ۱۲:۲) بعض شاید اپنے والدین کیساتھ اجلاسوں پر حاضر ہوتے ہوں اور بائبل کی بعض بنیادی تعلیمات دہرانے کے قابل ہوں۔ لیکن جب اپنے اعتقادات کا ثبوت پیش کرنے یا خدا کے کلام کی گہری باتوں کی وضاحت کرنے کے لئے کہا جاتا ہے تو انکا علم مایوس کُن حد تک سطحی ہوتا ہے۔ ایسے نوجوان آسانی سے دھوکہ کھا سکتے ہیں۔ (افسیوں ۴:۱۴) اگر یہ بات آپ کی بابت سچ ہے تو کیوں نہ تبدیلیاں لانے کا عزم کریں؟ ایک نوجوان بہن یاد کرتی ہے: ”مَیں نے تحقیق کی۔ مَیں نے خود سے پوچھا، ’مَیں یہ کس طرح جانتی ہوں کہ یہ صحیح مذہب ہے؟ مَیں کس طرح جانتی ہوں کہ خدا کا نام یہوواہ ہے؟‘“a صحائف کی بغور تحقیق نے اسے قائل کر دیا کہ جو باتیں اس نے اپنے والدین سے سیکھی تھیں وہ واقعی اسی طرح تھیں!—مقابلہ کریں اعمال ۱۷:۱۱۔
۶. آپ کیسے ”معلوم [کر سکتے ہیں] کہ [یہوواہ] کو کیا پسند ہے“؟
۶ یہوواہ کے اصولوں کے علم سے لیس آپ اَور زیادہ آسانی کے ساتھ ”معلوم کرتے [رہیں گے] کہ [یہوواہ] کو کیا پسند ہے۔“ (افسیوں ۵:۱۰) تاہم اس وقت کیا ہو جب آپ کو کسی خاص صورتحال میں دانشمندانہ روش اختیار کرنے کا یقین نہیں ہے؟ ہدایت کے لئے یہوواہ سے دُعا کریں۔ (زبور ۱۱۹:۱۴۴) اپنے والدین یا کسی پُختہ مسیحی کے ساتھ معاملات پر باتچیت کرنے کی کوشش کریں۔ (امثال ۱۵:۲۲؛ ۲۷:۱۷) بائبل اور واچ ٹاور مطبوعات کی تحقیق کرنے سے مفید ہدایت بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ (امثال ۲:۳-۵) جتنا زیادہ آپ اپنے حواس کو استعمال کریں گے اتنا زیادہ وہ تیز ہونگے۔
تفریح کے سلسلے میں فہم سے کام لینا
۷، ۸. (۱)ایک اجتماع پر حاضر ہونے یا نہ ہونے کے سلسلے میں فیصلہ کرنے کیلئے آپ اپنے حواس کو کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟ (ب) تفریح کی بابت بائبل کا کیا نظریہ ہے؟
۷ آئیے اب دیکھیں کہ آپ بعض مخصوص حالات میں اپنے حواس کو کیسے استعمال کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ذرا تصور کریں کہ آپ کو ایک اجتماع پر بلایا گیا ہے۔ شاید آپ کو تقریب کی تشہیر کرنے والا دستی اشتہار بھی موصول ہؤا ہے۔ آپ کو بتایا گیا ہے کہ وہاں گواہ نوجوانوں کی بھی بڑی تعداد موجود ہوگی۔ لیکن اخراجات پورے کرنے کے لئے فیس لی جائے گی۔ کیا آپ وہاں حاضر ہوں گے؟
