قابلِبھروسہ پیشگوئیوں کی تلاش
مقدونیہ کا بادشاہ جو سکندرِاعظم کے نام سے مشہور ہوا، ۳۳۶ ق.س.ع. میں تختنشین ہونے کے فوراً بعد وسطی یونان میں ڈیلفی کے دارالاستخارہ (ایسا مقام جہاں غیبی علم ظاہر کئے جانے کا یقین ہو) میں گیا۔ مستقبل کیلئے اُسکا حریصانہ منصوبہ یہ تھا کہ وہ اُس وقت کی ساری دُنیا کو فتح کر لے۔ تاہم، وہ اپنی اتنی بڑی مہم کی کامیابی کیلئے دیوتاؤں کی طرف سے یقیندہانی چاہتا تھا۔ ایک روایت کے مطابق، جس دن وہ ڈیلفی گیا، اُس دن پجارن کی مدد سے غیبی مشورت حاصل کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ تاہم سکندر جواب لئے بغیر نہ جانے پر بضد تھا، اسلئے اُس نے پجارن کو پیشگوئی کرنے پر مجبور کِیا۔ آخرکار پجارن نے چلّا کر کہا: ”اَے لڑکے تُو ناقابلِشکست ہے!“ جواںسال بادشاہ نے اِسے ایک نیک شگون—ایک کامیاب فوجی مہم کا امکان—خیال کِیا۔
تاہم، اگر سکندر نے بائبل میں پائی جانے والی دانیایل کی کتاب کی پیشینگوئیوں کا جائزہ لیا ہوتا تو اُسکے پاس اپنی مہم کے انجام کی بابت زیادہ بہتر معلومات ہوتیں۔ ان پیشینگوئیوں نے نہایت غیرمعمولی درستی کیساتھ اُسکی تیزرَو فتوحات کو بیان کِیا تھا۔ ایک روایت کے مطابق، سکندر کو بالآخر اپنی بابت دانیایل کی پیشینگوئی کو دیکھنے کا موقع ملا۔ یہودی مؤرخ یوسیفس کے مطابق، جب مقدونیہ کا بادشاہ یروشلیم میں داخل ہوا تو غالباً اُسے دانیایل کی کتاب کے ۸ باب کی پیشینگوئی دکھائی گئی۔ (دانیایل ۸:۵-۸، ۲۰، ۲۱) بتایا جاتا ہے کہ اِس کی وجہ سے سکندر کے تباہکُن لشکروں نے اِس شہر کو چھوڑ دیا۔
ایک فطری انسانی ضرورت
بادشاہ ہو یا عوام، قدیم ہو یا جدید، انسان نے مستقبل کی بابت قابلِبھروسہ پیشگوئیوں کی ضرورت محسوس کی ہے۔ ذیشعور مخلوقات کے طور پر، ہم انسان ماضی کا مطالعہ کرتے، حال سے باخبر رہتے اور مستقبل میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔ ایک چینی ضربالمثل موزوں طور پر کہتی ہے: ”جو شخص تین دن پہلے کے معاملات بھانپ لیتا ہے وہ ہزاروں سال تک دولتمند رہیگا۔“
پوری تاریخ میں، لاکھوں لوگوں نے غیبی طاقتوں سے مشورہ کرنے سے مستقبل میں جھانکنے کی کوشش کی ہے۔ مثال کے طور پر، قدیمی یونانیوں کو ہی لے لیں۔ ڈیلفی، ڈیلوس اور ڈوڈونا کے علاوہ اُنکے کئی مُقدس دارالاستخارے تھے جہاں وہ سیاسی یا عسکری معاملات اور سفر، شادی اور بچوں جیسے نجی معاملات کی بابت دریافت کرنے کیلئے جاتے تھے۔ بادشاہوں اور سپہسالاروں کے علاوہ پورے کے پورے قبیلے اور شہری ریاستیں بھی اِن دارالاستخاروں کے پجاریوں کے ذریعے عالمِغیب سے راہنمائی کے طالب ہوتے تھے۔
ایک پروفیسر کے مطابق، آجکل ”مستقبل کی بابت تحقیق کرنے والی تنظیموں میں اچانک بڑا اضافہ ہو گیا ہے۔“ تاہم، بہتیرے پیشینگوئی کے واحد صحیح ماخذ—بائبل—کو نظرانداز کرنا پسند کرتے ہیں۔ وہ اس امکان پر بالکل دھیان ہی نہیں دیتے کہ بائبل پیشینگوئیوں میں عین وہی معلومات پائی جاتی ہیں جن کی اُنہیں تلاش ہے۔ بعض علماء تو بائبل پیشینگوئی کو قدیم یونانی پجاریوں کی پیشگوئیوں کے برابر ٹھہرانے کی حد تک چلے جاتے ہیں۔ اِسی طرح زمانۂجدید کے مُتشکِک لوگ بھی بائبل پیشینگوئی کے خلاف ہیں۔
ہم آپ کو بذاتِخود ریکارڈ کا جائزہ لینے کی دعوت دیتے ہیں۔ بائبل پیشینگوئیوں اور دارالاستخاروں کی طرف سے حاصل ہونے والی راہنمائی کے محتاط موازنے سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟ کیا آپ قدیم دارالاستخاروں کی طرف سے حاصل ہونے والی راہنمائی کی نسبت بائبل پیشینگوئی پر زیادہ بھروسہ کر سکتے ہیں؟ پس، کیا آپ قابلِاعتماد طور پر بائبل پیشینگوئیوں کو اپنی زندگی کا محور بنا سکتے ہیں؟
[صفحہ 3 پر تصویر]
بائبل نے سکندر کی تیزرَو فتوحات کی پیشینگوئی کی
[تصویر کا حوالہ]
Cortesía del Museo del Prado, Madrid, Spain
[صفحہ 4 پر تصویر]
سکندرِاعظم
[تصویر کا حوالہ]
Musei Capitolini, Roma
[صفحہ 2 پر تصویر کا حوالہ]
:COVER: General Titus and Alexander the Great
Musei Capitolini, Roma