بائبل تفسیر کس کے زیرِاثر؟
”تفسیر“ کی ایک تعریف ”واضح طور پر بیان کرنا یا کھول کر بیان کرنا“ ہے۔ (فیروزاللغات) تاہم، عموماً کسی شخص کا پسمنظر، تعلیم اور تربیت اُس کی تفسیر پر اثرانداز ہوتی ہے۔
تاہم، بائبل تفسیر کی بابت کیا خیال ہے؟ کیا ہمیں اپنے اعتقاد، بصیرت یا حالات کی بِنا پر بائبل اقتباسات کی تشریح کرنے کی چھوٹ ہے؟ دراصل بہتیرے بائبل علماء اور مترجمین کا دعویٰ ہے کہ وہ ایسا کرنے کی بجائے خدا سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔
اسکی ایک مثال یوحنا ۱:۱ کے حوالے سے ایک فٹنوٹ کا بیان ہے جو اے نیو ورشن آف دی فار گاسپلز میں ملتا ہے جسے جان لنگرڈ نے ۱۸۳۶ میں قلمی نام ”ایک کیتھولک“ کے تحت شائع کِیا تھا۔ بیان کچھ یوں ہے: ”ہر فرقے کے لوگوں کا یقین ہے کہ پاک صحائف اُن کے مخصوص عقائد کی تصدیق کرتے ہیں لیکن صحائف اُنہیں ایسی آگہی نہیں دیتے بلکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق صحائف کی تفسیر کرتے ہیں۔“
اگرچہ یہ بات موزوں ہے توبھی مصنف کا مقصد کیا تھا؟ اُس نے اِس آیت کی بابت اپنی تفسیر کے حق میں یہ بات کہی تھی جسکا ترجمہ اُس نے یوں کِیا: ”ابتدا میں ’کلام‘ تھا؛ اور ’کلام‘ خدا کیساتھ تھا؛ اور ’کلام‘ خدا تھا،“ یہ واقعی تثلیث کی حمایت کرنے والا ترجمہ ہے۔
کس چیز نے مصنف کو یوحنا ۱:۱ کا ترجمہ عقیدۂتثلیث کی حمایت میں کرنے کی تحریک دی تھی؟ کیا ”صحائف“ نے اُسے ایسا کرنے کی ”آگہی“ دی تھی؟ ہرگز نہیں کیونکہ بائبل میں کہیں بھی تثلیث کی تعلیم نہیں ملتی۔ اس نقطے کی بابت دی نیو انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا کے اس بیان پر غور کیجئے: ”نئے عہدنامے میں تثلیث کا لفظ یا عقیدہ کہیں بھی نہیں پایا جاتا۔“ علاوہازیں، یائل یونیورسٹی کے پروفیسر ای. واشبرن ہوپکنز نے بیان کِیا: ”یسوع اور پولس تثلیث کے عقیدے سے بالکل ناواقف تھے؛ . . . اُنہوں نے کبھی اس کا ذکر تک نہیں کِیا تھا۔“
پس، ہم اُن لوگوں کی بابت کیا نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں جو یوحنا ۱:۱ یا بائبل کی کسی دوسری آیت سے تثلیث کو ثابت کرنے والی تفسیر کی حمایت کرتے ہیں؟ جناب لنگرڈ کے اپنے ہی وضعکردہ اصول کے مطابق، ”صحائف اُنہیں ایسی آگہی نہیں دیتے بلکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق صحائف کی تفسیر کرتے ہیں۔“
خوشی کی بات ہے کہ خدا کا کلام اس معاملے میں ہماری رہبری کرتا ہے۔ پطرس رسول نے بیان کِیا: ”پہلے یہ جان لو کہ کتابِمُقدس کی کسی نبوّت کی بات کی تاویل کسی کے ذاتی اختیار پر موقوف نہیں۔ کیونکہ نبوّت کی کوئی بات آدمی کی خواہش سے کبھی نہیں ہوئی بلکہ آدمی روحالقدس کی تحریک کے سبب سے خدا کی طرف سے بولتے تھے۔“—۲-پطرس ۱:۲۰، ۲۱۔