۸ موزوں طور پر، اپنے حواس کو استعمال کریں۔ سب سے پہلے حقائق معلوم کریں۔ یہ اجتماع کتنا بڑا ہوگا؟ وہاں کون ہونگے؟ یہ شروع کب ہوگا؟ یہ ختم کب ہوگا؟ کن کارگزاریوں کی منصوبہسازی کی گئی ہے؟ اس کی نگرانی کس طرح سے ہوگی؟ پھر واچ ٹاور پبلیکیشن انڈیکسb میں ”سماجی تقریبات“ اور ”تفریح“ کو دیکھتے ہوئے کچھ تحقیق کریں۔ آپ کی تحقیق کیا آشکارا کر سکتی ہے؟ ایک بات کہ یہوواہ خوشوقت ہونے کیلئے اجتماعی میلجول کی مذمت نہیں کرتا۔ درحقیقت، واعظ ۸:۱۵ کہتی ہے کہ سخت محنت کرنے کیساتھ ”دنیا میں انسان کے لئے کوئی چیز اِس سے بہتر نہیں کہ کھائے اور پئے اور خوش رہے۔“ واہ، یسوع تو خود بھی ضیافتوں پر اور کمازکم ایک شادی پر گیا تھا۔ (لوقا ۵:۲۷-۲۹؛ یوحنا ۲:۱-۱۰) متوازن سماجی میلجول فائدہمند ہو سکتا ہے۔
۹، ۱۰. (ا) بعض محافل کونسے خطرات پیدا کر سکتی ہیں؟ (ب) یہ فیصلہ کرنے سے پہلے کہ آیا آپ کسی محفل پر حاضر ہوں گے یا نہیں آپ خود سے کونسے سوالات پوچھ سکتے ہیں؟
۹ تاہم، ناقص طور پر منظم کئے گئے اجتماعات مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ ہم ۱-کرنتھیوں ۱۰:۸ میں پڑھتے ہیں کہ کیسے غیردانشمندانہ صحبتیں حرامکاری اور ”ایک ہی دن میں تیئس ہزار“ بےوفا اسرائیلیوں کی ہلاکت کا باعث بنیں۔ ایک اَور سنجیدہ آگاہی رومیوں ۱۳:۱۳ میں پائی جاتی ہے: ”جیسا دِن کو دستور ہے شایستگی سے چلیں نہ کہ ناچ رنگ اور نشہبازی سے۔ نہ زناکاری اور شہوتپرستی سے اور نہ جھگڑے اور حسد سے۔“ (مقابلہ کریں ۱-پطرس ۴:۳۔) یہ سچ ہے کہ کسی اجتماع کے لئے کوئی تعداد تو مقرر نہیں کی جا سکتی۔ لیکن تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ جتنا بڑا اجتماع ہوگا اتنی ہی اس کی نگرانی مشکل ہوگی۔ چھوٹے اور خوب منظم اجتماعات کا ”بےہنگم محفلوں“ کی صورت اختیار کر جانے کا امکان کم ہوتا ہے۔—گلتیوں ۵:۲۱، بائینگٹن۔
۱۰ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کی تحقیق مزید سوالات ابھارے گی جیسے کہ کیا بعض پُختہکار بالغ مسیحی اجتماع میں ہونگے؟ درحقیقت، اس کا بندوبست کون کر رہا ہے؟ کیا اجتماع کا مقصد خوشگوار رفاقت کو فروغ دینا ہے یا کسی کے لئے نفع کمانا؟ کیا کوئی پابندیاں ہیں جیسے کہ کون حاضر ہو سکتا ہے؟ اگر اجتماع ہفتے کے آخر پر ہے تو کیا یہ معقول وقت پر ختم ہو جائے گا تاکہ اس پر حاضر ہونے والے اگلے دن مسیحی خدمتگزاری میں شرکت کر سکیں؟ اگر ناچ گانا ہونا ہے تو کیا یہ مسیحی معیاروں کے ساتھ ہمآہنگ ہوگا؟ (۲-کرنتھیوں ۶:۳) ایسے سوالات پوچھنا شاید آسان نہ ہو۔ لیکن امثال ۲۲:۳ آگاہ کرتی ہے: ”ہوشیار بلا کو دیکھ کر چھپ جاتا ہے لیکن نادان بڑھے چلے جاتے اور نقصان اٹھاتے ہیں۔“ اس کے علاوہ، آپ اپنے حواس کو استعمال کرنے سے خطرناک حالتوں سے بچ سکتے ہیں۔
اپنی تعلیم کی منصوبہسازی میں فہم
۱۱. اپنے مستقبل کی بابت منصوبہسازی کرنے میں نوجوان اپنے حواس کو کیسے کام میں لا سکتے ہیں؟
۱۱ بائبل ظاہر کرتی ہے کہ مستقبل کیلئے منصوبہسازی کرنا دانشمندی کی بات ہے۔ (امثال ۲۱:۵) کیا آپ نے اپنے والدین کے ساتھ اپنے مستقبل پر باتچیت کر لی ہے؟ شاید آپ پائنیر کے طور پر کُلوقتی خدمتگزاری شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ واقعی، کسی بھی پیشہ کا انتخاب اس سے بڑھ کر خوشی نہیں لا سکتا۔ اگر آپ مطالعے کی اچھی عادات پیدا کرتے ہوئے خدمتگزاری میں مہارتوں کو فروغ دے رہے ہیں تو آپ اس ولولہانگیز پیشے کیلئے تیاری کر رہے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ آپ خدمتگزاری میں اپنی کفالت کیسے کریں گے؟ اگر آپ مستقبل میں خاندان بڑھانے کا انتخاب کرتے ہیں تو کیا آپ اضافی ذمہداری کی دیکھبھال کرنے کے قابل ہونگے؟ ایسی باتوں کی بابت متوازن، حقیقتپسندانہ فیصلے کرنا اپنے حواس کو استعمال کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔
۱۲. (۱)بعض خاندانوں نے کیسے بدلتی ہوئی معاشی صورتحال سے مطابقت پیدا کرنے کا انتخاب کِیا ہے؟ (ب) کیا ضمنی تعلیم حاصل کرنا اور ایک نصبالعین کے طور پر پائنیر خدمت ناگزیر طور پر متضاد ہیں؟ وضاحت کریں۔
۱۲ بعض ممالک میں یہ ابھی تک ممکن ہے کہ ملازمت پر ہی کسی مفید ہنر یا ذریعۂمعاش میں ٹریننگ حاصل کی جائے۔ ایسے نوجوان بھی ہیں جو خاندانی کاروبار سیکھتے یا ایسے بالغ دوستوں سے ٹریننگ حاصل کرتے ہیں جن کے کاروبار ہوتے ہیں۔ دیگر اپنے سکول میں ایسے کورس کر لیتے ہیں جو بعد میں روزی کمانے میں مفید ہیں۔ جہاں ایسے مواقع دستیاب نہ ہوں تو محتاط غوروفکر کے بعد والدین اپنے بچوں کے لئے ہائی سکول کے بعد ضمنی تعلیم حاصل کرنے کا بندوبست کر سکتے ہیں۔ بالغوں کے طور پر ذمہداریاں اُٹھانے اور خاصکر طویل عرصے کے لئے پائنیر خدمت میں حصہ لینے کے لائق ہونے کے لئے اس طرح سے پیشگی منصوبہسازی کرنا خدا کی بادشاہت کو مقدم رکھنے کے ساتھ ہمآہنگ ہوگا۔ (متی ۶:۳۳) نیز ضمنی تعلیم پائنیر خدمت کرنے سے نہیں روکتی۔ مثال کے طور پر، ایک نوجوان گواہ طویل عرصہ تک پائنیر خدمت کرنا چاہتی تھی۔ ہائی سکول سے فارغ ہونے کے بعد، اس کے والدین نے جو کہ خود بھی باقاعدہ پائنیر تھے اس کے لئے ضمنی تعلیم حاصل کرنے کا انتظام کِیا۔ وہ سکول میں تعلیم حاصل کرنے کیساتھ ساتھ پائنیر خدمت کرنے کے بھی قابل ہوئی تھی اور اب اس کے پاس ایسی مہارت ہے جس کے ساتھ وہ پائنیر خدمت جاری رکھتے ہوئے اپنی کفالت کرتی ہے۔
۱۳. خاندانوں کو ضمنی تعلیم کی بابت لاگت کا حساب کیسے لگانا چاہئے؟
۱۳ ضمنی تعلیم کے معاملے میں، ہر خاندان اپنا فیصلہ کرنے کا حق اور ذمہداری رکھتا ہے۔ جب ایسی تعلیم کا موزوں طور پر انتخاب کر لیا جاتا ہے تو یہ مددگار ہو سکتی ہے۔ تاہم، یہ ایک پھندا بھی ہو سکتی ہے۔ اگر آپ ایسی تعلیم پر غور کر رہے ہیں تو آپ کا نصبالعین کیا ہے؟ کیا یہ خود کو باعزت طریقے سے ایک بالغ کے طور پر ذمہداریاں اُٹھانے کی خاطر تیار کرنے کے لئے ہے؟ یا کیا آپ ”اپنے لئے امورِعظیم کی تلاش میں“ ہیں؟ (یرمیاہ ۴۵:۵؛ تھسلنیکیوں ۳:۱۰؛ ۱-تیمتھیس ۵:۸؛ ۶:۹) گھر سے دُور، شاید ایک کیمپس میں رہتے ہوئے، ضمنی تعلیم حاصل کرنے کی بابت کیا ہے؟ پولس کی آگاہی کے پیشِنظر کیا یہ بات دانشمندانہ ہوگی کہ ”بری صحبتیں اچھی عادتوں کو بگاڑ دیتی ہیں“؟ (۱-کرنتھیوں ۱۵:۳۳؛ ۲-تیمتھیس ۲:۲۲) یہ بھی یاد رکھیں ”کہ وقت تنگ ہے۔“ (۱-کرنتھیوں ۷:۲۹) ایسی تعلیم کیلئے آپ کتنا وقت صرف کریں گے؟ کیا یہ آپ کی جوانی کے کئی سال لے لیگی؟ اگر ایسا ہے تو آپ ”اپنی جوانی کے دنوں میں اپنے خالق کو یاد کرنے“ کی بائبل حوصلہافزائی کا اطلاق کیسے کریں گے؟ (واعظ ۱۲:۱) مزیدبرآں، جو کورس آپ کریں گے کیا وہ اجلاس، میدانی خدمت اور ذاتی مطالعہ جیسی نہایت اہم کارگزاریوں کیلئے وقت دیں گے؟ (متی ۲۴:۱۴؛ عبرانیوں ۱۰:۲۴، ۲۵) اگر آپ کے حواس تیز ہیں تو جب آپ اور آپ کے والدین مستقبل کی بابت منصوبہسازی کرتے ہیں تو آپ کبھی بھی روحانی نشانوں کو اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیں گے۔
کورٹشپ کو باعزت رکھنا
۱۴. (ا) کورٹشپ کے دوران بعض جوڑے جب ایک دوسرے کیلئے اظہارِالفت کرتے ہیں تو کونسے اصولوں کو انکی راہنمائی کرنی چاہئے؟ (ب) بعض جوڑوں نے اس سلسلے میں کیسے خراب بصیرت ظاہر کی ہے؟
۱۴ ایک اور حلقہ جس میں آپ کو اپنے حواس کو تیز کرنے کی ضرورت ہے وہ کورٹشپ ہے۔ جس کی آپ پرواہ کرتے ہیں اس کیلئے اظہارِاُلفت کرنا محض فطرتی بات ہے۔ غزلالغزلات میں پاکدامن جوڑے نے شادی سے پہلے بدیہی طور پر ایک دوسرے کیلئے کچھ اُلفت دکھائی۔ (غزلالغزلات ۱:۲؛ ۲:۶؛ ۸:۵) آجکل، کورٹشپ کے دوران جوڑے اسی طرح محسوس کر سکتے ہیں کہ ہاتھ تھامنا، بوسوکنار ہونا مناسب ہے خاصکر جب شادی نزدیک ہے۔ لیکن یاد رکھیں: ”جو اپنے ہی دل پر بھروسہ رکھتا ہے بیوقوف ہے۔“ (امثال ۲۸:۲۶) المناک طور پر، متعدد جوڑوں نے خود کو مصالحانہ حالات میں ڈالنے سے خراب بصیرت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اُلفت کے اظہارات شدید اور بےقابو ہو جانے سے ناپاک کاموں پر منتج ہونے کے علاوہ جنسی حرامکاری کا سبب بھی بنے ہیں۔
۱۵، ۱۶. اس بات کا اطمینان کرنے کیلئے جوڑے کونسی معقول احتیاطی تدابیر اختیار کر سکتے ہیں جس سے انکی کورٹشپ باعزت رہیگی؟
۱۵ اگر آپ ڈیٹنگ کر رہے ہیں تو آپ نامناسب حالات کے تحت امکانی ساتھی کیساتھ تنہائی میں ہونے سے گریز کرنے میں دانشمندی برتیں گے۔ لہٰذا، ایک گروپ یا عوامی جگہوں میں ایک دوسرے کی رفاقت سے لطف اُٹھانا بہترین ہو سکتا ہے۔ بعض جوڑوں نے نگران کا انتظام کِیا ہے۔ نیز، ہوسیع ۴:۱۱ کے الفاظ پر غور کریں: ”مے اور نئی مے سے بصیرت جاتی رہتی ہے۔“ الکحل اچھی بصیرت کو خراب کر سکتی ہے اور کسی جوڑے کے اس طریقے سے عمل کرانے کا باعث بن سکتی ہے جس سے وہ بعد میں پچھتائیں گے۔
۱۶ امثال ۱۳:۱۰ بیان کرتی ہے: ”تکبّر سے صرف جھگڑا پیدا ہوتا ہے لیکن مشورتپسند کے ساتھ حکمت ہے۔“ جیہاں، ’اکٹھے مشورہ‘ اور باتچیت کریں کہ آپ کیسی روش اختیار کریں گے۔ ایک دوسرے کے احساسات اور ضمیر کا احترام کرتے ہوئے اُلفت کے اظہارات کے لئے حدبندیاں قائم کریں۔ (۱-کرنتھیوں ۱۳:۵؛ ۱-تھسلنیکیوں ۴:۳-۷؛ ۱-پطرس ۳:۱۶) اس حساس موضوع پر بات کرنا شروع شروع میں تو مشکل دکھائی دے سکتا ہے مگر بعد میں پیدا ہونے والی سنگین مشکلات کی روکتھام کر سکتا ہے۔
’جواں عمری سے‘ تعلیم پانا
۱۷. داؤد نے کیسے یہوواہ پر ’اپنے لڑکپن سے توکل رکھا،‘ اور آجکل کے نوجوانوں کیلئے اس میں کیا سبق پایا جاتا ہے؟
۱۷ شیطان کے پھندوں سے بچنا آپ کے سلسلے میں مستقل چوکسی—اور بعض اوقات بڑی جرأتمندی—کا تقاضا کریگا۔ بیشک، بعضاوقات آپ کو نہ صرف اپنے دوستوں سے بلکہ ساری دنیا سے اختلاف ہو سکتا ہے۔ زبورنویس داؤد نے دُعا کی: ”اَے [یہوواہ] خدا! تُو ہی میری اُمید ہے۔ لڑکپن سے میرا توکل تجھ ہی پر ہے۔ اَے خدا! تُو مجھے بچپن سے سکھاتا آیا ہے اور مَیں اب تک تیرے عجائب کا بیان کرتا رہا ہوں۔“ (زبور ۷۱:۵، ۱۷)c داؤد اپنی بہادری کے لئے مشہور ہے۔ لیکن اس نے کب بہادری سیکھی؟ جوانی میں! جاتیجولیت کے ساتھ اپنی مشہور لڑائی سے بھی پہلے، داؤد نے اپنے باپ کے گلے کی حفاظت کرنے میں—شیر اور ریچھ دونوں کو ہلاک کرتے ہوئے—غیرمعمولی بہاردی کا مظاہرہ کِیا تھا۔ (۱-سموئیل ۱۷:۳۴-۳۷) تاہم، داؤد نے جیسی بھی بہادری دکھائی اس نے اس کے لئے تمام عزت یہوواہ خدا کو دی اور اس سے کہا: ”لڑکپن سے میرا توکل تجھ ہی پر ہے۔“ یہوواہ پر توکل نے داؤد کو کسی بھی آزمائش کا سامنا کرنے کے قابل کر دیا۔ اگر آپ بھی یہوواہ پر توکل کریں تو آپ بھی ”دنیا پر غالب“ آنے کے لئے حوصلہ اور طاقت حاصل کر سکیں گے۔—۱-یوحنا ۵:۴۔
۱۸. آجکل کے نوجوانوں کو کونسی تاکید کی جاتی ہے؟
۱۸ آپ کی طرح کے ہزاروں نوجوانوں نے جرأتمندانہ مؤقف اختیار کِیا ہے اور اس وقت خوشخبری کے بپتسمہیافتہ پبلشروں کی حیثیت سے خدمت کر رہے ہیں۔ ہم آپ نوجوانوں کے ایمان اور حوصلے کیلئے خدا کے شکرگزار ہیں! اس دنیا کی خرابی سے بچنے کا عزم برقرار رکھیں۔ (۲-پطرس ۱:۴) بائبل سے تربیتیافتہ اپنے حواس کا استعمال کریں۔ ایسا کرنے سے آپ اس وقت کی مصیبت سے بچ جائیں گے اور انجامکار آپ کی نجات یقینی بن جائے گی۔ واقعی، ہمارے آخری مضمون کی مطابقت میں، آپ اپنی زندگی کو ضرور کامیاب بنائیں گے۔
[فٹنوٹ]
a اویک! اکتوبر ۲۲، ۱۹۹۸ میں مضمون دیکھیں ”نوجوان لوگ پوچھتے ہیں . . . مَیں کیسے سچائی کو اپنا بنا سکتا ہوں؟“
b مضمون ”سماجی تفریح—فوائد کا تجربہ کریں، پھندوں سے بچیں“ مینارِنگہبانی کے انگریزی شمارہ اگست ۱۵، ۱۹۹۲ میں اس موضوع پر کافی معلومات پائی جاتی ہیں۔
c زبور ۷۱ بظاہر زبور ۷۰ کا تسلسل لگتا ہے جس کی شناخت اس کی بالائی عبارت میں داؤد کے مزمور کے طور پر ہوتی ہے۔
اعادے کیلئے سوالات
◻ایک نوجوان کیسے اپنے حواس کو تیز کر سکتا ہے؟
◻جب مسیحی اجتماعات پر حاضر ہونے کی بات آتی ہے تو ایک نوجوان اپنے حواس کو کیسے کام میں لا سکتا ہے؟
◻کسی کو اپنی تعلیم کی منصوبہسازی کرنے میں کونسے پہلوؤں پر غور کرنا چاہئے؟
◻کورٹشپ کے دوران جوڑے کیسے جنسی بداخلاقی کے پھندے سے بچ سکتے ہیں؟
[صفحہ 15 پر تصویر]
تحقیق کرنا سیکھنے سے حواس کو تیز کرنے میں آپ کی مدد ہوگی
[صفحہ 15 پر تصویر]
چھوٹے اجتماعات کی نگرانی کرنا آسان ہوتا ہے اور انکے بےہنگم محفلوں کی صورت اختیار کر جانے کا امکان کم ہوتا ہے
[صفحہ 16 پر تصویر]
والدین کو اپنے بچوں کی تعلیم کی منصوبہسازی کرنے میں مدد کرنی چاہئے
[صفحہ 17 پر تصویر]
ایک گروپ میں ڈیٹنگ کرنا تحفظ ہے